مندرجات کا رخ کریں

مغلیہ سلطنت کی معیشت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
شاہ جہاں کی سونے کی مُہر (سکہ) مورخہ 1647ء (1057ھ)

مغلیہ سلطنت کی اقتصادی طاقت اور اس کی ترقی یافتہ بنیادی ڈھانچہ جنوبی ایشیا کی تاریخ کو تشکیل دینے میں بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔ اگرچہ عام طور پر مغلیہ سلطنت کی بنیاد 1526ء میں بابر کے ہاتھوں رکھی گئی سمجھی جاتی ہے،[1] تاہم مغلیہ سلطنت کا باقاعدہ ادارہ جاتی ڈھانچہ بعض مؤرخین کے نزدیک 1600ء میں بابر کے پوتے اکبر کے دورِ حکومت میں قائم ہوا۔[2] مغلیہ عہد میں جنوبی ایشیا کی معیشت قرونِ وسطیٰ کی بہ نسبت زیادہ پیداواری ہو گئی۔[3] مغلیہ ہندوستان کی معیشت کو اکثر ابتدائی صنعت کاری کی ایک شکل قرار دیا جاتا ہے، جس نے یورپ میں صنعتی انقلاب سے قبل اٹھارھویں صدی عیسوی کے گھر کام نظام (پُٹنگ آؤٹ سسٹم) کو متاثر کیا۔[4] مغلیہ ہندوستان کی معیشت بڑی اور خوش حال تھی۔[3] اٹھارھویں صدی تک مغل دور میں ہندوستان دنیا کی صنعتی پیداوار کا تقریباً 28 فیصد پیدا کرتا تھا، جس میں خاص طور پر پارچہ، جہاز سازی اور فولاد (اسٹیل) کی برآمدات نمایاں تھیں، جو ایک مضبوط برآمدی معیشت کی بنیاد بنی۔[5][6] سترھویں صدی عیسوی کے آغاز تک مغلیہ علاقوں میں معاشی توسیع چین کی چنگ سلطنت اور یورپ دونوں سے بڑھ گئی تھی۔ دنیا کی معیشت میں ہندوستان کا حصہ 1600ء میں 22.7 فیصد تھا اور سولھویں صدی عیسوی کے آخر تک اس کی خام ملکی پیداوار (جی ڈی پی) چین سے زیادہ ہو گئی تھی۔[7][8] مغلیہ سلطنت کا امیر ترین صوبہ بنگال اکیلا خام ملکی پیداوار کا تقریباً 12 فیصد فراہم کرتا تھا[9] اور پارچہ بافی و جہاز سازی میں عالمی تجارت کا اہم مرکز تھا، جس سے یورپ کو بڑے پیمانے پر درآمدات حاصل ہوتی تھیں۔[6]

مغلیہ سلطنت نے شیر شاہ سوری کے متعارف کردہ کرنسی کے نظام کو باقاعدہ اپنایا، جس میں سکوں کی دھات کی شُستگی کو برقرار رکھا گیا اور برآمدات کے باعث سلطنت زیادہ تر درآمد شدہ پاسا پر انحصار کرتی تھی، خصوصاً بنگال سے حاصل شدہ برآمدی آمدنی کے سبب۔ مغلوں نے ایک وسیع شاہراہی نظام بھی قائم کیا اور ایک متحد مالیاتی نظام وضع کیا۔[10]:185–204 سلطنت کا محکمہ عامہ شہروں اور قصبوں کو ملانے والی سڑکیں بناتا اور ان کی دیکھ بھال کرتا تھا، جس سے تجارتی سرگرمیوں میں آسانی پیدا ہوئی۔[3] سولھویں صدی عیسوی کے آخر میں مغلیہ معیشت کے شعبہ جاتی تناسب کے مطابق بنیادی (زرعی) شعبہ کا 52 فیصد، ثانوی (صنعتی) شعبہ کا 18 فیصد اور ثالثی (تجارتی و خدماتی) شعبہ کا 29 فیصد حصہ تھا۔ شہری مزدور قوت کل افرادی قوت کا 18 فیصد تھی مگر قومی معیشت میں اس کا حصہ 52 فیصد تھا۔ مغلیہ دور میں اجرتیں انگلستان کے برابر تھیں اگرچہ اٹھارھویں صدی میں ان میں کمی آئی۔ فی کس آمدنی (گندم کی مقدار کے لحاظ سے) بیسویں صدی عیسوی کے ابتدائی برطانوی ہندوستان سے زیادہ تھی۔ سلطنت کی مجموعی دولت کا بنیادی ماخذ زرعی محصولات تھے جنھیں اکبر نے منظم کیا۔[11][12] یہ محصولات کسان کی پیداوار کے نصف سے زائد پر مشتمل تھے،[13] جو باقاعدہ چاندی کے سکّوں میں ادا کیے جاتے تھے۔[14] اس نظام نے کسانوں اور دست کاروں کو منظم تجارتی منڈیوں میں داخل ہونے کا موقع دیا اور برصغیر میں ایک متحرک مالیاتی و تجارتی ڈھانچہ تشکیل دیا۔[15]

سکہ سازی

[ترمیم]
اکبر کے عہد کا چوکور شکل کا چاندی کا روپیہ سکہ، جو لاہور کے دار الضرب میں تیار کیا گیا۔

مغلوں نے شیر شاہ سوری کے مختصر دورِ حکومت میں رائج کردہ روپیہ (چاندی)، مُہر (سونا) اور دام (تانبہ) کے سکوں کو اپنایا اور انھیں باقاعدہ معیار کے مطابق استوار کیا۔[16] اکبر کے ابتدائی عہد میں ایک روپے کے بدلے 48 دام مقرر تھے تاہم 1580ء کی دہائی میں ایک روپے کے بدلے 38 دام رائج ہوئے اور سترھویں صدی عیسوی میں تانبے کی صنعتی اہمیت بڑھنے کے باعث (جیسے کانسی کی توپیں اور پیتل کے برتن بنانے میں) دام کی قدر میں مزید اضافہ ہوا۔ اکبر کے دور میں دام سب سے عام سکہ تھا مگر بعد کے سلاطین کے زمانے میں روپیہ زیادہ رائج ہو گیا۔[10] جہانگیر کے عہد کے آخر تک ایک روپے کے مقابلے میں دام کی قدر 30 رہی اور 1660ء کی دہائی تک یہ کم ہو کر 16 دام فی روپیہ رہ گئی۔[17] مغل سلاطین نے نہایت خالص سکّے تیار کیے جن کی چاندی کی خالصیت کبھی 96 فیصد سے کم نہیں ہوئی اور 1720ء کی دہائی تک ان میں کبھی آمیزش یا کم خالص دھات شامل نہیں کی گئی۔[18]

شہنشاہ جہانگیر کے عہد میں جاری کیا گیا ایک سکہ جس پر مچھلی کا نقش بنا ہوا ہے۔

اگرچہ ہندوستان کے پاس سونا اور چاندی کے اپنے ذخائر موجود تھے، مگر مغل زیادہ تر سونا نہیں نکالتے تھے بلکہ درآمد شدہ قیمتی دھات سے سکے ڈھالتے تھے۔ یہ اس بات کا نتیجہ تھا کہ سلطنت کی معیشت برآمدات پر مبنی تھی اور ہندوستانی زرعی و صنعتی مصنوعات کی عالمی طلب نے قیمتی دھاتوں کے مستقل بہاؤ کو ملک کی طرف کھینچا۔[10] مغلیہ ہندوستان کی تقریباً 80 فیصد درآمدات قیمتی دھاتوں پر مشتمل تھیں جن میں زیادہ تر چاندی شامل تھی۔[19] ان قیمتی دھاتوں کے بڑے ذرائع ”جدید دنیا“ (بر اعظم امریکا) اور جاپان تھے،[18] جو صوبۂ بنگال سے بھاری مقدار میں ریشم اور کپڑا درآمد کرتے تھے۔[10]

محنت و مزدوری

[ترمیم]

مورخہ شیریں موسوی کے اندازے کے مطابق سولھویں صدی عیسوی کے آخر میں مغل معیشت میں مختلف شعبوں کی شراکت یوں تھی: بنیادی شعبے (زراعت وغیرہ) کا حصہ 52 فیصد، ثانوی شعبے (دستکاری و صنعت) کا 18 فیصد اور ثالثی شعبے (تجارت و خدمات) کا 29 فیصد تھا۔ ثانوی شعبے کا یہ تناسب بیسویں صدی عیسوی کے اوائل کے برطانوی ہند کی معیشت سے کہیں زیادہ تھا، جہاں یہ صرف 11 فیصد تھا۔[20] شہری و دیہی تقسیم کے لحاظ سے مغلیہ ہندوستان کی 18 فیصد مزدور آبادی شہری اور 82 فیصد دیہی تھی، جو بالترتیب 52 فیصد اور 48 فیصد معیشت میں حصہ ڈالتی تھی۔[21]

اسٹیفن براڈ بیری اور بشنو پِریہ گپتا کے مطابق سولھویں اور سترھویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں اناج کے حساب سے مزدوروں کی اجرتیں انگلستان کے مساوی تھیں مگر اٹھارھویں صدی عیسوی میں یہ فرق بڑھ گیا اور ہندوستانی اجرتیں انگلستان کی اجرتوں کا صرف 20 سے 40 فیصد رہ گئیں۔[22][23] تاہم اس رائے سے پارتھاسارتھی اور شیو رام کرشن اختلاف کرتے ہیں۔[24] پارتھاسارتھی کے اندازوں کے مطابق اٹھارھویں صدی عیسوی کے وسط میں بنگال اور جنوبی ہند میں بُنائی اور کاتنے کے مزدوروں کی اجرتیں برطانیہ کے برابر تھیں۔ اسی طرح شیو رام کرشن نے 1800ء–1801ء میں فرانسس بُکینن کی جانب سے میسور میں کیے گئے زرعی سروے کا تجزیہ کیا اور ایک ”بنیادی ضروریات کی ٹوکری“ کے حساب سے اندازہ لگایا کہ باجرے سے حاصل ہونے والی آمدنی کم از کم پانچ گنا بنیادی ضرورت سے زیادہ اور چاول سے حاصل ہونے والی آمدنی تین گنا تھی[25] جو اُس وقت کے یورپ کے ترقی یافتہ حصوں کے مساوی تھی۔[26] تاہم محدود اعداد و شمار کے باعث اس بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔[27][28]

شیریں موسوی کے مطابق سولھویں صدی عیسوی کے آخر میں مغلیہ ہندوستان میں فی کس آمدنی (گندم کے پیمانے پر) بیسویں صدی عیسوی کے اوائل کی برطانوی ہند کے مقابلے میں 1.24 فیصد زیادہ تھی۔[29] البتہ اگر اس میں تیار شدہ اشیا جیسے کپڑوں وغیرہ کو شامل کیا جائے تو یہ شرح کچھ کم ہوگی۔ اس کے باوجود خوراک کے مقابلے میں کپڑوں پر فی کس خرچ کم تھا، اس لیے 1595ء–1596ء کی آمدنی کا موازنہ 1901ء–1910ء سے کیا جا سکتا ہے۔[30] تاہم ایک ایسے نظام میں جہاں دولت اشرافیہ کے ہاتھوں میں مرتکز تھی، محنت کش طبقہ کم اجرت پر زندگی گزارتا تھا۔[31] مغل دور میں دستی مزدوری کے پیشوں کے لیے عمومی طور پر رواداری پائی جاتی تھی اور شمالی ہند کے بعض مذہبی گروہ اپنی محنت کش شناخت پر فخر کرتے تھے۔ غلامی بھی موجود تھی لیکن وہ زیادہ تر گھریلو خادموں تک محدود تھی۔[31]

زراعت

[ترمیم]

مغلیہ سلطنت کے دور میں ہندوستان کی زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔[3] مختلف اقسام کی فصلیں اگائی جاتی تھیں جن میں گندم، چاول اور جو جیسی خوراکی فصلیں اور روئی، نیل اور افیون جیسی نقد آور فصلیں شامل تھیں۔ سترھویں صدی عیسوی کے وسط تک ہندوستانی کسانوں نے بر اعظم امریکا سے لائی گئی دو نئی فصلوں (مکئی اور تمباکو) وسیع پیمانے پر کاشت کرنا شروع کر دی تھیں۔[3]

مغلیہ انتظامیہ نے زرعی اصلاحات پر خاص زور دیا، جن کی بنیاد غیر مغل حکمران شیر شاہ سوری نے رکھی تھی۔ اکبر نے ان اصلاحات کو مزید منظم اور وسیع کیا۔ انتظامی ڈھانچہ صلاحیت کی بنیاد پر مرتب کیا گیا تھا اور ترقی کارکردگی کی بنیاد پر دی جاتی تھی۔[32] حکومت نے آبپاشی نظام کی تعمیر پر سرمایہ کاری کی، جس سے فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا اور محاصل کی آمدنی بڑھی۔ نتیجتاً مجموعی زرعی پیداوار میں خاطر خواہ ترقی ہوئی۔[3] سترھویں صدی عیسوی کے آخر سے اٹھارھویں صدی عیسوی کے آغاز تک ہندوستان ایشیا سے برطانوی درآمدات کا 95 فیصد اور ایشیا سے صوبۂ بنگال اکیلا ڈچ درآمدات کا 40 فیصد فراہم کرتا تھا۔[33]

اکبر کی ایک بڑی اصلاح ”ضبط“ کے نام سے جانی جانے تھی جو زمین کے محاصل کا نیا نظام تھا۔ انھوں نے خِراج کے پرانے نظام کو ختم کر کے نقدی محصول کے نظام کو رائج کیا، جو یکساں کرنسی پر مبنی تھا۔ [18] یہ نظام زیادہ قیمت رکھنے والی نقد آور فصلوں جیسے روئی، نیل، گنا، شجری فصلیں اور افیون کے حق میں تھا، جس سے کسانوں کو ایسی فصلیں اگانے کی ریاستی ترغیب ملی۔ اس کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کی طلب بھی ان فصلوں کے حق میں بڑھ گئی۔[10]

ضبط نظام کے تحت مغل حکومت نے تشخیصی پیمائش (cadastral surveying) کی وسیع مہمات چلائیں تاکہ زیرِ کاشت زمین کا تعین کیا جا سکے۔ حکومت نے نئی زمین کو زیرِ کاشت لانے والے کسانوں کو محصول سے استثنا دے کر حوصلہ افزائی کی۔[18] زراعت اور کاشت کاری کا یہ فروغ بعد کے مغل بادشاہوں کے دور میں بھی جاری رہا۔ اورنگزیب کے 1665ء کے فرمان میں درج ہے کہ: ”شہنشاہ کی تمام تر توجہ اور خواہشات سلطنت کی آبادی اور کاشت میں اضافے اور تمام کسانوں و عوام کی بہبود پر مرکوز ہیں۔“[34]

مغلیہ ہندوستان کی زراعت کئی پہلوؤں سے اُس وقت کی یورپی زراعت سے زیادہ ترقی یافتہ تھی۔ ہندوستانی کسان بیج بونے والی مشین (سِیڈ ڈِرل) عام طور پر استعمال کرتے تھے جب کہ یورپ میں یہ ایجاد ابھی رائج نہیں ہوئی تھی۔[35] عام طور پر دنیا کے دوسرے خطوں کے کسان چند مخصوص فصلوں کے ماہر تھے مگر ہندوستانی کسان متعدد خوراکی اور غیر خوراکی فصلوں کی کاشت میں مہارت رکھتے تھے، جس سے ان کی پیداواری صلاحیت بڑھی۔[36] ہندوستانی کسان نئی اور منافع بخش فصلیں فوراً اختیار کر لیتے تھے۔ 1600ء سے 1650ء کے درمیان مکئی اور تمباکو جیسی نئی امریکی فصلیں پورے ہندوستان میں تیزی سے پھیل گئیں۔ بنگالی کسانوں نے جلد ہی شہتوت کی کاشت اور ریشم سازی کی مہارت حاصل کر لی، جس سے صوۂ بنگال دنیا کے بڑے ریشم پیدا کرنے والے مراکز میں شمار ہونے لگا۔[10] چینی کی صنعت بھی مغل دور کے آغاز سے کچھ پہلے ہندوستان میں ترقی پا چکی تھی۔ 1540ء میں دہلی سے چینی کی پسائی کے لیے ڈرا بار (draw bar) کے استعمال کے شواہد ملتے ہیں، جو شمالی برصغیر میں عام ہو چکے تھے۔ سترھویں صدی عیسوی میں مغل ہندوستان میں گراری والے چینی سازی کے پہیے دار کارخانے استعمال میں آ گئے، جو پہیے دار اور پیچ گراری والے نظام پر مبنی تھے۔[37] 2020ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی آثارِ قدیمہ کی تحقیقات نے آگرے میں مغلیہ دور کی چینی کی صنعت کے شواہد دریافت کیے۔[38]

معاشی مورخ ایمانوئیل والر اسٹین نے عرفان حبیب، پرسول اسپئیر اور اشوک دیسائی کے حوالوں سے بیان کیا کہ سترھویں صدی عیسوی کے مغلیہ ہندوستان میں فی کس زرعی پیداوار اور معیاراتِ زندگی نہ صرف یورپ سے زیادہ تھے بلکہ بیسویں صدی عیسوی کے اوائل کے برطانوی ہندوستان سے بھی بہتر تھے۔[39] اس بڑھتی ہوئی زرعی پیداوار نے خوراک کی قیمتوں میں کمی کی، جس سے ہندوستانی پارچہ بافی کو فائدہ پہنچا۔ برطانیہ کے مقابلے میں جنوبی ہند میں اناج کی قیمتیں چاندی کی کرنسی کے حساب سے تقریباً آدھی اور بنگال میں تہائی تھیں۔ اس سے ہندوستانی کپڑوں کو عالمی منڈیوں میں نمایاں قیمت کا فائدہ حاصل ہوا۔[40]

ہیروں کی کان کنی

[ترمیم]
خطۂ گولکنڈہ میں ہیرے کی کان، سنہ 1725ء۔ یہ تصویر ڈچ ناشر پیٹر فان در آ (Pieter van der Aa) کے مجموعے سے ہے، جو نقشے اور اطلس تیار کرنے کے لیے مشہور تھے۔

مغلیہ سلطنت کے دور میں ہندوستان دنیا کے مشہور ترین جواہرات کا مرکز تھا، جن میں کوہِ نور، ہوپ، ریجنٹ، مغلِ اعظم اور آرلوو جیسے تاریخی ہیرے شامل ہیں۔[41] یہ تمام بیش قیمت جواہرات بنیادی طور پر گولکنڈے کی کانوں سے حاصل کیے گئے تھے۔ محاصرۂ گولکنڈہ کے بعد شہنشاہ اورنگزیب نے گولکنڈہ کے ہیروں کی کان کنی کو سلطنت کے اختیار میں لے لیا۔[42] گولکنڈہ کی فتح کے بعد وہ ہیروں کی کانیں جو قطب شاہی سلطنت کی دولت کا اصل ذریعہ تھیں، وقتی طور پر بند ہو گئیں مگر 1692ء میں ان کانوں کی پیداوار مغل سلطنت کے لیے دوبارہ شروع کی گئی۔[43] سترھویں صدی عیسوی تک دنیا بھر میں ہیروں کا واحد ماخذ یہی خطہ تھا۔[44] کانیں عموماً چار قد آدم (تقریباً 7.3 میٹر یا 24 فٹ) گہرائی تک کھودی جاتی تھیں۔[45][46]

گولکنڈہ کے ان قیمتی ہیروں کی نگرانی علاقائی گورنروں کے زیرِ انتظام تھی۔ سترھویں صدی عیسوی کے معروف تاجر میر جملہ، جو سلطنتِ گولکنڈہ کے وزیر اعظم کے منصب پر فائز تھے، بعد میں مغل دربار سے منسلک ہوئے۔ انھوں نے یورپ، افریقا، مشرقِ وسطیٰ، چین اور ملایا جزائر تک پھیلا ہوا ہیروں کا عالمی تجارتی جال قائم کیا۔[47][48][49] 1640ء کی دہائی میں میر جملہ کے اپنے تجارتی بیڑے اور جہاز ہوا کرتے تھے جو سورت، ٹھٹھہ، اراکان، ایودھیا، بالاسور، آچہ، ملاکا، جوہر، بنتم، ماکاسار، سری لنکا، بندر عباس، مکہ، جدہ، بصرہ، عدن، مسقط، مخا اور مالدیپ تک سفر کرتے تھے۔[50] اپنی وسیع دولت کے باعث میر جملہ نے پشتون، راجپوت، افغان اور مغل سپاہیوں پر مشتمل ایک نجی لشکر منظم کیا، جسے انھوں نے 1652ء میں بیجاپور کی مہم پر روانہ کیا۔ 1653ء تا 1654ء کے درمیان اورنگزیب کے شاہ جہاں کو لکھے ایک خط میں ذکر ہے کہ میر جملہ کے پاس 9000 سوار، 20000 پیادے اور عراقی و عربی نسل کے گھوڑوں پر مشتمل ایک زبردست لشکر موجود تھا۔[51][52]

اسی خطے سے شانتی داس جوہری بھی تعلق رکھتے تھے، جو مغلیہ دور میں ہیروں کے معروف تاجر تھے۔[45]

صنعتی پیداوار

[ترمیم]

1750ء تک ہندوستان دنیا کی مجموعی صنعتی پیداوار کا تقریباً 25 فیصد پیدا کرتا تھا۔[53] مغلیہ سلطنت سے تیار شدہ اشیا اور نقد آور فصلیں دنیا بھر میں فروخت کی جاتی تھیں۔ اہم صنعتوں میں پارچہ بافی، جہاز سازی اور فَولاد سازی شامل تھیں۔ تیار شدہ مصنوعات میں روئی کے کپڑے، سوت، دھاگے، ریشم، پَٹ سَن سے بنی اشیا، دھاتوں کے سامان و برتن اور خوردنی اشیا مثلاً چینی، تیل اور مکھن شامل تھے۔[3] مغلیہ عہد (سترھویں تا اٹھارھویں صدی عیسوی) میں برصغیر میں صنعتوں کی نشو و نما کو ابتدائی صنعت کاری کی ایک صورت سمجھا جاتا ہے، جیسی اٹھارھویں صدی عیسوی کے مغربی یورپ میں صنعتی انقلاب سے قبل دیکھی گئی۔[4]

ابتدائی جدید یورپ میں مغلیہ ہندوستانی مصنوعات کی بڑی مانگ تھی، خاص طور پر روئی کے کپڑوں، مسالا جات، مرچ، نیل، ریشم اور گولہ بارود میں استعمال ہونے والے شُورے کی۔[3] یورپی فیشن بھی مغلیہ ہندوستانی کپڑوں اور ریشم پر انحصار کرنے لگا۔ سترھویں صدی عیسوی کے آخر سے اٹھارھویں صدی عیسوی کے آغاز تک مغلیہ ہندوستان ایشیا سے برطانوی درآمدات کا 95 فیصد اور صرف صوبۂ بنگال ہی ڈچ درآمدات کا 40 فیصد فراہم کرتا تھا۔[54] اس کے برعکس مغلیہ ہندوستان میں یورپی اشیا کی طلب بہت کم تھی کیونکہ یہ خطہ خود کفیل تھا۔ اس لیے یورپی تاجروں کے پاس پیش کرنے کے لیے صرف چند چیزیں تھیں، جیسے اون، غیر تیار شدہ دھاتیں اور کچھ قیمتی سامان۔ تجارتی خسارے کے باعث یورپیوں کو سونے اور چاندی کی بڑی مقدار مغلیہ ہندوستان برآمد کرنا پڑی تاکہ جنوب ایشیائی اشیا کی قیمت ادا کی جا سکے۔[3] ہندوستانی مصنوعات خصوصاً بنگال کی مصنوعات بڑی مقدار میں دیگر ایشیائی منڈیوں مثلاً انڈونیشیا اور جاپان کو بھی بھیجی جاتی تھیں۔[10]

صنعتِ پارچہ بافی

[ترمیم]
تصویرچہ - ایک معمر مغل درباری کا مصور خاکہ جو ململ کا لباس زیب تن کیے ہوئے ہے۔
تکیہ پر ٹیک لگائے بیٹھی مسلم خاتون جس کے ہاتھ میں حقہ ہے۔ یہ تصویر اٹھارھویں صدی عیسوی میں ڈھاکہ میں بنائی گئی۔

مغلیہ سلطنت کی سب سے بڑی پیداواری صنعت پارچہ بافی تھی، بالخصوص روئی سے بننے والے کپڑوں کی۔ اس میں مختلف رنگوں اور بغیر رنگ کے کپڑوں، کَیلِیکو اور ململ کی تیاری شامل تھی۔ روئی کی صنعت سلطنت کی بین الاقوامی تجارت کا ایک بڑا حصہ تھی۔[3] اٹھارھویں صدی عیسوی کے آغاز میں ہندوستان پارچہ کی عالمی تجارت کا تقریباً 25 فیصد حصہ رکھتا تھا۔[55] ہندوستانی سوتی کپڑے اٹھارھویں صدی عیسوی میں دنیا کی سب سے اہم تجارتی تیار شدہ مصنوعات تھے جنھیں بر اعظم امریکا سے لے کر جاپان تک استعمال کیا جاتا تھا۔[56] اس وقت مغلیہ ہندوستانی کپڑے پورے برصغیر، جنوب مشرقی ایشیا، یورپ، بر اعظم امریکا، افریقا اور مشرق وسطیٰ کے لوگوں کے بدن پر تھے۔[57] صوبۂ بنگال خصوصاً اس کا دار الحکومت ڈھاکہ پارچہ بافی کا سب سے بڑا مرکز تھا۔[58]

بنگال سے ڈچ تاجروں کی ایشیائی درآمدات میں 50 فیصد سے زیادہ کپڑا اور 80 فیصد ریشم شامل تھے۔[54] بنگالی ریشم اور کپڑے بڑی مقدار میں یورپ، انڈونیشیا اور جاپان برآمد کیے جاتے تھے[10]:202 جب کہ ڈھاکہ کی ململ وسطی ایشیا میں ”ڈھاکہ ٹیکسٹائل“ کے نام سے مشہور تھی۔[58] ہندوستانی کپڑے صدیوں تک بحرِ ہند کی تجارت پر غالب رہے بحرِ اوقیانوس کے تجارتی راستوں میں بھی فروخت ہوئے اور اٹھارگویں صدی عیسوی کے آغاز میں مغربی افریقا کی تجارت میں 38 فیصد حصہ رکھتے تھے۔ ہندوستانی کَیلِیکو یورپ میں بھی بہت مقبول تھے اور جنوبی یورپ کے ساتھ انگلستان کی تجارت میں ہندوستانی کپڑوں کا حصہ 20 فیصد تھا۔[53]

روئی صاف کرنے والی مشین (Cotton gin) میں پہیے دار گراری (worm gear roller) کا استعمال ہندوستان میں دہلی سلطنت کے ابتدائی دور (تیرھویں تا چودھویں صدی عیسوی) میں ایجاد ہوا اور مغلیہ دور (سولھویں صدی عیسوی کے لگ بھگ) میں عام استعمال میں آیا[37] (اور آج بھی بھارت میں اس کا استعمال ہوتا ہے)۔[59] اسی دور میں کرینک ہینڈل (crank handle) کا استعمال بھی اس مشین میں کیا گیا۔[60] مغلیہ عہد سے قبل تک روئی زیادہ تر دیہات میں کاتی جاتی اور پھر شہروں میں کپڑے میں بدلی جاتی۔ چرخے کی ایجاد اور اس کا برصغیر میں پھیلاؤ روئی کے دھاگے کی لاگت گھٹانے اور مانگ بڑھانے کا سبب بنا۔ چرخہ، ورم گیئر اور کرینک ہینڈل کی بدولت مغلیہ دور میں ہندوستانی پارچہ بافی میں بے پناہ اضافہ ہوا۔[61]

ایک مرتبہ مغل بادشاہ اکبر نے درباریوں سے پوچھا: ”سب سے خوبصورت پھول کون سا ہے؟“ کسی نے کہا گلاب، جس کی پتیوں سے قیمتی عطر نکالا جاتا ہے؛ کسی نے کہا کنول، جو ہر گاؤں کی زینت ہے۔ مگر بیربل نے کہا: ”کپاس کا پھول۔“ سب ہنس پڑے، تو اکبر نے وجہ پوچھی۔ بیربل نے عرض کیا: ”جہاں پناہ! کپاس کے پھول سے وہ باریک کپڑا بنتا ہے جس کی قدر سمندروں پار کے سوداگر کرتے ہیں اور جس نے آپ کی سلطنت کو دنیا بھر میں مشہور کیا ہے۔ آپ کی شہرت کی خوشبو گلاب اور چنبیلی کی مہک سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ کپاس کا پھول سب سے خوبصورت ہے۔“[62]

جہاز سازی کی صنعت

[ترمیم]

مغلیہ ہندوستان میں جہاز سازی کی ایک بڑی صنعت موجود تھی، جو زیادہ تر صوبۂ بنگال میں مرکوز تھی۔ معاشی مؤرخ اندر جیت رے کے مطابق سولھویں اور سترھویں صدی عیسوی میں بنگال کی جہاز سازی کی سالانہ پیداوار 223،250 ٹن تھی جب کہ 1769ء سے 1771ء کے درمیان شمالی امریکا کی انیس نو آبادیات میں مجموعی پیداوار صرف 23،061 ٹن تھی۔[63] انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بنگال میں جہازوں کی مرمت کا کام نہایت ترقی یافتہ تھا۔[63]

ہندوستانی جہاز سازی خصوصاً بنگال میں اس زمانے میں یورپی جہاز سازی کے مقابلے میں زیادہ ترقی یافتہ تھی اور ہندوستانی ماہرین اپنے تیار کردہ جہاز یورپی کمپنیوں کو فروخت کیا کرتے تھے۔ ایک اہم جدت چپٹے عرشے (Flushed deck) کا ڈیزائن تھا، جو بنگال کے چاول بردار جہازوں میں متعارف ہوا۔ اس ڈیزائن نے جہازوں کے خول کو زیادہ مضبوط اور کم رِسنے والا بنا دیا جب کہ یورپی جہازوں کے پرانے سیڑھی نما عرشے والے خول کمزور اور غیر مستحکم تھے۔ 1760ء کی دہائی میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنگالی جہازوں کے انھی چپٹے عرشے اور مضبوط بدن / خول والے ڈیزائن کی نقل کی جس سے یورپی جہازوں کی سمندری سفر کے لیے موزونیت اور جہاز رانی میں نمایاں بہتری آئی اور صنعتی انقلاب کے دور میں یہ ترقی بنیادی حیثیت اختیار کر گئی۔[64]

صوبۂ بنگال

[ترمیم]
ڈھاکہ میں بڑا کٹرہ کے کھنڈر

بنگال کا صوبہ 1590ء میں مغلوں کے قبضے کے بعد سے لے کر 1757ء میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی فتح تک نہایت خوش حال اور دولت مند رہا۔[65] یہ مغلیہ سلطنت کا سب سے مال دار صوبہ تھا۔[66] برصغیر کے اندر زیادہ تر علاقوں کی غذائی اور صنعتی ضروریات بنگالی مصنوعات جیسے چاول، ریشم اور سوتی کپڑوں سے پوری کی جاتی تھیں جبکہ یورپی ممالک بھی انھی مصنوعات پر انحصار کرتے تھے۔ مثال کے طور پر بنگال سے ایشیا کی ڈچ درآمدات کا 40 فیصد حصہ آتا تھا، جن میں 50 فیصد سے زیادہ کپڑا اور تقریباً 80 فیصد ریشم شامل تھا۔[54] بنگال سے یورپ کو شورہ (Saltpeter) بھی بھیجا جاتا، انڈونیشیا کو افیون، جاپان اور نیدرلینڈز کو خام ریشم اور یورپ، انڈونیشیا اور جاپان کو سوتی و ریشمی کپڑے برآمد کیے جاتے تھے۔[10]

اکبر نے بنگال کو ایک تجارتی مرکز بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس نے خطے کو فتح کرنے کے بعد جنگلات کو صاف کروا کے زرعی زمینوں میں تبدیل کیا اور صوفیا کو بھیجا تاکہ وہ نئے علاقوں کو آباد کریں۔[34] مغل شہنشاہوں نے بعد میں بنگال کو ”اقوامِ عالم کی جنت“ قرار دیا۔[67] مغلوں نے زرعی اصلاحات نافذ کیں جن میں جدید بنگالی تقویم بھی شامل تھی،[68] جو فصلوں کے انتظام، محصول کی وصولی اور بنگالی ثقافت بشمول نئے سال اور موسمِ خزاں کے تہواروں میں کلیدی کردار ادا کرتی تھی۔

یہ صوبہ اناج، نمک، پھل، شراب، قیمتی دھاتوں اور زیورات کی پیداوار میں نمایاں حیثیت رکھتا تھا۔[69][صفحہ درکار] ہاتھ کی بنی ہوئی صنعتیں شاہی سر پرستی میں پھل پھول رہی تھیں اور بنگال کا علاقہ سترھویں اور اٹھارھویں صدی عیسوی میں دنیا بھر میں ململ کی تجارت کا مرکز بن گیا۔ دار الحکومت ڈھاکہ مغلیہ سلطنت کا تجارتی مرکز بنا۔ صوفی رہنماؤں کی سرکردگی میں بنگال ڈیلٹا کی زمینوں کو وسیع پیمانے پر قابلِ کاشت بنایا گیا، جس نے بنگالی مسلم معاشرت کی بنیادوں کو مستحکم کیا۔[70][صفحہ درکار]

تقریباً ڈیڑھ صدی تک مغل نائب السلطنتوں کی حکومت کے بعد 1717ء میں بنگال نوابوں کے زیرِ اقتدار ایک نیم خود مختار ریاست بن گیا۔ نوابوں نے یورپی کمپنیوں کو پورے خطے میں تجارتی مراکز قائم کرنے کی اجازت دی، جن میں برطانیہ، فرانس، نیدرلینڈز، ڈنمارک، پرتگال اور آسٹریا کی کمپنیاں شامل تھیں۔ اہم شہروں میں بینک کاری اور جہاز رانی کے شعبے پر آرمینیائی برادری کا غلبہ تھا۔ یورپی تاجروں کی نظر میں بنگال تجارت کے لحاظ سے دنیا کا امیر ترین خطہ تھا۔[69] بالآخر اٹھارھویں صدی عیسوی کے اواخر میں گوروں نے بنگال میں مغلیہ طبقۂ حکومت کی جگہ لے لی۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Stephen F. Dale (2018). Timurid Prince and Mughal Emperor (بزبان انگریزی). Philadelphia: Cambridge University press. ISBN:978-0-8133-1359-7.
  2. Burton Stein [انگریزی میں] (2010), A History of India (بزبان انگریزی), John Wiley & Sons, pp. 159–, ISBN:978-1-4443-2351-1, Archived from the original on 2023-09-22, Retrieved 2019-07-15 Quote: "Another possible date for the beginning of the Mughal regime was 1600 when the institutions that defined the regime were set firmly in place and when the heartland of the empire was defined; both of these were the accomplishment of Babur's grandson Akbar."
  3. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ Karl J. Schmidt (2015). An Atlas and Survey of South Asian History (بزبان انگریزی). Routledge. p. 100. ISBN:978-1-317-47681-8.
  4. ^ ا ب Tirthankar Roy [انگریزی میں] (2010). "The Long Globalization and Textile Producers in India". In Lex Heerma van Voss; Els Hiemstra-Kuperus; Elise van Nederveen Meerkerk (eds.). The Ashgate Companion to the History of Textile Workers, 1650–2000 (بزبان انگریزی). Ashgate Publishing. p. 255. ISBN:978-0-7546-6428-4.
  5. Jeffrey G. Williamson; David Clingingsmith. "India's Deindustrialization in the 18th and 19th Centuries" (PDF) (بزبان انگریزی). Global Economic History Network, London School of Economics. Archived from the original (PDF) on 2017-03-29. Retrieved 2025-10-04.
  6. ^ ا ب Angus Maddison [انگریزی میں] (25 Sep 2003). Development Centre Studies The World Economy Historical Statistics: Historical Statistics (بزبان انگریزی). OECD Publishing. pp. 256–259. ISBN:978-92-64-10414-3.
  7. Angus Maddison [انگریزی میں] (2006). The World Economy Volumes 1–2 (بزبان انگریزی). Development Center of the Organisation for Economic Co-operation and Development. p. 639. DOI:10.1787/456125276116. ISBN:9264022619.
  8. Chris Matthews (5 Oct 2014). "The 5 most dominant economic empires of all time". Fortune (بزبان انگریزی). Retrieved 2016-08-18.
  9. Pawan Singh (8 Feb 2022). Bangladesh And Pakistan Flirting With Failure In South Asia (ebook) (بزبان انگریزی). Gaurav Book Centre Pvt. Limited. p. 12. ISBN:9789387657014. Retrieved 2023-12-03.
  10. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح John F. Richards [انگریزی میں] (1995). The Mughal Empire (بزبان انگریزی). Cambridge University Press. ISBN:978-0-521-56603-2.
  11. Burton Stein (2010). A History of India (بزبان انگریزی). John Wiley & Sons. pp. 164–. ISBN:978-1-4443-2351-1. Quote: "The resource base of Akbar’s new order was land revenue"
  12. Catherine B. Asher; Cynthia Talbot (2006). India Before Europe (بزبان انگریزی). Cambridge University Press. pp. 158–. ISBN:978-0-521-80904-7. Quote: "The Mughal empire was based in the interior of a large land-mass and derived the vast majority of its revenues from agriculture."
  13. Burton Stein [انگریزی میں] (2010), A History of India (بزبان انگریزی), John Wiley & Sons, pp. 164–, ISBN:978-1-4443-2351-1 Quote: "... well over half of the output from the fields in his realm, after the costs of production had been met, is estimated to have been taken from the peasant producers by way of official taxes and unofficial exactions. Moreover, payments were exacted in money, and this required a well regulated silver currency."
  14. Catherine B. Asher; Cynthia Talbot (2006), India Before Europe (بزبان انگریزی), Cambridge University Press, pp. 152–, ISBN:978-0-521-80904-7
  15. Catherine B. Asher; Cynthia Talbot (2006), India Before Europe (بزبان انگریزی), Cambridge University Press, pp. 152–, ISBN:978-0-521-80904-7 Quote: "His stipulation that land taxes be paid in cash forced peasants into market networks, where they could obtain the necessary money, while the standardization of imperial currency made the exchange of goods for money easier."
  16. "Picture of original Mughal rupiya introduced by Sher Shah Suri" (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2002-10-05. Retrieved 2017-08-04.
  17. Irfan Habib; Dharma Kumar [انگریزی میں]; Tapan Raychaudhuri [انگریزی میں] (1987). The Cambridge Economic History of India (PDF) (بزبان انگریزی). Cambridge University Press. Vol. 1. p. 464.
  18. ^ ا ب پ ت John F. Richards [انگریزی میں] (2003). The Unending Frontier: An Environmental History of the Early Modern World (بزبان انگریزی). University of California Press. pp. 27–. ISBN:978-0-520-93935-6.
  19. James D. Tracy (1997). The Political Economy of Merchant Empires: State Power and World Trade, 1350–1750 (بزبان انگریزی). Cambridge University Press. pp. 97–. ISBN:978-0-521-57464-8.
  20. Moosvi (2015), p. 433.
  21. Angus Maddison [انگریزی میں] (1971). Class Structure and Economic Growth: India and Pakistan Since the Moghuls (بزبان انگریزی). Taylor & Francis. p. 33. ISBN:978-0-415-38259-5.
  22. Stephen Broadberry [انگریزی میں]; Bishnupriya Gupta [انگریزی میں] (2003). "The Early Modern Great Divergence: Wages, Prices and Economic Development in Europe and Asia 1500–1800" (PDF) (بزبان انگریزی). p. 34.
  23. Prasannan Parthasarathi (2011). Why Europe Grew Rich and Asia Did Not: Global Economic Divergence, 1600–1850 (بزبان انگریزی). p. 42.
  24. Prasannan Parthasarathi (2011). Why Europe Grew Rich and Asia Did Not: Global Economic Divergence, 1600–1850 (بزبان انگریزی). p. 39.
  25. Sashi Sivramkrishna (2009). "Ascertaining Living Standards in Erstwhile Mysore, Southern India, from Francis Buchanan's Journey of 1800–01: An Empirical Contribution to the Great Divergence". Journal of the Economic and Social History (بزبان انگریزی). 52 (4): 726.
  26. Sashi Sivramkrishna (2009). "Ascertaining Living Standards in Erstwhile Mysore, Southern India, from Francis Buchanan's Journey of 1800–01: An Empirical Contribution to the Great Divergence". Journal of the Economic and Social History (بزبان انگریزی). 52 (4): 731.
  27. Prasannan Parthasarathi (2011). Why Europe Grew Rich and Asia Did Not: Global Economic Divergence, 1600–1850 (بزبان انگریزی). p. 45.
  28. Sashi Sivramkrishna (2009). "Ascertaining Living Standards in Erstwhile Mysore, Southern India, from Francis Buchanan's Journey of 1800–01: An Empirical Contribution to the Great Divergence". Journal of the Economic and Social History (بزبان انگریزی). 52 (4): 729.
  29. Moosvi (2015), p. 432.
  30. Moosvi (2015), p. 450.
  31. ^ ا ب Shireen Moosvi (Dec 2011). "The World of Labour in Mughal India (c. 1500–1750)". International Review of Social History (بزبان انگریزی). 56 (S19): 245–261. DOI:10.1017/S0020859011000526.
  32. Ignacio Pagaza; Demetrios Argyriades (2009). Winning the Needed Change: Saving Our Planet Earth (بزبان انگریزی). IOS Press. p. 129. ISBN:978-1-58603-958-5.
  33. Om Prakash, "Empire, Mughal", History of World Trade Since 1450, edited by John J. McCusker, vol. 1, Macmillan Reference US, 2006, pp. 237–240, World History in Context. Retrieved 3 August 2017
  34. ^ ا ب David Ludden (1999). An Agrarian History of South Asia (بزبان انگریزی). Cambridge University Press. p. 96. ISBN:978-0-521-36424-9.
  35. Irfan Habib; Dharma Kumar [انگریزی میں]; Tapan Raychaudhuri [انگریزی میں] (1987). The Cambridge Economic History of India (PDF) (بزبان انگریزی). Cambridge University Press. Vol. 1. p. 214.
  36. Irfan Habib; Dharma Kumar [انگریزی میں]; Tapan Raychaudhuri [انگریزی میں] (1987). The Cambridge Economic History of India (PDF) (بزبان انگریزی). Cambridge University Press. Vol. 1. p. 217.
  37. ^ ا ب Irfan Habib (2011), Economic History of Medieval India, 1200–1500, p. 53, Pearson Education
  38. "Mughal-era stone sugar mill unearthed" (بزبان انگریزی). Erulearning by the Times Internet's Spotlight team. The times of India. 2020. Retrieved 2023-06-10.
  39. Vivek Suneja (2000). Understanding Business: A Multidimensional Approach to the Market Economy (بزبان انگریزی). Psychology Press. p. 13. ISBN:978-0-415-23857-1.
  40. Prasannan Parthasarathi (2011), Why Europe Grew Rich and Asia Did Not: Global Economic Divergence, 1600–1850 (بزبان انگریزی), Cambridge University Press, pp. 39–45, ISBN:978-1-139-49889-0
  41. Detailed Information Dossier on Diamond in India, 2011, India Geological Survey, p.22, 124.
  42. Muzaffar H. Syed (2022). History of Indian Nation : Medieval India (ebook) (بزبان انگریزی). K. K. Publications. p. 160. Retrieved 2023-08-23.
  43. Richards (1975a), p. 209-214.
  44. Michael Coulson Accum (2012). The History of Mining: The events, technology and people involved in the industry that forged the modern world (بزبان انگریزی). Harriman House Limited. pp. 75–77. ISBN:978-0-85719-266-0. Retrieved 2022-08-17.
  45. ^ ا ب Makrand Mehta (1991). Indian Merchants and Entrepreneurs in Historical Perspective: With Special Reference to Shroffs of Gujarat, 17th to 19th Centuries (بزبان انگریزی). Academic Foundation. pp. 96–102. ISBN:9788171880171. Retrieved 2022-08-17.
  46. Friedrich Christian Accum (1808). System of Theoretical and Practical Chemistry (بزبان انگریزی). Kimber and Conrad. Vol. 1. pp. 208–210. Retrieved 2022-08-17.
  47. Parvez Mahmood (12 Apr 2019). "Persian adventurer in India". The Friday times (بزبان انگریزی). Retrieved 2022-09-23.
  48. Paranan Konwar (2019). "Mir Jumla's invasion of Assam (1662–63), war experience of a Dutch sailor Heiden and Translator Glanius". Indian Historical Review (بزبان انگریزی). Department of Economics, Sonari College, Assam, India. 46: 41–54. DOI:10.1177/0376983619856149. S2CID:200082670. Retrieved 2022-09-23.
  49. Parvez Mahmood (19 Apr 2019). "Persian adventurer in India". The Friday times (بزبان انگریزی). Retrieved 2022-09-23.
  50. Pearson, M. (2007). The Indian Ocean (بزبان انگریزی). Routledge. ISBN:9780415445382. Retrieved 2015-04-21.
  51. Sarkar (1979). "Mir Jumla's Army". Of Mir Jumla: General Of Aurangzeb (بزبان انگریزی). New Delhi: Rajesh Publications. pp. 80-81.
  52. V J A Flynn, ed. (1971), "Letter 46", English translation of Adab-I-Alamgiri (بزبان انگریزی), p. 317
  53. ^ ا ب Jeffrey G. Williamson, David Clingingsmith [انگریزی میں] (Aug 2005). "India's Deindustrialization in the 18th and 19th Centuries" (PDF) (بزبان انگریزی). Harvard University. Retrieved 2017-05-18.
  54. ^ ا ب پ Om Prakash [انگریزی میں] (2006). John J. McCusker (ed.). History of World Trade Since 1450 (بزبان انگریزی). Macmillan Reference USA. pp. 237–40. ISBN:978-0-02-865840-7.
  55. Angus Maddison (1995), Monitoring the World Economy, 1820–1992, OECD, p. 30
  56. Prasannan Parthasarathi (2011), Why Europe Grew Rich and Asia Did Not: Global Economic Divergence, 1600–1850 (بزبان انگریزی), Cambridge University Press, p. 2, ISBN:978-1-139-49889-0
  57. Jeffrey G. Williamson [انگریزی میں] (2011). Trade and Poverty: When the Third World Fell Behind (بزبان انگریزی). MIT Press. p. 91. ISBN:978-0-262-29518-5.
  58. ^ ا ب Richard Maxwell Eaton (1996), The Rise of Islam and the Bengal Frontier, 1204–1760, p. 202, University of California Press
  59. Angela Lakwete (2003). Inventing the Cotton Gin: Machine and Myth in Antebellum America (بزبان انگریزی). Baltimore: The Johns Hopkins University Press. pp. 1–6. ISBN:978-0-8018-7394-2.
  60. Irfan Habib (2011), Economic History of Medieval India, 1200–1500, pp. 53–54, Pearson Education
  61. عرفان حبیب (2011)۔ Economic History of Medieval India, 1200–1500۔ Pearson Education۔ ص 54۔ ISBN:9788131727911
  62. Gouri Dey. Fashion And Designing Under The Mughals Akbar To Aurangzeb. A Historical Perspective (بزبان انگریزی). p. 57.
  63. ^ ا ب Indrajit Ray (2011). Bengal Industries and the British Industrial Revolution (1757–1857) (بزبان انگریزی). Routledge. p. 174. ISBN:978-1-136-82552-1.
  64. "Technological Dynamism in a Stagnant Sector: Safety at Sea during the Early Industrial Revolution" (PDF) (بزبان انگریزی). Archived from the original (PDF) on 2019-12-11. Retrieved 2025-11-01.
  65. Tirthankar Roy [انگریزی میں] (Nov 2011). "Where is Bengal? Situating an Indian Region in the Early Modern World Economy". Past & Present (بزبان انگریزی) (213): 115–146. DOI:10.1093/pastj/gtr009.
  66. M. Shahid Alam [انگریزی میں] (2016). Poverty From The Wealth of Nations: Integration and Polarization in the Global Economy since 1760 (بزبان انگریزی). Springer Science+Business Media. p. 32. ISBN:978-0-333-98564-9.
  67. "The paradise of nations". Dhaka Tribune (بزبان انگریزی).
  68. Shoaib Daniyal. "Bengali New Year: how Akbar invented the modern Bengali calendar". Scroll.in (بزبان انگریزی).
  69. ^ ا ب J. N. Nanda (2005). Bengal: The Unique State (بزبان انگریزی). Concept Publishing Company. ISBN:978-81-8069-149-2.
  70. Richard M. Eaton (1996). The Rise of Islam and the Bengal Frontier, 1204–1760 (بزبان انگریزی). University of California Press. ISBN:978-0-520-20507-9.

کتابیات

[ترمیم]
  • K.N. Chaudhuri (1978), "Some Reflections on the Town and Country in Mughal India", Modern Asian Studies (بزبان انگریزی), vol. 12, pp. 77–96, DOI:10.1017/s0026749x00008155, JSTOR:311823, S2CID:146558617
  • Habib, Irfan. Atlas of the Mughal Empire: Political and Economic Maps (1982).
  • Habib, Irfan. Agrarian System of Mughal India (1963, revised edition 1999).
  • J.C. Heesterman (2004), "The Social Dynamics of the Mughal Empire: A Brief Introduction", Journal of the Economic and Social History of the Orient (بزبان انگریزی), vol. 47, pp. 292–297, DOI:10.1163/1568520041974729, JSTOR:25165051
  • Iqtidar Alam Khan (1976), "The Middle Classes in the Mughal Empire", Social Scientist (بزبان انگریزی), vol. 5, pp. 28–49, DOI:10.2307/3516601, JSTOR:3516601
  • Shireen Moosvi (2015) [First published 1987]. The economy of the Mughal Empire, c. 1595: a statistical study (بزبان انگریزی) (2nd ed.). Oxford University Press. ISBN:978-0-19-908549-1.
  • Rothermund, Dietmar. An Economic History of India: From Pre-Colonial Times to 1991 (1993)
  • John F. Richards (1975a), Mughal Administration in Golconda (بزبان انگریزی), Oxford [England]: Clarendon Press, ISBN:0-19-821561-4, OCLC:2932290