مغل اعظم (فلم)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مغل اعظم
شہزادہ سلیم انارکلی سے بغلگیر ہو رہا ہے
تھیٹر پوسٹر
ہدایت کارکے آصف
پروڈیوسرشاہ پور جی پلونجی
تحریرامان
کمال امروہی
کے آصف
وجاہت مرزا
احسن رضوی
ستارےپرتھوی راج کپور
دلیپ کمار
مدھوبالا
درگا کھوٹے
موسیقینوشاد
سنیماگرافیآر ڈی ماتھر
ایڈیٹردھرم ویر
پروڈکشن
کمپنی
سٹرلنگ انوسٹمنٹ کارپوریشن
تاریخ نمائش
5 اگست 1960
دورانیہ
197 منٹ
ملکبھارت
زبان
بجٹ10.5–15 ملین
باکس آفس110 ملین [1]

مغل اعظم 1960ء میں بھارت میں بننے والی ایک تاریخی دور ڈراما فلم ہے۔ اس کے ہدایت کار کے آصف اور پروڈیوسر شاہ پور جی پلونجی تھے۔ اس کے بنیادی اداکاروں میں پرتھوی راج کپور، درگا کھوٹے، دلیپ کمار اور مدھوبالا شامل تھے۔ اس فلم میں مغل شہزادہ سلیم، جو بعد میں نورالدین جہانگیر کے نام سے شہنشاہ بنے، اور ایک درباری رقاصہ انارکلی کے عشق کو فلمایا گیا ہے۔فلم میں شہزادہ سلیم کے والد جلال الدین اکبر اس تعلق کو ناپسند کرتے ہیں، جس کی وجہ سے دونوں باپ اور بیٹے کے بیچ جنگ بھی ہوتی ہے۔ اس فلم پر کام کا آغاز کے آصف نے 1944ء میں اس وقت شروع کیا، جب انہوں نے شہنشاہ اکبر (1556 سے 1605) کے دور حکومت کے دوران میں پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں ایک ڈراما میں پڑھا۔اس فلم کا کام مالی مشکلات اور دوسری وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔1950 کی دہائی کے اولائل میں اس کی بنیادی فوٹوگرافی کا آغاز ہونا تھا لیکن اس سے پیشر ہی اس فلم کے ایک فنانسر نےفلم پروڈیوس کرنے سے معذرت کر لی، اس کے علاوہ فلم کی کاسٹ کو مکمل طور پر تبدیل کرنا پڑا۔ مغل اعظم اپنے وقت کی مہنگی ترین فلم تھی۔ اس سے پہلے بھارتی سینما میں اس سے زیادہ لاگت کی فلم نہیں بنی تھی۔اس فلم کے ایک گانے کا بجٹ اس دور میں بننے والی ایک پوری فلم کے بجٹ سے بھی زیادہ تھا۔ اس فلم کے گانے بھارتی کلاسیکل اور لوک گیتوں سے متاثر ہیں۔ اس فلم میں 12 گانے شامل ہیں۔ ان گانوں کو لتا منگیشکر کے ساتھمحمد رفیع، شمشاد بیگم اور کلاسیکل گلوکار استاد بڑے غلام علی خان نے گایا ہے۔ اس فلم کو موسیقی کے لحاظ سے بھی بالی وڈ کی بہترین فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مغل اعظم کو اُس دور میں کسی بھی فلم کے حوالے سے سب سے زیادہ سینماؤں میں ریلیز کیا گیا۔ اس فلم کے شائقین نے کئی دنوں تک لائن میں لگ کر فلم کے ٹکٹ بھی خریدے تھے۔5 اگست 1960ء کو ریلیز ہونے والی فلم مغل اعظم نےبھارتی فلمی تاریخ کی [[سب سے زیادہ کمائی کرنے والی بھارتی فلموں کی فہرست |سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم]] بن گئی۔ مغل اعظم کے پاس یہ ریکارڈ 15 سال تک رہا، جسے15 اگست 1975ء میں ریلیز ہونے فلم شعلے نے توڑا۔اس فلم نے کئی اعزازات اپنے نام کیے۔اس فلم نے ایک نیشنل فلم ایوارڈ جیتا اور آٹھویں فلم فیئر ایوارڈ کے دوران میں 3 فلم فیئر اعزازات جیتے۔مٖغل اعظم وہ پہلی بلیک اینڈ وائٹ فلم ہے، جسے ڈیجیٹلی رنگین کیا گیا اور کسی بھی زبان کی پہلی فلم ہے، جسے رنگین بنانے کے بعد دوبارہ سینما گھروں میں بھی ریلیز کیا گیا۔ اس فلم کا رنگین ورژن نومبر 2004ء کو سینماؤں میں جاری کیا گیا جو تجارتی حوالے سے کافی کامیاب رہا۔ اس فلم کو اپنی نوع میں سنگ میل تصور کیا جاتا ہے۔کمائی کےحوالے سے، نقادوں سے تعریف پانے کے حوالےسے اور اس فلم میں ہر طرح سے جزیات کے بیان کے حوالے سے اس فلم کو سراہا جاتا ہےفلمی محققین نے اس طرح کی تاریخی فلموں کی خوش آمدید کہا ہے لیکن اس فلم میں دکھائے گئے تاریخی حقائق کے بارے میں سوالات بھی اٹھائے ہیں۔

کہانی[ترمیم]

بیرونی تصاویر
مغل اعظم کی تصاویر اور کہانی کی تفصیل

شہنشاہ اکبر کی کوئی اولاد نرینہ نہیں ہوتی۔ وہ مریم الزمانی المعروف جودھا بائی سے بیٹا ہونے کی منت مانگنے کے لیے ننگے پاؤں ایک بزرگ کے مزار پر حاضری دیتا ہے۔اس سفر میں اس کا لشکر تو اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار ہوتا ہے لیکن صرف وہی پیدل اور ننگے پاؤں ہوتا ہے۔بعد میں (اگلے منظر میں) ایک ملازمہ اس کے ہاں بیٹا ہونے کی خوشخبری دیتی ہے۔خوشی سے نہال اکبر، جس کی دعائیں سنی گئی تھی، ملازمہ کو ایک انگوٹھی دیتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ وہ ملازمہ کی کوئی بھی خواہش پوری کرے گا۔ بیٹا شہزادہ سلیم بڑا ہوتا رہتا ہے اور لاڈ پیار کی وجہ سے حد سے زیادہ بگڑ جاتا ہے۔ایک بار اکبر بادشاہ اسے شراب کے نشے میں دھت دیکھتا ہے تو تھپڑ مارتا ہے اور اسے جنگ کے میدان میں بھیج دیتا ہے تاکہ وہ بہادر شخص بنے اور اس کی زندگی میں بھی سلیقہ آ جائے۔ چودہ سال بعد شہزادہ سلیم (دلیپ کمار) ایک ممتاز سپاہی کے طور پر واپس آتا ہے اور درباری رقاصہ نادرہ (مدھوبالا) کے عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ بادشاہ نے اس رقاصہ کو اس کے رنگ کی مناسبت سے انارکلی کا نام دیا ہوتا ہے۔انارکلی کا مطلب انار کا کھلتا ہوا پھول ہے۔ شہزادہ سلیم اور انارکلی کا تعلق ایک اعلیٰ ٰ درجے کی حاسد رقاصہ بہار کے علم میں بھی آ جاتا ہے۔بہار خود بھی شہزادے کی محبت میں گرفتار ہوتی ہے اور ایک دن ملکہ بنناچاہتی ہے۔ شہزادے کی محبت پانے میں ناکامی کے بعد وہ شہزادہ سلیم اور انارکلی کے عشق کے راز کو افشاء کر دیتی ہے۔شہزادہ سلیم انار کلی سے شادی کرنا چاہتا ہے لیکن اس کا باپ انکار کر دیتا ہےیہی نہیں بلکہ شہنشاہ اکبر انار کلی کو قید بھی کر دیتا ہے۔شہنشاہ اکبر انار کلی سے شہزادے کی محبت سے دستبرار ہونے کا بھی کہتا ہے لیکن انار کلی شہزادے کو ٹھکرانے سے انکار کر دیتی ہے۔ شہزادہ سلیم بغاوت کردیتا ہے اور انارکلی کو چھڑانے کے لیے اپنے باپ سے مقابلہ کرنے کے لیے فوج کشی کر دیتا ہے۔ جنگ میں شہزادہ سلیم کو شکست ہوجاتی ہے اور اس کا باپ اسے سزائے موت سنا دیتا ہے۔ اس وقت انارکلی خفیہ مقام پر موجود ہوتی ہے۔ شہنشاہ اکبر پیش کش کرتا ہے کہ اگر انارکلی چاہے تو شہزادہ سلیم کے بدلے خود سزائے موت پا سکتی ہے۔ انارکلی شہزادہ سلیم کی جان بچانے کے لیے خود کو بادشاہ کے حوالے کر دیتی ہے تاکہ اسے زندہ دیوار میں چنوا دیا جائے۔ سزا پر عمل درآمد ہونے سے پہلے انارکلی درخواست کرتی ہے کہ اسے شہزادے کے ساتھ چند گھنٹے گزارنے دئیے جائے تاکہ وہ خود کو کچھ دیر کے لیے اس کی بیوی سمجھ سکے۔ اس کی درخواست قبول کر لی جاتی ہے۔ انارکلی اس بات پر بھی راضی ہو جاتی ہے کہ وہ شہزادے کو بے ہوش کر دے گی تاکہ وہ اس کی سزا میں عمل درآمد کرنے میں رکاؤٹ نہ بنے۔ جب انارکلی کو دیوار میں چنا جا رہا تھا تو اکبر بادشاہ کو یاد کرایا جاتا ہے کہ وہ انارکلی کی ماں کو دئیے گئے ایک قول کا آج بھی پابند ہے، جس نے اسے شہزادے کی پیدائش کی خبر دی تھی۔ انارکلی کی ماں اکبر بادشاہ سے اپنی بیٹی کی زندگی کی بھیک مانگتی ہے۔شہنشاہ کا من بدل جاتا ہے وہ انارکلی کو چھوڑنا چاہتا ہے لیکن چھوڑ نہیں سکتا کیونکہ یہ اس کے ملک کے لیے اس کا فرض ہوتا ہے۔ اکبربادشاہ انارکلی کے خفیہ فرار اور اس کی ماں کے ساتھ جلا وطن کرنے کا بندوبست کرتا ہے لیکن مطالبہ کرتا ہے کہ وہ گمنام رہے گی اور شہزادہ سلیم کو کبھی معلوم نہیں ہو گا کہ وہ انارکلی ابھی تک زندہ ہے۔

کاسٹ[ترمیم]

پروڈکشن[ترمیم]

ڈویلپمنٹ[ترمیم]

1928ء کی خاموش فلم انار کلی کا منظر
”انارکلی“ 1928ء کی خاموش فلم، جسے سلیم اور انار کلی پر بنایا گیا، کا منظر

اردو ڈراما نگار امتیاز علی تاج نے 1922ء میں 16ویں صدی کی شہزادہ سلیم اور انارکلی کی محبت پر ایک ڈراما لکھا تھا[7][8]۔ [9] جلد ہی اس ڈرامے کا ایک سٹیج ورژن اور پھر سکرین ورژنز پیش کیے گئے۔[10] اردشیر ایرانی نے 1928ء میں ”انارکلی“ کے نام سے ایک خاموش فلم بنائی۔ 1935ء میں اس فلم کو آواز کے ساتھ دوبارہ بنایا گیا۔[10] 1940ء کی دہائی کی ابتداء میں انارکلی کی کہانی نے پروڈیوسر شیراز علی حکیم اور نوجوان ڈائریکٹر کے آصف (کریم الدین آصف) کو متاثر کیا۔ انہوں نے اس کہانی پر ”مغل اعظم“ کے نام سے فلم بنانے کا فیصلہ کیا۔[11] انہوں نے چار اردو مصنفوں کو بھرتی کیا تاکہ مغل اعظم کے سکرین پلے اور ڈائیلاگ پر کام کیا جا سکے۔ان مصنفوں میں امان (زینت امان کے والد جنہیں امان اللہ خان کے نام سے جانا جاتا ہے)، وجاہت مرزا، کمال امروہی اور احسان رضوی شامل تھے۔[11] یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ چاروں مصنفوں نے ایک ساتھ مل کر اور ایک دوسرے سے ساجھے میں کس طرح کام کیا لیکن 2010ء میں ”ٹائمز آف انڈیا“ نے بتایا کہ ان چاروں کی محنت فلم کے ہر ہر شاعرانہ جملے اور ہر ہر لائن سے ہوتا ہے۔چاروں مصنفوں کے کام نے اس فلم کے پلاٹ کو شیکسپئر کے کسی ڈرامے سے بھی زیادہ بہتر بنادیا۔[12] جب فلم کا سکرپٹ مکمل ہونے کے قریب تھا تو کے آصف نے چندر موہن، D. K. Sapru اور نرگس دت کو اکبر، سلیم اور انارکلی کے رول میں کاسٹ کر لیا۔ [13][14] فلم کی شوٹنگ 1946ء میں Bombay Talkies کے سٹوڈیو میں شروع ہوئی۔[15] اس پراجیکٹ کی راہ میں کئی رکاؤٹیں آئیں، جن کی وجہ سے اس پراجیکٹ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔تقسیم ہند کے دوران میں سیاسی تناؤ اور مذہبی فسادات نے اس فلم کے کام کو بالکل روک دیا۔ تقسیم ہند کے بعد شیراز علی حکیم پاکستان ہجرت کر گئے اور کے آصف بغیر فنانسر کے رہ گئے۔[14][15] 1949ء میں اداکار چندراموہن بھی دل کے دورے میں وفات پا گئے۔[16]

شیراز علی اس سے پہلے تجویز دے چکے تھے کہ اس فلم کو کاروباری شخصیت شاہ پور جی پلونجی فنانس کر سکتے ہیں۔ اگرچہ پلونجی فلم پروڈکشن کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے لیکن 1950ء میں وہ اس فلم کو پروڈیوس کرنے پر راضی ہو گئے، کیونکہ انہیں اکبر کی تاریخ میں دلچسپی تھی۔ [17][18]اس کے بعد اس فلم کی پروڈکشن نئی کاسٹ کے ساتھ شروع کر دی گئی۔[17] اس فلم کے ایک سکرپٹ رائٹر کمال امروہوی، جو خود بھی فلم ڈائریکٹر تھے، نے سمجھا کہ اس فلم کا منصوبہ منسوخ ہو چکا ہے، اس لیے انہوں نے اس موضوع پر خود سے فلم بنانے کا اعلان کیا۔جب کے آصف نے مخالفت کی تو وہ اپنا منصوبہ ترک کرنے پر راضی ہوگئے۔[19]امتیاز علی تاج کے اسی ڈرامے پر ایک اور فلم ڈائریکٹر نندلال جسونت لال نے بھی 1953ء میں انارکلی کے نام سے فلم بنائی۔ اس فلم میں بینا رائے اور پردیپ کمار نے نمایاں کردار ادا کیے۔یہ 1953ء میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی بالی وڈ کی فلم تھی۔[20]

کاسٹنگ[ترمیم]

آصف نے ابتدائی طور پر دلیپ کمار کو شہزادہ سلیم کے کردار کے لیے مسترد کر دیا تھا۔[13]۔ دلیپ کمار بھی تاریخی فلم میں کام کرنے سے ہچکچا رہے تھے لیکن انہوں نے پروڈیوسر کے اصرار پر ہاں کر دی۔[21] دلیپ کمار کے مطابق”آصف کو مجھ پر اتنا اعتماد تھا کہ انہوں نے شہزادہ سلیم کی کردار نگاری مکمل طور پر مجھ پر چھوڑ دی“۔[22] دلیپ کمار کو راجستھان میں فلم بندی کے دوران میں بھی کئی مشکلات پیش آئیں، جن کی وجہ گرمی اور جسم پر پہنی ہوئی زرہ تھیں۔[22] انارکلی کا کردار پہلے ثریا کو پیش کیا گیا لیکن بعد میں مدھو بالا کو دیا گیا، جو کافی عرصہ سے ایسے اہم کردار کے لیے کوشش کر رہی تھی۔[23][24] مدھو بالا کو دل کا پیدائشی نقص بھی تھا[25]، اسی وجہ سے وہ اس فلم کی شوٹنگ کے دوران میں کئی بار سیٹ پر بے ہوش ہوئٰیں۔قید خانے کے حصے کی فلم بندی کے دوران مدھو بالا کی جلدپر سوزش بھی ہو گئی تھی لیکن انہوں نے فلم کو مکمل کرایا۔[26] رپورٹس کے مطابق شہنشاہ اکبر کے کردار کو ادا کرنے کے لیے پرتھوی راج کپور کو مکمل طور پر سکرپٹ اور ڈائریکٹر پر انحصار کرنا پڑا۔[14]۔ پرتھوی راج کپور جب میک اپ کے لیے جاتے تو کہا جاتا ”پرتھوی راج کپور جا رہا ہے“۔ میک اپ کے بعد اعلان کیا جاتا ”اکبر اب آ رہا ہے “۔ اپنے کردار کو ادا کرنے کے لیے پرتھوی راج کپور کو بھی بہت مشکلات اٹھانا پڑی۔بھاری بھر کم کاسٹیوم نے اُن کی مشکلات کو بڑھایا ہی تھا لیکن ایک سیکوئنس میں انہیں صحرا میں ننگے پاؤں چلنا پڑا،جس سے اُن کے پاؤں میں چھالے پڑ گئے۔[14] لینس ڈین، ایک فوٹو گرافر جو شوٹنگ کے دوران سیٹ پرموجود تھے، نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ پرتھوی راج کپور کو اپنے کچھ سین کرتے ہوئے کافی مشکلات اٹھانی پڑی، انہیں لائنیں مشکل سے یاد ہوتی تھیں، ایک بار ایک سین کے لیے انہوں نے 19 ٹیک کیے۔[27] اس فلم کی شوٹنگ کے دوران پرتھوی راج کپور ڈائیٹ (diet) پر تھے، انہوں نے کے آصف کی بتائی ہی خوراک کھا کر دوبارہ وزن بڑھایا تاکہ اکبر کے کردار کے مطابق نظر آئیں[27]۔درگا کھوٹے نے اکبر کی بیوی جودھا بائی کا کردار ادا کیا[28] اور نگار سلطانہ نے رقاصہ بہار کا کردار نبھایا۔[29] ذاکر حسین جو بعد میں طبلہ کے استاد بنے، پر ابتدا میں شہزادہ سلیم کے بچپن کے کردار کے لیے غور کیا گیا لیکن پھر یہ کردار جلال آغا کے کیرئیر کا آغاز بن گیا۔جلال آغا نے 1975 میں فلم شعلے میں ”محبوبہ محبوبہ“ گانے پر بھی پرفارم کیا[7]۔

ڈیزائن[ترمیم]

اس فلم کا پروڈکشن ڈیزائن آرٹ ڈائریکٹر ایم کے سید نے بنایا۔یہ ڈیزائن بہت زبردست تھا۔ کچھ سیٹ کو مکمل ہونے پر 6 ہفتے لگے۔اس فلم کی زیادہ تر فلم بندی سٹوڈیوز کے اندر مغلیہ محلات کی طرز پر بنے سیٹ پر کی گئی۔ ان سیٹ پر بہترین فرنیچر ، پانی کے فوارے اور تالاب کو بنایا گیا تھا[30] جسے دیکھ کر ہالی وڈ کی تاریخی دور کے سیٹ کا گمان ہوتا تھا۔اس فلم کا گانا پیار کیا تو ڈرنا کیا موہن سٹوڈیو میں فلمایا گیا جہاں قلعہ لاہور کے شیش محل کا سیٹ لگایا گیا تھا۔اس سیٹ کا سائز قابل ذکر تھا۔ اس سیٹ کی لمبائی 150 فٹ (46 میٹر)، چوڑائی 80 فٹ (24 میٹر) اور اونچائی35 فٹ (11 میٹر) تھی[14] ۔ اس سیٹ کی سب سے قابل ذکر بات اس میں لگے بے شمار چھوٹے چھوٹے شیشے کے ٹکڑے تھے، جنہیں فیروز آباد کے کاریگروں نے تراشا اور لگایا تھا۔[31] اس سیٹ کی تیاری میں دو سال کا عرصہ لگا اوراُس وقت اس کی لاگت 1.5 ملین تھی(1960 میں یہ 3 لاکھ 14 ہزار امریکی ڈالر کے برابر تھی)[ا][32]۔ 1960ء میں اس سیٹ پر اس دور کی کسی فلم کے مجموعی بجٹ سے بھی زیادہ کی لاگت آئی تھی۔اس فلم کی بہت زیادہ لاگت کی وجہ سے فلم کے فنانسرز کا دیوالیہ نکلنے کا بھی خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔[21]اس سیٹ کی تعمیر کے لیے پورے بھارت سے کاریگر بھرتی کیے گئے۔فلم کے کاسٹیوم مکھن لال اینڈ کمپنی نے ڈیزائن کیے۔[33] اور انہیں دہلی کے درزیوں نے جو زردوزی کشیدہ کاری میں ماہر تھے، ان مغل کاسٹیومز کو سیا[33]۔اس فلم کے لیے جوتے آگرہ کے کاریگروں نے بنائے۔فلم کے لیے زیورات حیدر آباد، دکن کے سناروں نے بنائے، تاج کولہاپور میں ڈیزائن کیے گئےجبکہ ہتھیار راجھستان کے لوہاروں نےبنائے۔ ان ہتھیاروں میں ڈھالیں، تلواریں، نیزے، خنجر اور زرہ بکتر شامل ہیں۔کاسٹیوم پر زردوزی بھی سورت، گجرات کے ڈیزائنروں کی ہی ٹانکی گئی۔[21][33][34] فلم میں جودھا بائی کرشن کے جس مجسمے کی پوجا کرتی دکھائی دی وہ بھی سونے سے بنا تھا۔ انار کلی کو زنجیروں سے جکڑنے کے مناظر میں مدھو بالا کو اصل زنجیریں پہنائی گئیں[14]۔اکبر اور سلیم کی جنگ کے مناظر میں 2000 اونٹوں، 400 گھوڑوں اور 8000 سپاہیوں نے حصہ لیا۔ یہ سب بھارتی فوج کی جے پور گھوڑ سوار فوج 56 ویں رجمنٹ کا حصہ تھے{{sfn|Warsi|2009|p=64}۔فلم بندی کےدوران دلیپ کمار کو راجھستان کے صحرا میں شدید گرمی میں مکمل زرہ بکتر پہن کر بولنا پڑا[22]۔

موسیقی[ترمیم]

تمام شاعری از شکیل بدایونی; تمام موسیقی کے کمپوزر نوشاد.

نمبر شمارعنوانگلوکارطوالت
1."موہے پنگھٹ پے"لتا منگیشکر اور سنگت04:02
2."پیار کیا تو ڈرنا کیا"لتا منگیشکر اور سنگت06:21
3."محبت کی جھوٹی"لتا منگیشکر02:40
4."ہمیں کاش تم سے محبت"لتا منگیشکر03:08
5."بےکس پے کرم کیجئے"لتا منگیشکر03:52
6."تری محفل میں"لتا منگیشکر، شمشاد بیگم اور سنگت05:05
7."یہ دل کی لگی کم"لتا منگیشکر03:50
8."اے عشق یہ سب دنیا والے"لتا منگیشکر04:17
9."خدا نگہبان"لتا منگیشکر02:52
10."اے محبت زندہ باد"محمد رفیع اور سنگت05:03
11."پریم جوگن پن کے"بڑے غلام علی خان05:03
12."شبھ دن آیو راج دلارا"بڑے غلام علی خان02:49
کل طوالت:49:02

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Bhattacharya، Roshmila (9 مارچ 2018). "This Week, That Year: Living a Mughal dream". Mumbai Mirror. 2 مئی 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 2 مئی 2018. 
  2. ^ ا ب "Mughal E Azam Cast & Crew". Bollywood Hungama. 2 مئی 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 2 مئی 2018. 
  3. Desai، Meghnad (2004). Nehru's Hero: Dilip Kumar, in the Life of India. Lotus Collection, Roli Books. صفحہ 117. ISBN 9788174363114. 
  4. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج Mughal-e-Azam (motion picture). Sterling Investment Corporation. 1960. Opening credits, from 0:00 to 3:01. 
  5. Bharatan، Raju (25 دسمبر 2007). "Composer without peer". ہندوستان ٹائمز. 2 مئی 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 2 مئی 2018. 
  6. ^ ا ب Raheja, Dinesh (15 فروری 2003). "Mughal-e-Azam: A work of art". ریڈف ڈاٹ کوم. 17 اکتوبر 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 10 جون 2012. 
  7. Pauwels 2007، صفحات 123, 125, 130.
  8. Ganti 2004، صفحہ 152.
  9. ^ ا ب Warsi 2009، صفحہ 38.
  10. ^ ا ب Warsi 2009، صفحہ 39.
  11. Kabir, Nasreen Munni (31 جولائی 2010). "Where every line was a piece of poetry.۔.". دی ٹائمز آف انڈیا. 14 فروری 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 3 جولائی 2012. 
  12. ^ ا ب Warsi 2009، صفحہ 50.
  13. ^ ا ب پ ت ٹ ث Vijayakar, Rajiv (6 اگست 2010). "Celluloid Monument". دی انڈین ایکسپریس. 3 جولائی 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 12 جون 2012. 
  14. ^ ا ب Warsi 2009، صفحہ 52.
  15. "How well do you know Mughal-e-Azam?". Rediff. 5 اگست 2010. 1 دسمبر 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 12 جون 2012. 
  16. ^ ا ب Warsi 2009، صفحہ 53.
  17. Us Salam, Zia (31 جولائی 2009). "Saga of all sagas". دی ہندو. 21 اکتوبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 12 جون 2012. 
  18. Warsi 2009، صفحات 39–40.
  19. "Box Office 1953". Box Office India. 30 اکتوبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 25 جولائی 2012. 
  20. ^ ا ب پ Burman, Jivraj (7 اگست 2008). "Mughal-e-Azam: reliving the making of an epic". ہندوستان ٹائمز. 25 جنوری 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 10 جون 2012. 
  21. ^ ا ب پ Sinha, Meenakshi (5 اگست 2010). "50 yrs [sic] on, Dilip Kumar remembers magnum opus Mughal-e-Azam". The Times of India. 21 اکتوبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 24 جون 2012. 
  22. Sharma, Rohit (13 فروری 2011). "Still our Valentine". Hindustan Times. 25 جنوری 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 25 جون 2012. 
  23. Kohli, Suresh (25 جون 2012). "Timeless appeal". دکن ہیرالڈ. 8 دسمبر 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 25 جون 2012. 
  24. ^ ا ب Jain 2009، صفحہ 39.
  25. Rajadhyaksha & Willemen 1998، صفحہ 365.
  26. Akbar، Irena (3 January 2012). "Where is the Muslim actress? -". The Indian Express. 02 مئی 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 02 مئی 2018. 
  27. Rishi 2012، صفحہ 187.
  28. "Is it sunset for Bollywood's magnificent 'sets'?". The Indian Express. 17 July 2011. 26 جنوری 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 25 جون 2012. 
  29. Warsi 2009، صفحہ 57.
  30. ^ ا ب پ Warsi 2009، صفحہ 62.
  31. Saqaf, Syed Muthahar (1 August 2013). "Bollywood's best". The Hindu. 04 اگست 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 12 اگست 2013. 

بیرونی روابط[ترمیم]