مندرجات کا رخ کریں

مفتی جعفر حسین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

مفتی جعفر حسین پاکستان کے اہل تشیع کے دوسرے قائد تھے۔ وہ 1912ء میں پاکستان کے شہر گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔[1] آپ جمہوریت کے حامی اور تصوف کے مخالف تھے۔

ابتدائی زندگی

[ترمیم]

آپ کے والد ماجد حکیم چراغ دین نے آپ کی تربیت اور پرورش کی ذمہ داری آپ کے تایا حکیم شہاب الدین کے سپرد کر رکھی تھی۔ پانچ برس کی عمر میں تایا نے آپ کو قرآن کریم کے علاوہ عربی زبان کی تدریس بھی شروع کر دی تھی، جس کے بعد تقریباً سات سال کی عمر میں آپ نے حدیث و فقہ کی تعلیم کا آغاز کیا ۔

جناب مفتی جعفر حسین اعلی اللہ مقامہ نے قران حکیم ،عربی ،حدیث اور فقہ کی تعلیم اپنے تایا حکیم شہاب الدین کے علاوہ، مولانا چراغ علی خطیب جامع مسجد اہل سنت اور حکیم قاضی عبدالرحیم، جو ندوی لکھنؤ کے فارغ التحصیل تھے، سے بھی حاصل کی۔ آپ نے بارہ برس کی عمر تک طب، حدیث، فقہ اور عربی زبان میں کافی حد تک عبور حاصل کر لیا تھا۔ 1926ء میں مرزا احمد علی مرحوم آپ کو اپنے ہمراہ لکھنؤ لے گئے جہاں آپ نے مدرسہ ناظمیہ میں مولانا ابوالحسن عرف منن صاحب، جناب سعید علی نقوی، جناب مولانا ظہورالحسن اور جناب مفتی احمد علی مرحوم سے کسب علم وفیض فرمایا۔ مدرسہ ناظمیہ میں تحصیل علم کے دوران آپ اپنی ذہانت کے باعث کافی معروف ہوئے۔ آپ نے وہاں امتحانات میں نہ صرف یہ کہ امتیازی اور نمایاں حیثیت حاصل کی بلکہ کچھ اعزازی سندیں بھی حاصل کیں ۔

دینی تعلیم

[ترمیم]

نو سال تک لکھنؤ میں تحصیل علم کے بعد آپ 1935ء میں اعلی تعلیم کے لیے باب العلم حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے شہر نجف اشرف (عراق) میں تشریف لے گئے جہاں پانچ سال تک جوار امام علی علیہ السلام میں حوزہ علمیہ کے جید علما کرام وفقہاء عظام سے کسب فیض کیا کہ جن میں دیگر علما کرام کے علاوہ صاحب شریعت، عالم باعمل جناب آیت اللہ العظمی آقای سید ابوالحسن اصفہانی رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی شامل ہیں۔ نجف اشرف (عراق) سے پانچ سال کے بعد آپ فارغ التحصیل ہوکر 1940ء میں گوجرانوالہ میں تشریف لائے تو آپ حجۃ الاسلام مفتی جعفر حسین کے نام متعارف ہوئے آپ جید عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین ادیب، مبلغ اور مقرر بھی تھے۔ آپ کے لکھنؤ میں طالب علمی کے دور کے دوست مولانا ملک محسن علی عمرانی (ڈیرہ اسماعیل خان)  جو خود بھی ایک جید عالم دین اور معروف خطیب تھے نے مل کر ملک کے گوشے گوشے اور قریہ قریہ میں علوم آل محمد ص اور عزاداری کی ترویج کی خاطر کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ جہاں بھی خطابت و تبلیغ کے سلسلے میں جاتے وسیع پیمانے پر لوگ مذہب شیعہ میں داخل ہو جاتے۔

نظریات

[ترمیم]

علامہ مفتی جعفر حسین نے 10 جولائی 1983ء کو گوجرانوالہ میں اپنی زندگی کے آخری انٹرویو میں اخبار روز نامہ جنگ کے نمائندے سے متعدد اہم مسائل پر گفتگو کی۔ آپ کی گفتگو سے اقتباسات یہاں پیش کیے جا رہے ہیں:

جمہوریت کی حمایت

[ترمیم]

آپ نے کہا کہ ایم آر ڈی پنجاب کے لیڈر راؤ عبد الرشید سے ان کی ملاقات ہوئی تھی اور انھوں نے جمہوریت کی بحالی کے لیے انھیں اپنے تعاون اور امداد کا یقین دلایا تھا۔ انھوں نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا راؤ عبد الرشید سے آپ کی گفتگو ایم آر ڈی کے حوالہ سے ہوئی تھی؟ کہا کہ خاص ایم آر ڈی کے حوالہ سے تو کوئی بات نہیں ہوئی تھی لیکن جمہوریت کی بحالی اور مارشل لا کے خاتمہ کی بات ہوئی تھی۔ اور میں نے کہا تھا کہ ہم ہر اس جماعت کی حمایت کریں گے جو ملک میں جمہوریت کے لیے کام کرے۔ میں نے انھیں یہ بھی بتایا کہ شیعہ فرقہ کی طرف سے 14 اگست کی تحریک میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔

ایک اور سوال کے جواب میں مفتی جعفر حسین نے کہا کہ اسلام میں مارشل لا کی کوئی گنجائش نہیں اور جو حکومت اسلامی نہیں اس کے اقدامات کسی طرح اسلامی ہو سکتے ہیں؟

فرقہ واریت کے زہر کا علاج

[ترمیم]

کراچی کے واقعات کے بارے میں انھوں نے کہا کہ وہاں حکومت مناسب احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کر سکی۔ وہ ایسا کرتی تو کچھ نہ ہوتا۔ مفتی صاحب سے پوچھا گیا کہ آیا فقہی اختلافات کا کوئی حل ہے۔ کوئی ایسا حل جس سے نفاذ اسلام کا عمل آسان ہو جائے اور کشیدگی باقی نہ رہے۔ انھوں نے جواب دیا اختلاف طبعی چیز ہے۔ یہ اختلاف کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ دوسرے کی فقہ کو تو کوئی قبول نہیں کرے گا۔ اس کا حل یہ ہے کہ ہم اپنی فقہ پر عمل کریں، دوسرے اپنی فقہ پر عمل کریں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پبلک لا اکثریت کی فقہ کے مطابق بنانا درست نہیں تو انھوں نے کہا کہ یہ سیاست کی باتیں ہیں۔ دین کے معاملے میں اقلیت اکثریت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ یہاں کسی کو دوسرے کی فقہ ماننے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ 1956 ء کے آئین میں فرقہ وارانہ جذبات کے احترام کا زیادہ اہتمام تھا لیکن اب 1973ء کے آئین کو قائم رکھنا چاہیے۔ انھوں نے فقہی ختلافات کو ایک حقیقت تسلیم کرتے ہوئے کہا اتحاد و اتفاق قائم کرنا چاہیے۔ مذہبی اختلافات کو نفرت کی بنیاد نہیں بنانا چاہیے۔ یہ نہ دیکھا جائے کہ یہ شیعہ ہے، یہ سنی ہے۔ بلکہ دوسرے کی فقہ کو برداشت کیا جائے۔ تعمیری باتوں اور معاشی و معاشرتی انصاف کی طرف توجہ دی جانی چاہیے۔

تعلیمی نصاب

[ترمیم]

اسکولوں میں اسلامیات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ الگ الگ ہونا چاہیے۔ شیعوں کے لیے شیعہ دینیات اور سنیوں کے لیے سنی دینیات، اگر دونوں کو ملا کر ایک کر دیا جائے تو وہ کبھی دینیات نہیں رہے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اس سے پاکستانی بچوں کے اندر شروع ہی سے فرقہ وارانہ احساسات پیدا نہیں ہو جائیں گے، تو انھوں نے کہا کہ شیعہ بچہ شیعہ ہے اور شیعہ ہی رہے گا منی بچہ سنی ہے اور وہ ہنی ہی رہے گا۔ یہ کوئی بڑی بات نہیں۔

تصوف کی مخالفت

[ترمیم]

آپ اکثر شیعہ علما کی طرح تصوف کو اسلام سے جدا سمجھتے تھے۔ چنانچہ آپ شرح نہج البلاغہ میں لکھتے ہیں:

”وہ افراد جو جامہ تصوف پہن کر زہد و بے تعلقی دنیا اور روحانی عظمت کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں وہ اسلام کی عملی راہ سے الگ اور اس کی حکیمانہ تعلیم سے نا آشنا ہیں اور صرف شیطان کے بہکانے سے خود ساختہ سہاروں پر بھروسا کر کے ضلالت کے راستے پر گامزن ہیں۔ چنانچہ ان کی گمراہی اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے پیشواؤں کو اس سطح پر سمجھنے لگتے ہیں کہ گویا ان کی آواز خدا کی آواز اور ان کا عمل خدا کا عمل ہے اور کبھی شرعی حدود و قیود سے اپنے کو آزاد سمجھتے ہوئے ہر امر قبیح کو اپنے لیے جائز قرار دے لیتے ہیں۔

اس الحاد و بے دینی کو ’’تصوف‘‘ کے نام سے پیش کیا جاتا ہے اور اس کے غیر شرعی اصولوں کو ’’طریقت‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے اور یہ مسلک اختیار کرنے والے ’’صوفی‘‘ کہے جاتے ہیں۔

سب سے پہلے ابو ہاشم کوفی و شامی نے یہ لقب اختیار کیا کہ جو اموی النسب اور جبری العقیدہ تھا۔ اسے اس لقب سے پکارے جانے کی وجہ یہ تھی کہ اس نے زہد و تقویٰ کی نمائش کے لیے ’’صوف‘‘ کا لباس پہن رکھا تھا۔ بعد میں اس لقب نے عمومیت حاصل کر لی اور اس کی وجہ تسمیہ میں مختلف توجیہات گھڑ لی گئیں۔ چنانچہ:

ایک توجیہ یہ ہے کہ ’’صوف‘‘ کے تین حرف ہیں: ’’ص، و، ف،‘‘۔ ’’صاد‘‘ سے مراد صبر، صدق اور صفا ہے اور ’’واو‘‘ سے مراد وُدّ، ورد اور وفا ہے اور ’’فا‘‘ سے مراد فرد، فقر اور فنا ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ’’صفہ‘‘ سے ماخوذ ہے اور صفہ مسجد نبوی کے قریب ایک چبوترا تھا جس پر کجھور کی شاخوں کی چھت پڑی ہوئی تھی جس میں رہنے والے ’’اصحابِ صفہ‘‘ کہلاتے تھے اور غربت و بیچارگی کی وجہ سے وہیں پڑے رہتے تھے۔

تیسرا قول یہ ہے کہ عرب کے ایک قبیلہ کے جد اعلیٰ کا نام ’’صوفہ‘‘ تھا اور یہ قبیلہ خانۂ کعبہ اور حجاج کی خدمت کے فرائض سر انجام دیتا تھا اور اسی قبیلہ کی نسبت سے یہ لوگ ’’صوفی‘‘ کہے جاتے ہیں۔

یہ گروہ متعدد فرقوں میں بٹا ہوا ہے، لیکن بنیادی فرقے صرف سات ہیں:

1۔ وحدتیہ: یہ فرقہ وحدة الوجود کا قائل ہے۔ چنانچہ اس کا عقیدہ یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز خدا ہے، یہاں تک کہ ہر نجس و ناپاک چیز کو بھی یہ اسی منزل اُلوہیت پر ٹھہراتے ہیں اور اللہ کو دریا سے اور مخلوقات کو اس میں اٹھنے والی لہروں سے تشبیہ دیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ دریا کی لہریں دریا کے علاوہ کوئی جداگانہ وجود نہیں رکھتیں، بلکہ ان کا وجود بعینہٖ دریا کا وجود ہے جو کبھی ابھرتی ہیں اور کبھی دریا کے اندر سمٹ جاتی ہيں۔ لہٰذا کسی چیز کو اس کی ہستی سے الگ نہیں قرار دیا جا سکتا۔

2۔ اتحادیہ: اس فرقہ کا خیال یہ ہے کہ وہ اللہ سے اور اللہ اس سے متحد ہو چکا ہے۔ یہ اللہ کو آگ سے اور اپنے کو اس لوہے سے تشبیہ دیتے ہیں کہ جو آگ میں پڑا رہنے کی وجہ سے اس کی صورت و خاصیت پیدا کر چکا ہو۔

3۔ حلولیہ: اس کا عقیدہ یہ ہے کہ خداوندِ عالم عارفوں اور کاملوں کے اندر حلول کر جاتا ہے اور ان کا جسم اس کی فرود گاہ ہوتا ہے۔ اس لیے وہ بظاہر بشر اور بباطن خدا ہوتے ہیں۔

4۔ واصلیہ: یہ فرقہ اپنے کو واصل بالله سمجھتا ہے اور اس کا نظریہ ہے کہ احکامِ شرع تکمیلِ نفس و تہذیبِ اخلاق کا ذریعہ ہیں اور جب نفس حق سے متصل ہو جاتا ہے تو پھر اسے تکمیل و تہذیب کی احتیاج نہیں رہتی۔ لہٰذا واصلین کے لیے عبادات و اعمال بیکار ہو جاتے ہیں، کیونکہ اِذَا حَصَلَتِ الْحَقِیْقَۃُ بَطَلَتِ الشَّرِیْعَۃُ: ’’جب حقیقت حاصل ہو جاتی ہے تو شریعت بیکار ہو جاتی ہے‘‘، لہٰذا وہ جو چاہیں کریں ان پر حرف گیری نہیں کی جا سکتی۔

5۔ زراقیہ: یہ فرقہ نغمہ و سرود کی دھنوں اور حال و قال کی سرمستیوں کو سرمایۂ عبادت سمجھتا ہے اور درویشی و دریوزہ گری سے دنیا کماتا ہے اور اپنے پیشواؤں کی من گھڑت کرامتیں سنا کر عوام کو مرعوب کرنے کی فکر میں لگا رہتا ہے۔

6۔ عشاقیہ: اس فرقہ کا نظریہ یہ ہے کہ اَلْمَجَازَةُ قَنْطَرَةُ الْحَقِیْقَۃِ: ’’عشقِ مجازی، عشقِ حقیقی کا ذریعہ ہوتا ہے‘‘، لہٰذا عشق الٰہی کی منزل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ کسی مہ وش سے عشق کیا جائے، لیکن جس عشق کو یہ عشق الٰہی کا ذریعہ سمجھتے ہیں وہ صرف اختلالِ دماغی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ جس کی وجہ سے عاشق قلب و روح کی پوری توجہ کے ساتھ ایک فرد کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور اس تک رسائی ہی اس کی منزل آخر ہوتی ہے۔ یہ عشق فسق و فجور کی راہ پر تو لگا سکتا ہے، مگر عشقِ حقیقی کی منزل سے اسے کوئی لگاؤ نہیں ہوتا:

عشقِ مجاز چون بحقیقت نظر کنی

دیو است و دیو را نبود پای رھبری

7۔ تلقیہ: اس فرقے کے نزدیک علومِ دینیہ کا پڑھنا اور کتبِ علمیہ کا مطالعہ کرنا قطعاً حرام ہے، بلکہ جو مرتبہ علمی ستر (70) برس تک پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتا وہ ایک ساعت میں مرشد کے تصرفِ روحانی سے حاصل ہو جاتا ہے۔

علمائے شیعہ کے نزدیک یہ تمام فرقے گمراہ اور اسلام سے خارج ہیں۔ چنانچہ اس سلسلہ میں آئمہ اطہار علیہم السلام کے بکثرت ارشادات موجود ہیں اور اس خطبہ میں بھی امیر المومنین علیہ السلام نے عاصم بن زیاد کے قطعِ علائق دنیا کو شیطانی وسوسہ کا نتیجہ قرار دیا ہے اور اسے اس راہ پر چلنے سے بشدت منع کیا ہے۔“ [2]

علمی خدمات

[ترمیم]

ترجمہ و شرح نہج البلاغہ

[ترمیم]

یہ کتاب حضرت علی علیہ السلام کے خطبات، خطوط اور کلمات قصار پر مشتمل ہے۔ چوتھی صدی ہجری میں سید شریف رضی رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت امیر کے یہ خطبات ،خطوط اور کلمات قصار کہ جو ان کی نظر میں فصاحت وبلاغت کے انتہائی آخری درجہ کو پہنچے ہوئے تھے، جمع کیے اور اسی مناسبت سے اس کتاب کانام نہج البلاغہ (یعنی بلاغت کا راستہ) رکھا۔ یہ کتاب پوری دنیا میں اپنا ثانی نہ رکھنے کی بنا پر مشہور ہے۔ اس کتاب پر زبان عربی ،فارسی اورانگریزی میں بہت سی شروحات اور ترجمہ لکھے جاچکے ہیں۔ مفتی صاحب نے اہل اردو زبان پر احسان کرتے ہوئے اس عظیم شہ پارے کو اردو زبان میں ترجمہ اور مختصر شرح کے ساتھ پیش کیا۔ آج تک جس کسی نے اس کتاب کو ایک مرتبہ پڑھا ہے پھر اس کا گرویدہ ہو گیا ہے۔

ترجمہ و شرح صحیفہ کاملہ

[ترمیم]

یہ کتاب چوتھے امام حضرت علی زین العابدین علیہ السلام کی دعاؤں پر مشتمل ہے ان تمام دعاؤں کی سند بلکہ اس تمام صحیفہ کی سند اورخود امام عالی مرام علیہ السلام سے ہم تک پہنچنے کی تمام تاریخ اس کے مقدمہ میں موجود ہے۔ یہ کتاب جو زبور آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نام سے مشہور ہے۔ تمام مسلم دنیا میں معروف ہے۔ اس کتاب کے بارے مصر کے مشہور عالم دین طنطاوی جوہری مصری خداوند کی بارگاہ میں شکوہ کرتے ہوئے یوں رقم طراز ہیں : خداوندا یہ تیری کتاب موجود ہے قران اور یہ اہل بیت علیہم السلام میں سے ایک مشہور بزرگ ہستی کے کلمات ہیں۔ یہ دونوں کلام، وہ آسمان سے نازل شدہ کلام اور یہ اہل بیت علیہم السلام کے صدیقین میں سے ایک صدیق کی زبان سے نکلا ہوا کلام دونوں بالکل متفق ہیں۔ اب میں بلند آواز سے پکارتا ہوں ہندوستان اور تمام اسلامی ممالک میں اے فرزندان اسلام، اے اہل سنت، اے اہل تشیع۔ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ تم قران اور اہل بیت علیہم السلام کے مواعظ سے سبق حاصل کرو۔ یہ دونوں تم کو بلا رہے ہیں ان علوم کے حاصل کرنے کی طرف، جن سے عجائب قدرت منکشف ہوتے ہیں اور خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ تفرقہ انگیز مباحث سے باز آؤ اور ان ہدایات پر عمل کرو۔ ان علوم سے استفادہ کرو اور سورج کے نیچے، زمین کے اوپر زندہ رہنے کا سامان کرو۔

آپ نے اس صحیفہ کا اردو زبان میں ترجمہ کرکے مسلمانان برصغیر پر عظیم احسان کیا ہے۔

یہ دونوں ترجمے اردو ادب کا شہکار بھی ہیں۔

سیرت امیر المومنین علیہ السلام

[ترمیم]

یہ کتاب آپ کی تالیف ہے اور دوضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ جس میں آپ مولا علی علیہ السلام کی زندگی اورسیرت پر تمام جوانب سے روشنی ڈالی ہے۔

ملت جعفریہ کی قیادت

[ترمیم]

علمی میدان کے علاوہ سیاسی میدان میں بھی آپ نے کافی خدمات انجام دی ہیں جن میں سے صرف شیعیان پاکستان کی عظیم الشان رہبری سرفہرست ہے آپ ہی وہ عظیم ہستی ہیں کہ جنھوں نے شیعیان پاکستان کے حقوق کے تحفظ کے لیے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کی سب سے پہلی صدارت قبول فرمائی اور قائد ملت جعفریہ پاکستان کے نام سے بہترین قیادت فرمائی۔ ہمیشہ آپ کا احسان شیعیان پاکستان پر باقی رہ جائے گا۔

وفات

[ترمیم]

آپ ایک نڈر، بے باک، راست گو اور سادہ انسان تھے، آپ پر جو بھی مذہبی فرائض عائد ہوئے آپ نے انھیں ہمیشہ لگن، محنت اور دیانتداری سے انجام دیا۔ بالآخرہ بروز پیر 29 اگست 1983ء کو داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے اس دارفانی سے ایک قوم کو گریاں چھوڑتے ہوئے وفات فرما گئے، کربلا گامے شاہ (لاہور) میں تدفین کی گئی،[3]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. تذکرہ علما امامیہ پاکستان از سید حسین عارف نقوی، صفحہ نمبر73
  2. مفتی جعفر حسین (متوفیٰ 1983ء)، ’’شرحِ نہج البلاغہ‘‘، خطبہ 207، صفحہ 503 تا 506، معراج کمپنی، لاہور، 2003ء۔“
  3. تذکرہ علما امامیہ پاکستان از سید حسین عارف نقوی، صفحہ نمبر73