مفتی محمودالحسن گنگوہی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ولادت[ترمیم]

یو۔ پی۔ کے ضلع سہارنپورمیں واقع مشہور قصبہ’ گنگوہ‘ میں، مؤرخہ 9-6-1325 ھ۔ مطابق 20-9-1907 آپ ؒ کی ولادت ہوئی۔ گنگوہ کو چشتیہ سلسلہ کے متعدد کبار مشائخ کا مولد و مسکن ہونے کا شرف حاصل ہے۔

خاندان[ترمیم]

والد محترم جناب مولانا حامد حسن صاحب کی جانب سے سلسلۂ نسب مشہور انصاری صحابی اور حضرت نبی کریم ﷺ کے میزبان حضرت ابوایوب انصاری تک پہنچتا ہے۔

تعلیم[ترمیم]

شوال 1431ھ۔ میں آپ نے مظاہر علوم سہارنپور میں داخلہ لیا، شعبان 1347 ھ۔ تک یہاں زیر تعلیم رہے،اس درمیان فارسی عربی کی کچھ ابتدائی کتب، فقہ میں متوسطات اور منطق و علوم عربیہ کی علیا کی کتب کی تعلیم مکمل فرمائی۔ پھر شوال :1347ھ۔ میں دار العلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور ہدایہ اخیرین، مشکوۃ شریف وغیرہ کتب پڑھی، 13480ھ۔ میں بیضاوی شریف، ابوداؤد شریف اور مسلم شریف پڑھی اور شوال 1349 ھ۔ سے شعبان 1350ھ۔ تک حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کے پاس بخاری شریف اور ترمذی شریف پڑھی۔

بیعت[ترمیم]

ذی القعدہ، 1349 ھ۔ محلہ مفتی کی مسجد سہارنپور میں بعد نماز ِ عصر حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی کے ہاتھ پر بیعت ہوئے۔

دار العلوم میں درس بخاری[ترمیم]

جمادی الاولی 1388ھ۔ میں حضرت فخر المحدثین کے اصرار سے مجبور ہوکر کتاب المغازی کے ایک باب سے بخاری شریف جلد دوم کی تدریس شروع فرما دی، مگر چوں کہ یہ رضامندی فقط حضرت مولانا فخر الدین صاحب ؒ کے تعمیل حکم میں تھی، اس لیے ان کی وفات کے بعد حضرت مہتمم صاحب کی خدمت میں جاکر معذرت پیش کر دی، یوں تقریباً 12 سال دار العلوم میں بخاری شریف کا درس دیا۔

وفات[ترمیم]

ذی الحج 1416 ھ۔ میں ساؤتھ افریقہ تشریف لے گئے، وہاں پہنچ کر ابتدا میں تو صحت بحال رہی، اورمعمول کے مطابق علمی مجالس، وعظ و نصائح کی مجالس، اورذکر کی مجالس بھی منعقد ہوتی تھیں، افریقہ میں قرب وبعید کے اسفار بھی فرمائے۔ حضرت کی کیڈنی میں بہت پہلے سے تکلیف تھی، ضرورت پڑنے پر حضرت کے خصوصی معالج جناب ڈاکٹر عبد الحی بلبلیا نے دیگر دو ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر علاج شروع کیا اور ایک چھوٹا سا آپریشن بھی کیا، اس کے بعد ہفتہ میں ایک بار اس کی صفائی ہوتی رہی، آخر صفائی سے قبل ڈربن تشریف لے گئے اورنظام یہ تھا کہ ڈربن سے واپسی پر علاج مکمل فرماکر حضرت طے شدہ پروگرام کے مطابق ہندوستان واپسی کے سفر پر نکلیں اور حرارے، ملاوی، چپاٹا، ری یونین ،ہوتے ہوئے، زیارت حرمین اور عمرہ ادا فرماکر ہندوستان پہنچیں۔ مگر دربن کے اس سفرمیں کھانسی بڑھ گئی، واپسی پر اوربڑھ گئی، اس درمیان فالج کا بھی اثر ظاہر ہوا،طبیعت اور زیادہ خراب ہو گئی تو جوہانسبرگ کے ایک اسپتال میں لے جایا گیا، خصوصی علاج شروع کیا گیا، کچھ افاقہ بھی ہونے لگا تھا کہ یکایک دو ستمبر کی شام میں ضعف بہت بڑھ گیا اور سواسات بجے انتقال فرما گئے۔ اسپتال سے نوٹاؤن مدرسہ لائے گئے، تجہیز وتکفین سے فارغ ہوکر نعش مبارک رات کے بارہ بجے تقریباً مولانا ابراہیم صاحب کے نئے مکان میں لایا گیا، قرب وجوار سے علما کرام، محبین ومتوسلین بڑی تعداد میں اس قدر جمع ہو گئے کہ وہاں کے لوگوں نے اس قدر مجمع پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ سرکاری قوانین کے مطابق رات میں قبر کھودنا ممنوع تھا اور قانونی کارروائی کے لیے بھی صبح دفاتر کھلنے کا انتظار کرنا تھا، اس لیے علی الصباح قبر تیار کی گئی، اورقبر تیار ہوتے ہی جنازہ اٹھایا گیا، صبح ساڑے نو بجے جنازہ روانہ ہوا، دس بارہ ہزار کامجمع تھا، قبرستان پہنچ کر نماز جناہ پڑھی گئی اور ایلس برگ کے قبرستان میں تدفین عمل میں ا ٓئی۔ تقریباً دیڑھ گھنٹہ تک لوگ قبر میں مٹی ڈالتے رہے۔[1]

تصنیفات آپ نے متعدد کتب تصنیف فرمائیں، مثلاً : شوری و اہتمام، اسباب لعنت، حقیقت حج، آسان فرائض، گلدستہ سلام، وصف شیخ وغیرہ

آپ کے فتاوی کے مجموعہ ’فتاوی محمودیہ کے نام سے 25 جلدوں پر مشتمل ہندوستان و پاکستان سے شائع ہوا ہے۔ (2)

اسی طرح ملفوظات اور مواعظ کے مجموعے بھی شائع ہو چکے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. محمود الرسائل جلد دوم

باہری کڑیاں[ترمیم]

http://algazali.org/index.php?threads/حضرت-مولانا-محمود-حسن-گنگوہی-رحمۃ-اللہ-علیہ۔394/