مفکر ملت مولانا عبد اللہ کاپودروی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مولانا عبد اللہ کاپودروی
مولانا عبد اللہ کاپودروی ایک جھلک
پیدائش0 دسمبر 1933(1933-12-00)ء
وفات10 جولائی 2018(2018-07-10)ء
قلمی نامعبد اللہ کاپودروی
پیشہعالم، صوفی، نقاد، محقق
زباناردو، عربی، گجراتی
قومیتبھارتی
موضوعتحقیق و اصلاح

پیدائش[ترمیم]

برما میں شان اسٹیٹ نامی صوبہ کے" ہیھو"

نامی شہر میں1352 ھ م  1933 ء  میں ہوئی، آپ سے پہلے خاندان میں 5 بہنوں کی پیدائش ہوچکی تھی ؛اس لیے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ،آپ کے والد ماجد کے تعلقات برما میں علما کے ساتھ اور ہندوستان میں بھی علما کے ساتھ بڑے اچھے تھے، تو آپ کے والد صاحب علما سے آپ کے لیے دعائیں کرواتے تھے اور یہاں تک کہ ایک خط میں حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ سے بھی دعا کی درخواست آپ کے والد ماجد نے کی تھی ،حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ نے جواب میں ارشاد فرمایا: "دعا کرتا ہوں"

برما سے ہندوستان آمد ، کاپودرا کا قیام اور ابتدائی تعلیم[ترمیم]

حضرت کی عمر دو ڈھائی سال کی تھی کہ آپ کے والد ماجد نے برما سے ہندوستان کا رُخ کیا اور کاپودرا میں قیام فرمایا، کاپودرا تحصیل انکلیشور ضلع بھروچ کے مدرسہ اسلامیہ نامی مکتب میں شروع ہوئی ،آپ کے سب سے پہلے استاذجناب حافظ ابراہیم بن اسماعیل مُلا جو عمرواڈہ کے باشندے تھے ،حروف تہجی سے قرآن مجید مکمل اور اردو قاعدے سے تعلیم الاسلام ، بہشتی ثمر کے دو حصّے اور چہل سبق تک کے اسباق ان کے پاس ہوئے، نیز اسکول کی تعلیم بھی پانچویں کلاس تک کاپودرا ہی میں مکمل کی۔

جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل میں داخلہ[ترمیم]

1944ء میں جامعہ ڈابھیل میں داخلہ ہوا ۔

درجہ فارسی اول و دوم:مولانا داؤد کفلیتوی اور مولانا عبدالحئی ابن مفتی اسمعیل بسم اللہ سے پڑھا ۔

درجہ عربی اول: بھی مولانا عبدالحئی بسم اللہ ڈابھیلی سے پڑھا ۔

درجہ عربی دوم: عربی دوم کی کتابیں نورالایضاح ، قدوری ، علم الصیغہ بحرالادب ( مصری ) ، تیسیرالمنطق وغیرہ حضرت مولانا ابراہیم صوفی ڈابھیلی المعروف بہ صوفی صاحب سےپڑھا۔

دیوبند کا سفراور دوبارہ ڈابھیل آمد[ترمیم]

درجہ عربی دوم کے بعد والد صاحب کی اجازت کے بغیر دیوبند 1948 ءمیں ہوا

دیوبند میں کنزالدقائق و شرح جامی میں داخلہ ہوا ،پھر دوسرے سال شرح وقایہ وغیرہ کتابیں پڑھی دیوبند میں دو سال گزارنے کے بعد والد صاحب اور رشتہ داروں کی رائے پر دوبارہ ڈابھیل میں تعلیم حاصل کرنے کی بات طے  ہوئی

جامعہ ڈابھیل میں دوبارہ داخلہ:جس سال دیوبند سے ڈابھیل آئے اس سال جامعہ میں عربی چہارم میں کوئی طالب علم نہیں تھا؛ اس لیے عربی سوم یا پنجم میں داخلہ ہونے کی رائے ہوئی ، صحت کی خرابی کے سبب عربی پنجم میں داخلہ ہوا

ہدایہ اولین ، دیوان متنبی مولانا محمد صاحب پانڈور سملکی ، حسامی مولانا عبدالرؤف صاحب کے پاس پڑھی اور مختصرالمعانی بھی۔

مشکوۃ شریف: مشکوۃ شریف ، شرح عقائد مولانا عبدالرؤف صاحب کے پاس ، جلالین شریف مولانا عبدالجبار کے پاس ، ہدایہ اخیرین مولانا فضل الرحمن کے پاس ہوئی۔

دورۂ حدیث شریف:بخاری شریف جلد اول مولانا عبدالجبار اعظمی رحمتہ اللہ علیہ اور جلدی ثانی ، مسلم شریف اور طحاوی شریف مولانا عبدالرؤف صاحب کے پاس ، ابوداؤد شریف مولانا فضل الرحمن صاحب کے پاس پڑھی ،جامعہ سے 1953ء میں سند فراغت حاصل کی[1] ۔

فراغت کے بعد دیوبندمیں  دو سالہ قیام[ترمیم]

1959ء اور 1960ء دو سال تکمیل کی غرض سے دار العلوم دیوبند میں قیام  فرمایا، جامعہ ازہر کے مبعوث شیخ محمود مصری طنطاوی مرحوم سے عربی زبان اور بعض نحو کی کتابیں پڑھیں۔

تدریسی و دعوتی خدمات[ترمیم]

ستمبر 1953؁ء میں مجلس خدام الدین سملک کے تحت چلنے والے مکاتب کے GUEST XAMINER مقرر ہوئے ، اسی سال دسمبر میں مجلس کے اجلاس کے انعقاد کے بعد ایک ماہ کی رخصت لی اور گجرات کے دعوتی اسفار میں حضرت شیخ الاسلام حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ  کی مصاحبت اختیار فرمائی۔

1954؁ء میں جامعہ تعلیم الدین ڈابھیل میں ابتدائی درجات کے مدرس کے طور پر تقرر ہوا۔

1955؁ء عربی اول و سوم کی دروس آپ سے متعل ہوئے۔

1956؁ء میں تدریس سے استعفاء دیکر اپنے وطن کاپودرا لوٹے اور منشی محمود قاسم پانڈور کے مجلہ التبلیغ میں معاون کے طور پر کام کیا۔

1957؁ء 1958؁ء میں والد محترم کے ساتھ زراعت میں معاون ہوئے۔؎

1959؁ء میں مجلس خدام الدین سملک کے ناظم تعلیمات بنائے گئے۔

1960؁ء 1961؁ء میں دویوبند میں مولوی عبد الرحمن گاڈری و مولوی حبیب الرحمن گاڈری کے اتالیق و نگراں کے طور پر رہے۔

مارچ 1962؁ء میں دوبارہ تعلیم الدین ڈابھیل کے معین مدرس مقرر ہوئے ، اور1965؁ء تک مختلف اوقات میں  شرح وقایہ ، مقامات حریری ، انشاء ،ترجمۂ قرآن ، دیوان متنبی ، مقامات، نور الایضاح، مختصر القدوری ، روضۃ الادب ، صفوۃ المصادر ، منطق ، مرقات  ،تفسیر ، نفحۃ العرب ،میزان الصرف ، دروس التاریخ ، منیۃ المصلی ، مختارات ، سفینۃ البلغاء، البلاغۃ الواضحۃ اور نور الانوار زیر درس رہیں۔

دار العلوم فلاح دارین میں تدریسی و انتظامی خدمات[ترمیم]

1966؁ء م 1375؁ھ میں فلاح دارین میں مدرس کے طور پر تقرر ہوا، 1967؁ء میں منصب اہتمام سپرد ہوا ، اس عرصہ میں 1979؁ء تک مختلف اوقات میں ترجمہ قرآن ، ریاض الصالحین ، مختارات، قصص النبیین ، القراءۃ الراشدہ ، ہدایہ ، تمرین االنحو، مشکاۃ ، اصول حدیث، القراءۃ الواضحۃ ، علم النحو، شرح معانی الآثار، دیوان متنبی ، منہاج العربیہ، موطین ، تاریخ الخلفاء، انشاء زیر درس رہیں۔

عہدے و مناصب[ترمیم]

رکن جمعیۃ علما ہند صوبۂ گجرات

رکن رابطۂ ادب اسلامی شاخ ہند

رکن  آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

رکن شوری دار العلوم وقف دیوبند

رئیس دار العلوم فلاح دارین ترکیسر سورت گجرات

سرپرست جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا

سرپرست جامعہ قاسمیہ کھروڈ

سرپرست دار العلوم سعادت دارین ستپون

رکن تاسیسی دار العلوم حقانیہ کٹھور

رکن شوری جامعہ تعلیم الدین ڈابھیل۔

اسفار و رحلات و علما عالم اسلام سے ملاقات[ترمیم]

آٹھ مرتبہ زیارت ھرمین شریفین سے مشرف ہوئے ، نیز دیگر ممالک عربیہ کے اسفار بھی کئےمثلا جمہوریہ مصر ، وہاں ازہر شریف میں شیخ عبد المنعم النمر نائب رئیس الازہر ، شیخ عبد العزیز رئیس قسم البعوث سے ملاقاتیں ہوئیں ، قاہرہ کے کتب خانے مساجد آثار قدیمہ و اہرام کی زیارت کی ، 1968؁ء میں عراق کا سفر کیا اور بہت سے علما سے ملاقاتیں ہوئیں ، خاص طور سےفلوجہ کے  شیخ عبد العزیز السامرائی ، شیخ عبد الوہاب مدیر المجلۃ التربیۃ الاسلامیۃ نیز بغداد کے مکتبوں کی سیر کی کی اور بہت سی کتابیں خریدیں ، پھر وہاں سے اردن کا سفر فرمایا اور پانچ روز عمان میں گزارے اس دوران کلیۃ العلمیۃ الاسلامیۃ کی زیارت کی اور مدیر محترم سے بہت سی معلومات حاصل کی ، مکہ مکرمہ میں شیخ علی طنطاوی، شیخ امجد زہراوی ، شیخ مھمود صواف، شیخ محمد امین الکتبی ،شیخ طہٰ مراقب الحرم الشریف ، شیخ یوسف نافع ، اردن کے شیخ عمر داعوق،  شیخ علوی مالکی ، وغیرہم سے ملاقاتیں کی اور شیخ مالکی سے بخاری کے کچھ اسباق پڑھ کر اجازت حدیث حاصل کی ،رابطۂ عالم اسلامی کے دفتر میں شیخ عمر نصیف سے شیخ فارسی سے ملاقاتیں کی نیز مدینہ پاک میں حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی کی مجالس میں شرکت فرمائی ، نیز شیخ عبد الغفور نقشبندی ، شیخ شیر محمد سندی اور ائمۂ حرمین سے ملاقات ہوئی ، مزید شیخ ابراہیم اخضر ، شیخ یوسف قرضاوی ، شیخ علی قرہ داغی ، سے مکالمات ہوئے۔

            مغربی ممالک میں مراکش اور اندلس کا سفر فرمایا اور مشہور زمانہ جامع قرطبہ کی زیارت کی ،اور قلعہ الحمراء غرناطہ کی زیارت کی ، جنوبی افریقہ کے ممالک زامبیا، زمبامبوے،ملاوی ، یورپی ممالک میں پرتغال ، پیرس ، مراکش ، استانبول ، قونیہ ، بلجیقیہ ، نیز ترکی کے مکتبہ سلیمانیہ اور آثار قدیمہ کی زیارت کی ، جیساکہ امریکا ، کناڈا اور دیگر بلاد غربیہ کے مکتبات سے فیض اٹھایا، نیز خلیجی ممالک مثلا کویت ، قطر ، شارجہ بحرین ، بارہا جانا ہوا اور وہاں کے تعلیمی ثقافتی اداروں کے مشاہدات کیے ۔

ترجیحات و اولیات[ترمیم]

فلاح دارین ترکیسر کی ادارت کے دوران اساتذہ و طلبہ  کو جدید نظریات ،تحریکات ، جدیدفلسفیانہ مباحث ، دین اسلام اور اخلاقی و سماجی اقدار کے مخالف رجحانات سے آگاہ کرتے رہے اور اس سلسلہ میں بہت سی کتابیں داخل درس فرمائی اور ملکی وصوبائی سطح پر بہت سی اولیات آپ کی ہیں جس میں آپ سے مقدم کوئی نہیں ، آپ ہی نے فلاح دارین ترکیسر کے نصاب میں اسالیب الغزو الفکری داخل نصاب فرمائی تاکہ مسلمانوں کے عقائد ، دینی سرمایہ و اسرار شریعت کے متعلق  مسلمانوں کے اذہان میں دشمنان اسلام نے جو شکوک پیدا کیے ہیں اس سے مناہج سے وقفیت ہو، آپ ہی نے سب سے پہلے تقابل ادیان کو نصاب کاحصہ بنایا، نیز سب سے پہلے گجرات کے کسی ادارہ میں انگریزی زبان بحیثیت نصاب داخل کرنے کا سہرا بھی آپ ہی سر جاتا ہے ، اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً بہت سے پروگرام  طلبہ کی تعلیمی سطھ کیسے بلند ہو اس عنوان سے منعقد کرتے رہے، طلبہ کی علمی عملی تربیتی ہر اعتبار سے نگرانی فرمائی ، سماج کی اصلاح کے لیے کمر توڑ کوششیں فرمائیں ،  الغرض اس مجدد زمانہ کے بے پناہ احسانات ملت اسلامیہ ہندیہ پر ہیں جن حد شمار سے باہر ہیں[2]۔

  1. روداد سيمينار بر عنوان مفكر ملت منعقده تركيسر گجرات
  2. أضواء على تاريخ الحرکۃ العلمیۃ و المعاھد الاسلامیۃ و العربیۃ فی غجرات، الہند