مقبرہ صلاح الدین ایوبی
| مقبرہ صلاح الدین ایوبی | |
|---|---|
| ضريح صلاح الدين الأيوبي | |
مقبرے کا دروازہ | |
| عمومی معلومات | |
| قسم | مقبرہ |
| معماری طرز | ایوبی, خلافت عثمانیہ |
| مقام | |
| متناسقات | 33°30′43.6″N 36°18′21.36″E / 33.512111°N 36.3059333°E |
| تکمیل | 1196 |
| مرمت | 1898 |
صلاح الدین ایوبی کا مقبرہ قرون وسطی کے مسلمان ایوبی سلطان صلاح الدین کی آخری آرام گاہ اور قبر ہے۔ یہ دمشق ، شام میں واقع اموی مسجد سے متصل ہے۔ [1] یہ 1196ء میں، سلطان صلاح الدین ایوبی کی موت کے تین سال بعد تعمیر کیا گیا تھا۔ [2] [3]

مقام
[ترمیم]صلاح الدین ایوبی کا مزار مدرسہ عزیزیہ میں واقع ہے، جو جامع اموی کے بائیں جانب کے بیرونی دیوار کے قریب محلہ کلاسہ میں ہے۔
یہ ایک سادہ مگر خالص ایوبی طرز کا تعمیراتی ڈھانچہ ہے جس کے اوپر پرت دار گنبد (قبہ محززہ) قائم ہے اور اس کے نیچے سلطان صلاح الدین ایوبی بانیٔ سلطنتِ ایوبیہ کا قبر نما ضریح موجود ہے۔
مزار کی تاریخ
[ترمیم]تحقیقی ماخذ کے مطابق، مؤرخہ غفران ناشف لکھتی ہیں کہ افضل بن صلاح الدین (یعنی سلطان صلاح الدین کا بیٹا) نے محلہ کلاسہ میں ایک صالح شخص کا مکان خریدا جو جامع اموی کے قریب تھا اور وہاں اپنے والد کے لیے ایک گنبد دار مقبرہ تعمیر کروایا۔ سلطان صلاح الدین 589ھ (1193ء) میں وفات پائے اور ابتدا میں انھیں قلعہ دمشق میں دفن کیا گیا۔ بعد ازاں، 592ھ (1196ء) میں ان کا جسدِ خاکی اس نئے مدفن (تربہ) میں منتقل کیا گیا۔
جب العزيز عثمان بن صلاح الدين نے 593ھ (1197ء) میں دمشق میں داخل ہوا تو اس نے قبہ صلاح الدين کے مشرقی جانب ایک مدرسہ تعمیر کروایا جسے مدرسہ عزيزيہ کہا گیا۔ یوں یہ مدرسہ اور مزار ایک دوسرے سے متصل ہو گئے اور بظاہر ایک ہی عمارت کا حصہ محسوس ہونے لگے۔ بعد ازاں 1137ھ (1724ء) میں اس مزار کی دیواروں کو نیلے رنگ کے قاشانی ٹائلوں سے مزین کیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ مدرسہ عزیزیہ کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا، یہاں تک کہ بیسویں صدی کے اوائل میں دمشق کے والی ضياء پاشا نے حکم دیا کہ مدرسہ کے باقی ملبے کو باغ کی شکل دے کر اسے صلاح الدین کے مزار سے ملا دیا جائے۔
خلاصہ یہ کہ: افضل بنى التربہ (مزار): 592ھ العزيز بنى مدرسہ (مدرسہ): 593ھ
اور آج مدرسہ عزیزیہ میں صرف محراب اور مشرقی دروازے کا محرابی حصہ باقی رہ گیا ہے، جو اب مزار کے باغ کا حصہ بن چکا ہے۔
تعمیراتی وصف
[ترمیم]صلاح الدین ایوبی کا اصلی مقبرہ اخروٹ کی لکڑی (خشب الجوز) سے بنایا گیا ہے، جس پر ایوبی دور کی نقوشی اور کتبے کندہ ہیں۔ اس کی دیواریں بعد میں عثمانی دور میں نیلے قیشانی سے مزیّن کی گئیں۔
مقبرے کے قریب ایک دوسرا خالی سنگِ مرمر کا مقبرہ رکھا گیا ہے یہ جرمن شہنشاہ قیصر ولیم دوم (غليوم الثانی) نے 1898ء میں دمشق کے اپنے دورے کے دوران سلطان عبد الحميد ثانی کے عہد میں تحفے کے طور پر پیش کیا تھا۔ صلاح الدین کے مزار کے قیشانی ٹائلوں سے بنی ہوئی دیواری تختی دمشق کی سب سے بڑی اور مکمل محرابی لوح سمجھی جاتی ہے۔
چوڑائی: 475 سینٹی میٹر اونچائی: 238 سینٹی میٹر یہ تختی مختلف رنگین ٹائلوں پر مشتمل ہے، جن کا طراز دمشقی ہے اور نقوش نباتی ہیں۔ تختی کے نیچے ایک افقی مستطیل نما پٹی ہے جو جیومیٹریائی نقش و نگار سے مزین ہے اور اس کے کناروں پر پھولوں کا باریک فریم بنا ہوا ہے۔ ابعاد: 65 × 80 سینٹی میٹر
مزار ایک خوبصورت صحن میں واقع ہے، جس کی 2000ء کی دہائی میں مرمت و تزئین کی گئی۔ اسی موقع پر قلعہ دمشق کے مرکزی دروازے کے قریب ڈاکٹر عبد اللہ سيد کے ڈیزائن سے صلاح الدین ایوبی کا مجسماتی یادگار نصب کیا گیا۔[4]
تین طیارے باز
[ترمیم]
یہ وہ ابتدائی عثمانی ہوا باز تھے جنھوں نے جنوری 1914ء میں پہلی مرتبہ دمشق میں طیارہ اُتارا۔ ان میں صادق بیگ اور فتحی بیگ شامل تھے، جن کا ارادہ تھا کہ وہ اپنی پرواز کو فلسطین سے ہوتے ہوئے قاہرہ تک جاری رکھیں، مگر طیارہ طبريہ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ بعد ازاں ان دونوں کی میتوں کو استنبول لے جانے کا فیصلہ ہوا، لیکن جب وہ دمشق پہنچیں تو اہلِ دمشق نے اصرار کیا کہ فضائی سفر کے ان علمبرداروں کو وہ اپنی سرزمین میں ہی دفن کریں۔
تیسری قبر نوری بیگ کی ہے، جن کا طیارہ یافا میں گر کر تباہ ہوا۔ ان کی میت بھی دمشق لائی گئی اور ان کے دونوں ساتھیوں کے پہلو میں دفن کی گئی۔ [5]
تصویری مجموعہ
[ترمیم]-
انیسویں صدی کی ایک تصویر جس میں قبر صلاح الدین دکھائی گئی ہے
-
بیسویں صدی کے آغاز میں قبر صلاح الدین
-
بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں قبر صلاح الدین
-
ضریح کے دروازے کی تصویر
-
ضریح صلاح الدین کا داخلی راستہ
-
صلاح الدین ایوبی کی قبر
-
ضریح کے صحن کا منظر
-
عبد الرحمن شهبندر کی قبر
-
محمد سعید رمضان بوطی کی قبر، جو صلاح الدین ایوبی کی قبر کے بائیں جانب ہے
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]| ویکی ذخائر پر مقبرہ صلاح الدین ایوبی سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
بیرونی روابط
[ترمیم]- ↑ Abd Al-Razzaq Moaz؛ Zena Takieddine۔ "Mausoleum of Saladin (Salah al-Din)"۔ Museum With No Frontiers۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-04-12
- ↑ Mannheim, 2001, p.88.
- ↑ "Mausoleum of Saladin"۔ Madain Project۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-05-22
- ↑ "حوار الرخام والخشب في قبر صلاح الدين الأيوبي بدمشق,"۔ archive.aawsat.com۔ 24 يونيو 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-01-17
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ "موقع دمشق - "المدرسة العزيزية".. 5 قبور تحت قوس ومحراب"۔ www.esyria.sy۔ 20 يوليو 2017 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-01-17
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت)