مقبرہ علی مردان خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مقبرہ علی مردان خان
Tomb of Ali Mardan Khan
Ali mardan Tomb (shrine) Lahore.jpg
مقبرہ علی مردان خان
عمومی معلومات
قسم مقبرہ
معماری طرز مغلیہ
مقام لاہور، پاکستان

مقبرہ علی مردان خان (Tomb of Ali Mardan Khan) علی مردان خان کا مقبرہ ہے جو لاہور میں 1630 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا۔[1] علی مردان خان ایک کرد تھا جو مغلیہ دربار میں آنے سے قبل صفوی سلطنت کے شاہ صفی کے دربار میں تھا۔[2]


مقبرہ علی مردان خان سنگھ پورہ پرانی سبزی منڈی, نزد لوکو جنرل سٹور واقع ہے۔

علی مردان خان عہدِ شاہجہان کے امرا میں سے تھا۔ مآثرالامراء میں علی مردان خان کا تعارف یوں درج ہے " اس کا باپ گنج علی خان زیک ہے کہ جو کردوں کے قبیلے سے ہے اور شاہ عباس ماضی کا قدیم ملازم تھا۔ شاہ کی طفولیت کے زمانے اور ہر رات کے قیام کے دوران میں وہ بھی اچھی خدمت گزاری کے لیے مقیم رہا. اس کی فرمانروائی کے زمانے میں جب خراسان کے اوزبکوں نے فتور برپا کیا اور جنگ شروع کر دی تو (گنج علی خان نے) بہت اچھی خدمات انجام دیں اور بہادری دکھائی, لہذا وہ خان کے خطاب اور ارجمند بابا کے لقب سے سرفراز ہوا. تقریبا تیس سال تک نہایت استقلال کے ساتھ کرمان کا حاکم رہا. ہمیشہ اس سے انصاف اور رعیت پروری کے آثار ظاہر ہوتے تھے. (اس کی وفات کے بعد) شاہ نے اس کے لڑکے علی مردان خان کو خان, کے خطاب اور قندھار کی ریاست پر سرفراز فرما کر بابائے ثانی, کا لقب مرحمت فرمایا." شاہ عباس ماضی کی وفات کے بعد تخت اس کے بھتیجے شاہ صفی کو ملا. علی مردان خان اس کے ساتھ وفادار رہا مگر پھر اِس نے شاہ صفی کا ساتھ چھوڑ کر شاہجہان کی ملازمت میں آنے کا فیصلہ کیا. اس معاملے کی تمام تر تفصیل محمد صالح کمبوہ نے اپنی کتاب میں درج کی ہے۔ ویسے بھی مغلوں کی دیرینہ خواہش تھی کہ قندھار پر مغل جھنڈا لہرائے اس لیے جب علی مردان خان نے مغل راج میں دلچسپی دکھائی تو شاہجہان بھی فوراً تیار ہو گیا۔ بعض لکھاری جیسا کہ سلمان راشد صاحب "ایکسپریس ٹریبیون" میں شائع شدہ اپنے ایک مضمون میں علی مردان خان کو موقع پرست, دغا باز, چالباز وغیرہ بتاتے ہیں۔ لیکن تاریخ کی کتب اس بات کی گواہ ہیں کہ علی مردان خان کا شاہ صفی کو چھوڑ کر شاہ جہان کے دربار میں جانے کا باعث اس کا موقع پرست ہونا نہیں بلکہ موقع کی نزاکت کو سمجھنا تھا۔ جیسا کہ خافی خان, منتخب اللباب میں لکھتے ہیں " علی مردان خان وحشت افزا خبریں سن سُن کر بہت زیادہ مشکوک ہو گیا تھا۔ سیاوش کے خط سے اس کے شبہات اور قوی ہو گئے اور اس نے شاہ جہان بادشاہ کی طرف رجوع کرنے کی بدنامی کو گوارا کر لیا." اسی طرح صمصام الدولہ شاہنواز خان لکھتے ہیں " جب شاہ عباس ماضی کے مرنے کے بعد حکومت اس کے بھتیجے شاہ صفی کو ملی تو اس نے بے بنیاد بدگمانیوں اور دور از کار احتیاط کی وجہ سے عباس شاہ کے زمانے کے اکثر امرا کو معزول کیا. علی مردان خان بھی خوف زدہ ہوا. اس نے اپنی سلامتی شاہ جہان بادشاہ کی بارگاہ میں توسل پیدا کرنے میں سمجھی..."

علی مردان خان تقریباً ١٦٣2ء میں شاہ جہان کے دربار سے منسلک ہوا. ١٦٣9ء میں دربار میں حاضری دی. شاہ جہان نے نے علی مردان خان کو کشمیر کے ساتھ ساتھ لاہور کی بھی صوبیداری عطا کی. تاکہ گرمیاں کشمیر اور سردیاں لاہور میں گزاری جا سکیں. صوبہ اودھ بھی جاگیر میں ملا. ١٦٤١ء میں علی مردان خان کو کابل کی صوبے داری عطا ہوئی. عنایت خان و صالح کمبوہ کی کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ علی مردان خان پر خاصا مہربان تھا۔ اکثر انعام و اکرام سے نوازا جاتا. شاہ جہان نے تقریباً پانچ مرتبہ علی مردان خان کو اُسکی حویلی میں دعوت کا شرف بخشا, ہر مرتبہ بادشاہ کی جانب سے بیش بہا تحائف بھی عنایت ہوئے. جنوری ١٦٤٣ء میں امیر الامرا کا خطاب بھی ملا. جس کا احوال عمل صالح میں یوں درج ہے " علی مردان خان کو خلعتِ خاصہ مع چار اب زردوزی, جیغہ اور مرصع تلوار عنایت  کر کے امیر الامرا کے عظیم الشان خطاب سے سر بلند فرمایا. کروڑ دام انعام میں دیے۔ ہفت ہزاری ذات ہفت ہزار سوار, پانچ ہزار سوار دو اسپہ سہ اسیہ کا منصب ملا جس کی تنخواہ گیارہ کروڑ دام (ساڑھے ستائیس لاکھ روپے)   قرار پائی."

علی مردان خان کی وجہ شہرت اُسکی تعمیرات بھی ہیں۔ نقوش لاہور نمبر میں درج ہے " نواب علی مردان خان زبردست انجینئر تھا۔ باغات و عمارات کا بڑا شوق تھا۔ اس نے کابل, کشمیر میں انہار جاری کرائیں باغات بنوائے. دہلی کی نہر جو شہر اور قلعہ کے درمیان پھرتی ہے اسی کی یادگار ہے۔ نہر فیروزپور جو دہلی سے  حصار کو جاتی ہے۔ اس کی درستی اسی کی ہاتھوں ہوئی. مادھو پور کے قریب جو نہر راوی سے نکل کر شالامار باغ کو سیراب کرتی ہے اسی کے ماتحت جاری ہوئی. کشمیر میں باغ علی مردان خان کے کھنڈر بڈشاہی تعمیرات کے کھنڈروں پر وچار ناگ میں اب بھی نظر آ رہے ہیں۔ پشاور اور کابل اور عملہ میں بھی باغات اور عمارات کی صورت میں اس کی یادگاریں موجود ہیں." لیکن اس ضمن میں مبالغہ آرائی بھی کی جاتی ہے۔ عموماً شالامار باغ کو علی مردان خان سے منسوب کیا جاتا ہے, نور احمد چشتی, کہنیالال وغیرہ نے نولکھا باغ لاہور کو بھی علی مردان خان کی تعمیر بتایا ہے۔ مگر ڈاکٹر عبد اللہ چغتائی فرماتے ہیں کہ باغ کو سیراب کرنے کے لیے نہر نکالنے کی تجویز ضرور اِس نے دی مگر " تعمیر باغ یا اس کے بنانے میں علی مردان خان کا ہاتھ نہیں ہے" یونہی نولکھا باغ کے متعلق مورخین کا بیان  "کسی قدر مزید تحقیق کا محتاج ہے". بقول ڈبلو ایچ مورلینڈ " علی مردان خان کو اکثر انجینئیر بتایا جاتا ہے مگر غالباً اس کو ایک منصوبہ بند کہنا زیادہ موزوں ہوگا."

علی مردان خان کے حوالے سے کچھ لوک داستانیں بھی موجود ہیں۔ سید فیاض محمود صاحب نے اپنی کتاب "فولک رومینس آف پاکستان" میں ایک ایسی ہی داستان درج کی ہے۔ جو کے کسی حد تک لایعنی ہے۔ اس داستان کا نتیجہ یہ ہے کہ علی مردان خان کے پاس سنگ فارس تھا۔ اکثر تواریخ کشمیر میں ایسے بیانات درج ہیں جیسا کہ محمد امین پنڈت فرماتے ہیں " کہتے ہیں قندھار میں کیکاوسی خزانہ کا ایک حصہ (اسے) ملا تھا جس میں سنگ پارس بھی شامل تھا." علی مردان کے ذاتی کردار کے متعلق بھی متضاد بیانات ملتے ہیں۔ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے اپنی صوبیداری کے زمانے تارک صوم و صلواۃ اور دیگر فسق و فجور میں مبتلا لوگوں کو سزائیں دیں. جبکہ سید محمود آذاد صاحب اپنی کتاب "تاریخ کشمیر" میں لکھتے ہیں " علی مردان خان ایک عیاش اور رنگین مزاج شخص تھا." لیکن آگے لکھتے ہیں " مگر اس کے باوجود اہل کشمیر کے مسائل سے بڑی گہری دلچسپی لیتا تھا...اُسے ملک کے غرباء و مساکین کا خاص طور خیال رہتا تھا اور خصوصاً اپاہجوں و نادار لوگوں کے لیے جو مطبخ قائم کرایا تھا اس سے ہر محتاج کو  صبح شام کھانا ملتا تھا۔ علی مردان خان کا عہد حکومت اہل کشمیر کے لیے نہ صرف امن و سکون کا عہد ہے بلکہ تعمیری و ترقیاتی لحاظ سے بھی خاص اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ اس کے زمانے میں کشمیریوں نے زندگی کے تمام شعبوں میں شاندار ترقی کی اور اس نے اہل کشمیر کو کسی قسم کی شکایت کا موقع نہیں دیا."

علی مردان خان ١٦٥٧ء میں وفات پائی. صاحب عمل صالح نے امیر الامراء کی وفات کے متعق لکھا ہے" دہلی پہنچ کر اطلاع ملی کہ امیرالامراء علی مردان خان جو اسہال کے مرض میں مبتلا تھا , جہان فانی سے گزر گیا۔ کشمیر کی آب و ہوا اُسے سازگار تھی لہذا بیماری کے زمانے میں حضرت نے اسے اُدھر رخصت کر دیا تھا۔ ضعف و ناتوانی کے سبب ماچھی واڑے سے کشتی میں سوار ہوکر چلا. موضع تہار تک پہنچا تھا کہ بخشیانِ قضا و قدر نے عمر و رزق کے دروازے اُس پر بند کر دیے۔ داعی اجل نے اپنی صورت دکھائی اور دستور زمانہ کے مطابق بتاریخ ١2 رجب ملک عدم میں تعینات ہو گیا۔ اس کے بیٹے ابراہیم خان وغیرہ جنازے کو لیے لاہور پہنچے اور اس کی ماں کے مقبرے میں دفن کر دیا۔ عالی شان, باتدبیر امیر تھا۔ اقبال و عزت, دولت و حشمت اور کثرت فوج کے سبب بہت امتیاز پایا. اعلی حضرت کی پیہم  عنایات کے سبب اسے بڑی عزت حاصل تھی. ہفت ہزاری ذات ہفت ہزار سوار پانچ ہزار دو اسپہ سہ اسپہ کا منصب تھا۔ ڈھائی لاکھ روپے بطور انعام ملتے تھے۔ سالانہ تنخواہ تیس لاکھ روپے تھی." علی مردان خان کے بعد اس کی اولاد نے بھی ترقی پائی. عہد عالمگیر میں اہم عہدے بھی ملے. انڈین ہسٹری کانگریس میں محمد افضل خان صاحب کے علی مردان خان پر پڑھے گئے مقالے میں اس کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔

کچھ عرصہ قبل قاضی محمد اعظم صاحب کے ہمراہ مقبرہ علی مردان خان کی زیارت کو گئے۔ پہلے تو مقبرہ بند ملا پھر عبد الوحید فاروقی صاحب کی مہربانی کی بدولت دوبارہ حاضری دینے پر مقبرے کے درشن کا موقع ملا. مقبرہ کی مرمت بھی ہوئی تھی مگر پھر بھی حالت نہایت خراب ہے۔ خیر  زمانے کے ستم کے باوجود مقبرہ اب تک قائم ہے۔ سکھ راج اس مقبرے کے لیے کوئی اچھا ثابت نہ ہوا. کہنیالال ہندی لکھتے ہیں " اس کی چار دیواری کی اینٹیں لاہور کے کشمیری خشت فروش اکھاڑ کر لے گئے۔ باقی ماندہ عمارتیں سردار گلاب سنگھ بھوونڈیہ نے گرا کر چھاؤنی کو اینٹیں لگا لیں... سکھوں کے وقت میں اس ڈیوڑھی کو مسمی گوردت سنگھ کرنیل افسر پلٹن مصراں والی نے اپنا مسکن بنایا ہوا تھا... مہاراجا رنجیت سنگھ کے وقت اس عالی شان مقبرے میں میکھ زین ( اسلحہ) بھرا رہتا تھا...اس مقبرے کی پہلی منزل میں سنگ سرخ و سنگ ابری کی بڑی بڑی سلیں نصب تھیں جو سکھوں نے براہِ سنگ دلی اُکھاڑ لی تھیں." اس مقبرے کی بربادی میں سلطان محمد ٹھیکے دار کا بھی حصہ ہے۔ مقبرہ تین منزلہ ہے۔ تہ خانے میں تین قبریں ہیں۔ علی مردان خان اور ان کی والدہ کی. تیسری نامعلوم ہے۔ کتبہ فقط ایک ہی قبر پر موجود ہے جس پر درج ذیل عبارت موجود ہے۔

قطعہ تاریخ وفات

نواب علی مردان خان

بن امیر گنج علی خان

امیر صاحب دولت مشیر صاحب حشمت

ثنا گوئے علی مرد و حق آگاہ مردان خان

سفر چوں کرد زیں دنیائے دوں سوئے بقا آخر

ندا آمد بتاریخش کہ عالی جاہ مرداں خان

یہ مقبرہ ماضی میں تو بڑا دلکش تھا بلکہ یہ تک کہا گیا " اس مقبرے کی عظمت و شان کا کچھ حساب نہیں, بلکہ اتنا بلند مقبرہ لاہور میں اور کوئی نہیں ہے." مقبرہ بلند تو اب بھی ہے مگر اس پر کیا گیا کام اب موجود نہیں بلکہ آثار تک نظر نہیں آتے. البتہ یہاں جو باغ تھا اس کے دروازے پر موجود کاشی کاری کا کام اب بھی ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مقبرہ کس قدر پرکشش و خوشنما تھا۔ مقبرے پر اک عجب سی ویرانی و اداسی چھائی تھی کہ سناٹے کو چیرتی ہوئی ایک مدھر آواز کانوں میں پڑی, مُڑ کر دیکھا تو مقبرے کے دو گنبدوں کے درمیان, قاضی محمد اعظم صاحب بانسری سے سُر بکھیر رہے تھے۔ میرے تین جانب سیاہی تھی روشنی کے جھرمٹ میں موجود قاضی صاحب اور سُر بکھیرتی لے کی گونج نے دل میں ناجانے کیوں یہ امید پیدا کر دی کہ کل کو بہت سی آنکھیں ضرور اس مقبرے کے معمار کو داد و تحسین دیں گیں. اب بلندی سے تہ خانے میں پہنچے, حیرت قبر پر ڈالی گئی چادروں کو دیکھ کر ہوئی. پھر خاصی تعداد میں دیے بھی نظر آئے. پہلے تو سوچا کہیں غلطی سے قریب ہی موجود مزار پر تو نہیں آ گئے۔ لیکن یہ مقبرہ علی مردان خان ہی تھا۔ سمجھ سے بالا ہے کہ ہر پرانی قبر کو  مزار کیوں بنا دیا جاتا ہے۔ شنید ہے کہ جمعرات کو یہاں بے اولاد حضرات تشریف لا کر سابق گورنر کابل و کشمیر سے اولاد مانگتے ہیں شاید مولائے کائنات سے ان کے تعلقات خراب ہوں. خیر ان کی عجیب و غریب حرکات کے باعث یہ مقبرہ بند بھی کر دیا گیا تھا۔ اب بھی یہاں پہنچنا کافی مشکل ہے۔ دوسرا اس مقبرے کو آسیب زدہ بھی بتایا جاتا ہے۔ یعنی انسانوں سے بھی زیادہ بھیانک مخلوق کا یہاں ڈیرہ ہے۔ سانپوں کی بھی یہ آماجگاہ ہے جو اس کو مزید پر سرار بنائے ہوئے ہے۔ حکومت یعنی جن کے ہاتھ میں امور مملکت کی باگ ڈور ہے ان سے التجا ہے کہ براہ کرم اس مقبرے کو آباد کریں یہاں تک سیاح حضرات کی آسان رسائی ممکن بنائیں. تاریخی عمارت کو درگاہ بنانے کی بجائے اس کو تاریخ سے شغف رکھنے والوں کے لیے کھولیں. اگر چندہ کرنے کی نوبت نہ آئے تو چند روہے خرچ کر یہاں کوئی معلوماتی بورڈ بھی لگا دیں. باقی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ یہاں ضرور جائیں اور اس مقبرے کے متعلق بنائی گئی بے سر و پا کہانیوں پر توجہ دینے کی بجائے اس شاندار مقبرے کے کاریگروں کو سراہیں...

طلحہ شفیق

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Edward James Rapson؛ Sir Wolseley Haig؛ Sir Richard Burn۔ The Cambridge History of India۔ CUP Archive۔ صفحہ 561۔ GGKEY:96PECZLGTT6۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. Clifford Edmund Bosworth۔ The Encyclopaedia of Islam, New Edition: Supplement۔ Macmillan Publishing Company۔ صفحہ 62۔ آئی ایس بی این 90-04-06167-3۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔