مقبرہ میثم تمار
| مقبرہ میثم تمار | |
|---|---|
| مرقد ميثم التمار | |
| بنیادی معلومات | |
| متناسقات | 32°1′35.391″N 44°23′41.973″E / 32.02649750°N 44.39499250°E |
| مذہبی انتساب | اہل تشیع |
| رسم | شیعہ اثناء عشریہ |
| صوبہ | نجف |
| مذہبی یا تنظیمی حالت | مسجد اور مقبرہ |
| حیثیت | فعال |
| تعمیراتی تفصیلات | |
| نوعیتِ تعمیر | مسجد, مقبرہ |
| سنہ تکمیل | نامعلوم، لیکن موجودہ عمارت جدید ہے (2011) |
| تفصیلات | |
| گنبد | 1 |
| گنبد کا قطر (خارجی) | 9 metres |
| گنبد کا قطر (داخلی) | 9 metres |
| مینار | 2 |
| مینار کی بلندی | 28 metres |
| مزار/مقبرہ | 1 |

میثم تمار کا مقبرہ (عربی: مقبرہ میثم التمر) اہل تشیع روایات کے مطابق میثم تمار کا مزار ہے ۔ جو کوفہ عراق میں واقع ہے۔ جو علی بن ابی طالب کا ساتھی تھا جسے اموی گورنر عبد اللہ بن زیاد نے شہید کر دیا تھا۔ [1] مسجد اور مزار کا احاطہ جامع مسجد کوفہ کے مغرب میں واقع ہے۔ جو اس سے تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر ہے اور (نجف-کوفہ) مرکزی سڑک پر واقع ہے، جو نجف سے آنے والے مسافر کے دائیں جانب آتا ہے۔ مزار پر ایک درمیانے حجم اور اونچائی کا شاندار گنبد نصب ہے، جسے نیلے قاشانی ٹائلوں سے مزین کیا گیا ہے۔ یہ مزار ایک وسیع صحن کے وسط میں واقع ہے، جس کی کل مساحت تقریباً 5,300 مربع میٹر ہے اور اس میں کئی حجرے، ایوانات اور متعدد برآمدے شامل ہیں۔[1][1][2]
میثم تمّار کا ایثار
[ترمیم]ابو سالم میثم بن یحییٰ تمّار، جو بنی اسد کے آزاد کردہ غلام تھے، کوفہ کے رہنے والے تھے اور کھجور بیچا کرتے تھے، اسی وجہ سے "تمّار" کے لقب سے مشہور ہوئے۔ وہ ایک جلیل القدر صحابی اور امیر المؤمنین علی بن ابی طالبؓ کے خاص حواریوں میں سے تھے۔
وہ کوفہ میں امام حسینؓ کی آمد سے دس دن پہلے شہید ہوئے۔ ان کو یزید بن معاویہ کے کوفہ کے گورنر عبید اللہ بن زیاد نے سولی پر چڑھایا۔ میثم تمار علم دین رکھنے والے افراد میں شمار ہوتے ہیں۔ انھیں مسلم بن عقیلؓ کی شہادت کے دو یا تین دن بعد المختار ثقفی کے ساتھ قید کیا گیا اور پھر عمرو بن حریث کے دروازے کے قریب ایک لکڑی کے ستون پر سولی دے دی گئی۔
سولی پر بھی وہ لوگوں کو امام علیؓ کے فضائل سناتے رہے اور ان سے براءت اختیار کرنے سے انکار کرتے رہے۔ چنانچہ ان کا منہ بند کر دیا گیا (الجام لگا دیا گیا) — وہ اسلام میں پہلا شخص تھے جسے اس طرح الجام دیا گیا۔ سولی پر تیسرے دن انھیں نیزہ مارا گیا، جس پر انھوں نے تکبیر کہی اور اسی دن کے اختتام پر شہادت پا گئے۔[3]
حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب پ "مرقد الصحابي ميثم التمار(عليه السلام) - العتبة العلوية المقدسة"۔ 16 دسمبر 2017۔ 2017-12-16 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-11-23
- ↑ Ahmad Odezadeh (18 مارچ 2017)۔ "افتتاح شباك ضريح الصحابي "ميثم التمار" بحضور ممثل المرجعیة العلیا"۔ شفقنا العراق (بزبان عربی)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-11-23
- ↑ الغارات 2 / 798.
ویکی ذخائر پر مقبرہ میثم تمار سے متعلق تصاویر