مقبرہ چنگیز خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
موسم خزاں میں دریائے اونون، منگولیا، جہاں تموجن پلے بڑھے اور پیدا ہوئے۔

چنگیز خان کے مقبرہ کا مقام خاصی تلاش و جستجو کا موضوع رہا ہے لیکن اب تک یہ دریافت نہیں ہو سکا۔[1]

تحقیقات[ترمیم]

برطانوی نشریاتی ادارے سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق منگولیا میں مقبول قصے کہانیوں کی رو سے چنگیز خان کو بورخان خالدون نامی چوٹی پر دفنایا گیا تھا۔[2] منگولیا کے باشندوں نے چنگیز خان کی قبر کی تلاش میں کئی مہم چلائیں مگر قبر کا سراغ نہ مل سکا۔ ان کی قبر کی تلاش میں غیر ملکی بھی دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ نیشنل جيوگرافک نے باقاعدہ سیٹلائٹ کے ذریعے چنگیز خان کی قبر تلاش کرنے کی مہم شروع کی تھی جس کا نام ”ویلی آف خان پراجیکٹ“ تھا۔[3] جنگیز خان کی قبر منگولیائی باشندے اس ڈر سے بھی نہیں دریافت کرتے کہ ان کے مطابق چنگیز خان کی قبر کو کھودا گیا تو دنیا نیست و نابود ہو جائے گی۔ جبکہ کچھ ماہرین کی رائے ہے کہ منگولیائی باشندے خود نہیں چاہتے کہ چنگیز خان کی قبر دریافت ہو کیونکہ ان کے مطابق چنگیز خود نہیں چاہتے تھے کہ انہیں کوئی یاد رکھے لہذا مقامی افراد احتراماً قبر کی کھوج نہیں کرتے۔ انگلستانی ماہرین کی رائے ہے کہ منگولیا رقبہ کے لحاظ سے اتنا بڑا ہے کہ اس میں برطانیہ جیسے سات ممالک آجائیں، اتنے بڑے ملک میں قبر کی کھوج ناممکن ہے۔ نیز 1990ء میں جاپان اور منگولیا نے ایک مشترکہ مہم ”گروان گول“ کا آغاز کیا تھا مگر کچھ وجوہات کی بنا پر وہ مہم بھی رک گئی اور چنگیز خان کا مقبرہ ایک معما بن کر رہ گیا۔

2016ء کی دریافت[ترمیم]

سنہ 2016ء میں بیجنگ یونیورسٹی کے ماہرین آثار قدیمہ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے مقبرہ دریافت کر لیا ہے اور بیجنگ کے ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق دریائے آنون کے نزدیک مزدوروں کو سڑک کی تعمیر کے دوران میں 68 ڈھانچے ملے، دریافت شدہ مقبرے سے ایک شخص کا ڈھانچہ بھی ملا جس کی عمر تقریباً 60 سے 75 سال کے درمیان میں تھی، تحقیق کے مطابق اس کا انتقال 1215ء/1235ء کے درمیان میں ہوا تھا اور وہ ممکنہ طور پر چنگیز خان ہو سکتا ہے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]