مقصود احمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مقصود احمد
فائل:Maqsood Ahmed in 1954.jpg
Maqsood Ahmed in 1954
کرکٹ کی معلومات
بلے بازیRight-hand bat
گیند بازیRight-arm medium fast
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ کرکٹ فرسٹ کلاس کرکٹ
میچ 16 85
رنز بنائے 507 3815
بیٹنگ اوسط 19.50 31.52
100s/50s -/2 6/22
ٹاپ اسکور 99 144
گیندیں کرائیں 462 7938
وکٹ 3 124
بولنگ اوسط 63.66 27.86
اننگز میں 5 وکٹ - 6
میچ میں 10 وکٹ - 1
بہترین بولنگ 2/12 2/12
کیچ/سٹمپ 13/- 47/-
ماخذ: Cricinfo.com

مقصود احمد ( پیدائش26مارچ 1925ء| وفات4جنوری1999ء) ایک پاکستانی کرکٹر ہے۔[1] جس نے پاکستان کی طرف سے 14 ٹیسٹ میچ کھیلےان کاشمار پاکستان کی طرف سے1952,53میں بھارت کے خلاف اولین ٹیسٹ سیریزکھیلنے والے کھلاڑیوں میں ہوتاہے تاہم اس دورے میں ان کی کارکردگی ملی جلی رہی'5ٹیسٹ میچوں کی8اننگز میں41رنزکے زیادہ سے زیادہ سکورکی مدد سے انہوں نے102رنزبنائے جس کی اوسط محض12.75رنز تھی۔ مقصود احمد کااگلاامتحان پاکستان کے دورہ انگلینڈ میں سامنے آیا یہاں ایک 69رنز کی باری قابل ذکرتھی جبکہ4ٹیسٹ کی7اننگز میں ان کی محض112رنز تک18.66کی اوسط سے رسائی ہو سکی'اس کے بعد ٹیم نے 1954,55میں بھارت نے پاکستان کادورہ کیا اس میں بدقسمتی سے مقصود احمد لاہورکے ٹیسٹ میں سنچری کے قریب پہنچ کر بھی نروس نائنٹینز ہوکر99رنز پر پی ایس گپتے کی گیند پرآئوٹ ہو گئے یہ ان کے ٹیسٹ کیریئر کی ایک اننگزمیں بہترین کارکردگی تھی۔اگلی سریز نیوزی لینڈ کے خلاف تھی جس کے2 ٹیسٹ کی3اننگز میں مقصوداحمد کے حصے میں 43 رنز آسکے جو ان کا آخری ٹیسٹ میچ ثابت ہوا۔

کرکٹ کی ابتدا[ترمیم]

مقصوداحمد نے کرکٹ کی ابتدا تقسیم ہند سے قبل کی تھی۔اپنے جارحانہ انداز بیٹنگ کے لیے مشہور مقصود احمد نے1944,45میں شمالی ہندوستان کے خلاف پنجاب اے کی طرف سے کھیلتے ہوئے اپنے پہلے ہی فرسٹ کلاس میچ میں144رنز بناکرسب کی توجہ حاصل کرلی۔اسی طرح1951-52ء میں انہوں نے ایم سی سی کے خلاف137رنزبناکر پاکستان کے ٹیسٹ سٹیٹس کے لیے کوششوں کوآگے بڑھایا اور1954ء کے دورہ انگلینڈ میں ووسٹر کے مقام پرٹورمیچ میں اڑھائی گھنٹے کریز پررہ کر111رنزکی سنسنی خیزباری مرتب کی تاہم اس دورے میں ''ٹرنٹ برج'' کے مقام پر ان کی تیز رفتاری اس وقت ٹیم کوشکست کے دہانے پرلے گئی جب باب اپلارڈ کی گیند پرایک بڑاشارٹ کھیلنے کی کوشش میں وکٹ گنوا بیٹھے اورپاکستان یہ ٹیسٹ میچ ہار گیا اس نازک مرحلے پرآئوٹ ہونے کے اس واقعے کوبرطانوی میڈیا نے مذاق کانشانہ بناکر انہیں ''میری میکس'' کانام دے دیا۔

ریٹائرڈمنٹ کے بعد[ترمیم]

کرکٹ سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد وہ سلیکٹر رہے اورکرکٹ کمنٹیٹرکے طورپر اپنے کیرئیر کاآغاز کیا۔انگریزی اخبار ''دی نیوز'' نے1981,82ء میں جب اپنی اشاعت کا آغاز کیاتو وہ اس کے پہلے ''سپورٹس ایڈیٹر'' مقررکیے گئے۔

وفات[ترمیم]

وہ 4 جنوری1999ء میں73سال اور 284 دن کی عمر میں راولپنڈی کے مقام پر انتقال کرگئے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انگریزی ویکیپیڈیا کے مشارکین۔ "Maqsood Ahmed"۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)