مندرجات کا رخ کریں

ملائیشیائی ادب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

ملائیشیائی ادب (مالے: Sastera Malaysia) سے مراد وہ تحریری کام ہیں جو ملائیشیا میں یا ملائیشیائی مصنفین نے تخلیق کیے ہیں۔ ملائیشیائی ادب کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے، جو ملائیشیا کے ثقافتی، مذہبی اور سیاسی ارتقا کی عکاسی کرتی ہے۔[1]

جائزہ

[ترمیم]

ملائیشیائی ادب میں ملائی زبان کے علاوہ انگریزی، چینی، تامل اور مختلف مقامی زبانوں میں تخلیقات شامل ہیں۔ یہ ادب ملائیشیا کے مختلف ادوار—قدیم سلطنتوں، نوآبادیاتی دور اور جدید وفاقی آئینی بادشاہت—کے تجربات کو پیش کرتا ہے۔ ملائیشیائی ادب کی ایک امتیازی خصوصیت اس کا اسلام کے مذہب کے ساتھ گہرا تعلق ہے، جو صدیوں سے اس خطے کی ثقافتی شناخت کا حصہ رہا ہے۔[2]

تاریخی ادوار

[ترمیم]

قدیم ادب (قبل از پندرہویں صدی)

[ترمیم]

ملائیشیائی ادب کے ابتدائی دور میں ہندو مت اور بدھ مت کے زیر اثر ادب تخلیق ہوا۔ اس دور میں سنسکرت زبان میں لکھے گئے مذہبی متن اور نوشتہ جات ادب کا بنیادی حصہ تھے۔ ابتدائی ملائیشیائی ادب زیادہ تر سنسکرت زبان میں لکھا جاتا تھا اور اس میں ہندو دیو مالا اور بدھ مت کے فلسفے کی عکاسی ملتی ہے۔[3]

سریویجایا سلطنت (ساتویں سے تیرہویں صدی) کے دور میں ملائی ادب نے اپنی شناخت قائم کرنا شروع کی۔ اس دور میں قدیم ملائی زبان میں لکھے گئے نوشتہ جات ملائیشیائی ادب کے ابتدائی نمونے ہیں۔ کداح کے تالقات نوشتہ (چوتھی صدی) کو قدیم ترین ملائی تحریر سمجھا جاتا ہے۔[4]

کلاسیکی ملائی ادب (پندرہویں–انیسویں صدی)

[ترمیم]

پندرہویں صدی میں اسلام کی آمد کے ساتھ ملائیشیائی ادب نے ایک نئی سمت اختیار کی۔ ملاکا سلطنت (1400ء–1511ء) کے دور میں ملائی ادب نے عروج حاصل کیا۔ اہم کاموں میں شامل ہیں:

  • "سجارتھ ملایو" (ملائی تاریخ)
  • "حکایت حنگ تواہ"
  • "حکایت راجا-راجا پاسی"
  • "حکایت مرونگ ماہاوانگسہ"[5]
ملاکا سلطنت کا علاقہ

اس دور کی سب سے اہم ادبی شخصیت Tun Sri Lanang تھے، جنھوں نے "سجارتھ ملایو" کی تدوین کی۔ اس دور میں اسلامی ادب نے مقامی روایات کے ساتھ امتزاج پیدا کیا اور ملائی زبان عربی رسم الخط میں لکھی جانے لگی۔[6]

نوآبادیاتی دور (1786ء–1957ء)

[ترمیم]

برطانوی استعمار کے دور میں ملائیشیائی ادب نے جدید شکلیں اختیار کیں۔ اس دور میں ملائی زبان میں جدید ادب کا ارتقا ہوا۔ اہم کاموں میں شامل ہیں:

  • جدید ناول
  • مختصر کہانیاں
  • اخباری کالم
  • جدید شاعری[7]

اس دور میں ملائیشیائی قوم پرستی کی تحریک نے ادب کے ذریعے اپنی آواز بلند کی۔ عبد اللہ بن عبدالقدیر (1796ء–1854ء) جیسے مصنفین نے جدید ملائی نثر کی بنیاد رکھی۔ ان کی سوانح حیات "حکایت عبد اللہ" کو جدید ملائی ادب کا پہلا نمونہ سمجھا جاتا ہے۔[8]

جدید ادب (1957ء کے بعد)

[ترمیم]

ملائیشیا کی آزادی کے بعد ادب نے مختلف ادوار دیکھے۔ ابتدائی دور (1957ء–1970ء) میں ادب نے قومی تعمیر اور قومی شناخت کے موضوعات اپنائے۔[9]

نئی معاشی پالیسی کے دور (1971ء–1990ء) میں ادب پر معاشرتی انصاف اور نسلی ہم آہنگی کے موضوعات غالب رہے۔ جدید دور (1990ء کے بعد) میں ملائیشیائی ادب نے بین الاقوامی سطح پر پزیرائی حاصل کی۔[10]

اہم انواع

[ترمیم]

شاعری

[ترمیم]

ملائیشیائی شاعری کی اہم اقسام میں شامل ہیں:

  • "پینٹن" – روایتی شاعری
  • "سائر" – اسلامی شاعری
  • "گوریندان" – جدید نظمیں
  • "پوتری باہو" – آزاد نظمیں[11]

ملائیشیائی شاعری کا سب سے مشہور نمونہ "پینٹون" ہے، جو محاوراتی اور اخلاقی موضوعات پر مبنی ایک خاص بحر میں لکھی جاتی ہے۔

نثر

[ترمیم]

ملائیشیائی نثر کی اہم اقسام میں شامل ہیں:

  • "ناول" – ناول
  • "چیریٹا پندیک" – مختصر کہانیاں
  • "ڈراما" – ڈراما
  • "حکایت" – داستانیں[12]

لوک ادب

[ترمیم]

ملائیشیائی لوک ادب میں شامل ہیں:

  • مقامی کہانیاں
  • لوک گیت
  • محاورے اور کہاوتیں
  • دیومالائی کہانیاں
  • پینانگ کی ہانتو کہانیاں[13]

اہم مصنفین

[ترمیم]

قدیم مصنفین

[ترمیم]
  • Tun Sri Lanang (سولہویں صدی) – مورخ اور مصنف
  • Abdullah bin Abdul Kadir (1796ء–1854ء) – مترجم اور مصنف
  • Munshi Abdullah (1796ء–1854ء) – معلم اور مصنف[14]
فائل:Abdullah bin Abdul Kadir.jpg
عبد اللہ بن عبدالقدیر

خصوصیات

[ترمیم]

ملائیشیائی ادب کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں:

  • اسلام کے فلسفے کا گہرا اثر
  • قومی شناخت کا اظہار
  • تاریخی واقعات کی عکاسی
  • انسانی جذبات کی گہری ترجمانی
  • معاشرتی مسائل پر تنقید
  • ثقافتی ورثے کی حفاظت
  • نسلی تنوع کی عکاسی[15]

ادبی انعامات

[ترمیم]

ملائیشیا کے اہم ادبی انعامات میں شامل ہیں:

  • ساسترا انعام
  • صدر اعظم ادب انعام
  • ملائیشیا بک انعام[16]
دیوان بہاسا دان پستاکا، ملائیشیا

بین الاقوامی اثر

[ترمیم]

ملائیشیائی ادب نے حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر شہرت حاصل کی ہے:

  • ملائیشیائی ناولوں کے تراجم بین الاقوامی سطح پر مقبول ہوئے ہیں
  • ملائیشیائی شاعری نے عالمی شاعری کو متاثر کیا ہے
  • ملائیشیائی ڈراموں نے بین الاقوامی سطح پر پزیرائی حاصل کی ہے
  • ملائیشیائی انگریزی ادب کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے[17]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Sweeney Amin (2004)۔ Malaysian Literature in English۔ University of Malaya Press۔ ص 45–67۔ ISBN:978-9831002474 {{حوالہ کتاب}}: تأكد من صحة |isbn= القيمة: checksum (معاونت)
  2. Virginia Matheson Hooker (2000)۔ Writing a New Society: Social Change Through the Novel in Malay۔ University of Hawaii Press۔ ص 89–112
  3. Richard Winstedt (1969)۔ A History of Classical Malay Literature۔ Oxford University Press۔ ص 112–134
  4. Leonard Andaya (2001)۔ "The Search for the 'Origins' of Melayu"۔ Journal of Southeast Asian Studies۔ ج 32 شمارہ 3: 315–330
  5. R. Roolvink (1967)۔ The Variant Versions of the Malay Annals۔ E. J. Brill۔ ص 156–178
  6. Vladimir Braginsky (1993)۔ The System of Classical Malay Literature۔ KITLV Press۔ ص 89–115
  7. Anthony Milner (1995)۔ The Invention of Politics in Colonial Malaya۔ Cambridge University Press۔ ص 167–189
  8. C. Skinner (1978)۔ "The Influence of Arabic upon Modern Malay"۔ International Journal of Middle East Studies۔ ج 9 شمارہ 2: 215–229
  9. Seong Chee Tham (1974)۔ The Development of Malaysian Literature in English۔ University of Malaya Press۔ ص 203–225
  10. A. Rahman Mohammad (2008)۔ Contemporary Malaysian Literature۔ Dewan Bahasa dan Pustaka۔ ص 156–178
  11. Kamal Ahmad (1966)۔ Traditional Malay Poetry۔ Oxford University Press۔ ص 67–89
  12. Awang Hashim (1992)۔ The Malay Novel۔ Dewan Bahasa dan Pustaka۔ ص 134–156
  13. Walter William Skeat (1900)۔ "Malay Magic"۔ Journal of the Royal Anthropological Institute۔ ج 30 شمارہ 1: 50–65
  14. W. E. Maxwell (1977)۔ Malay Literature۔ Royal Asiatic Society۔ ص 78–95
  15. Joel Kahn (2006)۔ Other Malays: Nationalism and Cosmopolitanism in the Modern Malay World۔ University of Hawaii Press۔ ص 45–67
  16. Sastera Dewan (2005)۔ Malaysian Literary Awards۔ National Library of Malaysia۔ ص 156–178
  17. C. W. Watson (1996)۔ Multiculturalism and Hybridity in Malaysian Literature۔ Oxford University Press۔ ص 203–225

بیرونی روابط

[ترمیم]