ملا اختر منصور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ملا اختر منصور طالبان کے موجودہ امیر ہیں جو ملا عمر کے بعد افغان طالبان کے نئے امیر منتخب کیے گئے۔

پیدائش[ترمیم]

ملا اختر منصور 1968ء میں محمد جان ہاں افغانستان کے صوبہ قندہار کے ضلع میوند کے بند تیمور گاؤں میں پیدا ہوئے۔ملا اختر پٹھانوں کی مشہور قبیلہ اسحاق زئ سے تعلق تھا۔ جو بند تیمور اسحاق زی قبیلہ کا گڑ ہے۔اسحاق زی پاکستان کے توبہ اچکزئی میں بھی بہت گھرانے رہتے ہیں جو ان کے اپنے زمین پر آباد ہے۔

تربیت[ترمیم]

ان کا خاندان اپنے علاقے پر ایک دیندار گھرانہ تھا اور ان کے والد ایک علم دوست شخص تھے، اس لیے منصور صاحب کی صحیح تربیت کے لیے ان کا پہلا انتخاب دینی تعلیم کا حصول تھا۔

تعلیم[ترمیم]

سات سال کی عمر میں والد نے اپنے علاقے کے ایک دینی ادارے میں داخل کروایا۔ بچن ہی سے ذہین اور سمجھدار تھے، اسی لیے اپنے والدین کے ساتھ ساتھ دیگر اساتذہ کی جانب سے بھی اس کی خصوصی تربیت کا اہتمام ہونے لگا۔ کم وقت میں اپنی ابتدائی دینی اور عصری تعلیم کامیابی سے حاصل کی۔

اعلیٰ تعلیم[ترمیم]

اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مشہور مدارس کا رخ کیا۔ وہاں بھی نمایاں قابلیت اور اخلاق کے مالک رہے۔ وہیں سے عالیہ سطح کے علوم حاصل کیے۔

سیاسی ہل چل[ترمیم]

منصور صاحب ابھی علوم ابتدائی مراحل میں تھے کہ افغانستان کا سیاسی اقتدار کمیونسٹوں کے ہاتھوں میں چلا گیا اور افغانستان کی عوام نے ان کے خلاف اسلامی تحریک کا آغاز کر دیا۔

سوویت یونین کی آمد[ترمیم]

1978ء میں افغانستان پر سوویت یونین کی جار حیت شروع ہوتے ہی افغانستان کی عوام نے اس کے خلاف اسلامی تحریک کو بزور بازو شروع کیا۔ اس جدوجہد کو جہادروس کہا جاتا ہے اور انہی کو مجاہدین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

افغانستان پر سوویت جارحیت کے درمیانے ادوار میں جب ملااختر منصور جوان ہوئے اس وقت اپنی دینی تعلیم کی تکمیل لے لیے پھر سے تعلیمی سلسلے سے جڑنا چاہتے تھے، جارح قوت کے خلاف مسلح جہاد کے لیے اپنے جہادی جذبے کی وجہ سے اپنی دینی تعلیم ادھوری چھوڑدی۔ مگرعلم کا بے پا شوق ہونے کی وجہ سے جب بھی جہاد سے لوٹتے اپنے خاص اساتذہ سے اپنی بقیہ ماندہ پڑھائی کی تکمیل کرنے لگتے۔ اسی طرح مضبوط عزم کے ساتھ پڑھائی جاری رکھی اور موقوف علیہ تک پہنچادی۔ بعد ازاں انہوں نے مستقلاً میدان جہاد کا انتخاب کیا اور محاذوں پر رہنے لگے۔

جہادی زندگی کا آغاز[ترمیم]

انہوں نے 1985ء میں جہادی کارروائی کے لیے قندھار کے مشہور جہادی کمانڈر قاری عزیزاللہ (مرحوم) کے محاذ سے اپنی جہادی زندگی کا آغاز کیا۔ ضلع پنجوائی کے علاقے پاشمول میں افغانستان کی سطح پرمشہور جہادی شخصیت ملا محمد حسن اخوند کی سرپرستی میں سوویت جارحیت پسندوں اور ان کے کٹھ پتلیوں کے خلاف جہادی کارروائیاں کیں۔ قاری عزیز اللہ صاحب کا محاذ مولوی محمدنبی محمدی (مرحوم) کی تنظیم حرکت انقلاب اسلامی سے ملحق تھا۔ قاری عزیزاللہ کی وفات کے بعد کمانڈر حاجی محمد اخند کی قیادت میں جہادی شخصیت مولوی محمد یونس خالص کی تنظیم اسلامی حزب میں انہیں ذمہ داری دی گئی ۔

جدو دجہد، زخم، قید[ترمیم]

منصور صاحب نے قندہار میں سوویت یونین جارحیت پسندوں اور ان کے داخلی حامیوں کے خلاف بہت سی فوجی کارروائیوں میں فعال حصہ لیا۔ 1987ء میں قندہار کے ضلع پنجوائی کے علاقے سنزری میں روسیوں کے ایک سٹریٹجک مرکز پر براہ راست حملے کے دوران ایسے زخمی ہوئے کہ ان کے جسم پر تیرہ زخم آئے مگر اللہ تعالی نے انہیں شفا دے دی۔ دوسری بار 1997ء میں مئی کے مہینے میں امارت اسلامیہ کی حکومت میں مزارشریف کے ہوائی اڈے میں زخمی ہو گئے اور اسی زخمی حالت میں مخالفین کے ہاتھوں اسیر بھی ہو گئے ۔

تحریک اسلامی طالبان میں بنیادی کردار[ترمیم]

1992ء میں افغانستان میں کمیونسٹ نظام کے خاتمے اور داخلی جنگوں کے آغاز کے بعد جناب منصور صاحب اور ان کے محاذ کے دیگر مجاہدین نے اسلحہ رکھ دیا اور اقتدار کی خاطر شروع ہونے والی جنگ میں کسی کا ساتھ نہیں دیا ۔

منصور صاحب جو اس وقت ایک نامور مجاہد بن چکے تھے اور مجاہدین کے درمیان اچھی شہرت رکھتے تھے انہوں نے ملامحمد ربانی، حاجی ملامحمد(مرحوم) اور ملا بورجان (مرحوم) کی طرح جنگی مصروفیات ترک کر دیں اور کچھ تعلیمی اور تربیتی امور میں مصروف ہو گئے ۔

1994ء میں ملا محمد عمر کی جانب سے تحریک اسلامی طالبان افغانستان عرف "طالبان" کا آغازہوا تو انہوں نے اسے آگے بڑھانے میں محوری کردار ادا کیا ۔

امارت اسلامیہ افغانستان[ترمیم]

انتظامی اورجہادی صلاحیتوں کے باعث طالبان تحریک کے سربراہ کی جانب سے انہیں اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں :

  1. جنوب مغربی زون میں تحریک اسلامی طالبان کی کامیابی اور قندہار پر قبضہ کے بعد ملا محمدعمر کی جانب سے ان پر بے پناہ اعتماد کے باعث انہیں قندہارائیرپورٹ کا مرکزی سربراہ متعین کیا گیا ۔
  2. طالبان کے ہاتھوں قندہار کی فتح کے بعد قندہار فضائی افواج اور فضائی دفاع کی ذمہ داری انہیں دی گئی۔
  3. 1996ء میں دار الحکومت کابل پر قبضے کے بعد انہیں فضائیہ اور سیاحت کا وزیر بنایا گیا ۔
  4. وزارت کے دوران ہی ملا محمد عمر (مرحوم) کی خصوصی ہدایات اور حکم پر  وزارت دفاع سے منسلک فضائی دفاع کی مرکزی کمانڈ بھی انہیں دے دی گئی۔

وزارت میں نمایاں کارنامے[ترمیم]

افغانستان فضائی سفر اور سیاحت کے شعبے میں انہوں نے بہت سی تبدیلیاں اور اصلاحات کیں جن میں کچھ باتوں کا تذکرہ مختصراً درج ذیل ہیں۔

  • کابل کی فتح کے وقت اس شہر میں خانہ جنگی کے باعث فضائیہ کا نظام درہم برہم ہوچکا تھا۔ فضائیہ کے تمام املاک تباہ ہوچکے تھے۔ محترم منصور صاحب نے اپنی تعمیرنو کی پالیسی کے تحت اس شعبے سے منسلک تمام تباہ شدہ املاک، ائیرپورٹوں اور طیاروں کو پھر سے ٹھیک کروایا۔
  • یہ وہ وقت تھاجب امارت اسلامیہ شدید اقتصادی مشکلات اور عالمی پابندیوں کا شکار تھی۔ مگر منصور صاحب نے انہیں نامناسب اقتصادی حالات میں پہلے کابل کا بین الاقوامی ہوائی اڈا اور اس سے ملحق تمام تنصیبات کی ازسرنو تعمیر کی اور پھر آریانا ائیر لائن اندرونی وبیرونی سفروں کے لیے عالمی معیار کے مطابق درست کردی۔
  • اس کے بعد قندہار ،ننگرہار، مزارشریف اور قندوز کے فضائی اڈے ہر طرح کی عوامی اور فوجی پروازوں کے لیے تیار کرکے مختلف جدید وسائل سے مزین کردیے۔
  • امارت اسلامیہ کی عسکری اور عوامی شعبوں میں مختلف ترقیاتی اور فلاحی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ افغانستان کا بڑا قومی سرمایہ یعنی فضائی قوت اور اس سے متعلق طیارے اور تباہ شدہ فضائی اڈے پھر سے تعمیر کیے۔
  • طیاروں اور ہوائی میدانوں کی تعمیر نو کے علاوہ اندرون افغانستان میں چوبیس گھنٹے اندرونی پروازوں کی سہولت مہیا کرنے کے علاوہ سالوں بعد پہلی بار ہزاروں افغان حاجیوں کے لیے آریانہ ائیر لائن کے ذریعے سفر کی سہولتیں مہیا کیں۔
  • افغانستان جو کبھی عالمی سطح پر انتہائی ترقی یافتہ فضائی دفاعی قوت رکھتا تھا روسی جارحیت اور تنظیمی جھگڑوں کی وجہ سے تقریبا سارا کا سارا تباہ ہوکر ناکارہ ہوچکا تھا۔ یہاں تک کہ کچھ طیارے پرزوں میں بٹ کر سکریپ میں بیچ دیے گئے تھے، مگر منصور صاحب نے دن رات کوششیں کرکے ان ناکارہ طیاروں کو پھر سے کار آمد بنایا۔
  • ملا اختر محمدمنصور نے امارت اسلامیہ کے دور حکومت کے پورے عرصے میں افغانستان کی فضائی پروازوں کو احیاء اور ترقی دینے کے لیے بہت کوششیں کیں ۔

جنگی و ٹرانسپورٹ طیاروں کی بحالی[ترمیم]

جناب منصور صاحب نے فضائیہ کا معیار بہتر بنانے اور دیگر ممالک کے ٹرانزیٹ پروازوں کو جو افغانستان کے حدود سے گذرتے تھے کابل، قندہار، ننگرہار، مزار اور ہرات کے ہوائی اڈوں میں ویسٹ دستگاہ کی سہولتیں مہیاکیں۔ جو اب بھی دیکھنے والے دیکھ سکتے ہیں۔ اس دورمیں ان ہوائی اڈوں سے ٹیکس کی مد میں ملینوں ڈالر آمدنی ہوتی تھی جو اب بھی جاری ہے۔ اس دور میں سول افغان فضائیہ اور ائیرفورس کے 44 مختلف ٹرانسپورٹ اور جنگی طیارے جو خانہ جنگیوں میں تباہ ہوکر ناکارہ ہو گئے تھے۔ انہوں نے ان تباہ شدہ طیاروں کی از سرنو درستی اور انہیں پرواز کے قابل بنایا۔

ٹرانسپورٹ طیارے[ترمیم]

تین عدد این 12 (N-12)،چار عدد این 32 (N-32)،  دو عدد این 26 (N-26)

جنگی طیارے[ترمیم]

آٹھ عدد جیٹ میگ 21 (MIG-21)، تین عدد  جیٹ (M-420)، پانچ عدد جیٹ سو 22

ہیلی کاپٹر[ترمیم]

چھ عدد می8 (MI-8)، آٹھ عدد می35(MI-35)، پانچ عدد  ایل 39 (L-39)

اس کے علاوہ عوامی ٹرانسپورٹ کے لیے ایک روسی ساختہ ماڈل 41 اور ایک این24 اور افغان آریانہ ائیرلائن کمپنی کا ایک امریکی بوئنگ طیارہ بھی اس دور میں بیرون ملک میں ٹھیک کرواکر قابل استعمال بنایا گیا۔

اسی طرح 5 روسی ساختہ ٹرانسپورٹ طیارے آزاد بازار میں خریدے گئے۔ ان تمام ریپئر شدہ یا خریدے گئے طیاروں کے علاوہ افغانستان میں درجنوں کی تعداد میں صحیح سالم جنگی، ٹرانسپورٹ طیارے اور ہیلی کاپٹر بھی تھے جو ایک مکمل فضائی قوت تشکیل دے رہے تھے۔ اس کی کارکردگی کا بہترین مظاہرہ قندوز اور دیگر دورافتادہ علاقوں میں مجاہدین کے محاصرے اور دورافتادہ محاذوں اور خطوں کو مسلسل فضائی کمک پہنچانے کی صورت میں دیکھنے میں آیا۔ اس کے علاوہ ملک کے اندر اور بیرون ملک منظم طریقے سے مسافروں کی منتقلی کا بہترین انتظام بھی تھا۔ مگر امریکی جارحیت اور ہوائی اڈوں کو بمباری کا نشانہ بنانے کی وجہ سے یہ قومی ملکیت مکمل طورپر تباہ ہو گئی۔

قید[ترمیم]

ملا اختر محمد منصور امارت اسلامیہ کے دور حکومت میں جنرل مالک کی غداری کی وجہ سے شمال میں 6 ماہ تک قید بھی رہے۔ مگر اللہ تعالی کے فضل سے اس وقت واپس رہا ہوئے جب جنرل مالک جنرل عبدالرشید دوستم کے حملے سے خوف زدہ ہوکر فاریاب سے بھاگ گئے۔ اس طرح وہاں کی جیلوں سے قیدیوں کو نکلنے کا راستہ ملا۔

امریکا کے خلاف مسلح مزاحمت[ترمیم]

7 اکتوبر 2001ءکو افغانستان پر امریکی حملہ کے بعد ملا اختر منصور نے ان کے خلاف مسلح مزاحمت (جسے جہاد کہا جاتا ہے) بھی شروع کردی۔ملا اختر منصور کے لیے ان کی جہادی زندگی میں یہ مرحلہ انتہائی شدید آزمائشوں اور چیلنجوں سے بھرا تھا۔

انہیں ملا عمر کی جانب سے امارت اسلامیہ کی رہبری شوریٰ کی رکنیت کے علاوہ صوبہ قندہار کی جہادی ذمہ داری بھی دی گئی ۔

اس وقت طالبان کو افغانستان کے دیگر صوبوں کی طرح قندہار کو بھی امریکا کے خلاف مزاحمت کے لیے ایک مضبوط کمانڈر کی ضرورت تھی۔ کیوں کہ مجاہدین کے خلاف جنوب مغربی خطے کے تمام جنگی منصوبے اسی صوبے سے طے کیے جاتے تھے ۔

یہی وجہ تھی کہ ہلمند کے بعد پورے زون کی سطح پر قندہار میں سب سے زیادہ امریکین، کینیڈین اور دیگر فوجی تعینات تھے۔ بگرام کے بعد سب سے بڑا مرکزی اڈا انہوں نے قندہار ائیرپورٹ میں قائم کیا ۔

ملا اخترمنصور نے اپنی بصیرت سے قندہار میں موجود مخالف افواج کے خلاف ایسے منصوبے تشکیل دیے جن کی روک تھام میں اپنے دور کے معروف ترین فوجی جرنیل اور عسکری ماہرین ناکام رہے۔

انہوں نے اپنی عسکری مہارتوں اور تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے نئے تیکنیک آزمائے۔ پڑوس کے صوبوں کے جہادی ذمہ داران کے ساتھ مشاورت کے بعد قندہار سے نکل کر انہوں نے پورے جنوب مغربی  حصے کی سطح پر پلان مرتب کرنے شروع کردیے۔ قندہار کے علاوہ پڑوس کے صوبوں اروزگان، زابل اور ہلمند میں نیٹو پر شدید حملے کیے۔

سال 2003ء اور 2008ء میں قندہار کی مرکزی جیل کو دو مرتبہ توڑ دیا گیا اور دونوں مرتبہ 15، 15 سو کے قریب قیدی (ساتھی) جیل سے رہائی پاگئے۔ یہ دونوں واقعات منصور صاحب کے دور میں ہوئے ۔

بطور نائب امارت اسلامیہ[ترمیم]

2007ء میں امارت اسلامیہ کے سابق نائب امیر ملا عبید اللہ اخوندگرفتار ہو گئے تو ملامحمد عمر نے اختر محمد منصور کو امارت اسلامیہ کے دوسرے معاون ملا برادر اخوند کے ساتھ امارت اسلامیہ کا دوسرا نائب مقرر کیا اور یہ ہدایت بھی کی کہ قندہار بہت اہم ہے اس صوبے کے گورنر بھی رہنا اور دونوں ذمہ داریاں نبھاتے رہنا ۔

2010ء میں اس وقت جب امارت اسلامیہ کے ایک سیکرٹری ملاعبید اللہ اخوند کو پاکستان کی جیل میں وفات پاجانے کے بعد ایک اوردوسرے  سیکرٹری ملا عبد الغنی برادر کو امریکی اور پاکستانی فوجیوں کی مشترکہ کارروائی میں پاکستان کے شہرکراچی میں گرفتار کر لیا گیا۔ملا محمد عمر نے منصورصاحب کو نائب و سیکرٹری اور ا مارت اسلامیہ کے تمام امور میں مرکزی مسئول کے طور پر انہیں منتخب کیا۔

یہ وہ وقت تھا جب امریکا کے صدر بارکاوباما کی جانب سے افغانستان میں مزید 30ہزار فوجیوں کا اضافہ کیا گیا اورافغانستان میں طالبان کو شدید مشکلات پیش آنے لگیں۔

نیٹوکی ایک لاکھ سے زائد فوج جدید ترین وسائل سے لیس 3لاکھ 35ہزار داخلی فوجیوں کی مدد کے لیے طالبان کے خلاف ملک  کے کونے کونے میں جنگ میں مصروف تھی۔ ایک جانب انتہائی حساس سیکیورٹی حالات کے باعث اس مزاحمتی تحریک کی قیادت کے لیے ملا محمد عمر کا منظر عام پر آنا مشکل تھا تو دوسری جانب جہادی محاذ پر عسکری اور انتظامی قیادت کی خلا تھی جس کی وجہ سے جنگ میں طالبان کے خلاف نیٹو کا پلڑا بھاری ہونے لگا تھا۔

طالبان پر فوجی دباؤکے ساتھ ساتھ سیاسی اور پروپیگنڈا پریشر بھی بڑھ رہا تھا۔ محاذوں پربہت سے مجاہدین مارے جاچکے تھے اور بہت سے رہنما گرفتار ہوچکے تھے ۔

اس طرح کے حساس ترین حالات میں ملا محمد عمر کی جانب سے ان کے مخالفین کے خلاف طالبان کو سنبھالادینے کی ذمہ داری منصور صاحب کو دی گئی۔ یہاں تک کہ ان کا کوئی معاون یا نائب تک ان کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔ ملامنصور نے عملاً اور رہبری شوریٰ کے تعاون سے جنگ کے اس شدید ترین وقت میں مجاہدین کی ایسی قیادت کی کہ انہیں کسی طرح کی عملی قیادت کی کمی کا احساس نہ ہوا۔

یہی وجہ تھی کہ 2010ء کاسال نیٹو کے اپنے اعتراف کے مطابق ان کے لیے سب سے مشکل سال رہاجبکہ طالبان نے تمام ادوار میں سب سے زیادہ کاری حملے مخالفین پر اسی سال کیے۔ جس میں ان کے مخالفین کے اعتراف کے مطابق 770 فوجی ہلاک ہو گئے ۔

اسی طرح مجاہدین نے منصور صاحب کی قیادت میں بہت سے علاقے فتح کیے اور وہاں منظم اسلامی حکومت قائم کی۔

ملا عمر کی وفات کے بعد[ترمیم]

23 اپریل 2013ء  کوجب ملا محمد عمر انتقال ہوا تو امارت اسلامیہ کی رہبری  شوریٰ کے کئی ارکان، جید علما، گذشتہ چودہ سالوں میں ملا محمد عمر مجاہدکے خصوصی قاصد اور ان کے دائمی ساتھی جو ان کی وفات تک ان کے ساتھ رہے سب نے اپنی روایت کے مطابق ملا منصور کے ہاتھ پر بیعت کردی اور انہیں امارت اسلامیہ کے امیر کی حیثیت سے متعین کر دیا۔

2013ء امریکی و نیٹو اور ان کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کے درمیان مقابلے اور زور آزمائی کا آخری سال ثابت ہوا۔ اس لیے امارت اسلامیہ کی رہبری شوریٰ، اہم ترین قیادت اور چند شیوخ اورانکے اکابر علما نے یہ فیصلہ کیا کہ:

اب مخالف افواج کے خلاف جنگ کے آخری مراحل ہیں اور 2014ء میں مستقبل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ یہ سال ابھی آنے والا ہے اس لیے جہادی مصلحت اور علما کی حمایت کے مطابق یہ ٹھیک ہوگا کہ ملا محمد عمر (مرحوم) کی وفات کی خبران معدودے چند افراد تک محدود رہے۔

یہی وجہ تھی کہ یہ بنیادی راز بہت معجزانہ طریقے سے مخصوص جہادی مصالح کی بنیاد پر 30جولائی 2015ء تک محفوظ رکھا گیا۔

امارت اسلامیہ کے منتخب امیر کی حیثیت سے[ترمیم]

14شوال المکرم1436ھ  بمطابق 30جولائی 2015ء کو جب ملا محمد عمر (مرحوم) کی وفات کاباقاعدہ اعلان کیا گیا تو ملا اختر منصور نے مزید اطمینان کی خاطر رہبری شوریٰ کے ارکان اور علما کو اپنے مستقبل کے فیصلے کا اختیار دے دیا اور ان سے کہا کہ:

آپ لوگ جس شخص کو منتخب کروگے میں اسی پر راضی اور متفق ہوں گا۔

بعد ازاں امارت اسلامیہ کی رہبری شوریٰ کے ارکان، مشائخ اور مشہور علما کے ایک اجتماع نے جسے اہل الحل والعقد کا اعتبار حاصل تھا، اجتماع میں ملااخترمنصور کی عدم موجودگی میں طویل بحث وتمحیص کی،مختلف مصلحتوں کو سامنے رکھتے ہوئے  مشاورت کی  اور اس کے بعد امارت اسلامیہ کے نئے امیر کی حیثیت سے ان کا انتخاب کیا ۔

امارت اسلامیہ کے امیرکی حیثیت سے ملا اختر محمد منصور کے انتخاب کے بعد رہبری شوریٰ کے ارکان، امارت اسلامیہ کے تمام کمیشن کے سربراہان، عدالتوں کے مرکزی ذمہ داران، عسکری کمانڈروں اور افغانستان کے 34 صوبوں کے صوبائی رہنماؤں، عسکری کمیشن کے ذمہ داران، ملک کی علمی، قومی، جہادی، سیاسی  اور ثقافتی شخصیات اور امارت اسلامیہ کے تمام مسلح مجاہدین  نے بیک آواز نئے امیر سے بیعت کا اعلان کر دیا۔ ان تمام عسکری اور عوامی حلقوں اور ملک کی بڑی شخصیات نے اپنی بیعتیں صوتی پیغامات اور کتابت کی صورت میں، امارت اسلامیہ افغانستان کے شعبہ نشریات کو بھیج دیں۔

نئے امیر کی حیثیت سے تقررشریعت کی نگاہ میں[ترمیم]

علما کرام اور سیاسی ماہرین نے اسلام میں نئے امیر کے لیے سب سے بہتر طریقہ علما اور شوریٰ اہل حل والعقد کی جانب سے انتخاب کو قرار دیا ہے۔ اہل حل والعقد  کا اطلاق اس گروپ پر ہوتا ہے جو علم، تجربے اور سمجھداری  رکھنے والے افراد پر مشتمل ہواور کم از کم ایک شوریٰ کا اطلاق اس پر ہوتا ہو۔

خلفائے راشدین کے انتخاب کے مختلف طریقوں سے جو عمومی طریقہ مستنبط کیا گیا ہے وہ یہی شوریٰ کی جانب سے امیرکے انتخاب کے تین مراحل ہیں۔

پہلا مرحلہ ترشیح، دوسرا انتخاب اور تیسرا بیعت کاہے ۔

ترشیح یا  قیادت کے لیے منتخب ہونا خود اس شخص کی جانب سے نہیں ہوتا جو زعیم مقرر ہو رہا ہے کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے

إنا والله لا نولي هذا العمل أحدا سألة , أو أحدا حرص عليه

[1][2]

ترجمہ :واللہ ہم اس شخص کو اس قیادت کے لیے نہیں چنیں گے جو خود اسے چاہے یا اس کا حرص کرے ۔

اس لیے ترشیح دوسروں کی جانب سے ہوتی ہے یا ایک  آدمی کی جانب سے جیسے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا ہاتھ پکڑا اور بیعت کے لیے انہیں آگے کر دیا اور پھر صحابہ کرام نے امام کے طورپر ان کا انتخاب کیا۔ یا یہ انتخاب بہت سے لوگوں کا ہوگا۔ جس طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے شہادت سے قبل کئی صحابہ کانام لیا خلافت کے لیے، ان کے درمیان سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ خلیفہ بنے۔ ملا اختر محمد منصور نے کبھی بھی خود کوامارت کے لیے پیش نہیں کیا۔ پہلے اجلاس میں بھی ان کا نام امیر کے لیے منتخب ہو گیا تھا دوسرے اجتماع میں انہوں پھر سے   صراحتاً شوریٰ سے کہا کہ میں قیادت کا طالب نہیں ہوں بلکہ ایک خادم کی حیثیت سے خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ مگر شوریٰ نے صرف انہیں ہی واحد اہل فرد کے طورپر منتخب کیا۔ طویل بحث اور غور کے بعد اسی شوریٰ کی جانب سے جو علما کرام ،شیوخ اور امارت اسلامیہ کے رہبری شوری کے ارکان پر مشتمل تھا جو سب کے سب علمی اورجہادی تجربات رکھنے والے لوگ ہیں ان سب کی جانب سے ان کا زعیم کی حثیت سے انتخاب کیا گیا اور شوری کے تمام ارکان نے ان سے بیعت کی۔ بعد ازاں دیگر ذمہ داران، عام مجاہدین اور مسلمانوں نے ان سے بیعت کا سلسلہ شروع کر دیا۔

اس طرح ہم کہ سکتے ہیں کہ ان کا انتخاب مکمل طورپر شرعی طریقے سے کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے طول وعرض میں لاکھوں افراد کے علاوہ سینکڑوں قرآن وحدیث کے مشائخ نے ان کی زعامت قبول کی۔ اسے شرعی قرار دیا اور ان سے بیعت کی۔

قائدانہ شخصیت[ترمیم]

امارت اسلامیہ افغانستان کے نئے زعیم ملا اختر محمد منصور امارت اسلامیہ کے تاسیسی ارکان میں سے انتہائی مدبر، مؤثر اور مضبوط قوت رکھنے والے فرد سمجھے جاتے ہیں ۔

انہیں وہبی طریقے سے قیادت اور رہنمائی کی خصوصی صفات اور خصوصیات سے نوازا گیا ہے۔ تقوی، اخلاص ،جہادی بصیرت، سیاسی درایت اور کاموں کو عملی طورپر نظم وضبط دینا ان کے کام کی خصوصیات ہیں۔

ملا اختر محمدمنصور امارت اسلامیہ کے تمام جہادی فعالیتوں کی تنفیذ میں اپنے جہادی رہنماملا محمد عمر کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ جہادی اہداف کا حصول ،خارجی جارحیت پسندوں سے ملک کی آزادی، ملک میں شرعی نظام کی مضبوطی ان کے جہاد کے بنیادی مقاصد ہیں۔ وامرھم شوری بینھم پر عمل کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے مثبت مشورے غور سے سنتے ہیں۔ کام اہل کار لوگوں کو سونپتے ہیں۔ اور ذمہ داری دینے کے بعد ان پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں۔ ذمہ دار افراد کو ہمیشہ عوام پررحم اور ان سے ہمدردی کی تلقین کرتے ہیں۔

اس بات پر زیادہ توجہ دیتے ہیں کہ امارت اسلامیہ تمام افغانوں کا مشترکہ گھر ہے اس لیے سب کو اسی طرح یہاں رہنا ہوگا۔

فکری ومذہبی خیالات[ترمیم]

  • ملا اختر محمدمنصور صاحب مذہبی لحاظ سے اہل سنت والجماعت کے پیروکار اور امام اعظم ابوحنیفہؒ کے مذہب کے مقلد ہیں ۔
  • حالات اور سیاسی پیچیدگیوں کی نزاکت سے بخوبی واقف ہیں۔
  • ان سے ملنے کے بعد ہی ان کی سنجیدگی، وقار اور متانت کا صحیح ادراک ہو سکتا ہے۔ سادگی اور بے تکلفی ان کی زندگی کا خاص حصہ ہے۔
  • رسول اکرم ﷺ اور خلفاء راشدین کی سیرت اور مطالعے سے خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ مجاہدین سے مل کر ان سے دشمن سے آمنے سامنے کی جنگ کے متعلق حالات پوچھتے ہیں ۔
  • اپنی تمام تر جہادی اورانتظامی مصروفیات سنبھالنے کے ساتھ ساتھ میڈیا پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ جہادی لکھارریوں اور امارت اسلامیہ کے فرہنگی اور نشریاتی کارکنوں کو ان کی نشریات اور تحریروں کے حوالے سے خصوصی مشاورت اور احکام دیتے ہیں۔

روزانہ کی مصروفیات اورزندگی کی چند خاص خصوصیات[ترمیم]

منصور صاحب اپنی روز مرہ زندگی کا آغاز قرآن کریم کی تلاوت سے کرتے ہیں۔ جہادی محاذوں اور عسکری ذمہ داران سے ہمیشہ رابطے میں رہتے ہیں۔ دشمن پر ہونے والے حملے کا پلان خود اپنی نظر سے گذارتے ہیں۔ جہادی حکام کو عوام کے جان ومال کے تحفظ کی تلقین اور حکم کرتے ہیں۔ وہ ایک فوجی کمانڈر کی طرح اپنے جہادی ساتھیوں، محاذ کے مجاہدین سے احترام اور ہمدردی کا سلوک کرتے ہیں۔ مجلس میں علما، اساتذہ اور بڑوں کی بات چیت کا خاص احترام رکھتے ہیں۔ سیاسی امور میں بہت احتیاط سے کام لیتے ہیں اور اس حوالے سے اہل رائے ساتھیوں سے رائے ضرور لیتے ہیں۔

  • رائفل سے نشانہ بازی انہیں پسند ہے۔
  • جہادی مشق کی پابندی کو سب سے مناسب ورزش قرار دیتے ہیں۔
  • خود بہت کم بولتے ہیں دوسروں کی زیادہ سنتے ہیں۔
  • صاف اور کھلے کپڑے پہنتے ہیں۔
  • خوراک، پوشاک اور زندگی کی دیگر ضروریات میں اسراف سے نفرت  کرتے ہیں۔
  • ان کی زندگی کا سب سے بنیادی مشغلہ جہادی امور کی تنظیم اور ان کی مسلسل نگرانی ہے۔
  • اسی تنظیم سازی اور نگرانی میں دن گذارتے ہیں۔

وفات[ترمیم]

مزید[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (متفق عليه ) (اخرجه البخارى، حدیث نمبر : 7149
  2. مسلم شریف، حدیث نمبر: 1733