ملا امیرخان متقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ملا امیرخان متقی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1970 (عمر 50–51 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ناد علی ضلع  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Afghanistan (2002–2004).svg افغانستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مولوی امیر خان متقی افغان سیاست دان اور تحریک اسلامی طالبان کے رہنماؤں میں سے ہیں، انہوں نے افغانستان کے اہم سیاسی اور انتظامی شعبوں میں  کام کیا ہے۔

خاندانی پس منظر[ترمیم]

مولوی امیر خان متقی کی قوم سلیمان خیل ہے۔ وہ مرحوم حاجی نادر خان کے صاحب زادے ہیں۔ وہ 1970ء کو افغانستان کے صوبہ ہلمند کے ضلع نادعلی کے گاؤں 'زرغون کلی' میں پیدا ہوئے۔ ان کے آباء و اجداد اصلاََ صوبہ پکتیا کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے وہاں سے ہلمند نقل مکانی کی تھی۔

تعلیم[ترمیم]

مولوی امیر خان متقی نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے علاقے کے اسکول اور مسجد سے حاصل کی تھی۔ انہیں کمیونسٹوں کی بغاوت اور سوویت یونین کی جارحیت کے بعد 9 سال کی عمر میں اپنے خاندان سمیت پاکستان ہجرت کرنا پڑی۔ انہوں نے پاکستان میں دینی علوم کی تحصیل کا آغاز کیا اور مہاجرین کے مختلف مدارس میں صرف، نحو، منطق، بیان، فقہ، حدیث، تفسیر اور دیگر مروج علوم حاصل کیے اور فراغت کی سند حاصل کی۔

ذمہ داریاں اور مناصب[ترمیم]

امیر خان متقی نے نوجوانی کے دور ہی سے سوویت نواز ڈاکٹر نجیب اللہ کی کمیونسٹ حکومت کے خلاف مسلح جہاد اور سیاسی جد و جہد میں بھرپور حصہ لیا۔ جب 1994ء میں افغانستان میں بے امنی اور انارکی کے دنوں میں طالبان تحریک اس انتشار کے خلاف اٹھی تو امیر خان متقی اس تحریک کے آغاز ہی سے اس کا حصہ بن گئے اور مکمل لگن کے ساتھ اس تحریک میں مصروف ہو گئے۔

طالبان کی جانب سے قندھار شہر پر کنٹرول حاصل ہونے کے کچھ عرصے بعد مولوی امیر خان متقی کو طالبان کی ہائی کونسل کی رکنیت کے ساتھ ساتھ 1994ء میں قندھار ریڈیو کی ذمہ داری بھی دے دی گئی۔

امیر خان متقی جولائی 1994ء میں صوبہ قندہار کے شعبہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ متعین ہوئے۔

جب اکتوبر 1996ء میں افغانستان کے دار الحکومت کابل پر طالبان کا قبضہ ہو گیا تو امیر خان متقی اسی ماہ شعبہ اطلاعات و ثقافت کے مرکزی وزیر متعین کر دیے گئے۔ انہوں نے کئی سال تک اطلاعات و ثقافت کے شعبے میں بھرپور کام کیا۔ وہ اس کے ساتھ ساتھ امارت اسلامیہ کے مرکزی ترجمان کی ذمہ داری بھی ادا کرتے اور میڈیا پر طالبان کا موقف پیش کرتے رہے۔ نومبر 1999ء میں ان کا 'ادارہ امور' کے سربراہِ اعلی کے طور پر تقرر کیا گیا۔ وہ کچھ عرصے بعد مارچ 2000ء میں تعلیم و تربیت کے وزیر بنا دیے گئے۔ تا آں کہ وہ افغانستان پر امریکی جارحیت تک اسی منصب پر فائز رہے۔

مولوی امیر خان متقی نے اس وفد کی قیادت بھی کی، جو شمالی اتحاد کے ساتھ مذاکرات کے لیے طالبان کے امیر ملا محمد عمر مجاہد کی جانب سے بھیجا گیا تھا۔ ان کی قیادت میں مذکورہ وفد نے شمالی اتحاد کے ساتھ ازبکستان کے دار الحکومت تاشقند میں 2+6 ممالک کی موجودگی میں مذاکرات کیے۔ بعد ازاں انہوں نے ترکمانستان کے دار الحکومت اشک آباد اور پھر اسلامی کانفرنس کی ثالثی میں سعودی عرب کے شہر جدہ میں مذاکرات میں حصہ لیا۔

امیر خان متقی امریکی جارحیت کے بعد مزاحمت کے مرحلے کئی سال تک امارت اسلامیہ کے کمیشن برائے اطلاعات و ثقافت کے سربراہ رہے۔ انہوں نے افغانستان پر امریکی جارحیت کے خلاف کام کرنے والے بہت سے الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا نیٹ ورک فعال کیے، جس کے ذریعے انہوں نے ہمیشہ اپنے لوگوں کا مورال بلند رکھنے اور مخالفین کے منفی پروپیگنڈوں کے خلاف وسیع پیمانے پر کام کیا۔ وہ اس کے ساتھ ساتھ امریکا کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹیم کے رکن بھی متعین ہوئے۔ انہیں بین الافغان مذاکرات کے لیے امارت اسلامیہ کی جانب سے متعین مذاکراتی ٹیم کی رکنیت بھی دی گئی۔

وہ 25 شعبان 1439ھ کو امیرالمومنین کے دفتر کے سربراہ متعین ہوئے۔ انہوں نے دوسال تک اس منصب کی ذمہ داریاں مکمل دل چسپی کے ساتھ نبھائیں۔

انہیں 6 جنوری 2021ء کو امارت اسلامیہ کے کمیشن برائے 'دعوت و ارشاد جلب و جذب' کے سربراہ کے طور پر متعین کر دیا گیا

ذوق[ترمیم]

امیر خان متقی تاریخ کے مطالعے کا خاص شوق رکھتے ہیں۔ وہ سنجیدہ شاعری پسند کرتے ہیں۔ کبھی وجد کی کیفیت ہو تو خود بھی شعر کہتے ہیں۔ وہ خصوصاً نئی نسل اور نوجوانوں کی بہتر تربیت اور اعلی تعلیم کی فکر اور اس کا درد رکھتے ہیں۔ وہ بالیقین طور پر انتظامی معاملات میں انتہائی حساس ہیں۔ کہا جاتا ہے طالبان تحریک کو منظم کرنے اور تحریک کے لیے قانونی شقوں کی تحریری تیاری میں ان کا قابلِ ذکر کردار رہا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]