ملا عمر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ملا عمر
(پشتو میں: محمد عمر خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
تفصیل=

امیرالمؤمنین
مدت منصب
27 ستمبر 1996ء – 13 نومبر 2001ء
وزیر اعظم محمد ربانی
عبدالکبیر (قائم مقام)
Fleche-defaut-droite-gris-32.png برہان الدین ربانی (صدر)
برہان الدین ربانی (صدر) Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1962  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
صوبہ قندھار[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات مارچ 2013 (50–51 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات سل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Afghanistan (2002–2004).svg افغانستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب سنی
عملی زندگی
مادر علمی دار العلوم حقانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں جنگ افغانستان
افغانستان میں سوویت جنگ
جنگ افغانستان

ملا محمد عمر افغانستان کی طالبان تحریک کے رہنماء تھے۔ وہ 1996ء سے 2001ء تک افغانستان کے حکمران رہے۔ پھر امریکی و نیٹو افواج نے ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ 2015ء میں ان کے مرنے کی تصدیق ہوئی۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ملا محمد عمر 1959ء افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں پیداہوئے تهے۔ دینی مدرسوں سے تعلیم پائی۔ وہ دیوبند مکتب فکر سے تعلق رکھتے تهے۔ وہ ایک اسلام پسند پشتون تهے۔ پہلے وہ روسی فوجوں کے خلاف گوریلا جنگ لڑتے رہتے تهے۔ ایک معرکے میں وہ زخمی ہوئے تهے اور انکی ایک آنکھہ ختم ہو گئی تهی ۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

بحیثیت حکمران انھوں نے افغانستان میں امن ‍ قائم کیا۔ اور منشیات کا خاتمہ کیا۔ یہ وہ کام ہیں جو ان کے علاوہ اور کوئی نہ کر سکا۔ یاد رہے کہ طالبان کابل پر قبضے کے ایک سال بعد بامیان پر قبضہ کر پائے تھے۔

ملا عمر نے بہت کم انٹرویو دیے۔ اور ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں بہت کم لوگوں کو پتہ ہے۔

ملا محمد عمر کی زندگی اور افغانستان کی سیاست میں 1979ء کا سن کافی اہمیت رکھتا ہے- اسی برس ایک طرف تو افغانستان کے پڑوسی ملک ایران میں خمینی انقلاب آتا ہے اور مغربی ذرائغ ابلاغ میں لفظ فنڈامینٹلزم یعنی قدامت پرستی پہلی دفعہ سنائی دیتا ہے- دوسری طرف روسی افواج افغانستان میں داخل ہوتی ہیں- یہ سرد جنگ کا دور تھا- مغربی ممالک بالخصوص امریکا پاکستان کے سہارے کمیونسٹ افواج کے خلاف افغانستان میں جنگجوؤں کی امداد کرتے ہیں- یہ جنگجوؤں کو اس وقت مجاہدین کہا جانے لگا تھا- انہیں میں بیس برس کا ایک نوجوان شامل تھا جس کا نام محمد عمر تھا-

روس کی واپسی[ترمیم]

1989ء میں روسی افواج کی افغانستان سے واپسی کے بعد ملامحمد عمر اپنے گا ؤں واپس چلے جاتے ہیں- جہاں وہ مدرسے میں تعلیم و تربیت میں مصروف ہو جاتے ہیں اور مقامی مسجد میں نماز پڑھاتے ہیں- بظاہر وہ سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ روسی افواج کی واپسی کے بعد افغانستان میں لاقانونیت کا دور شروع ہوجاتاہے- کل کے مجاہدین اب شرپسندی پر اتر آتے ہیں- جن کے ہاتھ میں طاقت ہے ان کی من مانی ہے- کہیں عورتوں کی آبروریزی کی جاتی ہے تو کہیں مسافروں کو لوٹ لیا جاتا ہے- افغانستان کی سڑکوں پر ظلم و ستم کرنیوالوں نے چیک پوسٹیں بنا رکھی ہیں۔

سوچ میں تبدیلی[ترمیم]

یہاں پر یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ 1989ء میں روسی افواج کی واپسی سے 1994ء تک ملامحمد عمر کی زندگی اپنے گا ؤں تک محدود رہتی ہے- لیکن 1994 میں ہونے والا ایک واقعہ محمد عمر کو افغانستان کی سیاست میں جھونک دیتا ہے۔ ان کو یہ خبر ملتی ہے کہ کچھ شر پسند عناصر نے گا ؤں کی لڑکیوں کو اغوا کر لیا ہے- انکی اجتماعی عصمت دری کی خبر سن کر ملامحمد عمر اپنے چند طالب علموں کو جمع کرتے ہوئے ان لڑکیوں کی جان بچاتے ہیں- ان کے یہی ساتھی بعد میں چل کر طالبان کہلاتے ہیں۔

دوسرا واقعہ جس نے شاید ملا محمد عمر کو طالبان کی سربراہی کے لیے مجبور کر دیا وہ یہ ہے کہ دو سابق جنگجوؤں نے قندھار کے مرکز میں ایک خوبصورت لڑکے کے لیے ٹینکوں سے جنگ لڑی- لاقانونیت کے اس ماحول کی وجہ سے ملا محمد عمر نے طالبان کو منظم کرنا شروع کیا- رفتہ رفتہ انکی اہمیت بھی بڑھتی گئی- اور پہلی دفعہ ان کی ضرورت پاکستان کو اس وقت پڑی جب پاکستانی ٹرکوں کے ایک قافلے کو مقامی جنگجوؤں نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ ٹرکوں کا یہ قافلہ افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا کے لیے ایک تجارتی راہ کی تلاش میں تھا- بع۔ میں ملا محمد عمر کی حمایت سے ان ٹرکوں کو چھڑایا گیا-

کابل پر قبضہ[ترمیم]

ملا محمد عمر کی قیادت میں پاکستان اور عربوں کی مدد سے طالبان نے 1996میں کابل پر قبضہ کر لیا۔ اور افغانستان کو اسلامی امارات قرار دیکر ملا محمد عمر کو امیرالمومنین کے خطاب سے نوازا گیا- جلد ہی طالبان نے افغانستان کے نوے فیصدی حصے پر قبضہ کر لیا- افغانستان پرگزشتہ بائیس برسوں میں سے پانچ برس طالبان کا قبضہ رہا۔ تقریبًا سات برس لاقانونیت کی نظر تھے اور دس برس روسی افواج قابض تھیں۔

حلیہ اور شخصیت[ترمیم]

ملا محمد عمر مقامی کسانوں کی بولی بولتے تهے- وہ پانچ فٹ گیارہ انچ لمبے تهے- کبھی کبھی چشمہ لگاتے تھے- اور تفریح کے لیے اپنے دوست اسامہ بن لادن کے ساتھ مچھلی پکڑنے جاتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان کی دو ایک بیوی اور آٹھ یا نو بچے ہیں- ان کے گھر پر 1999ء میں بم سے ایک حملہ کیا گیا جس میں ان کا گھر تباہ ہو گیا اور ان کے دو بھائی اور ان کی پہلی بیوی سے تین بچے ہلاک ہو گئے۔افغانستان میں سوویت جنگ کے دوران روسیوں کیخلاف لڑتے ہوئے کہیں بار ملا عمر زخمی بھی ہوئے تھے جس میں انہوں نے اپنی دائیں آنکھ بھی کھودی تھی۔ معروف پاکستانی صحافی اوریا مقبول جان کا ملا عمر کی شخصیت کے متعلق کہنا ہے کہ میں 1988ء میں چمن میں ہوتا تھا وہاں اکثر قبائلی لڑائیاں ہوا کرتی تھی،ایک مرتبہ جب نورزئی اور اچکزئی قبیلے کے درمیان لڑائی ہو رہی تھی تو میں نے ملا عمر کو دیکھا کہ بہت پریشان تھے،وہ ہمیشہ اس بات سے دکھی ہوتے تھے کہ میری قوم آپس میں کیوں ایک دوسرے سے لڑ رہی ہے۔ ملا عمر نے جب ابتدائی میں افغانستان پر قبضہ کیا تو سب سے پہلے صوبہ کندہار سے شروع کیا۔

اسامہ اور عمر[ترمیم]

اگرچہ مغربی میڈیا اسامہ بن لادن اور ملا محمد عمر کی سیاست میں زیادہ تفریق نہیں کرتے لیکن یہ بات اہم ہے کہ اسامہ بن لادن ذاتی طور پر مغربی ممالک کے خلاف لڑ رہے چاہتے تھے جبکہ ملا محمد عمر نے عالمی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ہے- انہوں نے اپنا پہلا غیر ملکی ریڈیو انٹرویو بی بی سی کی پشتو سروس کو 25 فروری 1998 کو دیا۔ ملا محمد عمر صرف ایک دفعہ افغانستان سے باہر گئے ہیں- اور یہ واقعہ تب پیش آیا جب روسی افواج کے خلاف لڑتے وقت انکی ایک آنکھ میں چوٹ لگی تھی- اور انہیں پاکستان آنا پڑا جہاں عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس کے ڈاکٹروں نے ان کی آنکھ کا آپریشن کیا- وہ آج بھی صرف ایک آنکھ سے ہی دیکھ سکتے ہیں۔

افغانستان پر امریکا قبضے اور طالبان کے خاتمے کے بعد ملا عمر آج تک روپوش ہیں ان کے آڈیو بیانات سامنے آتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کے متعلق آج تک کوئی نہیں جان سکا کہ وہ کہاں ہیں۔

امریکا کا مطالبہ اور افغانستان پر جنگ[ترمیم]

1979ء جب سوویت اتحاد یا عام طور پر جسے روس کہا جاتا تھا،روس نے افغانستان پر اپنا قبضہ چاہا جس کے لیے روس ایک اور خود مختار ملک افغانستان میں کھود پڑا، اسی بات نے پورے اسلامی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسی کے نتیجے میں روسیوں سے نمٹنے کے لیے مجاہدین کی تنظیم وجود میں آئی جس کو پاکستان،سعودی عرب،امریکا سمیت بیشتر اسلامی ممالک نے امداد فراہم کی۔ ایک طویل عرصے کے بعد مجاہدین کامیاب ہو گئے اور سوویت اتحاد کو ایک زبردست شکست دیا جس کی نتیجے میں نہ صرف سوویت اتحاد کو افغانستان سے بھاگنا پڑا بلکہ سویت اتحاد جو ایک عظیم ملک تک جو ایشیا اور یورپ کے ایک بڑے حصے پر پھیلا ہوا تھا،شکست کے بعد سوویت اتحاد بھی نہ بچ سکا اور تکڑے تکڑے ہو گیا جس سے نئے ممالک وجود میں آئے جن میں روس، ازبکستان، ترکمنستان، تاجکستان، آرمینیا،یوکرین، جارجیا وغیرہ شامل ہیں۔ ایک طویل لڑائی اور خون ریزی کے بعد افغان مجاہدین جب فتح یاب ہوئے تو افغانستان میں اسلامی امارت افغانستان قائم ہوا جس کو پاکستان اور سعودی عرب نے کھل کر تسلیم کیا۔

اس کے بعد سانحہ گیارہ ستمبر (نائن الیون) پیش آیا جس کا الزام امریکا نے اسامہ بن لادن پر لگایا۔ اسامہ نے جا کر افغانستان میں پناہ لی، یاد رہے کہ اس وقت اسلامی امارت افغانستان کی حکومت مجاہدین یا افغان طالبان کے ہاتھوں میں تھی جس کی قیادت ملا محمد عمر کر رہے تھے۔ امریکا نے ملا محمد عمر سے مطالبہ کیا کہ وہ اسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے کرے ورنہ انجام برا ہوگا۔ اس کے جواب میں ملا عمر نے کہا کہ اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اگر تمہارے گھر میں کوئی پناہ لے تو اس کی حفاظت کرو۔ ملا عمر نے اسلامی اور پشتون روایات کی پاسداری کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو حوالہ کرنے سے واضح طور پر انکار کر دیا۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملا عمر نے ہزاروں علما کو دعوت پر بلایا کہ کیا اسلام ہمیں اس بات کا اجازت دیتا ہے کہ ہم اسامہ جیسے افراد کو کسی اور کے حوالے کرے تو علما نے ان کو کہا کہ اسلام کے مطابق اگر کوئی آپ کے گھر پناہ لے تو ہر گز اس کو دشمن کے ہاتھوں حوالے مت کرنا۔

اس کے بعد جب ملا عمر نے پھر واضح طور پر اسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے کرنے سے انکار کیا تو امریکا نے افغانستان میں افواج اتارے اور ایک اور جنگ شروع ہو گئی۔ امریکا کے پاس وسائل تھے جبکہ دوسری طرف اسلامی امارت افغانستان کے پاس اتنے وسائل اس لیے نہیں تھے کیونکہ امریکا کے بہ نسبت افغانستان ایک چھوٹا اور کمزور ملک تھا اور اس سے پہلے وہ سوویت اتحاد سے ایک عظیم جنگ کرچکا تھا جس سے افغانستان کمزور ہوا تھا۔ پاکستان بھی امریکا کیخلاف اسلامی امارت افغانستان کی مدد کرتا رہا لیکن آخر کار اسلامی امارت ختم ہو گئی اور ملا عمر اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھ سے افغانستان کی حکومت چلی گئی۔ امریکہ اور طالبان کے مابین جنگ 2001 میں شروع ہوئی تھی اور تاحال جاری ہے۔

جنگ سے قبل خطاب[ترمیم]

عجیب بات ہے کہ میں نہ حواس باختہ ہوتا ہوں اور نہ ہی بے دینوں کے ساتھ اسلام کے خلاف راستہ اختیار کرتا ہوں، باوجود یہ کہ میرا اوتدار بھی خطرے میں ہے، میری سربراہی اور کرسی بھی خطرے میں ہے۔ میری زندگی بھی خطرے میں ہے، پھر بھی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوں، اگر میں کافروں کے مطالبے پر ایسی راہ اختیار کرلوں جو اسلام کے خلاف ہو اسن کے ساتھ موافقت کروں اور اسن کے ساتھ معاملات ٹھیک رکھوں تو میری ہر چیز مستحکم ہوگی، میری بادشاہی اور سلطنت بھی برقرار رہے گی اور اسی طرح طاقت، پیسہ اور جاہ و جلال بھی خوب ہوگا، جس طرح دیگر ممالک کے سربراہوں کا ہے، لیکن اسلام کی خاطر ہر قربانی کے لیے حاضر ہوں، سب کچھ کرنے کے لیے حاضر ہوں، جان قربان کرتا ہوں، سب کچھ سے بے پرواہ ہوچکا ہوں، سلطنت، اقتدار، طاقت اور ہر چیز کی قربانی کا عزم کرچکاہوں ، اسلامی غیرت کرتا ہوں، اسلام پر فخر کرتا ہوں، اس پاک وطن پر غیرت کرتا ہوں۔

[6]

وفات[ترمیم]

29 جولائی 2015 کو افغان مخابرات نے یہ خبر دی تھی کہ ملا محمد عمر کاکراچی میں انتقال ہو گیا ہے، کچھ طالبان نے اس بات کی تردید کردی تھی کیونکہ مری میں افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات ہور رہے تھے،لیکن جب اس خبر نے زور پکڑ لیا تو افغان طالبان نے 30 جولائی 2015 کو اس بات کی تائید کردی کہ ملا عمر کا صوبہ ہلمند میں انتقال ہوا تھا طالبان کے مطابق اُن کی وفات دل کے دورے کے باعث ہوئی۔ وفات کے وقت اُن کے ساتھ ان کے اہم کمانڈر عبد الجبار تھے۔ کمانڈر عبد الجبار نے ہی طالبان کے پانچ اہم کمانڈروں کو ملا عمر کی موت کی اطلاع دی۔ طالبان نے یہ بھی بتایا کہ نائب امیر ملا اختر منصور افغان طالبان کے نئے امیر ہوں گے۔[7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مدیر: ویکیپیڈیا برادری — خالق: جیمی ویلز — اجازت نامہ: Creative Commons Attribution-ShareAlike 3.0 Unported
  2. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ NYT_July نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  3. ^ ا ب "Mullah Omar Taliban Death"۔ Time۔ 29 July 2015۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 July 2015۔ 
  4. "#Taizeni"۔ Twitter۔ سانچہ:RS
  5. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Dawn نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  6. افغانستان پر امریکی حملوں سے قبل ملا عمر کا اپنی قوم سے خطاب
  7. افضان طالبان کی ملا عمر کی وفات کی تصدیق

سانچہ:افغانستان صدر