نظام الدین محمد سہالوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ملا نظام الدین سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
نظام الدین محمد سہالوی
معلومات شخصیت
پیدائش 27 مارچ 1677  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بارہ بنکی ضلع  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 8 مئی 1748 (71 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

نظام الدین محمد سہالوی دراصل ملا نظام الدین کے نام سے شہرت رکھتے ہیں جو بانی درس نظامیہ ہیں۔

نام[ترمیم]

ملا نظام الدین بن ملا قطب الدین سہالوی: فاضلِ جید،عارف فنون رسمیہ،ماہر علوم نقلیہ و عقلیہ،فقیہ اصولی تھے۔

ولادت[ترمیم]

ملا نظام الدین کی ولادت 1088ھ بمطابق27 مارچ1677ء میں سہالی میں ہوئی جوصوبہ اتر پردیش ضلع بارہ بنکی کا ایک قصبہ ہے ۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

ملا نظام الدین صاحب کی عمر پندرہ برس کی تھی جب ملا قطب الدین کا خاندان لکھنؤ میں آباد ہوا شرح جامی پڑھتے تھے۔ والد کی وفات کے بعد بھی علوم کی تحصیل جاری رکھی۔ ’’ملا صاحب نے یورپ کا سفر کیا اور مختلف شہروں میں تحصیل کی۔ اخیر میں لکھنؤ واپس آکر شیخ غلام نقشبند گھوسوی ثم لکھنوی سے بقیہ کتابیں پڑھیں اور انہی سے سند فضیلت حاصل کی۔ ابتدائی کتابیں دیوا (جموں میں دریائے توی کے ساتھ ایک قصبے کا نام ہے جو چھمب اور جوڑیاں کے مغرب میں واقع ہے۔)میں پڑھیں، لیکن انتہائی کتابیں بنارس میں جا کر حافظ امان اللہ بنارسی سے ختم کیں۔‘‘

حصول تصوف[ترمیم]

علوم ظاہری کی تکمیل سے فارغ ہو کر ملا صاحب نے علوم باطنی کی طرف توجہ کی۔ اس وقت شاہ عبدالرزاق ہانسوی کے فیوض و برکات کا تمام ہندوستان میں غلغلہ تھا۔ ملا صاحب ان کے آستانے پر حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ شاہ صاحب موصوف علوم اسلامیہ سے ناآشنا تھے اس لیے تمام لوگوں کو تعجب ہوا۔ یہاں تک کہ علمائے فرنگی محل نے علانیہ ملاصاحب سے شکایت کی۔ ملاصاحب کے تلامذہ میں سے ملاکمال علوم عقلیہ میں بڑی دستگاہ رکھتے تھے اور چونکہ بے انتہا ذہین اور طباع تھے کسی کو خاطر میں نہ لاتے تھے، ملاصاحب کی بیعت پر دو بدو گستاخانہ عرض کیا کہ آپ نے ایک جاہل کے ہاتھ پر کیوں بیعت کی۔ اس پر بھی قناعت نہ کر کے شاہ صاحب کی خدمت میں پہنچے اور فلسفہ کے چند مشکل مسئلے سوچ کر گئے کہ شاہ صاحب سے پوچھیں گے اور ان کو الزام دیں گے۔ مشہور ہے کہ شاہ صاحب نے خود ان مسائل کو چھیڑا اور ملاکمال کی خاطر خواہ تسکین کر دی، چنانچہ اسی وقت ملا کمال اور ان کے ساتھ بہت سے علماءشاہ صاحب کے قدموں پر گر پڑے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔

تاریخ وفات[ترمیم]

ملا نظام الدین نویں تاریخ جمادی الاولیٰ بروزبدھ 1161ھ بمطابق مئی 1748ء عمر 75برس میں انتقال ہوا۔’’فاضل قدوۂ دین و دنیا‘‘ تاریخ وفات ہے۔

تصنیفات[ترمیم]

ملاصاحب کی تصنیفات کثرت سے ہیں، مثلاً

  • ’’شرح مسلم الثبوت شرح منار مسمی بہ صبح صادق‘‘
  • ’’حاشیہ صدرا‘‘ حاشیہ شرح ہدایۃ الحکمۃ صدر الدین شیرازی
  • ’’حاشیہ شمس بازغہ‘‘
  • ’’حاشیہ بر حاشیہ قدیمہ‘‘
  • ’’شرح تحریر الاصول‘‘
  • ’’حاشیہ شرح عضدیہ‘‘
  • ’’مناقب رازقیہ‘‘ (فارسی)
  • ’’شرح مبارزیہ ‘‘
  • یہ تمام کتابیں بڑے پایہ کی ہیں اور نہایت دقیق تحقیقات پر مشتمل ہیں، لیکن درحقیقت ملاصاحب کی شہرت ان تصنیفات کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کے طریقۂ درس نظامی کی بدولت ہے۔[1] [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ضیائے طیبہ
  2. ماہنامہ اشراق لاہور ستمبر 2013ء