ملا پائندہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ملا پائندہ جن کا اصل نام محی الدین محسود (وفات 1913ء) تھا، پاکستان کے علاقے وزیرستان سے تعلق رکھتے تھے اور پشتونوں اور محسود قبائل کے انقلابی اور قومی رہنما رہے ہیں۔ ملا پائندہ تیراہ کے ملا محمد انور کے ہاتھ پر سلسلۂ مبارک ہو ۔۔مسجد قاسم علی خان سے روزے کا اعلان ہو گیا۔ کے تحت بیعت تھے۔ خود عالم دین نہیں تھے مگر علما سے تعلق اور صحبت کی وجہ سے لوگ انہیں ملا کہتے تھے۔ آپ کے استاد مولانا حمزہ وزیر تھے جو خود ایک بڑے مجاہد تھے۔ ان ہی سے ملا پائندہ نے جہاد کی تربیت حاصل کی۔ محسود قبائل اور وزیر قبائل دونوں ملا پائندہ کی عزت کرتے تھے اور ان کو رہنما تسلیم کرتے تھے۔ ملا پائندہ نے برطانیہ کے قبضے کے خلاف جہاد کی تحریک چلائی۔

برطانیہ کے خلاف جہاد[ترمیم]

1894ء میں محسود اور وزیر قبائل کے 2000 افراد کے ہمراہ برطانوی سامراج کے خلاف تحریک شروع ہوئی۔ 2 نومبر 1984ء کو 1000 مجاہدین کے ساتھ ملا پائندہ نے برطانیہ کی ایک پوسٹ جو وانا میں تھی، پر حملہ کر کے 100 برطانوی مار دیے اور پہاڑوں میں چھپ گئے۔ اس حملہ کے دوران برطانوی افواج نے انتہائی بزدلی کا مظاہرہ کیا۔ اس کے بعد برطانوی افواج کو وانا بھیجا گیا اور انہوں نے کئی کارروائیاں کیں مگر ہاتھ میں ناکامی کے علاوہ کچھ نہ آیا یہاں تک کہ 21 جنوری 1895ء کو برطانیہ نے صلح کی درخواست کی۔ صلح ہو گئی مگر اپنی وفات تک ملا پائندہ نے چھوٹی موٹی کارروائیاں جاری رکھیں۔ انگریز ان پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے برطانوی سامراج سے بہت رقمیں وصول کیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]