ملت ٹائمز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ملت ٹائمز
قسمویب پورٹل
ہیئتآن لائن
مالکملت نیوز نیٹ ورک پرائیوٹ لمٹیڈ
بانیشمس تبریز قاسمی
مدیرشمس تبریز قاسمی
آغاز18 جنوری 2016ء
زبانانگریزی،اردو،ہندی
صدر دفتردہلی, بھارت
ویب سائٹhttps://millattimes.com/

ملت ٹائمز بھارت کا ایک سہ لسانی آن لائن اخبار اور یوٹیوب چینل ہے جس کے بانی شمس تبریز قاسمی ہیں۔اردو ایڈیشن سب سے زیادہ پڑھاجاتا ہے اور معتبر نیوز پورٹل کا مقام حاصل ہے۔اس کی ترجیحات میں ان خبروں کو شائع کرنا ہے جسے مین اسٹریم میڈیا کے ذریعہ نظر اندازکردیاجاتاہے۔اقلیتوں مسلمانوں اور کمزروطبقات کے مسائل اور ان سے متعلق خبروں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ [2]

ملت ٹائمز کا قیام[ترمیم]

ملت ٹائمزایک سہ لسانی آن لائن اخباراور یوٹیوب چینل ہے جسے 2016 میں شمس تبریز قاسمی نے شروع کیاتھا ۔اردو ،انگریزی اور ہندی تین زبانوں میں یہ آن لائن اخبار ہے اور اسی نام سے یوٹیوب چینل ہے ۔ملت نیوز نیٹ ورک پرائیوٹ لمٹیڈ کے ماتحت ملت ٹائمز کی اشاعت عمل میں آتی ہے۔ اس کا اردو ورزن ہندوستان میں سب سے زیادہ پڑھاجاتاہے اس کے علاوہ خلیجی ممالک میں بھی قارئین کی بڑی تعداد ہے ۔سیاسی ،سماجی ،ہندوستانی اقلیت ،عالمی حالات ، مسلم ممالک کے ایشوز اور اردو زبان وادب پریہاں نیوز ،مضامین ،انٹرویوز ،گراﺅنڈرپوٹس اور فیچرس شائع کئے جاتے ہیں ۔ان موضوعات پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے جسے مین اسٹریم میڈیااور ٹی وی چینلوں کے ذریعہ نہیں دکھایاجاتاہے اور نظر انداز کردیاجاتاہے ۔

18 جنوری 2016 میں ممبئی کی سرزمین پر ہندوستان کے معروف عالم دین مولانا رابع حسنی ندوی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ وناظم ندوة العلماءلکھنو کے ہاتھوں اس کا افتتاح عمل میں آیاتھا ۔دہلی میں اس کی مرکزی آفس ہے ۔اپریل 2016 میں ملت ٹائمز نے انگریزی نیوزپورٹل کا آغاز کیا جس کے بانی ممبر اور ایڈیٹر محمد ارشاد ایوب ہیں ۔ایک سال مکمل ہونے کے بعد دہلی کے سیئنر صحافیوں کے ہاتھوں 19 جنوری 2017 کو ملت ٹائمز نے ایپ لاﺅنچ کیا ۔جولائی 2017 میں بیرسٹر اسد الدین اویسی کے ایک انٹرویو کے ذریعہ شمس تبریز قاسمی نے ملت ٹائمز کے یوٹیوب چینل کا بھی آغاز کیا ۔2018 میں ملت ٹائمز نے ہندی نیوز پورٹل کی شروعات کی جس کے بانی ایڈیٹرمرحوم محمد قیصر صدیقی تھے۔24اکتوبر 2020 کو محمد قیصرصدیقی کی وفات کے بعد یہ ایڈیٹر کی ذمہ داری اسرار احمد سنبھال رہے ہیں ۔ ملت ٹائمز اردو کے ایڈیٹر محمد ظفر صدیقی ہیں ۔ [3]

پس منظر[ترمیم]

بیباک صحافت،سرکاری دباﺅ سے آزاد اور اقلیتوں کے ایشوز کو نمایاں کرنے کیلئے ملت ٹائمزکو خصوصیت کے ساتھ جاناجاتاہے ۔ملت ٹائمز کا بنیادی ایجنڈا ان ایشوز کو اٹھاناہے جسے مین اسٹریم میڈیا اور ٹی وی چینلوں کے ذریعہ نہیں دکھایاجاتاہے یا سچ کو چھپادیاجاتاہے ۔آن لائن اخبارات کے ساتھ ملت ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے ناظرین کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے ۔یوٹیوب پر خبر در خبر ۔ خاص ملاقات ۔انٹریوز گراﺅنڈ رپوٹ ، پبلک اوپینن، صدائے نوجوان۔ اسپیشل رپوٹ جیسے پروگرام بیحد مقبول ہیں ۔ملت ٹائمز نے کئی ایسی اسٹوریز کی ہے جو ہندوستان کی حکومت ،انتظامیہ ،سماج ، ملی تنظیموں ،اہم شخصیات اور مین اسٹریم میڈیا پر اثراانداز ہوئی ہیں ۔پانچ سالوں کے دوران اب تک 100 سے زیادہ ایسی خبریں ملت ٹائمز کے سبھی پلیٹ فارمزپر شائع ہوچکی ہیں جو قومی، عالمی میڈیا،حکومت ،انتظامیہ اور سماج پر اثر انداز ہوئی ہیں اور تاریخ رقم کرنے کا کام کیا ہے ۔ان میں سے ایسی 50 خبروں ،گراﺅنڈ رپوٹس اور اسٹوریز کا مجموعہ بھی ملت ٹائمز نے شائع کیاہے ۔ ہندوستان کے بیشتر اردو اخبارات ملت ٹائمز کی خبریں اور مضامین اپنے یہاں شائع کرتے ہیں ۔بیرون ممالک میں شائع ہونے والے اردو ویب پورٹل اور اخبارات اپنے بین لاقوامی صفحات کیلئے ہندوستان کی خبریں ملت ٹائمز کے حوالے سے شائع کرتے ہیں ۔دہلی کے علاوہ ،ممبئی ، پٹنہ ، کولکاتا ، چننئی ، لکھنو سمیت کئی شہروں اور صوبوں میں ملت ٹائمز کے بیورو چیف موجود ہیں ۔ علاوہ ازیں بہار ، مہاراشٹرا ، بنگال ، اتر پردیش اور دہلی میں ملت ٹائمز کے علاقائی اور ضلع نمائندے بھی دستیاب ہیں۔[4][1]

قارئین[ترمیم]

ملت ٹائمز کے یومیہ قارئین کی تعداد تقریبا ایک لاکھ سے زیادہ ہے ۔ کئی مرتبہ ملت ٹائمز کے قارئین کئی لاکھ تک پہونچ جاتے ہیں ۔ سال 2020 میں صرف پانچ دنوں میں ملت ٹائمز کے قارئین کی تعداد چھ ملین تک پہونچ گئی تھی ۔ 26جولائی 2017 کو ملت ٹائمز اردو کے قارئین کی تعداد تقریبا دو ملین تک پہونچ گئی تھی ۔ یوٹیوب پر بھی ملت ٹائمزکے سبسکرائبر آٹھ لاکھ سے زیادہ ہیں اور دسیوں ویڈیوز کے ناظرین کی تعداد ایک ملین سے زیادہ ہے ۔ فیس بک پر پانچ لاکھ سے زیادہ فلووز ہیں اور لاکھوں میں یہاں ملت ٹائمز کو دیکھاجاتاہے ۔ وہاٹس ایپ،انسٹاگرام ، ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا سائٹ پر بھی لاکھوں افراد ملت ٹائمز سے جڑے ہوئے ہیں ۔ ملت ٹائمز کو ہندوستان کے علاوہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، قطر ، برطانیہ اور امریکہ میں بھی بہت زیادہ اہتمام اور دلچسپی کے ساتھ پڑھاجاتاہے [5] ۔[6]

ملت ٹائمز کے بانی اور چیف ایڈیٹر[ترمیم]

ملت ٹائمز کے بانی اور سی ای او شمس تبریز قاسمی ہیں جو دارالعلوم دیوبند کے فارغ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے گریجویٹ اور ایم اے ہیں ۔ شمس تبریز قاسمی ہندوستان میں صحافیوں کی سب سے قدیم تنظیم پریس کلب آف انڈیا کے ڈائریکٹراور ایگزیکیٹو کمیٹی کے ممبر ہیں ۔اقوام متحدہ کے شعبہ انسانی حقوق سے منظور شدہ بھارت کے معروف تھنک ٹینک ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز میں میڈیا کورآڈینٹر کے طور پر بھی کام کرچکے ہیں ۔ سال 2014 سے 2016 تک وہ مشہور نیوز ایجنسی آئی این انڈیا میں بطور ایڈیٹر اپنے فرائض انجام دے چکے ہیں ۔ اردو اخبارات میں ان کا ہفت روزہ کالم ” پس آئینہ “ بہت زیادہ پسند کیا جاتاہے ۔صحافتی خدمات کی بنیاد پر وہ متعدد ایوارڈ سے بھی سرفراز ہوچکے ہیںجن میں سر فہرست مولانا ابوالکلام آزاد ایوارڈ برائے صحافتی خدمات ہے جو 3جنوری 2021 کو ملت ٹائمز کے پانچ سال مکمل ہونے پر ملک وملت کی متعدد سرکردہ شخصیات کی موجودگی میں انہیں دیاگیاہے [7]۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Times، The Policy. "Millat Times – A Mission, A Platform To Share and Air The Truth". https://thepolicytimes.com/. The Policy Times. اخذ شدہ بتاریخ https://thepolicytimes.com/millat-times-a-mission-a-platform-to-share-and-air-the-truth/.  روابط خارجية في |website= (معاونت)
  2. Sub، Hum (06 January 2021). "ملت ٹائمز: ایک کام یاب میڈیا ہاؤس". https://www.humsub.com.pk/. HumSub. اخذ شدہ بتاریخ https://www.humsub.com.pk/367327/khursheed-alam-dawood-qasmi-16/.  روابط خارجية في |website= (معاونت)
  3. https://hindustanurdutimes.com/%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-1265/
  4. Urdu Times، Hindustan (11 January 2021). "ملت ٹائمز : ایک کام یاب میڈیا ہاؤس : تحریر: خورشید عالم داؤد قاسمی". https://hindustanurdutimes.com/. HindustanUrduTimes. اخذ شدہ بتاریخ https://hindustanurdutimes.com/%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85-241/.  روابط خارجية في |website= (معاونت)
  5. Live، Naya Savera (22 December 2020). "معروف نیوز پورٹل ملت ٹائمز کے پانچ سال مکمل ۔ ماہ جنوری میںمتعدد طرح کا پروگرام منعقد کرنے کا اعلان". https://www.nayasaweralive.com/. nayasaveralive. اخذ شدہ بتاریخ https://www.nayasaweralive.com/archives/4352.  روابط خارجية في |website= (معاونت)
  6. https://millattimes.com/about-us/
  7. Online، Baseerat (4 Janaury 2021). "ملت ٹائمز کے پانچ سال مکمل ہونے پر خصوصی استقبالیہ، علماء ودانشوران نے پیش کی مبارکباد". ttps://www.baseeratonline.com. baseeraonline. اخذ شدہ بتاریخ https://www.baseeratonline.com/131333.  روابط خارجية في |website= (معاونت)

/[1][2]

https://www.humsub.com.pk/367327/khursheed-alam-dawood-qasmi-16/[3]

http://urdu.mewattimes.com/archives/7961[4][5]

  1. Times، Hindustan Urdu. "ملت ٹائمز : تاریخ و تعارف کے آئنے میں". ملت ٹائمز : تاریخ و تعارف کے آئنے میں. اخذ شدہ بتاریخ https://hindustanurdutimes.com/%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-1265/. 
  2. News، JJP. "کب اور کیسے شروع ہوا ملت ٹائمز". JJP News Urdu. JJPNews. اخذ شدہ بتاریخ http://urdu.jjpnews.com/millat-times/. 
  3. Sab، Hum. "ملت ٹائمز: ایک کام یاب میڈیا ہاؤس". https://www.humsub.com.pk/. Humsub. اخذ شدہ بتاریخ https://www.humsub.com.pk/367327/khursheed-alam-dawood-qasmi-16/.  روابط خارجية في |website= (معاونت)
  4. استشهاد فارغ (معاونت) 
  5. Times، Mewat. "ملت ٹائمز کے پانچ سال مکمل ہونے پر خاص پیشکش". Mewat Times. اخذ شدہ بتاریخ http://urdu.mewattimes.com/archives/7961.