ملفوظات صوفیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ملفوظات صوفیہ کی حیثیت ایک سوانح اور بکھرے ہوئے شہ پاروں کی مانند ہوتی ہے اس میں کسی عظیم بزرگ کے سوانح و اذکار، تعلیمات و نظریات، پندو نصائح اور علمی جواہر پاروں کو جمع کیا جاتا ہے صوفیا کرام کے ملفوظات گویا لب ہائے نازنیں سے نکلے ہوئے کلمات قدسی تھے جو عام لوگوں کے ہزاروں وعظ و تذکیر سے افضل تھے۔ جسے فیض یافتہ تلامذہ، صحبت یافتہ اخلاف اہل ارادت اور حاضر باش جو اپنے مرشد گرامی یا اپنے اساتذہ ذوی ا لاحترام سے اقوال و گفتار، تعلیمات و مواعظ، فقرے کو جس طرح سنا اسی طرح اسے محفوظ رکھنے اور قلم بند کرنے کی سعی بلغ کی۔ ہندوستان میں ملفوظ کی ابتدا حضرت امیر حسن علامہ سنجری کے مرتبہ ملفوظات حضرت شیخ نظام ا لدین اولیا قدس سرہ کی ’’فوائد ا لفوائد سے ہوتی ہے صاحب سیر ا لاولیا نے لکھا ہے کہ حضرت امیر خسرو اپنی تمام تصانیف اس ملفوظ کے بدلے دینے کے لئے تیار تھے۔ شیخ ا لاولیا حضرت نظام ا لدین کے روحانی فیوض و برکات سے ہندوستان کی مختلف خانقاہوں میں ملفوظات نویسی کا آغاز ہوگیا۔( ملخص از الملفوظ اعلیٰ حضرت)۔

1200ء تا 1700ء کے دوران میں شمالی ہند میں جو ادبی لسانی سرمایہ دستیاب ہو ا ان میں صوفیا ئے کرام کے ملفوظات ہیں جو مختلف تذکروں میں بکھرے ہوئے ہیں جنہیں مولوی عبد ا لحق نے اپنی کتاب ’’اردو کی نشو نما میں صوفیا ئے کرام کا کام ‘‘(علی گڑہ۔انجمن ترقی اردو (ہند )1968) میں یکجا کیا۔ ان فقرے اور ملفوظات پر تبصرہ کئے بغیر چندمثالیں ذیل میں حاضر ہیں۔

شیخ فرید ا لدین گنج شکر (1265۔ 1173) کے فقرے ’’پونوں کا چاند بھی بالا ہے ‘‘ آنکھ آئی ہے ‘‘ ان کے دو شعر ملاحظہ ہوں

وقت سحر وقت مناجات ہے۔ خیزدراں وقت کہ برکات ہے۔ عشق کا رموز نیارا ہے۔ جز مدد پیر کے نہ چارا ہے

شیخ شرف الدین بو علی قلندر (متوفٰی 1323) کا یک شعر ملاحظہ کریں : سجن سکارے جائیں گے اور نین مریں گے روئے۔ دھنا ایسی رین کر بھور کدھی نہ ہوئے۔شیخ شرف ا لدین بو علی قلندر حضرت امیر خسرو کے ہم عصر تھے انہوں نے ایک موقع پر امیر خسرو سے مخاطب ہوکر یہ جملہ کہا ’’تو سب کا کچھ سمجھ دا ‘‘۔۔ شیخ شرف ا لدین احمد یحیٰ منیری (متوفٰی 1380 ( سے منسوب فقروں میں یہ شامل ہیں : ’’ دیس بھلا پروور ‘‘ باٹ بھلی برسا نہ کرے ‘‘ اب لک دن برے گئے اب سکھ ہوئے ‘‘ جو من کا منسا سوئی ہووئے‘‘ امیر خسرو (1252-1325ء) کی اردو اور فارسی شاعری اور ملفوظات کے بعد شمالی ہند میں پورے تین سو سال تک سناٹا چھایا رہا اس طویل خاموشی کے بعد سترھویں صدی کے اوائل میں پھر سے ادبی شعور کی روح بیدار ہوئی جس کی بنیاد میں ’’صوفیا ئے کرام کاا ردو زبان و ادب کی خدمات‘‘ اہم ذریعہ اور سبب بنیں (ملخص : اردو زبان و ادب، بی اے سال اول )۔

علاؤ الدین خلجی اور محمد تغلق کے زمانے میں معاشرتی اورسیاسی سطح پرترک باشندوں نے مقامی زبانوں کو اپنے بول چال میں شامل کیا اس طرح ابلاغ و ترسیل کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی۔شاہان وقت کے ہمراہ صوفیا اور علما زبان کا سرمایہ اپنے ساتھ لائے تھے لسانی سطح پر مقامی زبانوں کے میل ملاپ نے اردو زبان و ادب کو جنم دیا جسے ہم ادب کا قدیم سرمایہ تصور کرتے ہیں۔ سید محمد حسینی بندہ نواز گیسو دراز (1422۔1321) اسی عہد میں رشدو ہدایت، تفسیر حدیث اورسلوک کے درس و تدریس، اور ماتحتوں کے ساتھ عدل و انصاف کے قیام پر بڑا زور دیا اس حوالے سے آپ کے ملفوظات، محفل سماع میں گائے جانے والے سہیلے، چکی نامے، اور غزلیں بھی دستیاب ہیں۔میراں جی شمس ا لعشاق(994 – 902 یا۔904)جن کا سلسلہ ء خلافت دو واسطوں سے بندہ نواز تک پہونچتا ہے آپ نے چھ مثنویاں شہادت الحق یا شہادت ا لحقیقت، خوش نامہ خوش نغز، شہادت نامہ، مغز مرغوب اور وصیت ا لنور لکھے ہیں۔خواجہ بندہ نواز کے صاحب زادے اکبر حسینی کی علم او ادب سے وابستگی نے اردو زبان و ادب کو پروان چڑھانے، اس کے خد و خال متعین کرنے اور اس کی نوک پلک درست کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔شمس ا لعشاق نے مقصدیت میں ڈوبا ہوا صوفیانہ افکارو خیالات و ملفوظات کی تشریح و توضیح کے لئے سادہ اور براہ راست انداز بیان اختیار کیا۔(ملخص از ماخذ سابق )

فخر الدین نظامی بیدری کی مثنوی ’’پدم راؤ کدم راؤ ‘ ‘ کا مطالعہ لسانی ارتقا کی منزل کا پتہ دیتا ہے جہاں زبان ترقی کے زینے طی کررہی تھی اور ادبی زبان کے معیار کی طرف گامزن ہوچکی تھی اور اپنے لفظی سرمایہ کو وسیع سے وسع کرنے کی کوشش کررہی تھی۔نظامی نے اسلوب اور پیرایہ ترسیل کو موثر بنانے اور اس کی معنویت میں اضافہ کرنے کے لئے ملفوظات، کہاوتوں اور محاوروں سے بھی مدد لی ہے۔ یہ مثنوی 1421–22 تا -1434-35)کے درمیان میں کی تصنیف ہے پندھ رویں صدی عیسوی کے نصف اول سے گجرات کے بزرگوں کے جو اقوال، ملفوظات اور فقرے ملتے ہیں مثلاً قطب عالم( متوفٰی1453ء807)کا فقرہ ہے کہ ’’کیا ہے لوہ ہے کہ لکڑ ہے کہ پتھر‘‘آپ کے فرزند شاہ عالم(888 ھ 1483ء )کا فقرہ ہے کہ ’’بکروٹے بدل بکروٹا یا ’’پڑھ دو کرے‘‘۔شیخ بہا الدین باجن احمدآباد ی( 912ھ 1406)نے اپنی یاد گار ’’خزائن رحمت اﷲ ‘‘ میں ان کا اردو شعر ملتا ہے۔ باجن چے کسی کے عیب ڈھانچے۔اس تھی درجن ستھر ستھرکانپے۔باجن کی ایک مثنوی ’’جنگ نامہ پیشوا زوساری‘‘ جو 219 اشعارپر مشتمل ہے۔قاضی محمود ریائی نے جکریاں یادگار چھوڑی ہیں دو شعر ملاحظہ فرمائیں۔ جاگ پیاری اب کیا سوئے۔ رین کمیٹی تیوں دن کھودے۔ باچ نہ پالے اپنے پیو کیوں پیتاوے۔ تیرے چرنوں کیری محمود وارن جائے۔(ملخص از ماخذ سابق )

صوفیا نے رشد و ہدایت کے لئے تصوف کے رموز و اسرار کی وضاحت کو زیادہ موزوں اور مناسب سمجھا اور اسی پر اپنی تصنیف و تالیف کی عمارت کھڑی کی وہ تما م علا متیں جو صو فیا ئے نے معر فت کے منا زل اور مر ا حل کے اظہا ر کے لئے واضع کی تھی اردو غزل میں صو فی شعر ا ء اور غیر صو فی شعر اء سبھی استعما ل کر نے لگے یہ لفظ استعار ے غزل کا لا ز می جزبن گئے۔جیسے شراب، شا قی، سا گر۔ وغیرہ چنا نچہ ان کی شعر ی الفا ظ کی ضر ورت شعر ی کے مطا بق مو ڑ توڑ لیا جا تا تھا۔ کہیں کسی حر ف کو گر ا کر پڑ ھنے سے وزن کا سرا مل جا تا ہے اور کہیں سکتے کو دور کر نے کے لئے اا ٓ و از کے کھینچ کر پڑ ھنا پڑ تا ہے۔ قا فیو ں کی بھی کو ئی خا ص اصو ل کی پا بند ی ان کے ہا ں اکثر مفقو د ہے۔ قا فیے میں صر ف آ و از کا خیا ل رکھتے۔ لفظ جیسے بو لا جا تا ویسا ہی تحر یر میں لے آ تے جیسے شروع کو شرو اور صحیح کو سہی لکھ دیتے۔اور ان ملفوظات کا عو ام سے چونکہ گہر ا تعلق تھا ا اسلئے اس زبا ن کو صوفیا نے اخلا ق کا ذر یعہ بنا یا یہ ز با ن اس وقت عو ام میں را ئج تھی لیکن فا رسی کی قدر و منز لت تک نہیں پہنچ سکی تھی۔اس عہدمیں ا ن عر و ضی ا صو لو ں کی بھی سختی سے پا بند ی ممکن نہ تھی۔ اس لیے ردیف و قو ا فی میں حسب ضر ورت تغیر و تبدل کی مثا لیں بھی مو جو د ہیں۔ اکثر ردیفو ں میں َ’’س‘‘ اور ’’ص‘‘ اور ’’ط‘‘ اور ’’ت‘‘ اور ’’ا ‘‘اور ’’ک‘‘ اور ’’ق‘‘ کو ایک ہی صو یتے (PHONEME ) ضر ورت شعر ی کے لحا ظ سے سا کن کو متحر ک اور متحر ک کو سا کن بنا دیا گیا ہے اور اسے طر ح سا دہ الفا ظ کو مشد د اور مشدد کو سا دہ الفا ظ میں تبد یل کر دیا گیا ہے۔۔ادب کے اس ابتدا ئی دور میں نثر اور شعرا کے کے اعلیٰ ترین نمونوں کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے ادبی زبان کا عہد طفولیت تھا اس لئے اس میں منجھی ہوئی زبان اور نکھرے ہوئے اسلوب کی مثال نہیں ملتی اردو زبان و ادب میں رچاؤ اور پختگی تشکیلی دور آغاز سے نہیں دور ترقی کی پیداوار ہوتی ہے جو آٹھارویں صدی سے شروع ہوئی اور تھے عہد بلو غیت سے تعلق اور اس طرح بعد بعد ملفوظات نے کیوں کہ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے کے مصداق آج بھی اس کی اہمیت اور انفرادیت مسلم ہے۔(ملخص از ماخذ سابق )

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]