مندرجات کا رخ کریں

ملوک داس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ملوک داس
ذاتی زندگی
مذہبہندو مت
دور حکومتشمالی ہند
نسب نامہGaltaji
فرقہRamanandi Sampradaya
تحریکبھکتی تحریک
قابل ذکر کامMaluk Shatak, Maluk Parichai, Gyan Bodh
مذہبی زندگی
پیشروMuraridas

ملوک داس کتھری (ہندی: मलुक दास انگریزی :Maluk Das پیدائش : 9 اپریل 1574ء تا وفات: اپریل  1682ء) پریاگ راج (الہ آباد) سے تعلق رکھنے والے ایک صوفی سنت شاعر تھے، جو عموما شاعری میں داس ملوکا تخلص رکھتے تھے [1]۔ وہ نرگن بھکتی تحریک کے شاعر تھے۔ ان کی شاعری کے یہ کتب زیادہ مشہور ہیں: رتن خان، ملوک شاتک اور گیان بودھ۔[2]

ادبی خدمات

[ترمیم]

سنت ملوک داس کی   بیان کردہ وَانِیاں (روحانی شاعری) اور پد (نظموں ) کے مجموعہ پر مشتمل مختصر کتب  میں  الکھ بانی(ان دیکھے  خدا پر اشعار)، گرو پرتاپ(مرشد کی عظمت)، گیان بودھ(علم و فہم)، پرش وِلاس(انسان کامل کی صفات)، بھگت بچھاولی(سچے عابد  کے تذکرے )، بھگت وِروداوالی (سچے عابد کی شان )، رَتن خان (قیمتی موتیوں کا خزانہ)، رام اوتار لیلا(رام کی کہانیاں)، ساکھی(نصیحت)، سکھ ساگر(سکون کا سمند )، دس رتن (دس قیمتی موتی)سمیت 21 تصانیف کا خاص طور پر ذکر ملتا ہے۔   آپ کی وَانِیاں (روحانی شاعری) اور پد (نظموں ) میں وحدانت اور   انسان دوستی  کی جھلک نظر آتی ہے۔ [1]

ڈاکٹر امیش چند ورما کے مطابق ملوک داس کے صرف 9 مستند شعری مجموعے دستیاب ہیں جن میں گیان بودھ، سکھ ساگر، گیان پاروچی، وبھو وبھوتی، دھرو چرت، دھوجا چرت، بارہ کھڑی، ملوک پریچائی اور ملوک شاتک شامل ہیں۔ [3]

مقبول شاعری

[ترمیم]

ملوک شاتک ان کی ملوک داس کی اہم شعری مجموعہ میں سے ایک ہے، جو 101 شعروں پر مشتمل ہے، ان کے مشہور شعر میں سے ایک یہ ہے:[4]

अजगर करै न चाकरी पक्षी करै न काम ।
'दास मलूका' कहत है सब के दाता राम ॥76॥

ترجمہ : اجگر کرے نہ چاکری، پنچھی کرے نہ کام؛ داس ملوکا کہے گئے، سب کے داتا رام! [5] [6] ملوکا داس کہتے ہیں، چوپائے ملازمت نہیں کرتے اور پرندے کاروبار نہیں کرتے پھر بھی رزق ان کو ملتا رہتا ہے۔ داس ملو کا کہنا ہے کہ دوستو! سب کی پرورش کرنے والا، سب کا روزی رساں  خدا ہے۔ [7]


صوفی سنت ملوک داس کتھری کے چند مقبول اشعار ، جنھیں دوہے ، پد اور وانی کہا جاتا ہے یہ ہیں ۔ [8] [9] [10]

दया धर्म हिरदे बसै, बोलै अमृत बैन।
तेई ऊँचे जानिए, जिन के नीचे नैन॥

ترجمہ :دیا دھرم ہِردے بسے، بولے اَمرُت بین۔ تیئی اُونچے جانِئیے، جِن کے نیچے نین [11]

ملوکا داس کہتے ہیں، جس کے دل میں دیا (رحم)اور دھرم (نیکی)بس  جائے، جس کی زبان سے میٹھے بول نکلیں  اور  جس کی نگاہیں نیچی ہوں ،  بس اُسی کو بلند مرتبہ سمجھو،  یعنی  بلند مرتبہ وہی انسان ہے جس کے اندر رحم، نرمی، شرافت اور انکسار ہو۔

हरी डारि न तोड़िए, लागै छुरा बान।
दास मलूका यों कहें, अपना सा जिब जान॥

ترجمہ : ہری ڈار نہ توڑئیے ، لاگے چھُرا بان - داس ملو کا یہ کہیں، اپنا سا  جِیو جان [12] ملوکا داس کہتے ہیں، سبز شاخ کو مت توڑو، وہ کسی چھری یا خنجز  کی طرح چبھتی ہے۔ ملوک داس کہتے ہیں اسے ایسا ہی سمجھو  جیسا کہ تمھارا اپنا جسم  ہے۔

दरदमंद दरवेस कहावे।
जो मोही राम की रीझ् बतावे॥
जो प्यासे को देवे पानी।
बड़ी बंदगी मोहम मानी॥
जो भूखे को अन्न खवावे।
सो सिताब साहेब को पावे॥
अपना-सा दुःख सब का माने।
 दास मलूका सबको माने॥

ترجمہ : دردمند درویش کہاوے  ....جو موہی رام کی ریجھ بتاوے۔ جو پیاسے کو دیوے پانی....بڑی بندگی موہم مانی۔ جو بھُوکے کو اَنن کھواوے....سو سِتاب صاحب کو پاوے۔ اَپنا-سا دُکھ سب کا مانے .... داس ملُوکا سبکو مانے۔ ملوکا داس کہتے ہیں،دردمند درویش وہ ہے،جو  خدا کی رضا کی راہ  دکھائے،جو پیاسے کو پانی دیتا ہے،وہ میرے نزدیک بڑی عبادت کرتا ہے۔ جو بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے، وہ جلد ہی مالک (خدا)کو پا لیتا ہے۔  جو دوسروں کے دکھ کو اپنا سمجھے، ملوک داس کہتا ہے،  وہی سچا انسان ہے، وہی سب کا ہے۔

नाम हमारा खाक है, हम खाकी बंदे।
खाकहिं ते पैदा किये, अति गाफिल गंदे ॥
कबहु न करते बंदगी, दुनिया में भूले।
आसमान को ताकते, घोड़े चढ़ि फूले॥
जोरू लड़के खुश किये, साहेब बिसराया।
राह नेकी की छोड़ि के, बुरा अमल कमाया॥
हरदम तिसको याद कर, जिन वजूद संवारा।
सबे खाक-दर-खाक है, कुछ समझ गंवारा॥
हाथी घोड़े खाक के, खाक खानखानी।
कह मलूक रह जायेगी, औसाफ निसानी॥

ترجمہ : نام ہمارا خاک ہے، ہم خاکی بندے - خاک ہی تے پیدا کیے، اتی غافل گندے -کبھو نہ کرتے بندگی، دنیا میں بھُولے -آسمان کو تاکتے،  گھوڑے چڑھی پھولے-جورُو، لڑکے، خوش کیے، صاحب بسرایا -راہ نیکی کی چھوڑی کے، بُرا عمل کمایا-ہردم تس کو یاد کر، جِن وجود سنوارا -سب خاک در خاک ہے ، کچھ سمجھ گنوارا-ہاتھی گھوڑے خاک کے، خاک کھنکھانی-کہہ ملوک رہ جائے گی ، اوصاف نشانی - [13] [14] ملوکا داس کہتے ہیں،ہمارا نام خاک ہے، ہم خاکی بندے ہیں۔خاک (مٹی)ہی سے پیدا کیے گئے ہیں، مگر یہاں آکر بہت ہی غافل اور گندے ہو گئے ہیں۔ ڈھنگ سے  بندگی (عبادت) نہیں کرتے، دنیا میں گم ہو چکے ہیں، تکبر سے گردن اکڑائے آسمان کو تکتے ہیں، گھوڑے پر سوار ہو کر فخر سے  پھول  جاتے ہیں۔ دنیاوی آسائش ، بیوی اور بچوں میں خوش ہو گئے ہیں ،  لیکن اپنے  مالک  کو بھلا دیا۔  نیکی کی راہ چھوڑ کر، بُرے اعمال کما رہے ہیں۔    جس ہستی نے تیرے وجود کو بنایا ، اُس ہستی کو یاد کر باقی سب  تو خاک ہے۔ داس ملوک کہتا ہے بس ایک دن سب مٹی میں  مل جانا ہے اور صرف انسان کی  اچھی صفات (اوصاف) اور نشانیاں باقی رہ جائیں گی۔

حالات زندگی

[ترمیم]

ملوک داس   کتھری 5 بیساکھ 1631 بکرمی سن[15] ، بمطابق 9 اپریل 1574ء کو    ضلع الہ آباد کے گاؤں کڑا  میں  ایک کایستھ Kayastha ہندو خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔   کایستھ برادری عام طور پر تعلیم یافتہ، لکھنے پڑھنے سے وابستہ اور سرکاری کاموں میں ماہر سمجھی جاتی تھی۔ روایات کے مطابق ان کے آبا و اجداد پنجاب سے آکر کڑا میں آباد ہو گئے تھے۔ ملوک داس  کے والد سُندر داس کھتری ککواڑ ، کپڑوں کے  تاجر تھے۔   ملوک داس  کے خاندان میں ہندو رسم و رواج کی سخت پابندی  کی جاتی تھی،  تاہم ملوک داس اپنے خاندان  اور معاشرے میں ہونے والی ذات پات   کے نام پر بے انصافانہ  تقسیم  ،  ریاکاری، فرسودہ رسومات اور غیر عقلی اعتقادات   کی کھل کر  مخالفت کرتے۔  [16] [1]

ایک مرتبہ ان کے گاؤں میں ایک صوفی سنت    آ کر ٹھہرے۔ وہ سنت  لوگوں کو انسان دوستی اور محبت کا درس دیتے۔ اتفاق سے ملوک داس بھی وہاں جاپہنچے۔    سنت کی زبانی نرنگن بھکتی کی تعلیمات سن کر  وہ ان کے مرید ہو گئے۔[17]

  اس کے بعدملوک داس  بت پرستی ترک کرکے  نرگن بھکتی (اَن دیکھے خدا کی پرستش)اور ایکیشورواد (توحید) کی طرف مائل ہو گئے۔   سنت ملوک داس    نے مذہبی ریاکاری، ذات پات اور ظاہری عبادات کے خلاف آواز بلند کی۔ انھوں نے  انسان دوستی، محبت، سچائی، رحم دلی اور ایکیشور واد (وحدت) کے پیغام  کو اپنی شاعری کے ذریعے عام کیا۔ داس کے گیتوں کے موضوعات میں سماجی مذہبی رواداری، انسانوں کے درمیان خیر سگالی، مساوات اور خدا کی یکسانی شامل ہیں۔ [18] اس طرح وہ کبیر اور گرو نانک سمیت بھکتی تحریک کے دیگر سنت شاعروں سے مشابہت رکھتے ہیں۔ [19]

سترہویں صدی عیسوی میں ایک صوفی سنت  کے طور پر ان کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ یہاں تک کہ اس وقت کا شہنشاہ اورنگزیب بھی  آپ کی انسان دوست شاعری  سن کر  آپ کی   قدر و منزلت  اور عظمت  کا قائل  ہو گیا تھا۔ اس نے سنت  ملوک داس    کو ان کی تحریک کے لیے  الہ آباد میں دو گاؤں عطا فرمائے۔ [5] [6]

ملوک داس کا    انتقال 14 بیساکھ  1739  بکرمی سن (مطابق اپریل  1682ء) کو  کڑا ، الہ آباد میں ہوا۔ آج بھی ہر سال بیساکھی کے مہینے  (ماہ اپریل ) میں الہ آباد میں  داس ملوکا کا جنم دن عقیدت  سے منایا جاتا ہے۔ [20]

تعلیمات اور میراث

[ترمیم]

ان کی تین مشہور تخلیقات رتن خان، ملوک شاتک اور گیان بودھ ہیں۔ [21] سنت ملوک داس کی بیشتر کتابیں ، سنت کوی ملوک داس[22]، ملوک داس جی کی بانی [23][24] [25]آج بھی دستیاب ہیں۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 3 "داس ملوکا : بابا تاج الدین کے پسندیدہ شاعر کا تذکرہ"۔ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ۔ اگست 2025ء: صفحہ 43 تا 50
  2. "मलूकशतकम् । Malook-Shatakam". lordrama.co.in (بزبان انگریزی). Retrieved 2023-12-02.
  3. Dr. Umesh Chand Verma. Sri Maluk Granthawali (بزبان ہندی) (2023 ed.). SHRI MALUK PEETH PRAKASHAN, SHRI DHAM VRINDAVAN. ISBN:9788194657071.
  4. Swami Nārāyaṇadāsa (1992). Rajasthani sant sahitya Parichay (بزبان اوادھی وہندی) (1st ed.). Śrī Dādūdayālu Mahāsabhā. p. 171.
  5. 1 2 "اجگر کرے نہ چاکری". ای ٹی وی بھارت (بزبان ہندی).
  6. 1 2 "اجگر کرے نہ چاکری ۔ ملوک داس"۔ اے بی پی نیوز
  7. Maluk Das (2013). Chatuh Sampradaya Digdarshan (بزبان ہندی) (1st ed.). Jaipur: Hansa Prakashan. pp. 383–392.
  8. "سنت ملوک داس کے دوہے"۔ ہندی بول انڈیا[مردہ ربط]
  9. "ملوک داس کی شاعری". کویتا کوش (بزبان ہندی).
  10. "ملوک داس کے دوہے پد اور شبد". ہندوی (بزبان ہندی).
  11. "دیا دھرم ہردئیے بسے- کتاب سنت کوی ملوک داس ، صفحہ 81"۔ ہندوی
  12. "ہری ڈار نہ توڑئیے- کتاب سنت کوی ملوک داس ، صفحہ 80"۔ ہندوی
  13. "نام ہمارا خاک ۔ ملوک داس"۔ کویتا کوش
  14. "نام ہمارا خاک ہے۔ ملوک داس"۔ بھارت ڈسکوری
  15. "سنت ملوک داس". سنت مت (بزبان ہندی).
  16. "داس ملوکا : بابا تاج الدین کے پسندیدہ شاعر کا تذکرہ"۔ روحانی ڈائجسٹ، اگست 2025ء
  17. "ایشور بھکت سنت ملوک داس". ویب دنیا ہندی (بزبان ہندی).
  18. "हिंदी खबर, Latest News in Hindi, हिंदी समाचार, ताजा खबर". Patrika News (بزبان ہندی). Archived from the original on 2021-05-24. Retrieved 2021-05-24.
  19. "Maluk Das". The Sikh Encyclopedia (بزبان امریکی انگریزی). 19 Dec 2000. Retrieved 2021-06-13.
  20. "سنت ملوک داس کا جنم دن". امر اجالا اخبار (بزبان ہندی).
  21. Nagendra (1988). Indian Literature (بزبان انگریزی). Prabhat Prakashan.
  22. "کتاب سنت کوی ملوک داس"۔ صوفی نامہ
  23. "کتاب ملوک داس جی کی بانی"۔ صوفی نامہ
  24. "ملوک داس جی کی بانی ای کتاب"۔ ریختہ
  25. "ملوک داس جی کی بانی"۔ آرکائیو

حوالہ جات

[ترمیم]
  • کیرین شومر، ڈبلیو ایچ میک لیوڈ (The Sants: Studies in a Devotional Tradition of India، موتلال بنارسیداس، 1987 ISBN ) ISBN 8120802772
  • ٹی۔ فلپس، دی مشنریز ویڈ میکم یا، اے کنڈینسڈ اکاؤنٹ آف دی ریلیجیئس لٹریچر، سیکٹس، اسکولز، اینڈ کسٹمز آف دی ہندوز ان دی نارتھ ویسٹ آف انڈیا، جے تھامس، 1847۔
  • جارج سمال، سنسکرت ادب کی ایک ہینڈ بک: اپینڈسز کے ساتھ ہندوؤں کی داستان، ذات اور مذہبی فرقوں کی تفصیل، 1866۔
  • راجمنی ٹگونیٹ، موت سے پیدائش تک: کرما اور پنر جنم کو سمجھنا ہمالیائی انسٹی ٹیوٹ پریس، 1997 ISBN ISBN 0893891479
  • ملوکا کی شاعری میں خدا کا تصور