ملکہ پکھراج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ملکہ پکھراج
Malika Pukhraj (1912-2004) in 1920s.jpg
Malika Pukhraj in 1920s in Kashmir

معلومات شخصیت
پیدائش 1912ء
جموں، ریاست جموں و کشمیر، بھارت
وفات 4 فروری 2004 (aged 92)
لاہور، پنجاب، پاکستان، پاکستان
شہریت Flag of India.svg بھارت (26 جنوری 1950–)
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
Flag of India.svg ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ Vocalist
اعزازات

ملکہ پکھراج (ولادت: 1914ء - وفات: 2004ء) پاکستان کی انتہائی مقبول غزل اور لوک گلوکارہ تھیں۔ ملکہ پکھراج کو عام طور پر "ملکہ" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ حفیظ جالندھری نظم، ابھی تو میں جوان ہوں کی پیش کش کے لیے بے حد مقبول تھی، جسے نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی لاکھوں لوگوں سنا ہے۔[1][2][3]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ملکہ پکھراج ہمیر پور سدھار میں پیشہ ور موسیقاروں کے گلوکار گھرانے میں پیدا ہوئیں تھیں۔ [4] اکھنور کے علاقے میں ایک روحانی دان، بابا روتی رام 'مجذوب' نے پیدائش کے وقت ان کا نام "ملیکا" رکھا تھا اور ان کی خالہ نے خود پکھراج (پیلا نیلم) رکھا تھا جو خود ایک پیشہ ور گلوکارہ اور ناچنے والی تھیں۔[2][3]

ملکہ پکھراج نے اپنی روایتی موسیقی کی تربیت معروف گلوکار استاد بڈے غلام علی خان کے والد استاد علی بخش قصوری سے حاصل کی۔

کیریئر[ترمیم]

ملکہ پکھراج نو سال کی عمر میں، انہوں نے جموں کا دورہ کیا اور مہاراجا ہری سنگھ کی تاج پوشی کی تقریب میں فن کا مظاہرہ کیا، ہری سنگھ ان کی آواز سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے انہیں اپنے دربار میں بطور درباری گلوکارہ مقرر کیا۔[5] ملکہ پکھراج نے وہاں گائیکی کی حیثیت سے مزید نو برس رہیں۔[3]

ملکہ پکھراج 1940ء کی دہائی میں ہندوستان کے معروف پیشہ ور گلوکاروں میں شامل تھیں اور 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد، وہ پاکستان کے شہر لاہور چلی گئیں، جہاں انہیں ریڈیو پاکستان، لاہور میں موسیقار کالے خان کے ساتھ اپنی ریڈیو پرفارمنس کے ذریعے زیادہ شہرت ملی۔ 1980ء میں، انہوں نے صدر پاکستان کی طرف سے تمغائے حسن کارکردگی ایوارڈ حاصل کیا۔ 1977ء میں، جب آل انڈیا ریڈیو، جس کے لیے انہوں نے 1947ء میں تقسیم ہند تک گانا گایا تھا، یہ ریڈیو اپنی گولڈن جوبلی منا رہی تھی، تو ملکہ پکھراج کو ہندوستان بلایا گیا اور 'لیجنڈ آف وائس' ایوارڈ سے نوازا گیا۔[6]

حالات زندگی[ترمیم]

ملکہ پکھراج کا تعلق جموں سے تھا اور وہ جموں و کشمیر ریاست کے راجا ہری سنگھ کے دربار سے وابستہ رہیں۔ شیخ عبداللہ کی کتاب آتش چنار میں اس کا ذکر ہے کہ وہ مہاراجا سے کتنا قریب تھیں۔

انہیں راجا ہری سنگھ کا دربار ہنگامی طور پر اس لیے چھوڑنا پڑا کہ ان پر راجا کو زہر دے کر مارنے کا الزام لگا دیا گیا تھا۔ وہ جموں سے پہلے دہلی گئیں اور پھر پاکستان بننے کے بعد وہ لاہور آگئیں جہاں انہیں پکھراج جموں والی کے نام سے جانا جاتا تھا۔

ملکہ پکھراج بنیادی طور پر پہاڑی اور ڈوگری زبانوں کی لوک موسیقی کی ماہر تھیں اور چالیس کی دہائی میں ان کا شمار برصغیر کے صف اول کے گانے والوں میں ہوتا تھا۔ وہ ٹھمری کے انگ میں غزل گاتی تھیں۔

ملکہ پکھراج نے حفیظ جالندھری کی بہت سی غزلیں اور نظمیں گائیں جن میں سے کچھ بہت مشہور ہوئیں، خاص طور پر: ’ابھی تو میں جوان ہوں‘۔ ریڈیو پاکستان کے موسیقی کے پروڈیوسر کالے خان نے زیادہ تر ان کے لیے دھنیں بنائیں۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

ملکہ پکھراج کی شادی لاہور میں شبیر حسین شاہ سے ہوئی جنھوں نے پاکستان ٹی وی کا مشہور اردو ڈراما سیریل جھوک سیال بنایا تھا۔ان کی چھ بچے بھی تھیں جن میں طاہرہ سید بھی تھیں، جو پاکستان میں گلوکارہ بھی ہیں۔[7][8] چھوٹی بیٹی مشہور گلوکارہ طاہرہ سید جو اپنی والدہ کی طرح ڈوگری اور پہاڑی انداز کی گائیکی میں مہارت رکھتی ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://www.youtube.com/watch?v=6F87TnnTdpw, "Abhi tau mein jawan hoon" song on YouTube by Malika Pukhraj, uploaded 10 مئی 2010. اخذکردہ بتاریخ 1 فروری 2016
  2. ^ ا ب http://www.dawn.com/news/783586/abhi-to-main-jawan-hoon&sa, Malika Pukhraj article on Dawn, Karachi newspaper. اخذکردہ بتاریخ 1 فروری 2016
  3. ^ ا ب پ Biography، Biography of Malika Pukhraj on tripod.com website. اخذکردہ بتاریخ 1 فروری 2016
  4. Prof RL Kaul, Kashmir and Jammu: A History pub Jammu: Indar V Press, 1955, p. 102
  5. Unparalleled queen of gayaki دی ہندو، published 4 جون 2004. اخذکردہ بتاریخ 1 فروری 2016
  6. http://www.thehindu.com/fr/2004/06/04/stories/2004060401970600.htm, Malika Pukhraj 'Biography'، Unparalleled queen of gayaki, published 4 جون 2004, The Hindu newspaper. اخذکردہ بتاریخ 1 فروری 2016
  7. https://www.youtube.com/watch?v=m9TG8Dhusg4, طاہرہ سید 'Profile' on YouTube, uploaded 9 جنوری 2012. اخذکردہ بتاریخ 1 فروری 2016
  8. http://www.dawn.com/news/783586/abhi-to-main-jawan-hoon&sa, Biography of Malika Pukhraj on Dawn, Karachi newspaper, published 4 فروری 2013. اخذکردہ بتاریخ 1 فروری 2016