ملک شاہ اول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ملک شاہ سلجوقی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ملک شاہ اول
Malik-Shah I
Büyük Selçuklu Sultanı Melikşah.jpg
ملک شاہ اول
سلطان سلجوقی سلطنت
دور حکومت 15 دسمبر 1072 – 19 نومبر 1092
پیشرو الپ ارسلان
جانشین محمود اول
شریک حیات ترکان خاتون
زبیدہ خاتون
تاج الدین خاتون
صفاریہ خاتون
اولاد برکیارق
محمد اول سلجوقی
احمد سنجر
محمود بن ملک شاه
داؤد
ماہی مُلک خاتون
ستارہ خاتون
گوہر خاتون
عصماء خاتون
خاندان سلجوق خاندان
والد الپ ارسلان
پیدائش 8 اگست 1055
وفات 19 نومبر 1092 (عمر 37)
بغداد، خلافت عباسیہ، اب عراق
تدفین اصفہان
مذہب اسلام

جلال الدولہ ملک شاہ المعروف ملک شاہ اول (فارسی: معزالدنیا و الدین ملکشاه بن محمد الب ارسلان قسیم امیرالمومنین[1]) جو 1072ء سے 1092ء تک سلجوقی سلطنت کا حکمران رہا۔ وہ اپنے والد الپ ارسلان کی وفات کے بعد تخت نشین ہوا۔ یہ لائق اور بہادر باپ کا سچا جانشیں تھا اور اوصاف میں اسی کے مشابہ تھا۔ الپ ارسلان نے اپنی زندگی میں اس کو نامزد کر دیا تھا۔ عباسی خلیفہ قائم باللہ نے اس کی حکومت کی تصدیق کی اور اس کا سکہ اور خطبہ سارے سلجوقی مقبوضات میں جاری ہو گیا۔ اس کا عہد سیاسی عروج، علمی ترقی اور دینی عظمت کے لحاظ سے بہت اہم تھا۔ اس کے عہد میں نہ صرف پورے دمشق کو سلجوقی حکومت میں شامل کرلیا گیا بلکہ ترکستان کو فتح کرکے خاقان چین سے بھی خراج وصول کیا گیا اور اسلامی جھنڈا ساحل شام تک لہرایا۔ اس کے عہد میں ہر جگہ فارغ البالی اور امن و عافیت تھی۔ تجارت اور صنعت کو فروغ حاصل تھا۔ راستے محفوظ تھا اور اس کا عہد ہر اعتبار سے سنہری کہلانے کا مستحق تھا۔ علمی ترقی، دینی عظمت، معاشی خوشحالی اور تمدنی عروج کسی جگہ کمی نہ تھی۔ وہ بلا کا شجاع اور بہادر تھا اور جہاں رخ کیا وہاں کامیابی حاصل کی۔ ہر دشمن کو زیر کیا اور سلجوقی حکومت کو وسعت دی۔

1092ء میں اس کے انتقال کے بعد سلجوقی سلطنت کا زوال شروع ہوگیا اور وہ مختلف حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ اناطولیہ میں قلج ارسلان اول نے سلاجقہ روم کی بنیاد رکھی۔ شام میں اس کے بھائی تتش اول، عراق میں برکیارق، فارس میں محمود اول اور خراسان میں احمد سنجر برسراقتدار آگئے۔

سلجوقیوں کی آپس کے اختلافات ہی 1096ء میں پہلی صلیبی جنگ میں عیسائیوں کی فتح کا باعث بنے اور انہوں نے بیت المقدس فتح کرلیا۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]

الپ ارسلان

سلجوقی سلطنت

مزید دیکھیۓ[ترمیم]

  • Rāvandī، Muḥammad. Rāḥat al-ṣudūr va āyat al-surūr dar tārīkh-i āl-i saljūq. Tehran: Intishārāt-i Asāṭīr. صفحہ۔85.