ملک طاؤس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ملک طاؤس (Melek Taus) (عربی: مَلَك طَاوُوس) یا مور فرشتہ یزیدی فرقے میں، ان کے عقیدے کے مرکزی اہمیت کا حامل فرشتہ ہے۔ دسمبر میں یزیدی راہب سے سرخ شراب پینے کے بعد تین دن روزہ رکھتے ہیں۔ 15 سے 20 دسمبر کے دوران یہ موصل کے شمال میں واقع شیخ عدی بن مسافر کے مزار پر جاتے ہیں اور وہاں دریا میں مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں جس میں جانوروں کی قربانی بھی شامل ہے۔ اس فرقے کے خدا کو یزدان کہا جاتا ہے اور اس کا اتنا اعلیٰ مقام ہوتا ہے اس کی براہ راست عبادت نہیں کی جا سکتی۔ اسے غیر متحرک طاقت کے مالک سمجھا جاتا ہے اور وہ زمین کا نگہبان نہیں بلکہ خالق سمجھا جاتا ہے۔ اور اس سے سات عظیم روحانی طاقتیں نکلی ہیں جن میں ایک مور فرشتہ ملک طاؤس ہے اور جو خداوندی احکامات پر عمل درآمد کراتا ہے۔ ملک طاؤس کو خدا کا ہمزاد تصور کیا جاتا ہے۔ یزیدی ملک طاؤس کی دن میں پانچ بار عبادت کرتے ہیں۔ یزیدیوں کے نزدیک ملک طاؤس کا دوسرا نام شیطان ہے، جو عربی میں ابلیس کو کہتے ہیں اور اسی وجہ سے یزیدی فرقے کو شیطان کی عبادت کرنے والا کہا جاتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]