ملک میاں محمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

غازی ملک میاں محمد شہید اعوان قوم کے یہ فرزند تلہ گنگ ضلع چکوال کے رہائشی تھے۔
صوبیدار غلام محمد ساکن تلہ گنگ غرب کے عظیم فرزند تھے۔

واقعہ[ترمیم]

16 مئی 1934ء کو مدراس چھاؤنی (چنائی)میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے فوجی خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ایک ہندو ڈوگرہ نے کوئی نعت بآواز بلند ترنم سے پڑھنا شروع کر دی۔ لہجے میں مٹھاس اور عقیدت کا رنگ نمایاں تھا۔ جوش مسرت سے مسلمانوں کی آنکھیں بھر آئیں۔ پاس ہی ایک دوسرا ہندو چرن داس بیٹھا تھا۔ وہ اپنے ڈوگرہ ساتھی کے منہ سے حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اسم گرامی سنتے ہی جل بھن کر رہ گیا۔ اس نے غلیظ الفاظ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین کرتے ہوئے اپنے ساتھی کو کہا کہ تو ہندو دھرم کا مجرم ہے اور تیرا پاپ ہرگز معاف نہیں کیا جا سکتا۔ عاشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم غازی میاں محمد یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہا تھا۔ اس نے گستاخ ڈوگرے سپاہی سے کہا

’’وہ خوش قسمت ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نعت پاک پڑھ رہا ہے۔ اگر تجھے پسند نہیں تو خاموش رہ یا باہر نکل جا۔ خبردار! آئندہ ایسی بکواس مت کرنا، وہ بولا: ’’میں ایسا ہی کہوں گا۔ تجھے کیا، میں جو چاہوں کہتا پھروں۔‘‘

یہ جواب سن کر غازی میاں محمد کا خون کھول اٹھا۔ ایک لمحے کے لیے کچھ سوچا اور فیصلہ کن انداز میں کہا

’’اپنی ناپاک زبان سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گستاخی کی جرأت ہرگز نہ کرنا۔ یہ بدتمیزی تجھے اذیت ناک موت سے دوچار کر دے گی۔

‘‘ بدقسمت ڈوگرے نے دوبارہ وہی جواب دیا اور یہ وہ لمحہ تھا جب میاں محمد نے اپنے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ناموس پہ قربان ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ اپنی بیرک میں گیا، نماز عشاء ادا کی اور بارگاہ الٰہی میں تڑپ کر التجا کی

’’میرے اللہ! میں نے تہیہ کر لیا ہے کہ تیرے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں ہرزہ سرائی کرنے والے کا کام تمام کردوں۔ تو مجھے حوصلہ اور استقامت عطا فرما۔ حضور سید کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عزت و ناموس پہ مجھے اپنی جان نچھاور کرنے کی توفیق دے اور میری یہ قربانی منظور کر لے۔‘‘

یہ دعا مانگ کر غازی اٹھا، اپنی رائفل نکالی اور شاتم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہندو سپاہی کو للکار کر کہا

’’ارے کم بخت! اب بتا کہ میرے نبی کی شان میں گستاخی پر میں تجھ سے پوچھنے کا حق رکھتا ہوں یا نہیں؟‘‘ اور اس کے ساتھ ہی ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شیدائی کی گولی چرن داس کو ڈھیر کر چکی تھی۔ گرفتار ہوئے، مقدمہ چلا اور عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ پیکر اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ناموس اطہر پہ قربان ہو گیا۔[1]

غازی ملک میاں محمد نے 12 اپریل 1938ء کو شہادت پائی۔ اس وقت عمر 21 سال تھی چنائی (مدراس)بھارت ریلوے اسٹیشن کے قریب مدفون ہیں۔ تختہ دار پر کھڑے ہو کر نعرہ تکبیر بلند کیا اورقبلہ رخ ہو کر فرمایا کہ سرکارﷺ غلام حاضر ہے۔ تلہ گنگ شہر کے معروف ترین چوک ٹریفک چوک کانام 2001میں حرمت رسولﷺ پر جان قربان کرنے والے تلہ گنگ کے فرزند میاں محمد شہید کے نام پر رکھا گیا۔ ایئر مارشل ریٹائرڈ خداداد خان کی تجویز پر کمشنر راولپنڈی ڈویژن میجر ریٹائرڈ ضیا ءالحق نے4جنوری 2001کو تلہ گنگ کھلی کچہری میں حاضرین کی تائید پر غازی میاں محمد شہید کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ٹریفک چوک کا نام غازی میاں محمد شہید چوک رکھنے کا اعلان کیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]