ممتاز راشدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بیگم ممتاز راشدی ( سندھی : بيگم ممتاز راشدی ) (مارچ 1934 - 1 نومبر 2004) ایک پاکستانی سماجی کارکن اور مصنفہ تھیں۔ انہوں نے 1954 میں پاکستان کی پہلی خاتون پریس اتاشی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ انہوں نے فلپائن، چین اور ہانگ کانگ میں بھی مختلف سفیروں کے اسائنمنٹس پر کام کیا۔ وہ سندھ، پاکستان کے معروف عالم اور سیاستدان پیر علی محمد راشدی کی بیوی تھیں.

بچپن اور تعلیم[ترمیم]

ممتاز راشدی 8 مارچ 1934 کو کولکٹا ، ہندوستان میں پیدا ہوئی تھیں ۔ وہ شیر بنگال اے کے فضل الحق [1] کی پوتی تھیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم دارجیلنگ کے ڈاؤ ہل اسکول سے حاصل کی۔ اس نے ایڈن گرلز کالج دھککا سے آرٹ کی ڈگری اور ڈھاکہ یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں بی اے فرسٹ کلاس فرسٹ  پوزیشن حاصل کی۔ انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی سے ماسٹر آف آرٹس کی ڈگری میں بھی فرسٹ کلاس فرسٹ  پوزیشن حاصل کی۔ انہوں نے 1955-56 میں نوٹری ڈیم انڈیانا یونیورسٹی امریکہ سے صحافت میں ڈپلومہ حاصل کیا۔ [2] وہ انگریزی ، فرانسیسی ، بنگالی ، اردو اور سندھی زبانوں میں عبور رکھتی تھیں۔

کیریئر[ترمیم]

وہ 1954 میں پاکستان کی پہلی خاتون پریس اتاشی بن گئیں اور پیرس میں تعینات ہوگئیں۔ [1] یہیں پر انھوں نے اس وقت پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات پیر علی محمد راشدی سے ملاقات کی جس سے انھوں نے 1955 میں شادی کی تھی۔ انہوں نے فلپائن، چین اور ہانگ کانگ میں سفیروں کی مختلف ذمہ داریوں پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ 1965 میں واپس پاکستان لوٹ گئیں۔ مسز راشدی سندھ کے لوگوں ، خاص طور پر بالائی سندھ اور منچھر جھیل کے قریب رہنے والوں کے لئے بہت سارے سماجی بہبود کے منصوبوں میں شامل ہوگئیں۔ انہوں نے بین الاقوامی فلاحی تنظیموں کے ساتھ قریبی تعاون میں بھی کام کیا۔ انہوں نے بچوں اور خواتین کی ترقی کے لئے ایک فلاحی تنظیم کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے 1983 سے 1986 تک حکومت پاکستان کی کابینہ ڈویژن کے تحت خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن کی رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ انہوں نے نیشنل پاکستان ویمن ایسوسی ایشن کی مشیر اور کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے متعدد بین الاقوامی فورم ، سیمینار اور کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

انہوں نے یونیسکو کے ساتھ تعاون کے لئے قائداعظم اکیڈمی، پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس اور پاکستانی کمیشن کے بورڈ آف گورنرز کے ممبر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام کی سینیٹ اور سنڈیکیٹ کی ممبر بھی تھیں۔ انہوں نے سن 1975 میں کراچی میں منعقدہ سنٹر تھرو سنچری کانفرنس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

بحیثیت مصنف[ترمیم]

مسز راشدی نے مختلف اخبارات، بشمول ڈان، مارننگ نیوز اور دی سن کے لئے باقاعدگی سے مقالے لکھے۔ انہوں نے سندھ کے سماجی مسائل پر کتابیں لکھیں۔ اس کی کچھ کتابیں ذیل میں درج ہیں۔

  • سندھ اور نگاہ القدرناس [3]
  • اسلامی فن و ثقافت سندھ

موت[ترمیم]

یکم نومبر 2004 کو ان کا انتقال ہوا اور انہیں کراچی کے میوا شاہ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ۔ ان کے دو بچے ہیں : بیٹا عادل راشدی اور بیٹی عنادل راشدی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب "Mumtaz Rashidi passes away". DAWN.COM (بزبان انگریزی). 2004-11-02. اخذ شدہ بتاریخ 07 مارچ 2020. 
  2. "بيگم ممتاز راشدي : (Sindhianaسنڌيانا)". www.encyclopediasindhiana.org (بزبان سندھی). اخذ شدہ بتاریخ 07 مارچ 2020. 
  3. Rashidi، Mumtaz (2003). Sindh Aur Nigah Qadar Shanas. Sang-e-Meel, Karachi. ISBN 978-9693514391.