مملوکہ حکومت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ایسی جائداد جو کسی شخص کو اپنے منصب کی بنا پر حاصل ہو مثال کے طور پر حضرت داؤد علیہ السلام کی حکومت کے وہ ممالک یا مقبوضات جو آپ کے وصال کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام کے قبضے میں آئے۔ اس قسم کی جائداد میں وراثت کا عام قاعدہ جاری نہیں ہوتا بلکہ جو بھی بادشاہت امامت یا رسالت کا حانشین ہوگا وہ ہی تنہا اس کا وارث قرار پا‎ئے گا۔ اس کی ایک عام مثال کسی بھی درگاہ، مزار یا ٹرسٹ کی ہے جہاں مقرر ہونے والا خلیفہ ہی اس درگاہ اور اس سے ملحقہ جائداد و املاک کا وارث ہوتا ہے نہ کہ مرنے والے سابقہ خلیفہ کی تمام اولاد میں یہ تقسیم ہوگی۔ بادشاہت کے حوالے سے مثال اس کی سلاطین مغلیہ کی دی جاسکتی ہے جہاں بابر کے انتقال کے بعد اس کی مملکت اس کے جانشین ہمایوں کو ملی نہ کہ تینوں بیٹوں ہمایوں، کامران اور عسکری میں باہم تقسیم کی گئی۔ وراثت کا یہ ہی قاعدہ ساری دنیا میں مسلم ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]