مناقب آل ابی طالب (کتاب)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مناقب آل ابی طالب
زبانعربی
موضوعفضائل و مناقب اہل بیت
ناشرالمکتبۃ الحیدریہ

مناقب آل ابی طالب، المناقب کے نام سے مشہور، عربی زبان میں معصومین کے نیک اوصاف و فضائل کے متعلق کتاب ہے۔ جس کے مؤلف شیعہ عالم دین محمد بن علی ابن شہر آشوب (متوفا 588 ھ) ہیں۔ مؤلف نے اس کتاب میں مناقب پیامبر(ص)، ائمہ اور صحابہ بیان کیے ہیں جو موجودہ نسخہ میں موجود نہیں ہیں۔ البتہ اس وقت چار جلدوں میں موجود کتاب رسول خدا کی زندگی و فضائل سے شروع ہو کر امام حسن عسکری کے باب پر ختم ہوتی ہے اور اس میں امام زمانہ عج سے متعلق کوئی بات ذکر نہیں ہوئی ہے۔ اسی طرح مؤلف نے اپنی دیگر تالیفات میں مطالب بیان کرتے ہوئے اس کتاب کا حوالہ ذکر کیا ہے ان سے بھی موجودہ کتاب خالی ہے۔ المناقب معتبر شیعہ آثار میں سے ہے اور بہت سے سنی و شیعہ علما نے اس پر اعتماد کر کے مطالب نقل کیے ہیں۔

مؤلف[ترمیم]

ابو عبد اللہ محمد بن علی بن شہر آشوب سَرَوی مازندرانی (488۔588 ھ) ہے جو ابن شہر آشوب کے نام سے مشہور اور «رشیدالدین» اور «عزّالدین» کے لقب سے جانا جاتا ہے۔اس کی زندگی کا زمانہ پانچویں صدی کا آخر اور چھٹی صدی کا بنتا ہے۔وہ ایران کے شمالی علاقے ساری میں پیدا ہوا اور علوم دین کے حصول کو جاری رکھنے کے لیے بغداد گیا ۔ ابن شہر آشوب کی بہت سی تألیفات مناقب آل ابی طالب اور معالم العلماء کی مانند ہیں ۔

موضوع کتاب[ترمیم]

مؤلف نے اس کتاب میں پیامبر اکرم(ص)'، ائمہ اور صحابہ کے مناقب و فضایل بیان کیے ہیں۔ مناقب کے نام سے جو بھی کتابیں اہل بیت کے متعلق لکھی گئیں ہیں ان میں ان کے معجزات اور کرامات بیان ہوئے ہیں۔[1]

سبب تالیف[ترمیم]

اپنی کتاب کی تالیف کا سبب مصنف نے یوں بیان کیا ہے:

جب میں نے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے دشمنوں کے کفر، شیعہ و سنی حضرات کو مسئلۂ ولایت کو ایسے حالات میں اختلافی پایا کہ ان میں سے کچھ تو خاندان پیغمبر کی محبت سے دور ہیں اور کچھ ان سے محبت کے باوجود تقیہ و خوف کی وجہ سے اظہار نہیں کرتے ہیں تو میں خواب غفلت سے بیدار ہوا اور یہ ایک لفط تھا تا کہ میں مختلف روایات اور مختلف قسم کے موجود اختلافات سے حقیقت حال کو واضح کروں۔ اس دوران میں اس بات پر متوجہ ہوا کہ پیغمبر گرامی کی احادیث کو تبدیلی اور تحریف کی گئی ہے۔ ایک طرف لوگوں نے دوسروں کے خود ساختہ فضائل بنانے کی کوشش کی، انہوں نے احادیث کے قطعے قطعے کیے اور ان کے ایسے حصے نقل کیے کہ جن سے وہ حقیقت کو چھپا سکیں نیز اس کے ذریعے اہل اسلام کو ولایت الہی کی حقیقت سے گمراہ کریں اور دوسری جانب یہ لوگ اہل بیت کے فضائل نقل کرنے والوں پر غلو اور دین سے منحرف ہونے کے تہمتیں لگائیں ہیں۔ اس بنا پر نیز دیگر اور اسباب کی بنا پر میں ارادہ کیا کہ پیغمبر اسلام کی اہل بیت کے مناقب کو دقیق اور مستند بنیادوں جمع کروں۔[2]

اعتبار کتاب[ترمیم]

اس کتاب کو معتبر سمجھا جا سکتا ہے چونکہ اہل علم نے اس کی تعریف کی ہے اور ایک حد تک شیعہ و سنی علما نے اس پر اعتماد کیا اور کسی دغدغے کے بغیر اس کی روایات کو نقل کیا ہے۔[3]

مضامین کتاب[ترمیم]

یہ کتاب چار جلدوں میں تقسیم ہوئی ہے:

  • پہلی جلد : احوال پیامبر(ص) نبوت کی بشارت، ولادت، بعثت، رسول گرامی کی جنگوں ... کے احوال پر مشتمل ہے۔
  • دوسری جلد: امیرالمؤمنین(ع) کے فضائل، مقامات و کرامات، ان کے فیصلوں، ان پر ہونے ظلم اور ترتیب زمانے کے مطابق اہل بیت پر نازل ہونے والی مصیبتوں کے بیان میں ہے۔
  • تیسری جلد: حضرت علی (ع) کی جانشنین کے متعلق پیغمبر کی احادیث سے شروع ہوتی ہے، ان کی شجاعتیں اور فضائل معنوی، قیامت کے روز ان کے مقام کو چند فصلوں میں بیان کیا ہے۔حضرت علی دیگر انبیا سے مساوات کے متعلق نکات ،ان کے احوال زندگی ،حضرت زہرا کے حالات زندگی اور آخر میں ان کے فرزند امام حسن و حسین کی امامت کی بحث بیان کی ہے ۔
  • چوتھی جلد : باقی ائمہ کے حالات زندگی امام حسن عسکری تک بیان ہوئے ہیں۔[4]

ابواب کتاب[ترمیم]

کتاب کے بعض ابواب ذکر کرتے ہیں:

  • باب ذکر سیدنا رسول الله(ص)
  • باب الامامۃ
  • باب فی إمامۃ الأئمّۃ الإثنی عشر
  • باب درجات امیر المؤمنین(ع)
  • باب ما تفرّد من مناقبہ
  • باب ذکره عند الخالق و عند المخلوقین
  • باب قضایا امیر المؤمنین(ع)
  • باب النصوص علی امامتہ
  • باب تعریف باطنہ
  • باب مختصر من مغازیہ
  • باب ما یتعلق بالآخرة من مناقبہ
  • باب النکت و اللطائف
  • باب فی احوالہ
  • باب مناقب فاطمہ الزہرا (س)
  • باب إمامۃ السبطین

خصوصیات کتاب[ترمیم]

  1. ابن شہر آشوب نے اپنی دیگر کتب میں بعض مطالب کے مستند میں اس کتاب کو ذکر کیا ہے جبکہ حال حاضر میں اس کتاب میں وہ مطالب اس میں موجود نہیں ہیں۔
  2. امام عصر امامت سے متعلق مسائل اور غیبت جیسے اس زمانے کے اہم مسائل کلامی موجودہ کتاب میں نہیں ہیں۔
  3. ابن شہر آشوب کا ارادہ تھا کہ مناقب خاندان نبی اکرم(ص)کے متعلق منقول ہونے والے تمام مطالب اس میں جمع کرے لیکن بہت سے مسائل اور احادیث جو قدیمی کتب میں موجود ہیں وہ اس میں ہیں۔
  4. خود ابن شہر آشوب نے کتاب کے مقدمے میں کہا کہ اصحاب نبی اور ان کے فضائل کے بارے میں باب ذکر کیا ہے لیکن وہ موجود نہیں ہے۔
  5. مناقب ابن شہر آشوب، بعض عجیب و غریب مطالب پر مشتمل ہے کہ جن میں بعض ایسے ہیں جو صرف اسی میں نقل ہوئے ہیں۔

تحقیقات[ترمیم]

حسین بن جبیر نے کتاب مناقب کا خلاصہ کیا اور نخب المناقب لآل ابی طالب نام رکھا۔ نہج الایمان کے نام سے بھی ابن جبیر کے ذریعے تلخیص ہوئی ہے۔[5] ابن شہر آشوب کی کتاب مثالب النواصب کو اس کتاب کا تکمیلی باب قرار دیا جا سکتا ہے۔[6]

ترجمہ[ترمیم]

اس کا اردو زبان میں دو دفعہ ترجمہ ہوا۔ اس کا ایک ترجمہ مولانا ظفر حسنین امروہی نے کیا۔ دوسرا ترجمہ مولانا شریف صاحب نے کیا جو تین جلسوں میں طبع ہوا۔[حوالہ درکار]

چاپ[ترمیم]

یہ کتاب پہلی مرتبہ 1313 ق کو ہندوستان کے شہر بمبئی میں چھپی [7] اس کے بعد متعدد مرتبہ ایران، عراق اور لبنان سے چھپ چکی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. کتاب شناخت سیره معصومان، مرکز تحقیقات رایانہ ای علوم اسلامی نور.
  2. المناقب، مقدمۂ کتاب.
  3. کتاب شناخت سیره معصومان، مرکز تحقیقات رایانہ ای علوم اسلامی نور.
  4. فہرست کتاب.
  5. الذریعہ، ج24، ص88 و 411.
  6. الذریعہ، ج15، ص95.
  7. الذریعہ، ج22، ص318.

مآخذ[ترمیم]

  • تہرانی، آقا بزرگ، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، بیروت، دارالاضواء.
  • ابن شہر آشوب مازندرانی، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب، نجف، المکتبہ الحیدریہ، 1376ق.
  • ابن شہر آشوب مازندرانی، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب، قم، علامہ، 1379ق.
  • کتاب شناخت سیره معصومان، مرکز تحقیقات رایانہ ای علوم اسلامی نور.