منتخب اللباب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

منتخب اللباب خافی خاں نظام الملک کی تصنیف ہے جو ہندوستان کی عمومی کتب ہائے تواریخ میں شمار کی جاتی ہے۔

مصنف[ترمیم]

منتخب اللباب کے مصنف کا نام خافی خاں نظام الملک ہے۔ سیرالمتاخرین کے مصنف غلام حسین طباطبائی نے خافی خاں کا نام ہاشم علی خاں تحریر کیا ہے لیکن خود خافی خاں نے کتاب کے دیباچہ میں اپنا نام محمد ہاشم خافی المخاطب بہ خافی خاں نطام الملک لکھا ہے۔ بعض یورپی مصنفین کا خیال ہے کہ اُس کا لقب خافی خاں لفظ خفا سے مخرج ہوا ہے اور اِس کی وجہ تسمیہ یہ بتاتے ہیں کہ مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر نے بڑی سختی سے تاکید کردی تھی کہ اُس کے عہد کی تاریخ نہ لکھی جائے، لیکن خافی خاں نے خفیہ طور پر اپنی تاریخ مرتب کی اور جب اِس کی اشاعت ہوئی تو مصنف کا لقب خافی خاں مشہور ہو گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خافی خاں کے اجداد خواف کے باشندے تھے جو خراسان اور نیشاپور کے مابین آباد ایک مقام ہے۔ اکثر تاریخی کتب میں خافی خاں کا نام خوافی خاں لکھا ہوا ہے۔

تفصیلات متن[ترمیم]

یہ تاریخ ہندوستان کی عمومی کتب ہائے تواریخ میں مشہور تاریخ ہے۔ اِس کی ابتدا فتوحات اسلام سے مغل شہنشاہ محمد شاہ کے زمانہ تک کے حالات پر مشتمل ہے۔ فارسی زبان میں یہ کتاب تین جلدوں میں منقسم ہے۔ جلد اول میں امیر ناصر الدین سبکتگین کے عہدِ حکومت سے لے کر سلطان ابراہیم لودھی کے انقراض تک دہلی سلطنت کے سلاطین کا تذکرہ مفصل موجود ہے۔جلد دوم میں سلاطین تیموریہ یعنی امیر تیمور سے لے کر محمد شاہ کے عہد تک کی تاریخ مرقوم ہے۔ جلد سوم میں سلاطین دکن کی تاریخ و حالات موجود ہیں۔ پہلی جلد نادر و کمیاب رہی ہے، جبکہ دوسری اور تیسری جلدیں بنگال کی ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال کی سعی و کوشش سے شائع ہوئی تھیں۔منتخب اللباب کی دوسری جلد جس میں سلاطین تیموریہ کے حالات موجود ہیں، ظہیر الدین محمد بابر بادشاہ کی فتح ہندوستان یعنی پانی پت کی پہلی جنگ (21 اپریل 1526ء) سے شروع ہوتی ہے۔ اِس کے بعد نصیرالدین ہمایوں، جلال الدین اکبر، شاہ جہاں، اورنگزیب عالمگیر، اعظم شاہ، بہادر شاہ اول، جہاندار شاہ، فرخ سیر اور محمد شاہ کے واقعات شرح و بسط کے ساتھ لکھے گئے ہیں۔ نصیرالدین ہمایوں، جلال الدین اکبر کے مابین سلطنت سور کے حکمرانوں کا تذکرہ بھی لکھا گیا ہے۔ دوسری جلد کے مقدمہ میں ترک بن یافث کے زمانے سے ظہیرالدین محمد بابر تک شاہانِ مغلیہ کا مختصر حال مذکور ہے۔[1]

اشاعت[ترمیم]

اِس کی دوسری جلد کو دو جلدوں میں 1868ء سے 1874ء تک تقریباً چھ سالوں میں کلکتہ سے شائع کیا گیا۔ تیسری جلد 1921ء میں سر وِلزلی ہیگ کی کوششوں سے شائع کی گئی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حکیم شمس اللہ قادری: مورخین ہند، صفحہ 66۔ مطبوعہ حیدرآباد دکن 1932ء