المنتصر باللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(منتصر باللہ سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محمد بن جعفر المنتصر باللہ العباسی
خلیفہ الاسلام خلافت عباسیہ، بغداد
Dirhem of al-Muntasir, AH 247-248.jpg
دارالحکومت عباسی سامراء میں ضرب کیا جانے والا درہم جس پر المنتصر باللہ کا نام کندہ ہے۔ 248ھ/ 862ء
گیارہواں عباسی خلیفہ خلافت عباسیہ، بغداد
معیاد عہدہ 11 دسمبر 861ء7 جون 862ء
پیشرو المتوکل علی اللہ
جانشین المستعین باللہ
خاندان حکومت خلافت عباسیہ
والد المتوکل علی اللہ
والدہ حبشیہ
پیدائش ذوالحجہ 222ھ/ نومبر 837ءعباسی سامراء، عراق، خلافت عباسیہ، موجودہ سامراء، محافظہ صلاح الدین، عراق
وفات اتوار 5 ربیع الثانی 248ھ/ 7 جون 862ء (عمر: 25 سال 6 ماہ قمری، 24 سال 7 ماہ شمسی)بمقام عباسی سامراء، عراق، خلافت عباسیہ، موجودہ سامراء، محافظہ صلاح الدین، عراق
تدفین عباسی سامراء، سامراء، موجودہ عراق
مذہب سنی اسلام

المنتصر باللہ خلافت عباسیہ کا گیارہواں خلیفہ ہے جو محض 6 ماہ تک خلافت کے عہدہ پر براجمان رہا۔مؤرخینِ اسلام نے اُسے ساسانی سلطنت کے شہنشاہ شیرویہ قباد الثانی سے مشابہت دی ہے جس نے اپنے باپ خسرو پرویز کو 628ء میں قتل کردیا تھا۔ چونکہ المنتصر باللہ العباسی نے بھی اپنے باپ خلیفہ المتوکل علی اللہ کو قتل کروا دیا تھا اِس لیے عوام اُسے شیرویہ ثانی کہنے لگے تھے۔ دونوں میں مماثلت یہ ہے کہ شیرویہ قباد الثانی اور المنتصر باللہ محض چھ چھ ماہ ہی حکومت کرسکے۔ المنتصر باللہ کے عہدِ حکومت کا کوئی نمایاں کارنامہ نہیں ہے، وہ عین شباب میں تختِ خلافت پر آ بیٹھا اور وزراء کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی حکمران بنا۔ انتشار سامراء میں المنتصر پہلا خلیفہ ہے جس کے بعد خلافت عباسیہ کی شان و شوکت جاتی رہی۔ 6 ماہ کی مختصر حکومت کے بعد 248ھ میں فوت ہوا اور خلافت عباسیہ رُو بہ زوال ہونے لگی۔

نام[ترمیم]

المنتصر باللہ کا نام محمد بن المتوکل علی اللہ ہے۔ کنیت ابوجعفر اور ابوعبداللہ ہے۔[1][2] خطاب المُنتصِر باللہ ہے جس کا معنی ہے کہ جس کی فتوحات میں اللہ تعالیٰ کی نصرت ساتھ ہو۔

نسب[ترمیم]

خلیفہ المنتصر کا نسب 11 پشتوں سے ہوتا ہوا پیغمبر اسلام رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک پہنچتا ہے۔خلیفہ المنتصر کا شجرہ نسب یوں ہے:

المنتصر باللہ بن المتوکل علی اللہ بن المعتصم باللہ بن ہارون الرشید بن المہدی باللہ بن ابو جعفر المنصور بن محمد ابن علی ابن عبداللہ بن علی ابن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ابن عباس بن عبد المطلب ابن عبدالمطلب الہاشمی العباسی البغدادی۔

والدین[ترمیم]

المنتصر باللہ کا والد خلیفہ المتوکل علی اللہ العباسی ہے جسے المنتصر نے باہم ترکوں سمیت مل کر 247ھ میں قتل کردیا تھا۔ المنتصر کی والدہ حَبشِیَہ تھی جو ایک ام ولد تھی جسے رومیہ بھی کہا جاتا تھا۔[3][4][5] المنتصر کی موت تک اُس کی والدہ بقیدِ حیات تھی اور کئی سال بعد تک زندہ رہی۔[6]

ولادت/حلیہ[ترمیم]

المنتصر ماہِ ذوالحجہ 222ھ/ نومبر 837ء میں عباسی سامراء، سامرا، موجودہ عراق میں پیدا ہوا۔ مؤرخِ اسلام علامہ ذہبی (متوفی 748ھ) نے  المنتصر کا حلیہ یہ لکھا ہے کہ:

المنتصر فربہ اندام، وجیہ صورت تھا، آنکھیں بڑی بڑی خوبصورت تھیں، ناک ستواں، شکم بڑا، رنگت گندمی مائل، قد میانہ، خوبصورت جسیم و لحیم تھا۔[7][8][9] ہیبت دار، عقلمند اور ہنس مکھ تھا۔ نیکی کی جانب مائل پرست تھا۔[10] دیکھنے سے ہیبت معلوم ہوتی تھی۔[11]

المتوکل علی اللہ کا قتل[ترمیم]

مزید دیکھئے: انتشار سامراء

المتوکل علی اللہ کو المنتصر نے قتل کروایا۔ اِس قتل کے پیچھے ترک وزراء کا اہم ہاتھ تھا مگر المنتصر جو اپنے باپ کے مخالف ہوگیا، اِس کی قرین صورتحال و سبب مؤرخ ابن کثیر (متوفی 774ھ/ 1373ء) نے بیان کی ہے کہ:

المتوکل علی اللہ نے اپنے بیٹے عبداللہ المعتز کو المنتصر باللہ کے بعد ولی عہد مقرر کیا گیا تھا، کو حکم دیا کہ وہ جمعہ کے روز لوگوں کو خطبہ دے اور اُس نے نہایت اچھی طرح خطبہ دیا اور اِس بات نے المنتصر کو انتہائی مقام تک پہنچا دیا اور اِس کے باپ المتوکل علی اللہ نے اُسے بلایا اور اُس کی اہانت کی اور اُس کے سر پر ضرب لگانے کا حکم دیا اور اُسے تھپڑ مارے اور اُس کے بھائی المنتصر کے بعد اُسے ولیعہدی سے معزول کردینے کی صراحت کی جس سے اُس کا غصہ اور بھی بڑھ گیا۔[12] جب عید الفطر 247ھ کا دن آیا تو المتوکل علی اللہ نے لوگوں سے خطاب کیا اور اُسے بیماری کے سبب کچھ ضعف تھا، پھر وہ اُن خیموں کی جانب چلا گیا جو چار میل کے فاصلہ پر اُس کے لیے لگائے گئے تھے۔ وہ وہاں ٹھہرا رہا اور منگل 3 شوال 247ھ/ 9 دسمبر 861ء کو اُس نے اپنی شبانہ گفتگو میں اپنے دوستوں کو اپنے حضور ناؤ نوش کے لیے بلایا اور اِسی دعوت میں اُس کے بیٹے المنتصر باللہ اور اُمراء کی ایک جماعت نے اُس پر اچانک حملہ کردیا اور وہ وہیں قتل کردیا گیا۔ المتوکل علی اللہ دسترخوان پر قتل کردیا گیا تھا۔[13][14]

مؤرخ ابن خلدون (متوفی 808ھ) کی رائے مؤرخ ابن کثیر کی پیش کردہ رائے سے ذرا اختلاف کے ساتھ یہ ہے کہ:

ترک امراء اور المتوکل علی اللہ کے درمیان پہلے ہی کشیدگی تھی اور امیر ایتاخ کے قتل اور ترکوں کے ساتھ المتوکل علی اللہ کی برگشتگی کی وجہ سے تمام ترک امراء اُس کے خلاف ہوچکے تھے۔ ولی عہد کی مخالفت کا سہار لے کر وہ المنتصر کے ساتھ ہوگئے۔ المنتصر باپ کی مخالفت میں اندھا ہوچکا تھا۔ نتائج پر غور کیے بغیر ترکوں کے ساتھ ہوگیا۔ترکوں نے سرے سے ہی المتوکل علی اللہ کا قصہ ہی تمام کرنے کا منصوبہ بنایا۔ وصیف الترکی نے ترک موالی بغا الصغیر، اوتامش، باغر، بغلو، واجن اور کنداش کو اِس کام پر آمادہ کرلیا۔ یہ سب ترک 3 شوال 247ھ/ 9 دسمبر 861ء کی شب گئے جبکہ دربار برخواست ہوچکا تھا اور صرف چند آدمی باقی رہ گئے تھے، اور محل شاہی کے سارے دروازے بند ہوچکے تھے، یہ سب ترک محل میں جا گھسے اور المتوکل علی اللہ پر ٹوٹ پڑے۔ فتح ابن خاقان نے نمک حلالی کا ثبوت دیا اور خلیفہ المتوکل علی اللہ کو بچانے کی خاطر خود کو خلیفہ پر گرا دیا مگر ترکوں کی تلوار نے اُسے بھی قتل کردیا۔ آقا اور ملازم ایک ساتھ قتل ہوگئے۔ المنتصر نے اِس جرم کو چھپانے کی خاطر مشہور کردیا کہ فتح ابن خاقان نے خلیفہ المتوکل علی اللہ کو قتل کردیا ہے اور قصاص میں میں نے اُسے قتل کردیا۔ چونکہ قصر شاہی عباسی سامراء میں سوائے فتح ابن خاقان کے سب ترک موجود تھے، اِس لیے یہ راز جلد افشاء نہ ہوسکا۔[15][16][17]

تخت نشینی[ترمیم]

خلیفہ المتوکل علی اللہ کے قتل کے بعد بروز بدھ 5 شوال 247ھ/ 11 دسمبر 861ء کو المنتصر باللہ کے خلیفہ ہونے کی بیعت لی گئی۔[18][19] المنتصر کی تخت نشینی کے بعد نظامِ خلافت تمام ترکوں کے ہاتھ میں آگیا اور خلفاء کی قوت و اِقتدار بالکل ختم ہوگیا۔ تختِ خلافت پر بیٹھنے کے بعد المنتصر نے الجعفریہ کو جسے المتوکل علی اللہ نے بڑے ذوق و شوق اور بے شمار دولت صرف کرکے تعمیر کروایا تھا، ویران کردیا اور یہاں کی کل آبادی کو اِس کی پرانی جگہوں پر واپس کردیا۔[20] بیعتِ خلافت کے 10 دن بعد تک الجعفریہ میں مقیم رہا اور پھر وہاں سے اپنے اہل و عیال سمیت مع سردارانِ لشکر و فوج سامراء منتقل ہوگیا۔[21]

ابو العمود الشاربی کا خروج:

المنتصر کی تخت نشینی کے بعد ہی ابو العمود الشاربی نے یمن، بوزایج، موصل (شہر) میں بغاوت بپا کردی۔ قبیلہ ربیعہ اور کرد بھی اِس کے ساتھ ہوگئے۔ اِس لیے اِس کی طاقت بہت بڑھ گئی، المنتصر نے سیماء ترکی جرنیل کو اِس کے لیے بھیجا۔ اِس نے متعدد قبیلوں کے بعد الشاربی کو گرفتار کرکے المنتصر کی خدمت میں حاضر کیا۔ المنتصر نہایت حلیم تھا، اِس نے اطاعت کا عہد لے کر چھوڑ دیا۔

وزرائے المنتصر باللہ[ترمیم]

  • احمد بن الخصیب:

المنتصر نے عبیداللہ بن یحیی بن خاقان کو معزول کرکے احمد ابن خصیب کو وزیر السلطنت بنایا، اولاً یہ المنتصر کا کاتب تھا۔ یہ اپنے کام میں سست تھا، اور اِس کی عقل قابل اعتراض تھی۔ اِس میں مروت میں بھی تھی اور گرمی و طیش بھی، جو اِس کا غصہ برداشت کرلیتا، وہ اپنا مقصد پالیتا۔ ایک بار ایک ضرورت مند شخص اِس کے سامنے آ گیا اور چمٹ گیا۔ احمد تنگ آگیا، اِس شخص نے رکاب میں اُس کا پاؤں پکڑ لیا، احمد کا پارہ چڑھ گیا، اُس نے رکاب سے پاؤں نکال اُس کے سینہ پر ٹھوکر ماری۔اِس واقعہ کو ایک شاعر نے یوں بیان کیا: خلیفہ سے کہو اے عم رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اولاد! اپنے وزیر کے پاؤں کو باندھ کر رکھو، کیونکہ یہ لات بہت چلاتا ہے۔ ہماری آبرو کو تو یہ زبان سے نقصان پہنچاتا ہے اور اِس کے پاؤں کا تختہ مشق سینے ہیں۔"[22][23] بہت کم نیکی کرنے والا، بہت شریر اور بڑا جاہل شخص تھا۔ [24]

عہد خلافت کے واقعات[ترمیم]

  • دارالخلافہ بغداد سے وصیف الترکی کی علیحدگی: المنتصر کا وزیر احمد بن خصیب نہایت تند مزاج اور بد طینت شخص تھا۔ اِس میں اور ترک وزیر وصیف الترکی میں نہ بنتی تھی، وصیف الترکی بڑے پایہ کا امیر تھا اِس لیے احمد بن خصیب نے بغداد میں اِس کا رہنا مناسب نہ سمجھا اور المنتصر سے کہا کہ وصیف الترکی کا قیام یہاں مناسب نہیں، اِسے جنگ کے بہانہ سے کہیں بھیج دیجئیے۔ المنتصر ابن خصیب کو بہت مانتا تھا چنانچہ وصیف الترکی کو طلب کرکے اِسے کہا کہ قیصر روم سرحد پر حملہ کرنا چاہتا ہے، اِس کے مقابلے کے لیے تم جاؤ یا میں خود نکلوں۔ وصیف الترکی نے جواب دیا : یہ نمک خوار کا فرض ہے۔ چنانچہ المنتصر نے ابن خصیب کو سامان فراہم کرنے کا حکم دیا۔ اِس نے جملہ سامان فراہم کرکے وصیف الترکی کو روانہ کردیا۔[25][26]
  • ولایتِ عہد سے معتز اور مؤید کا اخراج: خلیفہ المتوکل علی اللہ کے قتل کے بعد جن لوگوں نے المنتصر کو خلیفہ بنایا تھا، اِن میں ایک ابن خصیب بھی تھا۔ المنتصر کے بعد نامزد شدہ ولی عہد معتز ہوا۔ اِس لیے ابن خصیب کو خطرہ پیدا ہوا کہ اگر اِس کی زندگی میں معتز کی خلافت کی نوبت آ گئی تو اِس کی جماعت میں سے ایک کو بھی نہ چھوڑے گا۔ اِس لیے اِس نے امیر وصیف الترکی اور بغاء الصغیر سے کہا کہ حوادثِ زمانہ کا کوئی اعتبار نہیں، اگر آج امیر المومنین کی آنکھ بند ہوجائے اور کل کو معتز خلیفہ ہوجائے تو ہم میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑے گا۔ اِسی لیے معتز اور مؤید کا نام ولی عہد سے نکلوانے کی کوشش کرنی چاہئیے۔ یہ تجویز ترکوں کے لیے بھی مفید تھی اِس لیے بغاء الصغیر نے اِس کی تائید کی اور المنتصر پر زور ڈالنا شروع کیا کہ وہ معتز اور مؤید کو ولی عہدی سے خارج کرکے اپنے لڑکے عبدالوہاب کو ولی عہد بنائے۔ المنتصر اِنہی کا بنایا ہوا خلیفہ تھا اور اِن کے مقابلہ میں بالکل بے بس تھا، اِس لیے تو طوعاً و کرہاً اِس سے رضا مند ہونا پڑا۔ چنانچہ دونوں بھائیوں کو طلب کیا، معتز معاملہ سمجھ گیا اور اُس نے مؤید سے کہا: اِس طلبی کا مقصد ولی عہدی کے مسئلہ کے علاوہ کچھ نہیں ہوسکتا۔ مؤید نے کہا: نہیں، المنتصر ایسا نہیں کرسکتا، کہ اِسی دوران ولی عہدی سے اخراج کا حکم پہنچ گیا۔ مؤید نے بے چوں چراں قبول کرلیا اور معتز نے جواب دیا کہ: میں خود سے دستبردار نہیں ہوں گا، اگر تم لوگ قتل کرنا چاہتے تو قتل کردو۔ قاصدوں نے جا کر المنتصر کو یہ پیغام سنایا، اِس کی سزاء میں معتز کو ایک مقام پر بند کردیا گیا۔ بھائی کے ساتھ یہ سلوک دیکھ کر مؤید کے خون میں حرارت پیدا ہوئی، اِس نے قید کرنے والوں کو ڈانٹا کہ کتوں، تم خونریزی میں اِتنے دلیر ہوگئے ہو کہ اپنے آقاؤں پر اِس طرح حملہ کرنے میں بھی باک نہیں کرتے، تم لوگ ہٹ جاؤ، مجھے معتز سے بات کرنے دو۔ اُس ڈانٹ پر وہ لوگ ہٹ گئے اور مؤید نے معتز سے کہا کہ تم اِتنے نادان کیوں ہوگئے؟ اِن لوگوں نے والد کے ساتھ جو کیا، وہ تمہیں معلوم ہے؟ پھر بھی تم دستبرداری سے انکار کرتے ہو؟ تم بھی دستبرداری کا اعلان کردو۔ معتز نے کہا کہ ساری دنیاء میں میری ولی عہد کا شہرہ ہوچکا ہے، ایسی حالت میں دستبرداری کیونکر ممکن ہے؟ مؤید نے کہا: اِسی ولی عہد کے مسئلہ نے ہمارے والد کی جان لے اور اب تمہاری بھی لے گا۔ مؤید کے سمجھانے سے مؤید آمادہ ہوگیا اور مؤید نے المنتصر کے آدمیوں کو اطلاع دے دی۔ اِن لوگوں نے جا کر المنتصر کو خبر دی اور تحریری دستبرداری لکھوانے کے لیے دوبارہ کاتب و کاغذ لے کر آئے۔ معتز کو تامل ہوا لیکن مؤید نے کاغذ لے کر پہلے خود دستبردای لکھی اور پھر معتز سے بادلِ نخواستہ لکھوا کر حوالے کر دی۔[27] تحریر ملنے کے بعد المنتصر نے دونوں بھائیوں کو بلا کر اُن سے تصدیق چاہی کہ یہ تم ہی لوگوں کی تحریر ہے؟۔  معتز خاموش رہا لیکن مؤید نے جواب دیا کہ امیر المومنین! یہ میری تحریر ہے، میں نے اِس کو برضا و رغبت لکھا ہے اور معتز سے بھی یہی جواب دلایا۔  المنتصر نے اُن سے کہا کہ: تم لوگوں کو گمان ہوگا کہ میں نے یہ سب اِس لیے کیا ہے تاکہ اپنے لڑکے عبدالوہاب کو ولی عہد بنا دوں، اللہ کی قسم! ایک لمحہ کے لیے بھی میرے دل میں یہ طمع پیدا نہیں ہوئی، لیکن اِن موالی کے مقابلہ میں بے بس تھا۔ مجھے یہ خوف تھا کہ اگر میں تم دونوں کو معزول نہ کرتا تو اِن لوگوں میں سے کوئی نہ کوئی تم سے ضرور بدلہ میں قتل کردے گا،  اگر میں اِن سے اِس کا قصاص بھی لیتا تو بھی تمہارے خون کے بدلہ میں اُن کی پوری قوم کا خون بھی کافی نہ ہوتا۔  اِس لیے تمہارا معزول کردینا ہی مناسب سمجھا۔ یہ سن کر دونوں بھائیوں نے جھک کر بڑے بھائی المنتصر کے ہاتھ پر بوسہ لیا اور المنتصر نے دونوں کو گلے لگا کر واپس بھیجا۔[28] معتز اور مؤید ولی عہدی سے بروز ہفتہ 21 صفر 248ھ/ 25 اپریل 862ء کو معزول ہوئے۔[29][30][30]

متفرق واقعات[ترمیم]

المنتصر کی مدت خلافت چونکہ مختصر ہے اس لیے چند متفرق واقعات ابن جریر طبری (متوفی 310ھ/ 923ء) نے تحریر کیے ہیں جو یہ ہیں:

  • المنتصر نے اپنی بیعتِ خلافت کے ایک دن بعد ابو عمر احمد بن سعید کو حاکم فوجداری مقرر کیا جو بنو ھاشم کا آزاد کردہ غلام تھا، لیکن یہ اپنے عہدہ پر اچھا ثابت نہیں ہوا۔
  • ذوالحجہ 247ھ/ فروری 862ء میں المنتصر نے علی بن معتصم کو عباسی سامراء شہر سے نکال دیا اور اُس پر پہرہ مقرر کردیا۔
  • اِس سال یعنی 247ھ میں امیر حج محمد بن زیبی نے لوگوں کو حج کروایا۔[31]
  • 248ھ میں المنتصر نے وصیف الترکی کو موسم گرماء میں رومیوں سے جنگ کرنے کے لیے بھیجا، اِس لیے کہ قیصر روم نے بلاد الشام کو کھول دیا تھا۔ اِس موقع پر المنتصر نے وصیف الترکی کو تیار کیا اور اُس کو فوج فراہم کی اور اُسے حکم دیا کہ جب وہ رومیوں کی جنگ سے فارغ ہو جائے تو وہ چار سال تک سرحد پر ہی قیام کرے اور اُس نے اِس مہم کے لیے عراق کے نائب محمد بن عبداللہ بن طاہر کو ایک خط بھی لکھا جس میں لوگوں کو جنگ کی ترغیب و تحریص تھی۔[32]
  • معتز اور مؤید ولی عہدی سے بروز ہفتہ 21 صفر 248ھ/ 25 اپریل 862ء کو معزول ہوئے۔[29]

فتوحات[ترمیم]

المنتصر کا زمانہ نہایت مختصر تھا لیکن اِس مختصر زمانہ صقلیہ میں بعض فتوحات حاصل ہوئیں۔ 237ھ/ 851ء میں امیر صقلیہ ابو الاغلب عباس ابن الفضدی کی وفات ہوچکی تھی، اِس کے بعد اِس کا لڑکا عبداللہ ابن عباس امیر صقلیہ ہوا۔ اِس نے جبل بن مالک، ارمنین اور مشارعہ کے متعدد قلعے فتح کیے۔ 5 مہینوں کے بعد جمادی الاول 248ھ/ جولائی 862ء میں عبداللہ بن عباس کی جگہ خفاجہ بن سفیان امیر صقلیہ مقرر ہوا، اِس نے اپنے لڑکے محمود کو سرقوسہ روانہ کیا ۔ اِس نے سرقوسہ پر حملہ کرکے خوب لوٹا۔ اہل سرقوسہ نے مقابلہ کیا مگر ناکام رہے اور محمود صحیح و سالم واپس آ گیا۔ سرقوسہ سے واپسی کے بعد صقلیہ کے مختلف حصوں میں فتوحات حاصل ہوئیں، اِن فتوحات کا اختتام المستعین باللہ کے عہدِ حکومت میں ہوا۔[33]

وفات[ترمیم]

المنتصر کے عہد میں ترکوں کا اِقتدار بہت بڑھ گیا تھا اور ترکوں کی حمایت سے وہ تخت نشین ہوا تھا۔ ایک روز اُس نے وصیف الترکی کو ایک بڑی جمعیت کے ساتھ طرسوس میں السائفہ کے غازیوں کی جانب بھیج دیا اور اُس نے بغاء الصغیر کو محل میں ترکوں کی ایک جماعت کے ہمراہ آتے دیکھا، تو اُس نے فضل بن مامون کو کہا کہ اگر میں المتوکل علی اللہ کے قتل کرنے کی وجہ سے اِنہیں تتر بتر نہ کردوں اور اِن کو قتل نہ کروں تو اللہ تعالیٰ مجھے تباہ و برباد کردے۔ جب ترکوں نے اپنے ساتھ اِس سلوک اور عزم کو دیکھا تو وہ اِس موقع سے چلے گَئے۔ اِس واقعہ کے بعد المنتصر نے گرمی کی شکایت کی، اور پچھنے لگوانے کا ارادہ کیا۔ اِس کے بعد مشروب نوش کیا اورقویٰ ڈھیلے پڑگئے۔[34]

خیال کیا جاتا ہے بذریعہ نشتر فصد کھلوانے میں المنتصر کو زہر دیا گیا اور یہی قوی قول سبھی مؤرخین نے بیان کی ہے۔ مذکورہ بالا روایت المسعودی کی ہے مگر علامہ جلال الدین سیوطی سمیت سب مؤرخین زہر کو ہی وجہ موت گردانتے ہیں۔اِس بات پر سب کا اِتفاق ہے کہ زہر ترکوں کی اِیماء پر دیا گیا تھا۔ مؤرخ ابن جریر طبری (متوفی 310ھ/ 923ء) نے مختلف آراء وفات کے حوالہ سے پیش کی ہیں جو یوں ہیں کہ: وہ مرض جس میں المنتصر کی وفات ہوئی، وہ زیر اختلاف ہے البتہ المنتصر کی موت زہر کے سبب سے ہوئی۔[35] بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ المنتصر کی موت سر کے ورم سے واقع ہوئی کہ اُس کو سر درد کا عارضہ لاحق ہوا اور اُس کو طبیب ابن طیفور نے کان میں تیل ٹپکانے کا نسخہ تجویز کیا، تیل ٹپکایا گیا اور سر میں ورم پھیل گیا اور المنتصر کی موت واقع ہوئی۔[36][37][38]

المنتصر کو بروز جمعرات 25 ربیع الاول 248ھ/ 25 مئی 862ء کو حلق میں درد شروع ہوا اور معدہ میں ورم بڑھتا گیا جو قلب تک پہنچا۔[39][40] حرارتِ بدن کے سبب اُس نے طبیب ابن طیفور کو فصد کھولنے کا حکم دیا، اُس نے زہر آلود نشتر سے فصد کھولی اور اِسی نشتر سے المنتصر کی موت واقع ہوئی۔ ابن طیفور نے آلات حجامت کو زہر آلود کر رکھا تھا اور اُسے ایسا کرنے پر ترکوں نے مجبور کر رکھا تھا۔[41]

صحیح بات وہی ہے جسے علامہ جلال الدین سیوطی متوفی (911ھ/ 1505ء) نے بیان کیا ہے کہ: المنتصر خلیفہ ہونے کے بعد ترکوں کو برا بھلا کہا کرتا تھا اور کہتا تھا کہ یہ خلیفہ المتوکل علی اللہ کے قاتل ہیں۔ ترکوں نے بارہا اُس سے بدلہ لینے کا ارادہ کیا مگر اُس کی ہیبت، جلالت شجاعت و فطانت کی وجہ سے کامیاب نہ ہوسکے اور جب وہ بیمار ہوا تو طبیبِ خاص ابن طیفور کو 30 ہزار اشرفی دے کر مسموم آلہ سے فصد کھلوا دی۔ جس کے اثر سے المنتصر جانبر نہ ہوسکا اور فوت ہوگیا۔[42][43][44] بعد ازاں وہ طبیب ابن طیفور خود بھی بخار میں مبتلاء ہوا اور اُن تمام آلاتِ فصد کو لے کر محل سے نکل گیا تھا، اپنے ایک خادم کو فصد کھولنے کا کہا مگر بھول گیا کہ کون سا نشتر مسموم تھا؟۔  خادم نے اُسی زہرآلودہ آلہ سے فصد کھول دی اور ابن طیفور بھی اِسی زہر سے ہلاک ہوا۔[45] بعد ازاں وہ طبیب ابن طیفور خود بھی بخار میں مبتلاء ہوا اور اُن تمام آلاتِ فصد کو لے کر محل سے نکل گیا تھا، اپنے ایک خادم کو فصد کھولنے کا کہا مگر بھول گیا کہ کون سا نشتر مسموم تھا؟۔  خادم نے اُسی زہرآلودہ آلہ سے فصد کھول دی اور ابن طیفور بھی اِسی زہر سے ہلاک ہوا۔[46][47][48]

مؤرخ مسعودی (متوفی 356ھ/ 956ء) نے ایک واقعہ المنتصر کی علالت کا لکھا ہے کہ: ابن ابی الدنیا نے عبدالملک بن سلیمان بن ابی جعفر سے بیان کیا ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میں نے خواب میں المتوکل علی اللہ اور فتح ابن خاقان کو دیکھا، کہ دونوں آگ کا گھیراؤ کیے ہوئے ہیں اور المنتصر آکر اِن دونوں سے اندر آنے کی اجازت طلب کرتا ہے تو اُسے وہاں جانے سے روک دیا گیا، پھر المتوکل علی اللہ نے میری طرف متوجہ ہو کر کہا: اے عبدالملک! محمد  (یعنی المنتصر) سے کہہ دینا کہ جس جام سے تو نے ہمیں شراب پلائی تھی، اُس سے تو بھی شراب پی (مراد آلہ قتل کی جانب اشارہ ہے، کہ المنتصر نے اپنے باپ کو المتوکل علی اللہ کو قتل کروایا اور خود طبیب خاص ابن طیفور کے آلہ مسموم سے قتل ہوا) راوی کہتا ہے کہ جب صبح ہوئی تو میں المنتصر کے پاس گیا، وہ بکار میں مبتلاء تھا، میں پابندی سے اُس کی عیادت کرتا رہا اور میں نے اُسے بیماری کے آخر میں اُسے کہتا سنا:  ہم نے جلدی کی، پس ہم سے بھی جلدی کی گئی اور وہ اِسی بیماری سے مرگیا۔[49]

مؤرخ ابن جریر طبری نے بیان کیا ہے کہ المنتصر جب مرض الموت میں تھا تو اُس کی ماں اُس کے پاس آئی اور اُس سے پوچھنے لگی: تیرا کیا حال ہے؟ اُس نے کہا: مجھ سے دنیاء اور آخرت دونوں کھو گئی ہیں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جب لوگ اُس کے گرد جمع ہوگئے اور وہ زندگی سے مایوس ہوگیا تو اُس نے یہ شعر پڑھا:

میرا دل اس دنیاء سے جسے میں نے حاصل کیا تھا، خوش نہیں ہوا بلکہ میں رب کریم کے پاس جا رہا ہوں۔[50]

المنتصر نے بروز اتوار 5 ربیع الثانی 248ھ/ 7 جون 862ء کو بوقت نمازِ عصر عباسی سامراء میں انتقال کیا۔[51][52] اُس وقت عمر 25 سال 6 ماہ تھی۔[53] احمد بن محمد بن المعتصم باللہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور عباسی سامراء میں تدفین کی گئی۔[54][55] بنو عباس میں المنتصر باللہ پہلا خلیفہ ہے جس کی قبر کو اُس کی ماں حبشیہ رومیہ کے حکم پر نمایاں اور پختہ طرز پر بنایا گیا، اِس کی وجہ یہ ہے کہ اُس کی ماں حبشیہ رومیہ نے اِس بارے المنتصر سے پوچھا تھا تو اُس نے اپنی ماں کو اجازت دے دی تھی، اِس لیے عباسی سامراء میں المنتصر کی قبر کو اُس نے نمایاں اور پختہ کروا دیا۔[56][57]

مدتِ خلافت[ترمیم]

المنتصر کا عہدِ حکومت نہایت مختصر ہے یعنی بروز بدھ 4 شوال 247ھ/ 11 دسمبر 861ء سے بروز اتوار 5 ربیع الثانی 248ھ/ 7 جون 862ء تک ہے۔ یہ مدت بلحاظِ قمری ہجری تقویم کے 6 ماہ 1 دن اور بلحاظِ شمسی عیسوی تقویم کے 5 ماہ 27 دن ہے۔[58][59][60]

اوصاف و خصائل[ترمیم]

المنتصر بڑا متحمل، راسخ العقل، بہت نیکی کرنے والا، نیکی سے رغبت رکھنے والا، سخی، ادیب اور عفیف تھا۔ مکارم الاخلاق سے آراستہ تھا، وہ بڑا اِنصاف پسند اور حسن سلوک کرنے والا تھا، اِس سے قبل کوئی ایسا خلیفہ نہیں گزرا جبکہ اُس کا وزیر احمد بن خصیب بہت کم نیکی کرنے والا، بہت شریر اور بڑا جاہل شخص تھا۔[61] المنتصر نے جب رعیت میں عدل و انصاف کیا تو عوام و خواص کے دل باوجود اُس کی شدید ہیبت کے اُس کی طرف مائل ہوگئے۔ مؤرخ مسعودی (متوفی 356ھ/ 956ء) نے ایک بیان نقل کیا ہے کہ ابو الحسن احمد بن علی بن یحیی جو ابن الندیم کے نام سے معروف و مشہور ہے، نے مجھے بتایا کہ: میں نے المنتصر کی مانند کسی شخص کو نہیں دیکھا اور نہ ہی بغیر تکلیف اور فخر کرنے کے اُس سے کوئی اچھے افعال کرنے والا دیکھا ہے، اُس نے مجھے ایک روز اُس جاگیر کے سبب جو میری جاگیر کے پاس ہے (یعنی مؤرخ مسعودی کی اُس جاگیر کے نزدیک جو عباسی سامراء میں تھی) فکرمند اور مغموم دیکھا، کیونکہ میں اُسے خریدنا چاہتا تھا اور میں ہمیشہ اُس کے مالک کے پاس حیلے کرتا رہا یہاں تک اُس نے مجھے اُس کے بیچ دینے کے متعلق کیا، اُس وقت میرے پاس اُس کی قیمت کی رقم موجود نہ تھی۔ میں اُسی حالت میں المنتصر کے پاس چلا گیا۔ اُس نے میری چہرے اور دِل کی کیفیت کو بھانپ لیا اور مجھے کہا: میں تجھے فکر مند دیکھ رہا ہوں کہ میں نے تیرے متعلق کیا فیصلہ کیا ہے؟  میں اُس سے اپنی حقیقت اور حالت کو چھپانے لگا، اُس نے مجھے حلف دیا تو میں نے اُسے جاگیر کی بات سچ مچ بتادی۔ المنتصر نے مجھے کہا:  اُس کی قمیت کتنی ہے؟  میں نے کہا:  30 ہزار درہم۔  اُس نے پوچھا:  تمہارے پاس کتنے دراہم ہیں؟۔  میں نے کہا:  10 ہزار دراہم۔  پھر اُس نے مجھ سے پوچھنا بند کردیا اور مجھے جواب نہ دیا اور کچھ دیر کے لیے مجھ سے غافل ہوگیا۔ پھر اُس نے دوات اور کاغذ منگوایا، پھر اُس میں کچھ چیز رکھی جسے میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا تھی اور اُس کے سر کے پاس جو خادم کھڑا تھا، اُسے اِشارہ کیا جسے میں نہیں سمجھ سکا۔ غلام جلدی سے چلا گیا اور وہ مجھ سے باتیں کرنے لگا، یہاں تک کہ غلام آ کر اُس کے سامنے کھڑا ہوگیا تو المنتصر نے کھڑے ہوکر مجھے کہا:  اے علی! تو جب چاہے اپنے گھر چلے جانا۔ میں نے اُس سے سوال کرتے وقت ہی اندازا لگا لیا تھا کہ وہ میرے لیے پوری قیمت یا نصف قیمت کا حکم دے گا، میں آیا تو مجھے غم کا کوئی احساس ہی نہ تھا، جب میں اپنے گھر پہنچا تو میرا وکیل مجھے ملا اور کہنے لگا کہ امیر المومنین کا خادم ہمارے پاس آیا تھا، اُس کے ساتھ ایک خچر تھا، جس پر دو توڑے تھے، اُس نے اُنہیں ہمیں دے دیا اور مجھ سے اُن کی وصولی کی رسید لے لی۔ راوی کہتا ہے کہ مجھے اِس قدر خوشی ہوئی کہ میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا، میں گھر میں داخل ہوا اور میں نے وکیل سے بات کی۔ اُس وقت تک تصدیق نہ کی جب تک کہ وہ دونوں توڑے مجھے دے نہ دئیے گئے، تو میں نے اللہ کی اِس نعمت پر اُس کا شکریہ اداء کیا اور میں نے اُسی وقت جاگیردار کے پاس لے جا کر اُس کو پوری قیمت دے دی اور باقی دِن اُس جاگیر کے لینے اور فراخت کنندہ پر گواہیاں دلانے میں صرف کیا۔ پھر میں دوسرے دن صبح صبح المنتصر کے پاس گیا تو اُس نے مجھے دوبارہ ایک حرف بھی نہ کہا اور نہ مجھ سے جاگیر کے متعلق کچھ پوچھا یہاں تک کہ موت نے ہم میں جدائی ڈال دی۔[62]

جب المنتصر خلیفہ بنا تو وہ مسلسل لوگوں کو یعنی عوام کو کہتے سنتا رہا کہ یہ صرف 6 ماہ ہی خلافت کرتا رہے اور یہ مدتِ خلافت اُس شخص کی ہے جو خلافت کی وجہ سے اپنے باپ کو قتل کردے جیسا کہ شیرویہ بن کسریٰ نے جب اپنے باپ کو بادشاہت کی وجہ سے قتل کردیا تو 6 ماہ تک بادشاہ رہا اور ایسے ہی وقع پزیر ہوا۔[63]

مؤرخ اسلام امام عزالدین ابن الاثیر الجزری (متوفی 630ھ/ 1233ء) نے المنتصر کا قول نقل کیا ہے کہ:

اللہ کی قسم! اہل باطل کی کبھی ذلت سے نہیں بچ سکتے، خواہ اُن کی پیشانی سے مہتاب ہی کیوں نہ طلوع ہو اور اہل حق کبھی ذلیل نہیں ہوسکتے خواہ تمام عالم اُن کی ذلت پر کیوں نہ متفق ہو جائے۔[64][65]

اہل بیت اطہار کے ساتھ حسنِ عقیدت و سلوک[ترمیم]

المنتصر کے عہد سے قبل آل ابی طالب بڑی تکالیف میں تھے، اُنہیں اپنی جانوں کا خطرہ تھا۔ امام عالی مقام حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کی قبر اطہر کی زیارت کی ممانعت المتوکل علی اللہ کے عہد سے چلی آ رہی تھی۔ شیعانِ علی کا کوفہ اور کربلا میں داخلہ اور زیارت کرنا ممنوع تھا۔ یہ حکم المتوکل علی اللہ نے 237ھ/ 851ء میں جاری کیا تھا۔ اِس حکم کے تحت مشہد امام حسین ابن علی رضی اللہ عنہ منہدم کردیا گیا اور نشاناتِ مزارات مٹا دئیے گئے۔ یہ تمام تر حالات المنتصر کے عہد تک جاری رہے۔ المنتصر نے لوگوں کو امان دی اور آل ابی طالب سے مصائب کو دور کیا۔اپنے والد المتوکل علی اللہ کے برعکس اِس کو آل اطہار اہل بیت کے ساتھ بڑی عقیدت تھی۔ چنانچہ خلیفہ ہونے کے ساتھ ہی اِس نے علویوں اور اہل بیت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ یک قلم روک دیا اور اِن کے متعلق بحث و مباحثہ کی قطعی ممانعت کردی۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور جملہ آلِ ابی طالب کے مقابر کی زیارت کی عام اجازت دے دی۔ فدک حضرات حسنین کریمین رضوان اللہ علیہم کی اولاد کو واپس کردیا۔ علویوں کے جس قدر اوقاف تھے، سب واگزار کردئیے اور شیعانِ علی سے تعرض کرنے کی ممانعت کردی۔[66] آل ابی طالب کا وطن مدینہ منورہ تھا۔ یہاں کے حکام خلیفہ وقت کی مرضی کے مطابق اِن کے ساتھ سلوک کیا کرتے تھے اور عموماً اِن سے بدسلوکی کے عادی چلے آتے تھے، المنتصر نے جب مدینہ منورہ کے سابق حاکم صالح بن علی کو معزول کر کے علی بن حسن کو مدینہ بھیجا تو رخصت کرتے ہوئے کہا: علی! میں تم کو اپنے گوشت و خوں کی طرف بھیج رہا ہوں، دیکھوں اِن کے ساتھ تمہارا کیسا برتاؤ رہتا ہے؟  تم اِن کے لیے کیسے ثابت ہوتے پو؟  علی بن حسن نے جواب دیا:  ان شاء اللہ،  میں امیر المومنین کے فرمان کی پوری تعمیل کروں گا۔ المنتصر کے اِن اقدامات کو دیکھتے ہوئے عربی شاعر بُحتری نے اشعار کہے:

"علی تمہارے لیے بہتر ہے اور عمر کی نسبت تم پر بڑے اِحسان کرنے والا ہے اور مقابلہ کے روز ناتجربہ کاروں کی نسبت ہر ایک کو فضیلت اور خوبی حاصل ہے۔"  [67]

المنتصر باللہ کے عہد حکومت میں وفات پانے والے اعیان[ترمیم]

  • ابراہیم بن سعید الجوہری: ابو اسحاق ابراہیم بن سعید الجوہری بغدادی ہیں۔ حافظ الحدیث تھے اور صاحب تصانیف کثیرہ ہیں۔ علم الحدیث میں ایک کتاب بنام المسند کے مصنف ہیں۔ خلق کثیر نے اِن سے روایت کیا ہے۔[68]
  • ابو عثمان المازنی نحوی: نام بکر بن محمد بن عثمان بصری ہے۔ اپنے زمانہ کے شیخ الخاۃ تھے۔ آپ نے ابو عبیدہ بن امعی اور ابو زید الانصاری سے علم حاصل کیا۔ آپ سے ابو العباس المبرد نے تحصیل علم کیا۔ آپ کی بہت سی تصانیف ہیں۔ تقویٰ، زہد، امانت و ثقاہت کے لحاظ سے مانندِ فقہا تھے۔ عباسی خلیفہ الواثق باللہ کی آپ سے نحو و لغت میں طلبی بہت مشہور ہے۔ ابن سیبویہ کی کتاب پڑھایا کرتے تھے۔ سنہ 247ھ/ 862ء میں فوت ہوئے۔[69][70]
  • مَسْلَمْۃُ بن شبیب: نام مَسْلَمْۃُ بن شبیب اور کنیت ابو عبدالرحمٰن ہے۔ نیشاپور کے باشندے تھے۔ حافظ الحدیث تھے۔ ماہِ رمضان 247ھ میں مکہ مکرمہ میں فوت ہوئے۔ یزید بن ہارون سے بکثرت روایت کیا اور اِن سے امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے اور کبار آئمہ نے بھی روایت کیا۔[71]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حافظ شمس الدین الذہبی: سیر اعلام النبلاء، جلد 12، ص 42، رقم الترجمہ 131، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ، بیروت، لبنان، 1401ھ، 1981ء
  2. سیوطی: تاریخ الخلفاء،  صفحہ 394،  تذکرہ تحت در خلافت المنتصر باللہ العباسی ۔ مطبوعہ لاہور۔
  3. مفتی زین العابدین سجاد میرٹھی/ مفتی انتظام اللہ شہابی اکبرآبادی:  تاریخ ملت، جلد 2، ص 368، تذکرہ خلیفہ عباسی المنتصر باللہ،  مطبوعہ لاہور 1991ء۔
  4. المسعودی: مروج الذھب و معادن الجواہر، جلد 4، ص 641،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ کراچی، 1405ھ، 1985ء۔
  5. ابن کثیر الدمشقی: البدایہ والنہایہ، جلد 10، ص 432، تذکرہ تحت سنہ ہجری 248ھ۔ مطبوعہ لاہور۔
  6. ابن کثیر الدمشقی: البدایہ والنہایہ، جلد 10، ص 432، تذکرہ تحت سنہ ہجری 248ھ۔ مطبوعہ لاہور۔
  7. حافظ شمس الدین الذہبی: سیر اعلام النبلاء، جلد 12، ص 42، رقم الترجمہ 131، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ، بیروت، لبنان، 1401ھ، 1981ء
  8. شاہ معین الدین احمد ندوی:  تاریخ اسلام،  جلد 2، ص 208،   تذکرہ خلیفہ عباسی المنتصر باللہ۔  مطبوعہ 2004ء۔
  9. ابن کثیر الدمشقی: البدایہ والنہایہ، جلد 10، ص 432، تذکرہ تحت سنہ ہجری 248ھ۔ مطبوعہ لاہور۔
  10. سیوطی: تاریخ الخلفاء،  صفحہ 394،  تذکرہ تحت در خلافت المنتصر باللہ العباسی ۔ مطبوعہ لاہور۔
  11. شاہ معین الدین احمد ندوی:  تاریخ اسلام،  جلد 2، ص 208،   تذکرہ خلیفہ عباسی المنتصر باللہ۔  مطبوعہ 2004ء۔
  12. ابن جریر طبری: تاریخ الامم و الملوک، جلد 7، ص 67،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ لاہور۔
  13. ابن کثیر الدمشقی: البدایہ والنہایہ،  جلد 10، ص 427، تذکرہ تحت سنہ 247ھ،  مطبوعہ لاہور۔
  14. ابن جریر طبری: تاریخ الامم و الملوک، جلد 7، ص 67،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ لاہور۔
  15. شاہ معین الدین احمد ندوی:  تاریخ اسلام،  جلد 2، ص 200،   تذکرہ خلیفہ عباسی المتوکل علی اللہ۔  مطبوعہ 2004ء۔
  16. ابن الاثیر: الکامل فی التاریخ، جلد 6، ص 136/140،  ذکر قتل الخلیفۃ المتوکل علی اللہ،   مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت لبنان، 1423ھ، 2003ء۔
  17. ابن جریر طبری: تاریخ الامم و الملوک، جلد 7، ص 69،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ لاہور۔
  18. ابن الاثیر: الکامل فی التاریخ، جلد 6، ص 141،  ذکر حوادث سنہ 247ھ،   مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت لبنان، 1423ھ، 2003ء۔
  19. المسعودی: مروج الذھب و معادن الجواہر، جلد 4، ص 641،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ کراچی، 1405ھ، 1985ء۔
  20. شاہ معین الدین احمد ندوی:  تاریخ اسلام،  جلد 2، ص 205،   تذکرہ خلیفہ عباسی المنتصر باللہ۔  مطبوعہ 2004ء۔
  21. ابن جریر طبری: تاریخ الامم و الملوک، جلد 7، ص 74،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ لاہور۔
  22. ابن طقطقا:  الفخری فی الآداب السلطانیہ والدول الاسلامیہ،  ص 239،  تذکرہ خلافۃ المنتصر باللہ العباسی، مکتبہ دار صادر، بیروت، لبنان۔
  23. المسعودی: مروج الذھب و معادن الجواہر، جلد 4، ص 644، تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ کراچی، 1405ھ، 1985ء۔
  24. المسعودی: مروج الذھب و معادن الجواہر، جلد 4، ص 646،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ کراچی، 1405ھ، 1985ء۔
  25. شاہ معین الدین احمد ندوی:  تاریخ اسلام،  جلد 2، ص 206،   تذکرہ خلیفہ عباسی المنتصر باللہ۔  مطبوعہ 2004ء۔
  26. ابن جریر طبری: تاریخ الامم و الملوک، جلد 7، ص 78/79،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ سنۃ 247ھ، مطبوعہ لاہور۔
  27. شاہ معین الدین احمد ندوی:  تاریخ اسلام،  جلد 2، ص 207،   تذکرہ خلیفہ عباسی المنتصر باللہ۔  مطبوعہ 2004ء۔
  28. شاہ معین الدین احمد ندوی:  تاریخ اسلام،  جلد 2، ص 207،   تذکرہ خلیفہ عباسی المنتصر باللہ۔  مطبوعہ 2004ء۔
  29. ^ 29.0 29.1 ابن جریر طبری: تاریخ الامم و الملوک، جلد 7، ص 83،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ سنۃ 248ھ، مطبوعہ لاہور۔
  30. ^ 30.0 30.1 ابن کثیر الدمشقی: البدایہ والنہایہ، جلد 10، ص 431، تذکرہ تحت سنہ ہجری 248ھ۔ مطبوعہ لاہور۔
  31. ابن جریر طبری: تاریخ الامم و الملوک، جلد 7، ص 78،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ سنۃ 247ھ، مطبوعہ لاہور۔
  32. ابن کثیر الدمشقی: البدایہ والنہایہ، جلد 10، ص 431، تذکرہ تحت سنہ ہجری 248ھ۔ مطبوعہ لاہور۔
  33. شاہ معین الدین احمد ندوی:  تاریخ اسلام،  جلد 2، ص 205/206،   تذکرہ خلیفہ عباسی المنتصر باللہ۔  مطبوعہ 2004ء۔
  34. المسعودی: مروج الذھب و معادن الجواہر، جلد 4، ص 646،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ کراچی، 1405ھ، 1985ء۔
  35. ابن جریر طبری: تاریخ الامم و الملوک، جلد 7، ص 74،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ لاہور۔
  36. ابن جریر طبری: تاریخ الامم و الملوک، جلد 7، ص 74،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ لاہور۔
  37. ابن الاثیر: الکامل فی التاریخ، جلد 6، ص 148،  ذکر حوادث سنہ 248ھ،   مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت لبنان، 1423ھ، 2003ء۔
  38. ابن کثیر الدمشقی: البدایہ والنہایہ، جلد 10، ص 432، تذکرہ تحت سنہ ہجری 248ھ۔ مطبوعہ لاہور۔
  39. ابن جریر طبری: تاریخ الامم و الملوک، جلد 7، ص 87،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ لاہور۔
  40. ابن الاثیر: الکامل فی التاریخ، جلد 6، ص 148،  ذکر حوادث سنہ 248ھ،   مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت لبنان، 1423ھ، 2003ء۔
  41. ابن الاثیر: الکامل فی التاریخ، جلد 6، ص 148،  ذکر حوادث سنہ 248ھ،   مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت لبنان، 1423ھ، 2003ء۔
  42. سیوطی: تاریخ الخلفاء،  صفحہ 394،  تذکرہ تحت در خلافت المنتصر باللہ العباسی ۔ مطبوعہ لاہور۔
  43. مفتی زین العابدین سجاد میرٹھی/ مفتی انتظام اللہ شہابی اکبرآبادی:  تاریخ ملت، جلد 2، ص 371، تذکرہ خلیفہ عباسی المنتصر باللہ،  مطبوعہ لاہور 1991ء۔
  44. ابن الاثیر: الکامل فی التاریخ، جلد 6، ص 148،  ذکر حوادث سنہ 248ھ،   مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت لبنان، 1423ھ، 2003ء۔
  45. ابن جریر طبری: تاریخ الامم و الملوک، جلد 7، ص 87،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ لاہور۔
  46. سیوطی: تاریخ الخلفاء،  صفحہ 394،  تذکرہ تحت در خلافت المنتصر باللہ العباسی ۔ مطبوعہ لاہور۔
  47. ابن جریر طبری: تاریخ الامم و الملوک، جلد 7، ص 87،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ لاہور۔
  48. ابن الاثیر: الکامل فی التاریخ، جلد 6، ص 148،  ذکر حوادث سنہ 248ھ،   مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت لبنان، 1423ھ، 2003ء۔
  49. المسعودی: مروج الذھب و معادن الجواہر، جلد 4، ص 646،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ کراچی، 1405ھ، 1985ء۔
  50. ابن کثیر الدمشقی: البدایہ والنہایہ، جلد 10، ص 432، تذکرہ تحت سنہ ہجری 248ھ۔ مطبوعہ لاہور۔
  51. ابن جریر طبری: تاریخ الامم و الملوک، جلد 7، ص 87،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ لاہور۔
  52. ابن الاثیر: الکامل فی التاریخ، جلد 6، ص 148،  ذکر حوادث سنہ 248ھ،   مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت لبنان، 1423ھ، 2003ء۔
  53. ابن الاثیر: الکامل فی التاریخ، جلد 6، ص 148،  ذکر حوادث سنہ 248ھ،   مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت لبنان، 1423ھ، 2003ء۔
  54. مفتی زین العابدین سجاد میرٹھی/ مفتی انتظام اللہ شہابی اکبرآبادی:  تاریخ ملت، جلد 2، ص 371، تذکرہ خلیفہ عباسی المنتصر باللہ،  مطبوعہ لاہور 1991ء۔
  55. ابن الاثیر: الکامل فی التاریخ، جلد 6، ص 149،  ذکر حوادث سنہ 248ھ،   مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت لبنان، 1423ھ، 2003ء۔
  56. المسعودی: مروج الذھب و معادن الجواہر، جلد 4، ص 645،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ کراچی، 1405ھ، 1985ء۔
  57. ابن کثیر الدمشقی: البدایہ والنہایہ، جلد 10، ص 432، تذکرہ تحت سنہ ہجری 248ھ۔ مطبوعہ لاہور۔
  58. ابن جریر طبری: تاریخ الامم و الملوک، جلد 7، ص 87،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ لاہور۔
  59. ابن الاثیر: الکامل فی التاریخ، جلد 6، ص 148،  ذکر حوادث سنہ 248ھ،   مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت لبنان، 1423ھ، 2003ء۔
  60. ابن جریر طبری: تاریخ الامم و الملوک، جلد 7، ص 87،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ لاہور۔
  61. المسعودی: مروج الذھب و معادن الجواہر، جلد 4، ص 646،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ کراچی، 1405ھ، 1985ء۔
  62. المسعودی: مروج الذھب و معادن الجواہر، جلد 4، ص 649/650،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ کراچی، 1405ھ، 1985ء۔
  63. ابن کثیر الدمشقی: البدایہ والنہایہ، جلد 10، ص 432، تذکرہ تحت سنہ ہجری 248ھ۔ مطبوعہ لاہور۔
  64. ابن الاثیر: الکامل فی التاریخ، جلد 6، ص 149،  ذکر حوادث سنہ 247ھ،   مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت لبنان، 1423ھ، 2003ء۔
  65. شاہ معین الدین احمد ندوی:  تاریخ اسلام،  جلد 2، ص 209،   تذکرہ خلیفہ عباسی المنتصر باللہ۔  مطبوعہ 2004ء۔
  66. المسعودی: مروج الذھب و معادن الجواہر، جلد 4، ص 646/647، تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ کراچی، 1405ھ، 1985ء۔
  67. المسعودی: مروج الذھب و معادن الجواہر، جلد 4، ص 647،  تذکرہ خلافت المنتصر باللہ العباسی۔ مطبوعہ کراچی، 1405ھ، 1985ء۔
  68. حافظ شمس الدین الذہبی:  العبر فی خبر من غبر،  جلد 1، ص 353،  ذکر تحت سنۃ ہجریۃ 247ھ،  مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان۔ 1405ھ، 1985ء
  69. ابن کثیر الدمشقی: البدایہ والنہایہ، جلد 10، ص 430/431، تذکرہ تحت سنہ ہجری 248ھ۔ مطبوعہ لاہور۔
  70. حافظ شمس الدین الذہبی:  العبر فی خبر من غبر،  جلد 1، ص 353،  ذکر تحت سنۃ ہجریۃ 247ھ،  مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان۔ 1405ھ، 1985ء
  71. حافظ شمس الدین الذہبی:  العبر فی خبر من غبر،  جلد 1، ص 354،  ذکر تحت سنۃ ہجریۃ 247ھ،  مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان۔ 1405ھ، 1985ء
ذیلی شاخ بنو ہاشم
پیدائش: 837ء وفات: 7 جون 862ء
مناصب سنت
پیشرو 
المتوکل علی اللہ
خلیفہ اسلام
11 دسمبر 861ء – 7 جون 862ء
جانشین 
المستعین باللہ