منشی رام سہائے تمنا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
منشی رام سہائے تمنا
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1854  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لکھنؤ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 1932 (77–78 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب ہندومت
عملی زندگی
پیشہ صحافی،  شاعر،  مؤرخ،  مدیر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں احسن التواریخ
P literature.svg باب ادب

منشی رام سہائے تمنا لکھنوی (1854ء – 1932ء) دبستان لکھنؤ کے معروف شاعر، مورخ، صحافی اور مشہور مطبع تمنائی کے مالک تھے۔ نیز اس مطبع سے شائع ہونے والے اخبار تمنائی اور رسالہ دربار کے مدیر بھی رہے۔[1] انہوں نے متعدد رسالے بھی لکھے جن میں زیادہ تر مذہبی، قومی، اخلاقی اور درسی انداز کے تھے۔ ان کی نثری کاوشوں میں "احسن التواریخ یعنی تاریخ صوبہ اودھ" کو سب سے زیادہ مقبولیت نصیب ہوئی۔[2] علاوہ ازیں منشی رام سہائے تمنا نے دس مختصر رام کتھائیں بھی اردو زبان میں تحریر کی تھیں۔[3]

سوانح زندگی[ترمیم]

خاندانی حالات[ترمیم]

تمنا کا خاندان لکھنؤ کے قدیم محلہ نوبستہ میں آباد تھا اور نسبی اعتبار سے کایستھ سکسینہ تھا۔ رام سہائے تمنا لکھنؤ میں سنہ 1854ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد منشی پودن چند ذرہؔ لکھنوی (وفات 1900ء ولد لالہ ایشوری پرشاد شعاعیؔ لکھنوی ولد منشی اودے راج مطلعؔ لکھنوی) تھے۔ تمنا بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ ان سے چھوٹے بھائی منشی ماتا پرشاد نیساں (وفات 1937ء) اور منشی دوارکا پرشاد افقؔ لکھنوی (وفات 12 ستمبر 1913ء) تھے۔[4]

شادی[ترمیم]

تمنا کی شادی دس برس کی عمر میں کشن پیاری سے ہوئی جن کی عمر اس وقت آٹھ سال تھی۔ کشن پیاری کو بھی علم و ادب سے لگاؤ تھا اور شاعری بھی کرتی تھیں۔[5]

ملازمت[ترمیم]

تمنا سولہ برس کی عمر میں انسپکٹر سرشتہ تعلیم اودھ کے دفتر میں کلرک ہو گئے۔ اس کے بعد ترقی کرکے اناؤ میں ڈپٹی انسپکٹر کے عہدہ پر مامور ہوئے اور اسی عہدہ سے سبکدوش ہوئے۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

تمنا کئی درباروں سے وابستہ رہے جن میں راجہ بلرام پور کا دربار بھی تھا۔ وہ سنہ 1891ء میں حیدرآباد گئے اور انہیں 2 جولائی 1891ء کو نظام کے حضور میں باریابی کا شرف حاصل ہوا۔[6]

اولاد[ترمیم]

اولاد میں تین صاحبزادے تھے۔ بڑے صاحبزادے سیتلا سہائے ستائیس سال کی عمر میں 1906ء میں تمنا کی زندگی ہی میں انتقال کر گئے۔ ان کے بعد لکشمی سہائے اور ڈاکٹر گوری سہائے تھے۔[7]

شاعری[ترمیم]

تمنا شاعری میں اپنے ماموں منشی شنکر دیال فرحتؔ کے شاگرد تھے جو اخبار تمنائی اور رسالہ دربار کے ایڈیٹر بھی تھے۔[8]

تمنا کے کلام میں زبان و بیان کا حسن اور سیدھی سادھی جذبات نگاری ملتی ہے۔ چند اشعار نمونتا درج ذیل ہیں:

عشق کی لو میں جو پروانے کو جلتے دیکھا
شمع کو بھی غم عاشق میں پگھلتے دیکھا
بعد مردن وہی مٹی میں ملے خاک ہوئے
جن کو محلوں میں بڑے ناز سے پلتے دیکھا
تازگی کرم حق سے تمناؔ ہم نے
نخل امید دلی پھولتے پھلتے دیکھا
گل گلشن میں رنگ و بو نہ سہی
بے وفا کی بس آرزو نہ سہی
اے تمناؔ ہو آبرو سے بسر
تاج شاہی کی آرزو نہ سہی

احسن التواریخ[ترمیم]

"احسن التواریخ یعنی تاریخ صوبہ اودھ" تمنا کی اہم تالیف ہے جس کو انہوں نے بائیس برس کی عمر میں مکمل کیا تھا۔ اس کتاب میں اودھ کے قیام اور ابتدائی دور سے لے کر آخری دور تک، نیز انتزاع سلطنت اور اس کے بعد سنہ 1876ء تک کے حالات قلم بند کیے گئے ہیں۔ آخری دور کے حالات زیادہ تفصیل سے لکھے ہیں۔ آخری دور کے بہت سے حالات خود مولف کے مشاہدات پر مبنی ہیں۔ یہ کتاب پہلی دفعہ نومبر 1876ء میں مطبع تمنائی سے شائع ہوئی۔ اس کے بعد ذکی کاکوروی نے سنہ 1988ء میں مرکز علم و ادب لکھنؤ سے اس کا نیا ایڈیشن شائع کیا۔[9]

وفات[ترمیم]

رام سہائے تمنا نے اٹھتر سال کی عمر میں سنہ 1932ء ميں وفات پائی۔[10]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ہندو شعرا از عشرت لکھنوی، صفحہ 39-40، عازمی پریس لکھنؤ 1931ء
  2. احسن التواریخ، پیش لفظ از ذکی کاکوروی، صفحہ 11، مرکز ادب لکھنؤ 1988ء
  3. اردو میں رام کتھا، اجے مالوی، سہ ماہی فکر و تحقیق اپریل تا جون 2020ء
  4. احسن التواریخ، پیش لفظ از ذکی کاکوروی، صفحہ 13، مرکز ادب لکھنؤ 1988ء
  5. احسن التواریخ، پیش لفظ از ذکی کاکوروی، صفحہ 13، مرکز ادب لکھنؤ 1988ء
  6. احسن التواریخ، پیش لفظ از ذکی کاکوروی، صفحہ 14، مرکز ادب لکھنؤ 1988ء
  7. احسن التواریخ، پیش لفظ از ذکی کاکوروی، صفحہ 14، مرکز ادب لکھنؤ 1988ء
  8. احسن التواریخ، پیش لفظ از ذکی کاکوروی، صفحہ 15، مرکز ادب لکھنؤ 1988ء
  9. احسن التواریخ، پیش لفظ از ذکی کاکوروی، صفحہ 11-12، مرکز ادب لکھنؤ 1988ء
  10. احسن التواریخ، پیش لفظ از ذکی کاکوروی، صفحہ 14، مرکز ادب لکھنؤ 1988ء