ویکیپیڈیا:منتخب مضامین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(منصوبہ:منتخب مضمون سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ویکیپیڈیا کے منتخب مضامین

یہ ستارہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ منسلک مواد ویکیپیڈیا کے منتخب مواد میں شامل ہے۔

منتخب مضامین ویکیپیڈیا کے بہترین ترین مضامین کو کہا جاتا ہے، جیسا کہ انداز مقالات میں واضح کیا گیا ہے۔ اس سے قبل کہ مضمون کو اس فہرست میں شامل کیا جائے، مضامین پر نظرِ ثانی کے لئے امیدوار برائے منتخب مضمون میں شاملِ فہرست کیا جاتا ہے تاکہ مضمون کی صحت، غیرجانبداری، جامعیت اور انداز مقالات کی جانچ منتخب مضون کے معیار کے مطابق کی جاسکے۔ فی الوقت اردو ویکیپیڈیا پر 75 ہزاز سے زائد مضامین میں سے بہت کم منتخب مضامین موجود ہیں۔ جو مضامین منتخب مضمون کو درکار صفات کے حامل نہیں ہوتے، اُن کو امیدوار برائے منتخب مضمون کی فہرست سے نکال دیا جاتا ہے تاکہ اُن میں مطلوبہ بہتری پیدا کی جاسکے اور اُس کے بعد جب وہ تمام تر خوبیوں سے آراستہ و پیراستہ ہوجاتی ہیں تو اُنہیں دوبارہ امیدوار برائے منتخب مضمون کی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ مضمون کے بائیں جانب بالائی حصے پر موجود کانسی کا یہ چھوٹا سا ستارہ (یہ ستارہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ منسلک مواد ویکیپیڈیا کے منتخب مواد میں شامل ہے۔۔) اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ منسلک مواد ویکیپیڈیا کے منتخب مواد میں شامل ہے۔مزید برآں یکہ اگر کوئی مضمون بیک وقت کئی زبانوں میں منتخب مضمون کی حیثیت حاصل کرچکا ہے تو اسی طرح کا چھوٹا ستارہ دیگر زبانوں کے آن لائن پر دائیں جانب اُس زبان کے نام کے ساتھ نظر آئے گا۔

  • مضمون کے منتخب ہونے پر {{امیدوار برائے منتخب مضمون}} کا سانچہ ہٹا کر {{منتخب مقالہ}} سانچہ کا اندراج کر دیا جائے۔
مختصرراہ:
وپ:منتخب مضامین

منتخب مواد:

آلات منتخب مضمون:


مجموعات

·فنون، فنِ تعمیر اور آثارِ قدیمہ ·اعزاز،سجاوٹ اور امتیازیات ·حیاتیات ·تجارت، معیشت اور مالیات ·کیمیاء اور معدنیات ·کمپیوٹر ·ثقافت و سماج ·تعلیم ·انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی ·کھانا اور پینا ·جغرافیہ اور مقامات ·ارضیات، ارضی طبیعیات اور موسمیات ·صحت و طب ·تاریخ ·زبان و لسانیات ·قانون ·ادب اور فن کدہ ·ریاضیات ·شامہ میان (میڈیا) ·موسیقی ·فلسفہء اور نفسیات ·طبیعیات و فلکیات ·سیاسیات و حکومت ·مذہب، عقیدہ اور ضعف الاعتقاد ·شاہی، شریف اور حسب نسب ·کھیل اور تعمیری سرگرمیاں ·نقل و حمل ·بصری کھیل ·جنگ و جدل

2016/ہفتہ 35 [ترمیم]
Varanasi collage.png

وارانسی (ہندی: वाराणसी؛ جسے بنارس بھی کہا جاتا ہے) بھارت کی ریاست اتر پردیش کا ایک تاریخی شہر ہے۔ اس کا ایک اور معروف نام کاشی بھی ہے۔ دریائے گنگا کے بائیں کنارے آباد ہے۔ اصل نام وارانسی ہے جو بگڑ کر بنارس ہوگیا۔ ہندوؤں کے نزدیک بہت متبرک شہر ہے۔ یہاں ایک سو سے زائد مندر ہیں۔ ہر سال تقریباً دس لاکھ یاتری یہاں اشنان کے لیے آتے ہیں۔ شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کی تعمیر کردہ مسجد اسلامی دور کی بہترین یادگار ہے۔ بنارس ہندو یونیورسٹی جو 1916ء میں قائم کی گئی تھی بہت بڑی درس گاہ ہے۔ اس میں سنسکرت کی تعلیم کا خاص انتظام ہے۔ ہندومت کے علاوہ بدھ مت اور جین مت میں بھی اسے مقدس سمجھا جاتا ہے۔

وارانسی کی ثقافت اور دریائے گنگا کا انتہائی اہم مذہبی رشتہ ہے۔ یہ شہر صدیوں سے ہندوستان بالخصوص شمالی ہندوستان کا ثقافتی اور مذہبی مرکز رہا ہے۔ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کا بنارس گھرانا وارانسی سے ہی تعلق رکھتا ہے۔ بھارت کے کئی فلسفی، شاعر، مصنف، وارانسی ہیں، جن میں کبیر، رویداس، مالک رامانند، شوانند گوسوامی، منشی پریم چند، جيشكر پرساد، آچاریہ رام چندر شکلا، پنڈت روی شنکر، پنڈت ہری پرساد چورسیا اور استاد بسم اللہ خان کچھ اہم نام ہیں۔ یہاں کے لوگ بھوجپوری بولتے ہیں جو ہندی کا ہی ایک لہجہ ہے۔ وارانسی کو اکثر مندروں کا شہر، ہندوستان کا مذہبی دار الحکومت، بھگوان شو کی نگری، ديپوں کا شہر، علم نگری وغیرہ جیسے ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ مشہور امریکی مصنف مارک ٹوین لکھتا ہے "بنارس تاریخ سے بھی قدیم ہے، روایات سے بھی پرانا ہے"۔

 دیگر منتخب مضامین
2016/ہفتہ 36 [ترمیم]
کتسودوساشن

کاتسودو شاشین یا Katsudō Shashin (活動写真?, متحرک تصاویر) کو جاپان میں سب سے پرانی انیمیشن (متحرک تصویری کام) سمجھی جاتی ہے۔ اس کے خالق کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں، لیکن دستیاب حوالوں سے اندازاََ اس کی تخلیق 1907ء سے 1911ء کے درمیان میں ہوئی ہے۔ممکن ہے کے اسی کام سے مغربی انیمیشن کی جاپان میں ابتدا ہوئی۔ اسے کیوٹو میں 2005ء میں ایک گھر کے پرجیکٹر میں دریافت کیا گیا ۔تین سیکنڈ پر مشتمل اسے ایک لڑکے کو دکھایا گیا ہے جو "活動写真" لکھتا ہے اور اپنی ٹوپی اتار کر اسے لہراتا ہے۔ اس میں استعمال کئے گئے فریم سٹنسل (ایک طریقہ جس میں تصاویر کو سانچوں پر رنگ ڈال بنایا جاتا ہے) تھے جو سرخ اور کالے رنگ کے تھے ان تصاویر کو تیزی سے حرکت دی جاتی تھی۔ اس کارٹون کی تصاویر پچاس سیلوائڈ اس فریموں پر مشتمل ہے جو تین سیکنڈ دورانیہ کی ہے اور فریم کی رفتار 16 فریم فی سیکنڈ کی حساب سے ہے۔ اس میں سمندری جہاز ران کی وردی میں ملبوس ایک لڑکا کنجی علامات میں "活動写真" (katsudō shashin، or "متحرک تصاویر") لکھتا ہے، اس کے بعد وہ اپنا رخ ناظرین کی جانب کرتا ہے اور ٹوپی اتار کر انھیں سلیوٹ کرتا ہے۔}

روایتی انیمیشن کے طریقے کے برعکس اس میں تصویر کھینچ کر فریم کو نہیں بنایا گیا، لیکن اس کے برعکس اسے سانچے کی مدد سے سیدھے فلم پر ڈلا گیا ہے۔ اسے کپا بین تصاویر ایک 35 ملی میٹر فلم پٹی پر سرخ اور کالے رنگوں میں ہیں ان تصاویر کو تیزی سے گھومایا جاتا ہے تاکہ کے اسے تسلسل سے دیکھا جا سکے۔

 دیگر منتخب مضامین
2016/ہفتہ 37 [ترمیم]
Al-Shafie Name.png

محمد بن ادریس شافعی جو امام شافعی کے لقب سے معروف ہیں، سنی فقہی مذہب شافعی کے بانی ہیں۔ آپ کے فقہی پیروکاروں کو شافعی (جمع شوافع) کہتے ہیں۔ آپ کا عرصہ حیات مسلم دنیا کے عروج کا دور یعنی اسلامی عہد زریں ہے۔ خلافت عباسیہ کے زمانہ عروج میں مسلک شافعی کا بول بالا بغداد اور بعد ازاں مصر سے عام ہوا۔ 150ھ میں متولد ہوئے اور 204ھ میں فوت ہوئے۔ مذہب شافعی کے پیروکار زیادہ تر مشرقی مصر، صومالیہ، ارتریا، ایتھوپیا، جبوتی، سواحلی ساحل، یمن، مشرق وسطیٰ کے کرد علاقوں میں، داغستان، فلسطین، لبنان، چیچنیا، قفقاز، انڈونیشیا، ملائیشیا، سری لنکا کے کچھ ساحلی علاقوں میں، مالدیپ، سنگاپور، بھارت کے مسلم علاقوں، میانمار، تھائی لینڈ، برونائی اور فلپائن میں پائے جاتے ہیں۔

مشہور روایات کے مطابق امام شافعی کی ولادت ماہِ رجب 150ھ مطابق ماہِ اگست 767ء میں بمقام غزہ بلاد الشام (موجودہفلسطین) میں ہوئی۔ ربیع بن سلیمان مرادی کہتے ہیں کہ: امام شافعی اُس سال پیدا ہوئے جس سال امام ابوحنیفہ فوت ہوئے۔ امام شافعی کا اپنا قول ہے کہ میری ولادت 150ھ میں ملک شام کے شہر غزہ میں ہوئی اور 2 سال کی عمر میں مجھے مکہ لایا گیا، یعنی 152ھ مطابق 769ء میں۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ امام شافعی فرماتے ہیں کہ میں عسقلان میں پیدا ہوا اور دو سال کا ہوا تو میری والدہ مجھے مکہ کے آئیں۔

 دیگر منتخب مضامین
2016/ہفتہ 38 [ترمیم]
Al-Shafie Name.png

محمد بن ادریس شافعی جو امام شافعی کے لقب سے معروف ہیں، سنی فقہی مذہب شافعی کے بانی ہیں۔ آپ کے فقہی پیروکاروں کو شافعی (جمع شوافع) کہتے ہیں۔ آپ کا عرصہ حیات مسلم دنیا کے عروج کا دور یعنی اسلامی عہد زریں ہے۔ خلافت عباسیہ کے زمانہ عروج میں مسلک شافعی کا بول بالا بغداد اور بعد ازاں مصر سے عام ہوا۔ 150ھ میں متولد ہوئے اور 204ھ میں فوت ہوئے۔ مذہب شافعی کے پیروکار زیادہ تر مشرقی مصر، صومالیہ، ارتریا، ایتھوپیا، جبوتی، سواحلی ساحل، یمن، مشرق وسطیٰ کے کرد علاقوں میں، داغستان، فلسطین، لبنان، چیچنیا، قفقاز، انڈونیشیا، ملائیشیا، سری لنکا کے کچھ ساحلی علاقوں میں، مالدیپ، سنگاپور، بھارت کے مسلم علاقوں، میانمار، تھائی لینڈ، برونائی اور فلپائن میں پائے جاتے ہیں۔

مشہور روایات کے مطابق امام شافعی کی ولادت ماہِ رجب 150ھ مطابق ماہِ اگست 767ء میں بمقام غزہ بلاد الشام (موجودہفلسطین) میں ہوئی۔ ربیع بن سلیمان مرادی کہتے ہیں کہ: امام شافعی اُس سال پیدا ہوئے جس سال امام ابوحنیفہ فوت ہوئے۔ امام شافعی کا اپنا قول ہے کہ میری ولادت 150ھ میں ملک شام کے شہر غزہ میں ہوئی اور 2 سال کی عمر میں مجھے مکہ لایا گیا، یعنی 152ھ مطابق 769ء میں۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ امام شافعی فرماتے ہیں کہ میں عسقلان میں پیدا ہوا اور دو سال کا ہوا تو میری والدہ مجھے مکہ کے آئیں۔

 دیگر منتخب مضامین
2016/ہفتہ 39 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2016/ہفتہ 39

2016/ہفتہ 40 [ترمیم]
نوعمرچکری پر کام کرنے والا

پنجابی لوگ ہمہ اقسام کھیل کھیلتے ہیں۔ ان میں ہاکی اور کرکٹ سے لے کر کبڈی، کشتیاں اور کھدو کھوندی (ہاکی سے مشابہ کھیل) شامل ہیں۔ پنجاب میں 100 سے زائد روایتی کھیل موجود ہیں۔ بھارتی پنجاب کے لوگ کھیلوں میں خاص طور پر توجہ دیتے ہیں۔ اس کا انداز اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس چھوٹی سی ریاست میں 845 کھلاڑی ریاست کے محکمہ کھیل کے قائم کردہ مختلف کھیلوں کے تربیتی مراکز کے تحت کھیلوں پر اپنی پکڑ مضبوط کر رہے ہیں۔ یہ اپنے آپ میں ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ اپریل 2015ء میں حکومت پنجاب نے اسپورٹس اتھاریٹی آف انڈیا کے ساتھ تال میل کرتے ہوئے ریاستی کھیلوں کی سہولتوں اور تربیتی مراکز میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ماہرین کے مطابق سرکاری سطح پر تربیت یافتہ کھلاڑیوں کی تعداد آنے والے کچھ سالوں میں 1300 سے تجاوز کر جائے گی۔ اس سے ریاست میں کھیل کے پروان کے لیے زندہ تہذیب اور عوام میں کھیلوں کی جانب رغبت کا اندازہ ہوتا ہے۔

پنجاب کے روایتی کھیلوں کے فروغ کے لیے بھارتی پنجاب کی ریاستی حکومت 2014ء سے پنجاب کے روایتی کھیلوں کو فروغ دینے کے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کھیلوں میں کشتیاں جیسا ریاستی کھیل بھی شامل ہے۔

 دیگر منتخب مضامین
2016/ہفتہ 41 [ترمیم]

مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی (پیدائش:10 ربیع الاول ،1104ھ بمطابق 19 نومبر، 1692ء - وفات:6 رجب ،1174ھ بمطابق 11 فروری، 1761ء) سندھ کے علم و ادب کے حوالے سے بین الاقوامی شہرت یافتہ شہر ٹھٹہ سے تعلق رکھنے والے اٹھارویں صدی کے عظیم محدث، یگانۂ روزگار فقیہ اور قادر الکلام شاعر تھے۔ کلہوڑا دور کے حاکمِ سندھ میاں غلام شاہ کلہوڑا نے انہیں ٹھٹہ کا قاضی القضاۃ ( چیف جسٹس) مقرر کیا، انہوں نے بدعات اور غیر شرعی رسومات کے خاتمے کے لیے حاکم وقت سے حکم نامے جارے کرائے۔ ان کی وعظ، تقریروں اور درس و تدریس متاثر ہو کر بہت سے لوگ مسلمان ہوئے۔ ان کی تصانیف و تالیفات عربی، فارسی اور سندھی زبانوں میں ہیں۔ انہوں نے فقہ، قرآن، تفسیر، سیرت، حدیث، قواعد، عقائد، ارکان اسلام یعنی نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ سمیت تقریباً تمام اسلامی موضوعات پر لاتعداد کتب تحریر و تالیف کیں، کتب کی تعداد کچھ محققین کے اندازے کے مطابق 300 ہے، کچھ محققین 150 سے زیادہ خیال کرتے ہیں۔ ان کی گراں قدر تصانیف مصر کی جامعہ الازہر کے نصاب میں شامل ہیں۔ ان کے مخطوطات کی بڑی تعداد بھارت، سعودی عرب، ترکی، پاکستان، برطانیہ اور یورپ کے بہت سے ممالک کے کتب خانوں میں موجود ہیں۔ پاکستان خصوصاً سندھ اور بیرونِ پاکستان میں ان کی کتب کے مخطوطات کی دریافت کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔

 دیگر منتخب مضامین
2016/ہفتہ 42 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2016/ہفتہ 42

2016/ہفتہ 43 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2016/ہفتہ 43

2016/ہفتہ 44 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2016/ہفتہ 44

2016/ہفتہ 45 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2016/ہفتہ 45

2016/ہفتہ 46 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2016/ہفتہ 46

2016/ہفتہ 46 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2016/ہفتہ 46

2016/ہفتہ 47 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2016/ہفتہ 47

2016/ہفتہ 48 [ترمیم]

لاہور (پنجابی: لہور (شاہ مکھی): ਲਹੌਰ (گرمکھی)؛ ہندی: लाहौर؛ عربی: لاهور‎؛ فارسی: لاھور‎؛ انگریزی: Lahore) صوبہ پنجاب پاکستان کا دار الحکومت اور دوسرا بڑا شہر ہے۔ اسے پاکستان کا ثقافتی، تعلیمی اور تاریخی مرکز اور پاکستان کا دل اور باغوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ شہر دریائے راوی کے کنارے واقع ہے۔ اس شہر کی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے اور یہ ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ لاہور کا شمار دنیا کے قدیم اور اہم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ زندہ دلان لاہور کے روایتی جوش و جذبے کے باعث اسے بجا طور پر پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نورجہاں نے لاہور کے بارے میں کہا تھا۔

لاہور رابجان برابر خریدہ ایم جاں دارایم و جنت دیگر خریدہ ایم

لاہور کی انتہائی قدیم تاریخ ہزاروں سال پر پھیلی ہوئی ہے۔ پرانوں کے مطابق رام کے بیٹے راجہ لوہ نے شہر لاہور کی بنیاد رکھی اور یہاں ایک قلعہ بنوایا۔ دسویں صدی تک یہ شہر ہندو راجائوں کے زیرتسلط رہا۔ گیارہویں صدی میں سلطان محمود غزنوی نے پنجاب فتح کرکے ایاز کو لاہور کا گورنر مقرر کیا، اور لاہور کو اسلام سے روشناس کرایا۔ شہاب الدین غوری نے 1186ء میں لاہور کو فتح کیا۔ بعدازاں یہ خاندان غلاماں کے ہاتھوں میں آ گیا۔ 1290ء میں خلجی خاندان، 1320ء میں تغلق خاندان، 1414ء سید خاندان 1451ء لودھی خاندان کے تحت رہا۔

ظہیر الدین بابر نے 1526ء میں ابراہیم لودھی کو شکست دی جس کے نتیجے میں مغلیہ سلطنت وجود میں آئی۔ مغلوں نے اپنے دور میں لاہور میں عظیم الشان عمارات تعمیر کروائیں اور کئی باغات لگوائے۔ اکبر اعظم نے شاہی قلعہ کو ازسرنو تعمیر کروایا۔ شاہجہان نے شالامار باغ تعمیر کروایا جو اپنی مثال آپ ہے۔ 1646ء میں شہزادی جہاں آرا نے دریائے راوی کے کنارے چوبرجی باغ تعمیر کروایا جس کا بیرونی دروازہ آج بھی موجود ہے۔ 1673ء میںاورنگزیب عالمگیر نے شاہی قلعہ کے سامنے بادشاہی مسجد تعمیر کروائی۔

1739ء میں نادر شاہ اور 1751ء میں احمد شاہ ابدالی نے لاہور پر قبضہ جمایا۔ بعدازاں 1765ء میں سکھوں نے لاہور پر قبضہ کر لیا۔ سکھ دور میں مغلیہ دور کی کئی عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا اور ان کی بے حرمتی کی گئی۔ انگریزوں نے 1849ء میں سکھوں کو شکست دیکر پنجاب کو برطانوی سلطنت میں شامل کر لیا۔

لاہور کو ایک منفرد اعزاز حاصل ہوا کہ 23 مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ نے قائداعظم کے زیر صدارت میں قرارداد پاکستان منظور کی جس کے نتیجے میں 14 اگست 1947ء کو مسلمانوں کو اپنا الگ آزاد ملک پاکستان حاصل ہوا۔ فروری 1974ء میں اس شہر نے دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کی میزبانی بھی کی۔

لاہور کے قریب شہر امرتسر، صرف 31 میل دور واقع ہے جو سکھوں کی مقدس ترین جگہ ہے۔ اسکے شمال اور مغرب میں ضلع شیخوپورہ، مشرق میں واہگہ اور جنوب میں ضلع قصور واقع ہیں۔ دریائے راوی لاہور کے شمال مغرب میں بہتا ہے۔

 دیگر منتخب مضامین
2016/ہفتہ 49 [ترمیم]
پوٹوچاری میں ایک اجتماعی قبر، تصویر 2007ء

سریبرینیتسا قتل عام جسے سریبرینیتسا نسل کشی بھی کہا جاتا ہے، جولائی 1995ء میں سرب افواج نے ایک ہی دن میں 8,000 سے زیادہ مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا، جن میں بڑی تعداد مردوں اور لڑکوں کی شامل تھی۔ سریبرینیتسا بوسنیا و ہرزیگووینا کا ایک شہر ہے۔ یہ شہر بوسنیا و ہرزیگووینا کے علاقے سرپسکا میں شامل ہے جو قدرے آزاد ہے۔ سرپسکا سرب اکثریتی علاقہ ہے مگر سریبرینیتسا ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔بوسنیا و ہرزیگووینا کو دو علاقوں میں تقسیم کیا گیا تھا جس میں سے ایک وفاق بوسنیا و ہرزیگووینا کہلاتا ہے اور دوسرا سرپسکا کہلاتا ہے۔ 24 مارچ 2007ء کو سریبرینیتسا کی پارلیمان نے ایک قرارداد منظور کی جس میں سرپسکا سے علیحدگی اور وفاق بوسنیا میں شمولیت منظور کی گئی۔ اس میں سربوں نے حصہ نہیں لیا تھا۔ سریبرینیتسا میں بوسنیائی مسلمان 63 فی صد سے زیادہ ہیں۔ یہاں سونے، چاندی اور دیگر کانیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 1995ء کے قتلِ عام سے پہلے یہاں فولاد کی صنعت بھی مستحکم تھی۔ 12، 13 جولائی 1995ء کو سرب افواج نے اس شہر پر قبضہ کیا اور ایک ہی دن میں آٹھ ہزار مردوں اور لڑکوں کا قتل عام کیا۔ اس کے علاوہ علاقہ سے جان بچا کر بھاگنے والے ہزاروں افراد کی بیشتر تعداد مسلمان علاقے تک پہنچنے کی کوشش کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ یہ قتل عام شہر میں اقوام متحدہ اور نیٹو (NATO) افواج کی موجودگی میں ہوا جو اس پر خاموش تماشائی بنے رہے۔ ہیگ کی جرائم کی عالمی عدالت (بین الاقوامی فوجداری ٹرائبیونل برائے سابقہ یوگوسلاویہ) نے 2004ء میں اس قتل عام کو باقاعدہ نسل کشی قرار دیا۔

 دیگر منتخب مضامین
2016/ہفتہ 50 [ترمیم]
میلکم ایکس

میلکم ایکس (پیدائشی نام: میلکم لٹل) جو الحاج ملک الشہباز کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں ایک سیاہ فام مسلمان اور نیشن آف اسلام کے قومی ترجمان تھے۔ وہ 19 مئی 1925ء کو امریکہ کی ریاست نیبراسکا میں پیدا ہوئے اور 21 فروری 1965ء کو نیو یارک شہر میں ایک قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہوئے۔ وہ مسلم مسجد اور آرگنائزیشن آف ایفرو امریکن کمیونٹی کے بانی بھی تھے۔

ان کی زندگی میں کئی موڑ آئے اور وہ ایک منشیات فروش اور ڈاکو بننے کے بعد گرفتار ہوئے اور رہائی کے بعد امریکہ میں سیاہ فاموں کے حقوق کا علم بلند کیا اور دنیا بھر میں سیاہ فاموں کے سب سے مشہور رہنما بن گئے۔ بعد ازاں انہیں شہید اسلام اور نسلی برابری کے رہنما کہا گیا۔ وہ نسلی امتیاز کے خلاف دنیا کے سب سے بڑے انسانی حقوق کے کارکن کے طور پر ابھرے۔

1964ء میں حج بیت اللہ کے بعد انہوں نے نیشن آف اسلام کو خیر باد کہہ دیا اور عام مسلمان کی حیثیت اختیار کر لی۔ اس کے بعد ایک سال سے بھی کم عرصے میں نیو یارک میں قتل کردیے گئے۔ نیشن آف اسلام کے تین کارکنوں کو ان کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا لیکن کہا جاتا ہے۔ امریکی حکومت کے بھی ان کے قتل کی سازش میں ملوث تھی۔

 دیگر منتخب مضامین
2016/ہفتہ 51 [ترمیم]
سلیمان اعظم

سلیمان اول (المعروف سلیمان قانونی اور سلیمان اعظم) سلطنت عثمانیہ کے دسویں فرمانروا تھے جنہوں نے 1520ء سے 1566ء تک 46 سال تک حکمرانی کے فرائض انجام دیئے۔ وہ بلاشبہ سلطنت عثمانیہ کے سب سے عظیم حکمران تھے جنہوں نے اپنے بے مثل عدل و انصاف اور لاجواب انتظام کی بدولت پوری مملکت اسلامیہ کو خوشحالی اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن کردیا۔ انہوں نے مملکت کے لئے قانون سازی کا جو خصوصی اہتمام کیا اس کی بنا پر ترک انہیں سلیمان قانونی کے لقب سے یاد کرتے ہیں جبکہ مغرب ان کی عظمت کا اس قدر معترف ہے کہ مغربی مصنفین انہیں سلیمان ذیشان یا سلیمان عالیشان اور سلیمان اعظم کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان کی حکومت میں سرزمین حجاز، ترکی، مصر، الجزائر، عراق، کردستان، یمن، شام، بیت المقدس، خلیج فارس اور بحیرہ روم کے ساحلی علاقے، یونان اور مشرقی و مغربی ہنگری شامل تھے۔

 دیگر منتخب مضامین
2016/ہفتہ 52 [ترمیم]

سلطان صلاح الدین یوسف بن ایوب ایوبی سلطنت ( کر دی ناوندی : سەلاحەدینی ئەییووبی / کر دی کرمانجی : Selahedînê Eyûbî )کے بانی تھے۔ وہ نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم کے مشہور ترین فاتحین و حکمرانوں میں سے ایک ہیں ۔ وہ 1138ء میں موجودہ عراق کے شہر تکریت میں پیدا ہوئے۔ ان کی زیر قیادت ایوبی سلطنت نے مصر، شام، یمن، عراق، حجاز اور دیار بکر پر حکومت کی۔ صلاح الدین ایوبی کو بہادری، فیاضی، حسن خلق، سخاوت اور بردباری کے باعث نہ صرف مسلمان بلکہ عیسائی بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ صلاح الدین کو فاتح بیت المقدس کہا جاتا ہے جنہوں نے 1187ء میں یورپ کی متحدہ افواج کو عبرتناک شکست دے کر بیت المقدس ان سے آزاد کروا لیا تھا۔

سلطان صلاح الدین نسلاً کرد تھے اور 1138ء میں کردستان کے اس حصے میں پیدا ہوۓ جو اب عراق میں شامل ہے ۔ شروع میں وہ سلطان نور الدین زنگی کے یہاں ایک فوجی افسر تھے۔ مصر کو فتح کرنے والی فوج میں صلاح الدین بھی موجود تھے اور اس کے سپہ سالار شیر کوہ صلاح الدین کے چچا تھے۔ مصر فتح ہو جانے کے بعد صلاح الدین کو 564ھ میں مصر کا حاکم مقرر کردیا گیا۔ اسی زمانے میں 569ھ میں انہوں نے یمن بھی فتح کرلیا۔ نور الدین زنگی کے انتقال کے بعد صلاح الدین حکمرانی پر فائز ہوۓ۔

 دیگر منتخب مضامین