منصور آفاق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
منصور آفاق
معلومات شخصیت
پیدائش 17 جنوری 1962 (57 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
میانوالی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
اولاد صاحب منصور۔ عادل منصور
عملی زندگی
تعليم ماہر اردو۔ جامعہ پنجاب، لاہور
پیشہ شاعر،  ڈراما نگار،  ادبی تنقید نگار،  صحافی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

منصور آفاق (پیدائش : 17 جنوری 1962ء) معروف شاعر اور ادیب ہیں۔ منصور آفاق کا کالم دیوار پر دستک جنگ لندن میں شایع ہوتا ہے۔ منصورآفاق نے پی ٹی وی اور دوسرے چینلز کے لیے کئی ٹی وی سیریلز تحریر اور ڈائرکٹ کیے ہیں، جن میں زمین، دنیا، پتھر اور کہہ جانڑاں میں قابلِ ذکر ہیں۔ منصور آفاق جدید شاعری میں اپنے منفرد لہجے کے باعث خصوصی مقام رکھتے ہیں۔[1]

اُنہوں نے لکھنے کا آغاز سولہ سال کی عمر سے کیا۔ بہت کم عمری میں کامیابی نے اُن کے قدم چومے۔ وہ پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے سب سے کم عمر ڈراما سیریل رائٹر ہیں۔

آفاق نما ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ اٹھارہ سال کی عمر میں شائع ہوا اور ان کے لکھے ہوئے خاکوں کا مجموعہ چہرہ نما بیس سال عمر میں شائع ہوا۔ غزل، نعت، ڈراما، تنقید، تحقیق، کالم نگاری، ناول نگاری اور جدید نظم میں انہوں نے ہمیشہ زندہ رہنے والا کام کیا۔

منصور آفاق ایک معتبر فلمی نقاد بھی ہیں۔ وہ ایک طویل عرصہ تک روزنامہ نوائے وقت میں فلموں اور ٹی وی پروگراموں پر تبصرے کر تے ہیں۔ برطانیہ میں سوسائٹی آف کلچر اینڈ ہیرٹج کے تحت کام کرنے والی ایسٹ فلم اکیڈمی میں اداکاری اور سکرپٹ رائیٹنگ پر لیکچربھی دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے اردو میں ڈائریکشن کے موضوع ایک کتاب تتلی کاشاٹ کے نام سے بھی تحریر کی ہے۔

یادگار ڈراما سریلز[ترمیم]

  • 1991 میں ڈراما سیریل زمین لکھا جو پچاس منٹ دورانیہ کا تیرہ افساط پر مشتمل ڈراما تھا [2]
  • 1993میں ڈراما سیریل پتھر لکھا اور ڈائریکٹ کیا۔ یہ پچاس منٹ دورانیہ کا اٹھارہ اقساط پر مشتمل ڈراما سریل تھا۔[3]
  • 1994میں ڈراما سیریل دنیا لکھا۔ منصور آفاق کے اس ڈراما سریل بہت شہرت ملی [4]
  • 1996 میں ڈراما سریل شام لکھااور ڈائریکٹ کیا
  • اس کے علاوہ 86 انڈیپنڈنٹ پلے لکھے اور ڈائریکٹ کیے کن میں پچاس منٹ دوانیہ کے اور لانگ پلے بھی شامل ہیں
  • منصور آفاق کے ڈراما سریل پی ٹی وی۔ ایس ٹی این اور زی ٹی وی پر آن ایئر ہوئے
  • 2008 میں منصور آفاق نے ڈمنشیا کے موضوع پر Journey of Money [5] کے نام سے نیشنل ہیلتھ سروسز کے لیے ایک ڈراما لکھا اور ڈائریکٹ کیا اسے رائل کالج آف سائیکاٹرسٹس[6] نے بھی اپنی ویب سائیٹ پر آویزاں کیا ہوا ہے۔[5]

قابل قدر کتابیں[ترمیم]

  • 1984ء میں نعتیہ مجموعہ آفاق نما شائع ہوا۔ شائع کردہ نمکسار پبلیشرز۔ میانوالی
  • 1985میں خاکوں کی کتاب چہرہ نما شائع ہوئی۔۔ شائع کردہ مکتبہ پرچول۔ میانوالی
  • 1993میں تنقیدی کتاب میں وہ اور اعطالحق قاسمی اشاعت پزیر ہوئی۔ شائع کردہ:مقبول اکادمی۔ مال روڈ لاہور[7]
  • 1996میں منصور احمد کے ساتھ مل کر احمدندیم قاسمی کے متعلق منظوم خراج عقیدت پر گل پاشی کے نام سے ایک کتاب مرتب کی۔ شائع کردہ اساطیر پبلیشرز لاہور
  • 1998میں سرائیکی گرائمر کے نام سے سرائیکی زبان کی گرائمر پر سرائیکی زبان ایک کتاب شائع ہوئی۔۔ شائع کردہ نمکسار پبلیشرز۔ میانوالی
  • 2002 میں برطانیہ سے اردو اور انگریزی زبان کا ادبی میگزین انکوٹ نکالنا شروع کیا۔۔ شائع کردہ سوساٹٹی آف کلچر اینڈ ہیریٹج۔ برطانیہ
  • 2005 میں ان کا شعری مجموعہ نیند کی نوٹ بک شائع ہوا۔ شائع کردہ اساطیر پبلیشرز۔ لاہور
  • 2007میں محبت کے موضوع پر ان کی نظموں اور غزلوں کا مجموعہ میں عشق میں ہوں شائع ہوا۔ شائع کردہ نستعلیق پبلیشرز۔ اردو بازار لاہور
  • 2008 میں ان کی کتاب عارف نامہ شائع ہوئی۔ شائع کردہ نستعلیق پبلیشرز۔ اردو بازار لاہور
  • 2009میں ان کی نظموں کی مجموعہ عہد نامہ شائع ہوِا۔۔۔ شائع کردہ سوساٹٹی آف کلچر اینڈ ہیریٹج۔ برطانیہ

دیوان منصور آفاق[ترمیم]

منصور آفاق کی تقریباً چار سو غزلیات ویکی کتب میں دیوان منصور آفاق] ۔،[8] کے نام سے موجود ہیں۔ جن میں "الف ردیف" [9] سے لے کر "ے ردیف" [10] تک شامل ہیں۔ اردو شاعری کے اساتذہ کے بعد یہ پہلا دیوان ہے جس میں ردیفوں کے مطابق غزلیات شامل کی گئی ہیں۔ منصور آفاق نے وہ ردیقین بھی استعمال کی ہیں جو کسی استاد نہیں کیں مثال کے طورپر [11] "ڑ ردیف" [12] " ڈ ردیف" [13]"ز ردیف"[14] اس دیوان کے جملہ حقوق[15] بھی منصور آفاق نے اوپن رکھے ہوئے ہیں۔ دیوان منصور آفاق انٹر نٹ پر"اردو کی برقی کتابیں" [16] کی لاٗئبریری میں بھی "دیلیز جاں" [17] کے عنوان سے موجود ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]