منطق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مَنطِق ایک قدیم سائنسی علم ہے جس میں کسی بھی لفظ کی تعریف اور استدلال (يا استنتاج) کے طریقہ کار اور اصولوں پر بحث کی جاتی ہے۔[1] اس کا بانی ارسطو کو قرار دیا جاتا ہے۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

منطق لفظ نطق کا مصدرمیمی ہے جس کے معنی ہے گفتگو کرنا۔ کیونکہ یہ علم، ظاہری اور باطِنِی نُطْقْ میں نکھار پیدا کرتا ہے اس لئے اسے منطق کہتے ہیں۔ نطقِ ظاہری (تکلّم) میں نکھار سے مراد یہ ہے کہ اس علم کا جاننے والا دوسروں کے مقابلے میں اچھے انداز سے گفتگو کر سکتاہے۔ اور نطق باطنی (ادراک) میں نکھارسے مراد یہ ہے کہ اس علم کا جاننے والا اشیاء کے حقائق یعنی ان کی اجناس اورفصول وغیرہ سے واقف ہو جاتا ہے۔

موجد[ترمیم]

علم منطق کو سب سے پہلے ارسطو نے سکندر اعظم کے حکم سے وضع کیا۔

علمِ منطق کی تعریف[ترمیم]

منطق کے لُغوی معنی گفتگو کرنا ہے جبکہ اصطلاح میں اس کی تعریف یہ ہے:
ایسے قوانین کا جاننا جن کا لحاظ اور رعايت ذہن کوغور و فکر میں غلطی سے بچا لے۔

موضوع[ترمیم]

وہ معلومات تصوریہ اور معلومات تصدیقیہ جو مجہول تصوری اور مجہول تصدیقی تک پہنچا دیں۔ منطق کا موضوع معلومات تصوریہ اور معلو مات تصدیقیہ ہیں، معلومات تصدیقیہ کو حجت کہتے ہیں۔

اس لیے علم منطق کے دو اہم باب ہیں:

  • باب تصورات جس میں مفردات کے بارے میں بحث ہوتی ہے۔
  • تصدیقات جس میں جملوں یا قضایا کے بارے میں بحث ہوتی ہے۔

تصورات[ترمیم]

تصورات کے اہم موضوعات دلالت، الفاظ کی تقسیمات، مفہوم کلی، نسب اربعہ اور تعریف ہیں تعریف کو قولِ شارح اور معرِّف بھی کہتے ہیں ۔ تعریف یعنی معلوم تصوری سے مجہولِ تصوری کو حاصل کرنا۔ جیسے حیوانِ ناطق سے انسان کا علم حاصل ہوتا ہے۔ لہذا حیوانِ ناطق معرِّف اور انسان معرَّف ہے ۔

مزید وضاحت: تعریف یعنی کسی شئے کا معرف وہ مفہوم ہوتا ہے جو اس شے پر محمول ہو،تاکہ اس شئے کے تصور کا فائدہ دے۔ مثلاً حیوانِ ناطق ،انسان کے لئے۔

تصدیقات[ترمیم]

اس باب میں قضیہ (جملہ) کی تعریف، اقسام اور استدلال یا استنتاج کی تعریف اور اسکے مختلف طریقوں کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ اس باب کو باب حجت بھی کہاجاتا ہے۔ حجت یا احتجاج عربی زبان میں استدلال کو کہتے ہیں۔ استدلال کے تین طریقے ہیں:

  1. قیاس
  2. استقراء
  3. تمثیل

غرض وغایت[ترمیم]

کسی چیز میں غوروفکر کرتے وقت ذہن کو غلطی سے بچانا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ المنطق، مولف: علامہ مظفر، ج2، ص15
  2. ^ نصاب المنطق، مصنف:مجلس المدینۃ العلمیۃ