منطقی اثباتیت
منطقی اثباتیت (انگریزی: Logical positivism) ایک مغربی فلسفے کی ایک ایسی شاخ ہے جس کے مطابق صرف وہی علم "حقیقی" ہے جسے انسانی حواس (دیکھنا، سننا، چھونا وغیرہ) کے ذریعے ثابت کیا جا سکے۔ اس فلسفے کے علمبردار اے جے آئر اور دیگر مغربی فلسفی تھے۔ یہ لوگ روایتی مذہبی عقائد کو "بے معنی" قرار دیتے ہیں کیونکہ ان کا تجربہ حواس سے ممکن نہیں۔
تنقید
[ترمیم]تاہم منطقی اثباتیت کا یہ دعویٰ کہ "صرف حسی علم ہی حقیقی ہے"، خود ایک ایسا دعویٰ ہے جسے کسی سائنسی تجربے یا حواس سے ثابت نہیں کیا گیا۔ لہٰذا، ان کے اپنے اصول کے مطابق، ان کا اپنا یہ فلسفہ بھی "بے معنی" اور ایک "مابعد الطبیعیاتی عقیدہ" ٹھہرتا ہے۔علم خود کوئی مادی یا حسی چیز نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، ہم کرسی کو تو دیکھ سکتے ہیں لیکن "کرسی کا علم" (Knowledge of the chair) کوئی ایسی چیز نہیں جسے حواس سے چھوا یا دیکھا جا سکے۔ علم ایک غیر حسی حقیقت ہے اور اس سے انکار ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ بالواسطہ علم کی اہمیت اپنی جگہ ہے، مثال کے طور پراگر لوگوں کو آگ نظر نہ آئے لیکن دھواں نظر آ رہا ہو، تو ہم دھوئیں کے ذریعے آگ کی موجودگی کا یقینی علم حاصل کر لیتے ہیں۔ اسی طرح ایٹم کو براہ راست دیکھے بغیر اس کے اثرات سے اس کا علم حاصل کیا گیا، جو انتہائی یقینی ہے۔[1]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Abul Bashar Ahmad Tayyab (نومبر 2017)۔ "Khudi aur Mantiqi Isbat-iyat, Dr. Muhammad Rafi-ud-Din (خودی اور منطقی اثباتیت، ڈاکٹر محمد رفیع الدین ؒ)" [Selfhood and Logical Positivism, Dr. Muhammad Rafi-ud-Din]۔ Urdu Daira Maarif-e-Islami۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-04-14