منظورآباد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
منظورآباد (مردیکے)
دیہات
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
صوبہ
Flag of Punjab.svg
پنجاب
ڈویژن گوجرانوالہ
ضلع گوجرانوالہ
تحصیل وزیر آباد
یونین کونسل 08
آبادی 23094
منطقۂ وقت پاکستان کا معیاری وقت (UTC+5)

مردیکے (منظور آباد)ایک قدیم تاریخی حثیت کا حامل گاؤں ہے جو ضلع گوجرانوالہ میں آتا ہے 1665ء میں جھانگیر کے دور میں پنجاب کے اندر مرہٹوں نے قتل عام کا بازار گرم کرنا شروع کیا تو یہ شورش بڑتے بڑتے ان کی چھاپہ مار کاروائیوں کی شکل میں پنجاب گوجرانوالہ وزیر آباد لاہور تک پھیل گئیں کیونکہ وزیر آباد مرکزی گزرگاہ کے طور پر ایک معروف مقام و علاقہ تھا اس لیے یہ تمام علاقہ خصوصی طور پر مرہٹوں کے عتاب کانشانہ بنا مردیکے اور بھروکے جہاں پر مغلیہ سلطنت کے حکومتی اراکین کے خاندان بسے ہوئے تھے مکمل طور پرتاخت و تاراج کر دیا گیا خون ریزی قتل و غارت گری کے نتیجے میں شہر کے شہر صفہ ہستی سے مٹ گئے

دور جہانگیر میں 1606ء کوجب سکھوں کے پانچویں گرو گرو ارجن کو پھانسی دی گئی تو سکھوں کی شورش کا آغاز ہو گیا مغلوں اور مسلمانوں کے خلاف سکھ مت میں شدیدنفرت پیدا ہو گئی اور اسی نفرت کے نتیجہ میں سکھوں کے چھٹے گرو گرو ہرگوبند سنگھ کی ایماء پر سکھوں نے اپنا عسکری ونگ تیار کیا اور مغل عہدیداران و مسلمانوں کے خلاف خون ریز چھاپہ مار کارئیواں کا آغاز کر دیا پھر 1675ء میں سکھوں کی شورش سے تنگ جہانگیر کے پوتے اورنگزیب کی جانب سے سکھوں کے نویں گرو۔ گرو تیغ بھادر کو پھانسی دیے جانے پر اس شورش میں مزید شدت آگئی اور 1699ء میں سکھوں کے دسویں گرو گرو گوبند سنگھ نے عسکری ونگ کی ازسرنو تشکیل کی اور مزید شدت پسند جنگجو چنے اور اس عسکری گروپ کو خالصہ نام دیا 3مارچ 1707ء کو اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد 1707ءمیں ہی بھادر شاہ اول کے اقتدار میں آتے ہی سکھوں اور مرہٹوں نے مسلم کش چھاپہ مار کاروائیاں تیز کر دیں سکھوں نے ان انتہائی متشدد و خون ریز کاروائیوں اپنے قائد بندہ بیراگی جو اوراق تواریخ کے اندر بابا بندہ کے نام سے جانا جا تا ہے کی سرپرستی میں پنجاب کے علاقے جالندھر، گرداس پور، فیروز پور، پٹھان کوٹ، قصور، لاہور، گوجرانوالہ، وزیر آباد اور ان کے دیگر دیہات مردیکے، بھروکے، دھونکل، جیسے علاقوں کو تباہ و برباد کر دیا اور قتل و غارت گری کی انتھاء کر دی بندہ بیراگی نے مسلمان عورتوں، بچوں، بھوڑوں اور نوجوانوں کو بڑی بے دردی اور بڑئے وسیع پیمانے پر موت کے گھاٹ اتار دیا بلاآخر 1718ء میں بھادر شاہ اول کے بیٹے فرخ سیر کے دور حکومت میں بندہ بیراگی کو مارا گیا مگر سکھوں کافتنہ ختم نہ ھو سکا۔

ادھر پنجاب کے حاکم معین الملک المعروف میر منو نے سکھوں کے اس فتنے کے تدراک کا اراده کیا اور قصور پر چٹرھائی کر دی مگر دکھ ڈر کر بھاگ گے اور کوئی لٹرائی نه ہوئی اسی خوشی میں حالات کا جائزه لینے کے لیے معین الملک گھوڑی پر سوار ہو کر نکلا اور گھوڑی بدک جانے کی وجه سے گھوڑی سے گر کر هلاک ہو گیا تو اس کی بیوی مغلانی بیگم نے اپنے تین ساله بچے کی سرپرستی کی اور پنجاب کی حکمران بن گئی یه دور احمد شاه ابدالی کے حملوں کا دور تھا چنانچه احمد شاه ابدالی نے سکھوں اور مرهٹوں کا زور توڑنے کے لیے پنجاب پر پھر حله کر دیا مگر سکوں اور مرهٹوں نے اتحاد بنا کر ڈٹ کر مقبله کیا اور ابدالی افواج کو دریاۓ سندھ کے پار تک پسپا کر دیا اسی اثناء میں پیچھے سے پنجاب کے صوبیدار آدینه بیگ نے سکھوں پر حمله کر دیا اس لٹرائی میں سکھوں کا بڑا جانی نقصان ہوا مگر سکھوں نے مل کر شب خون مارااور آدینه بیگ کو اس کے گھر میں مار دیا گیا