منگ خاندان کے دور حکومت میں اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

یوآن خاندان کے زوال کے بعد منگ خاندان بر سر اقتدار آیا اور 1368ء میں اِس خاندان کی حکومت کا آغاز ہوا اور 276 سال کی حکمرانی کے بعد 1644ء میں اِس خاندان کی حکومت کا اختتام ہوا۔ منگ خاندان چین میں ہان چینیوں کی آخری سلطنت تھی۔ بیجنگ کے سقوط کے بعد اِس خاندان کی ایک شاخ جنوبی منگ خاندان کی حکومت 1683ء تک برقرار رہی۔

منگ خاندان کے عہد میں مسلمانوں کے ثقافتی نقوش[ترمیم]

منگ خاندان کے ہم عصر ہندوستان میں مغلیہ سلطنت اور عرب سمیت افریقہ اور یورپی ممالک کے ایک حصہ پر سلطنت عثمانیہ قائم تھیں۔ منگ خاندان کے عہد میں مسلمانوں نے نہ صرف فوجی ملازمتوں میں حصہ لیا بلکہ تمدنی اور عمرانی عہدوں پر بھی اپنی استعداد اور ذہانت ظاہر کی۔ 1433ء میں جب چین شی کا امتحان ہوا تو جو لوگ اِس امتحان میں کامیاب ہوئے، اُن میں صرف دس سے زائد ہی مسلمان تھے۔ تاریخ منگ خاندان کے آخری حصے میں یہ بیان ملتا ہے کہ ایک شخص جس کا نام عبد اللہ تھا، شہنشاہ منگ تائی چُو نے اُسے 1368ء میں ادارۂ علم الہیت کا ناظم مقرر کیا گیا۔ ایک اور مشیر ابن عبد اللہ تھا جس کا نام الیاس تھا، اُسے اور اُس کے چودہ رفقا کو اُس سال تقویم مرتب کرنے پر مقرر کیا گیا۔ شہنشاہ نے مقام چین یُواَن میں ایک رصدگاہ تعمیر کروائی اور ایک شخص علی نامی کو اُس کا مہتمم مقرر کیا گیا۔ 1369ء میں علی اور اُس کے دس رفقا کو شہنشاہ کے حکم پر دار السلطنت بلوایا گیا اور نئی تقویم کی ترتیب میں اُن سے مشورہ لیا گیا اور گردشِ سیارگان کی تحقیق کے لیے اُن سے تاکید کی گئی۔ 1371ء میں اُس ادارہ کو ’’دارالمشاہدہ‘‘ کے نام میں تبدیل کر دیا گیا جو چار شعبوں میں منقسم تھا: علم نجوم، الساعت المائتہ، تقویم عالم اور تقویم ہجری۔1383ء میں علامہ ٔ زمان کو تقویم ہجری کے متعلق کرۂ ارض کے طول و عرض کے متعلق جو کتب عربی زبان میں مل سکیں، اُن کو چینی زبان میں ترجمہ کرنے پر مقرر کیا گیا۔ دراصل یہ بات تھی کہ ابتدا میں جب امیرالفوج نے دار السلطنت پر قبضہ کیا تھاتو یوآن خاندان کے شاہی کتب خانوں میں بہت سی ایسی کتب پائی گئیں تھیں جو غیر ملکی زبانوں میں تھیں اور اُن کتابوں کے متعلق لوگ بیان کیا کرتے تھے کہ وہ قدیم علما اور حکما کی تصانیف ہیں جن میں عقل اور حکمت آمیز اقوال موجود ہیں اور عام گمان یہ تھا یہ کسی چینی کو یہ طاقت نہیں کہ اُن اقوال کی تاویل کرسکے۔ چونکہ شہنشاہ تائی چُو ایک دانشمند اور سمجھدار دانا شہنشاہ تھا، لہٰذا اُس نے اُن کتب کو محفوظ رکھنے کا حکم دِیا آخر کار تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ سب کتب عربی زبان میں تھیں۔ شہنشاہ تائی چو نے علاقہ ہویہ چونگ اور لی زَن اور شیخ المشائخ کو حکم دِیا کہ اِن کتب کا ترجمہ عربی زبان سے چینی زبان میں منتقل کر دیں تاکہ تقویم عالم کی تدوین میں اِن کتب سے مدد مل سکے۔ یہ واقعات تاریخ منگ خاندان کے سینتیسویں حصہ میں مندرج ہیں۔ بعد ازاں اِن کتب پر تحقیق جاری رہی کہ یہ ترجمہ شدہ کتب کہاں چلی گئیں؟۔ مذکورۂ بالا بیانات سے واضح ہے کہ منگ خاندان میں اِسلامی علوم و فنون کو خاص اہمیت حاصل تھی، نہ صرف حکام اِن سے دلچسپی لیتے تھے، بلکہ شہنشاہِ وقت بھی اِن کے پھیلانے میں حتیٰ الامکان کوششیں اور اِمداد کیا کرتے تھے۔[1]


مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بدر الدین چینی: چینی مسلمان، صفحہ 25/26۔ مطبوعہ 1935ء