منیا بس حملہ 2018ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
منیا حملہ (2018ء)
بسلسلہ مصر میں فسادات (2013ء سے تاحال)
منیا بس حملہ 2018ء is located in مصر
حملے کا مقام
حملے کا مقام
منیا بس حملہ 2018ء (مصر)
منیا بس حملہ 2018ء is located in مشرق وسطی
حملے کا مقام
حملے کا مقام
منیا بس حملہ 2018ء (مشرق وسطی)
مقام منیا، مصر
تاریخ 2 نومبر 2018 (2018-11-02)
نشانہ قبطی مسیحی
ہلاکتیں 9
غیر مہلک نقصانات 12
مشتبہ مرتکب تنظیم دولت اسلامیہ – ولایت سیناء (داعش - ولایت سیناء)[1]

2 نومبر 2018ء کو نقاب پوش مسلح افراد نے مصری مسیحی افراد پر فائرنگ کر دی، یہ مسیحی افراد بس کے ذریعے مصری صوبے منیا سے گزر رہے تھے۔ حملہ آور تین گاڑیوں میں سوار تھے اور ان میں سے دو گاڑیاں بچ نکلنے میں کامیاب رہیں۔ مسافر بس قبطی مسیحی افراد کو محافظہ سوہاج اور محافظہ منیا سے خانقاہ مقدس سموئیل معترف لے جا رہی تھی۔[2][3] کم از کم 9 افراد ہلاک ہوئے، تمام کا تعلق منیا سے تھا[4][5][5][6][7] اور 12 زخمی ہوئے۔[6][8] واضح رہے کہ سنہ 2017ء میں بھی اسی مقام پر قبطی مسیحیوں کو خانقاہ مقدس سموئیل معترف لے جانے والی بس پر فائرنگ کی گئی تھی۔[4]

پس منظر[ترمیم]

مصر میں قبطی مسیحی 2010ء سے ظلم و ستم اور فرقہ وارانہ تشدد کا سامنے کر رہے ہیں، بشمول آخری دو سالوں کے حملے، تمام کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

اسی سے مشابہ حملہ 26 مئی 2017ء کو اسی مقام پر نقاب پوش مسلح افراد نے قبطی مسیحیوں پر کیا تھا، جس کے نتیجے میں 29 افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے تھے۔[9]

29 دسمبر 2017ء کو ایک مسلح شخص نے قبطی گرجا گھر اور قاہرہ کے نزدیک واقع مسیحی مالک کی دوکان پر حملے کر کے 11 افراد کو قتل کر دیا، حملہ آور کو زخمی کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ [10]

9 اپریل 2017ء کو کھجوروں کے اتوار کے دن دہشت گردوں نے دو گرجا گھروں میں دھماکے کیے–پہلا شمالی مصری شہر طنطا میں جبکہ دوسرا اسکندریہ میں واقع تھا، ان دھماکوں میں 47 افراد ہلاک اور 126 زخمی ہوئے تھے۔[11]

11 دسمبر 2016ء کو خودکش حملہ آور نے خود کو قاہرہ میں واقع البطرسیہ گرجا گھر میں دھماکے سے اڑا دیا، 29 افراد ہلاک اور 47 زخمی ہوئے تھے۔[12]

علاوہ ازیں، ملک میں بیشمار حملے کیے گئے، جن میں کئی سو بے قصور قبطی مسیحی مارے گئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "داعش يعلن مسؤوليته عن هجوم المنيا في مصر | أخبار سكاي نيوز عربية"۔ اسکائی نیوز عرب۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 نومبر 2018۔ 
  2. "الأقباط متحدون -راهب بدير الانبا صموئيل المعترف يروي تفاصيل الحادث"۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 نومبر 2018۔ 
  3. "Egypt: Deadly attack on Coptic Christians"۔ بی بی سی نیوز۔ 2 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 نومبر 2018۔ 
  4. ^ ا ب سدرشن راگھون؛ حبا فاروق محفوظ (2 نومبر 2018)۔ "Gunmen in Egypt attack bus carrying Christians, killing at least 8 and wounding 13"۔ واشنگٹن پوسٹ۔ 
  5. ^ ا ب "الأقباط متحدون -ارتفاع عدد شهداء حادث دير الأنبا صموئيل إلى 9 شهداء"۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 نومبر 2018۔ 
  6. ^ ا ب "IS attack on Christian pilgrims in Egypt kills 7"۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 نومبر 2018۔ 
  7. "Egypt: Gunmen kill seven Christians on bus near monastery"۔ 2 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 نومبر 2018۔ 
  8. "Ambush on bus carrying Christian pilgrims in Egypt kills several"۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 نومبر 2018۔ 
  9. "ISIS claims responsibility for killing 29 Coptic Christians in Egypt"۔ 9نیوز۔ اخذ کردہ بتاریخ 28 مئی 2017۔ 
  10. Gunman kills 11 in attacks on Coptic church, Christian-owned shop in Egypt
  11. جوئے اسٹرلنگ، سارہ سرجانی اور ایان Lee (10 اپریل 2017)۔ "Egypt Cabinet OKs state of emergency after Palm Sunday church bombings"۔ سی این این۔ اخذ کردہ بتاریخ 2017-05-26۔ 
  12. "Bomb Hits Coptic Christian Church In Cairo, Killing At Least 25"۔ این پی آر۔ 11 دسمبر 2016۔