منیش سسودیا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
منیش سسودیا
Manish Sisodia.JPG
 

معلومات شخصیت
پیدائش 5 جنوری 1972 (49 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت عام آدمی پارٹی  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

منیش سسودیا (انگریزی: Manish Sisodia) بھارت کی ریاست دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ ہیں۔ وہ عام آدمی پارٹی سے منسلک سیاست دان ہیں۔ وہ حکومت دہلی میں تعلیم، مالیات، سیر و سیاحت اسمیت کئی دیگر وزارت سنبھالتے ہیں۔[1] اس سے قبل وہ کابینہ دہلی کا رکن ہوتے ہوئے دسمبر 2013ء تا فروری 2014ء صرف وزیر برائے تعلیم، پی ڈبلیو ڈی اور شہری ترقی تھے۔ دہلی قانون ساز اسمبلی میں منتخب ہونے سے قبل وہ سماجی کارکن، صحافی اور رکن عام آدمی پارٹی تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ان کے والد مدرس تھے۔ انہوں نے صحافت میں ڈپلوما کیا اور اسی سے اپنے کیرئر کا آغاز کیا۔[2] 1993ء میں بھارتیہ ودیا بھون نے انہیں اعزاز سے نوازا تھا۔ انہوں نے آل انڈیا ریڈیو کے لئے 1996ء میں زیرو ہاور پروگرام کی میزبانی کی تھی اس کے بعد زی نیوز سے منسلک ہو گئے اور وہاں 1997ء-2005ء نیوز پروڈیوزر تھے۔[3]

فعالیت پسندی[ترمیم]

انہوں نے ایک غیر سرکاری تنظیم کبیر سے سماجی خدمت میں حصہ لینا شروع کیا۔ انہیں قانون حق معلومات کے لئے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ ان 9 شخصیات میں سے ہیں جنہیں ارونا رائے نے قانون حق معلومات کے مسودہ کے لئے منتخب کیا تھا۔[4] 2006ء میں اروند کیجریوال کے ساتھ مل کر انہوں نے پبلک کاز ریسرچ فاونڈیشن کی بنیاد رکھی۔[5] اس کے بعد انہوں نے عوامی تحریک، 2011ء میں پیش پیش رہے جس عوامی لوک پال بل کی بنیاد بنی۔ اس تحریک کی وجہ سے انہیں جیل بھی جانا پڑا تھا۔[6]

سیاست[ترمیم]

2012ء میں عام آدمی پارٹی کی تشکیل ہوئی اور منیش سسودیا اس کے رکن بنے۔ دہلی اسمبلی انتخابات 2013ء میں دہلی مجلس قانون ساز کے لئے منتخب ہوئے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے نکول بھاردواج کو پٹپر گنج اسمبلی حلقہ سے 11,478 ووٹو سے شکست دی۔[6][7] دہلی میں دوبارہ انتخابات ہوئے اور اس بار اسی حلقہ سے انہوں نے بی جے پی کے ونود کمار بنی کو 24,000 ووٹوں سے شکست دی۔[8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Delhi Govt Portal". delhi.gov.in. اخذ شدہ بتاریخ 13 جولا‎ئی 2018. 
  2. "Delhi Minister Manish Sisodia's journey from journalist to number 2 in Kejriwal's Cabinet". IBN Live. Press Trust of India. 14 فروری 2015. 01 فروری 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 04 مئی 2015. 
  3. "What makes Manish Sisodia the man in charge of Delhi". Governance Now (بزبان انگریزی). 2017-01-21. اخذ شدہ بتاریخ 13 جولا‎ئی 2018. 
  4. Jeelani، Mehboob (1 جنوری 2011). "Dangerous Knowledge: Can India's landmark Right to Information Act ever live up to its promise?". Caravan. اخذ شدہ بتاریخ 28 دسمبر 2013. 
  5. "About Us". Public Cause Research Foundation. 13 دسمبر 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 28 دسمبر 2013. 
  6. ^ ا ب "Manish Sisodia: From journalist to Kejriwal's Man Friday". The Hindu. PTI. 28 دسمبر 2013. اخذ شدہ بتاریخ 28 دسمبر 2013. 
  7. "Constituency wise result". Election Commission of India. 8 دسمبر 2013. 15 دسمبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 28 دسمبر 2013. 
  8. "Delhi poll results 2015 Updates: AAP makes an impressive comeback with 67 seats". One India. 11 فروری 2015. اخذ شدہ بتاریخ 18 مئی 2018.