منی کمپیوٹر

منی کمپیوٹر یا صغیر کمپیوٹر (minicomputer)، جسے عرفِ عام میں منی (mini) بھی کہا جاتا ہے، عام مقصد کے لیے استعمال ہونے والے کمپیوٹرز کی ایک قسم ہے جو زیادہ تر 1960ء کی دہائی کے وسط میں تیار کیے گئے۔[1] یہ کمپیوٹرز اپنے دور کے بڑے مین فریم کمپیوٹرز (mainframe computers) کے مقابلے میں سائز میں کافی چھوٹے اور قیمت میں بہت سستے تھے۔[2]
منی کمپیوٹرز کمپیوٹر کی ایک ایسی قسم ہے جو سائز اور طاقت میں عام ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر (مائیکرو کمپیوٹر) سے بڑے لیکن مین فریم کمپیوٹرز سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ انھیں "مڈ رینج کمپیوٹرز" بھی کہا جاتا ہے۔ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں یہ بہت مشہور ہوئے کیونکہ یہ بڑی کمپنیوں کی بجائے درمیانے درجے کے کاروباروں اور سائنسی اداروں کے لیے بنائے گئے تھے تاکہ وہ کم قیمت میں ڈیٹا پروسیسنگ کر سکیں۔
ان کمپیوٹرز کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان پر ایک وقت میں کثیر صارفین (ملٹی-یوزرز) کام کر سکتے ہیں۔ جہاں ایک عام پرسنل کمپیوٹر صرف ایک بندے کے استعمال کے لیے ہوتا ہے، وہیں ایک منی کمپیوٹر بیک وقت 4 سے لے کر 200 صارفین کو سپورٹ کر سکتا ہے۔ یہ عام طور پر نیٹ ورکنگ، مینوفیکچرنگ کے عمل کو کنٹرول کرنے اور ڈیٹا بیس مینجمنٹ جیسے کاموں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
سائز کے لحاظ سے یہ ایک چھوٹی الماری یا ریفریجریٹر کے برابر ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ آج کل کے طاقتور لیپ ٹاپس اور سرورز نے ان کی جگہ لے لی ہے، لیکن کمپیوٹر کی تاریخ میں ان کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ مشہور منی کمپیوٹرز میں PDP-11 اور آئی بی ایم AS/400 شامل ہیں، جو اپنے وقت میں سائنسی تحقیق اور کاروباری حساب کتاب کے لیے بہترین سمجھے جاتے تھے۔
یہ طبقہ ایک الگ گروہ کی شکل میں سامنے آیا جس کا اپنا مخصوص سافٹ ویئر آرکِٹیکچر اور آپریٹنگ سسٹم تھا۔ منی کمپیوٹرز کو خاص طور پر کنٹرول، آلات سازی (instrumentation)، انسانی تعامل اور کمیونیکیشن سوئچنگ کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ منی کمپیوٹرز کے دو دہائیوں پر محیط دور (1965ء–1985ء) کے دوران تقریباً 100 کے قریب مینوفیکچرنگ کمپنیاں قائم ہوئیں، لیکن 1980ء کی دہائی کے وسط تک صرف چند ہی باقی رہ سکیں۔[3]
جب 1970ء کی دہائی میں سنگل چپ مائیکرو پروسیسرز متعارف ہوئے، تو منی کمپیوٹر کی تعریف تبدیل ہو کر مین فریم کمپیوٹرز اور مائیکرو کمپیوٹرز کے درمیان کی درمیانی رینج کی مشین بن گئی۔ اس طبقے کے کمپیوٹرز کے لیے ایک اور تکنیکی اصطلاح مڈ رینج کمپیوٹر بھی استعمال کی جاتی ہے۔
تاریخ
[ترمیم]تعریف
[ترمیم]اصطلاح "منی کمپیوٹر" 1960ء کی دہائی میں[4] ان چھوٹے کمپیوٹرز کی وضاحت کے لیے وضع کی گئی جو ٹرانزسٹر، کور میموری ٹیکنالوجی، مختصر ہدایاتی مجموعوں (instruction sets) اور سستے ملحقہ آلات (peripherals) جیسے کہ عام استعمال ہونے والے ٹیلی ٹائپ ماڈل 33 ASR کے استعمال سے ممکن ہوئے۔[3] یہ کمپیوٹرز عام طور پر ایک یا چند 19-انچ ریک کیبینٹ پر مشتمل ہوتے تھے، جبکہ اس کے برعکس بڑے مین فریمز ایک پورا کمرہ گھیر لیتے تھے۔ بعد میں آنے والے منی کمپیوٹرز مزید مختصر (compact) ہوتے گئے اور اگرچہ وہ اپنے فن تعمیر (architecture) اور افعال کے لحاظ سے منفرد تھے، لیکن کچھ ماڈلز کا سائز سکڑ کر بڑے مائیکرو کمپیوٹر جتنا رہ گیا۔
منی کمپیوٹرز سے مشابہہ چھوٹے سسٹم 1950ء کی دہائی سے ہی دستیاب تھے۔ خاص طور پر ویکیوم ٹیوب پر مبنی "ڈرم مشینوں" (drum machines) کا ایک پورا طبقہ موجود تھا، جیسے کہ یونیویک 1101 (1950ء) اور بینڈکس جی-15 اور LGP-30 (1956ء)۔ ان تمام مشینوں میں منی کمپیوٹرز جیسی کچھ خصوصیات موجود تھیں۔ تاہم، یہ مشینیں بنیادی طور پر "چھوٹے مین فریم" کے طور پر ڈیزائن کی گئی تھیں جن میں مخصوص چیسس استعمال ہوتا تھا اور یہ اکثر صرف اپنی ہی کمپنی کے ملحقہ آلات کو سپورٹ کرتی تھیں۔ اس کے برعکس، منی کمپیوٹرز کو اکثر ایک معیاری چیسس میں فٹ ہونے کے لیے اور جان بوجھ کر عام دستیاب آلات جیسے کہ ASR 33 کو استعمال کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Rebecca M. Henderson؛ Richard G. Newell، مدیران (2011)۔ Accelerating Energy Innovation: Insights from Multiple Sectors۔ Chicago: University of Chicago Press۔ ص 180۔ ISBN:978-0226326832
- ↑ Maurice Estabrooks (1995)۔ Electronic technology, corporate strategy, and world transformation۔ Westport, Connecticut: Quorum Books۔ ص 53۔ ISBN:0899309690
- ^ ا ب Gordon Bell (اپریل 2014)۔ "Rise and Fall of Minicomputers"۔ Proceedings of the IEEE۔ ج 102 شمارہ 4۔ DOI:10.1109/JPROC.2014.2306257
- ↑ "Minicomputer"۔ Britannica.com