موت (مقالہ ثانی)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
  • اسی موضوع پر مقالہ دیکھیے بنام موت۔
ایک پودے کے ذریعے زندگی سے موت کی جانب تشبہ کا عکس محرک [1]

کسی جاندار کے تمام تر حَيَوِی افعال کے خاتمے کو طبی لحاظ سے موت کہا جاتا ہے۔ گویا عموما موت کے بارے میں یہی خیال ذہن میں آتا ہے کہ یہ زندگی کا ایک آخری مرحلہ ہے جو کہ طبیعی یا حادثاتی طور پر حیات کو موقوف کردیتا ہے لیکن دراصل موت کی جانب سفر کا عمل زندگی کے آغاز کے ساتھ پیدائش سے ہی شروع ہوجاتا ہے اور اس بات کو جدید سائنسی تحقیق میں حیاتیاتی اور طبی لحاظ سے بھی ایسا ہی بیان کیا ہے کہ تمام عمر انسان (اور تمام جانداروں) کے خلیات کے اندر ایسے کیمیائی تعملات جاری رہتے ہیں کہ جو آہستہ آہستہ موت کا سبب بن جاتے ہیں۔ اور اب تو طبیب اور سائنسداں یہاں تک جان چکے ہیں کہ زندگی کے لئے سب سے اہم ترین کیمیائی سالمے یعنی DNA میں موت کے لئے ایک طرح کی منصوبہ بندی پہلے سے ہی شامل کی جاچکی ہے جو کہ ایک گھڑی کی طرح موت کے لمحات گنتی رہتی ہے۔ (اس کے سائنسی ثبوت نیچے کسی بند میں ذکر کیے جائیں گے)

موت کا عمل[ترمیم]

خلیاتی موت[ترمیم]

Postscript-viewer-shaded.png اصل مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: موت (مقالہ ثانی)
؛ خلیہ (ضرر اور موت)

زندہ خلیات کے عام افعال کے لئے آزاد توانائی درکار ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے حَيَوِی استِقلاب (vital metabolism) کے کو جاری رکھ سکیں اور حیات کے لئے درکار خامرے اور دیگر ساختی لحمیات بناتے رہیں۔ مجموعی طور پر اس کا نتیجہ ، نفوذی استِتباب (osmotic homeostasis) کے قیام کی شکل میں سامنے آتا ہے جو کہ نہ صرف زندہ خلیے بلکہ اس جاندار کے لئے بھی زندگی برقرار رکھنے کے لئے لازمی ہے۔

اوپر بیان کردہ تمام افعال کو انجام دینے کے لئے اور استتباب یا ہومیواسٹیسس کو قائم رکھنے کے لیے ایک بہت ہی نازک اور محرک توازن کا مستقلا موجود رہنا ضروری ہوتا ہے اور جب کسی صدمہ یا چوٹ کی وجہ سے خلیہ اپنے اندرونی اور بیرونی ماحول میں توازن برقرار نہ رکھ پائے تو اس کی زندگی قائم رہنا محال ہوجاتا ہے۔ خلیے کو پہنچنے والا یہ صدمہ یا ضرر مختلف اقسام کا ہوسکتا ہے جس کی تفصیل کے لئے اس کا صفحہ خلیاتی موت مخصوص ہے۔

مختصرا یوں کہ خلیات کو اپنی زندگی برقرار رکھنے کے لئے عناصر اور مرکبات کے ایک توازن کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ عناصر (جن میں چند؛ آکسیجن ، نائٹروجن ، کاربن ، آبساز اور گندھک وغیرہ ہیں) جب تک خلیہ میں موجود آلات کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہیں تو خلیہ کا استتباب بھی قائم رہتا ہے اور خلیہ کی جھلی کے اندر کی فضا یعنی خلیہ کے اندر اور بیرونی فضاء یعنی پلازمہ یا خون ، کے درمیان مختلف کیمیائی عناصر اور مرکبات کا تبادلہ ضرورت کے تحت ہوتا رہتا ہے، جب تک یہ ہم آہنگی قائم رہتی ہے زندگی بھی اور جب جوہروں اور عناصر کی یہ ترتیب بگڑ جائے تو خلیہ کی زندگی بھی ختم ہوجاتی ہے اور ساتھ ہی جاندار کی۔ ڈاکٹر مشتاق صاحب کی حیاتی کیمیاء میں کبھی ایک شعر پڑھا تھا (شاعر پنڈت برج نارائن چکبست لکھنوی ہیں)، اس شعر کا اصل مقصد تو جو بھی ہو مگر اس شعر کو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہ کس قدر اچھے انداز میں آج کی جدید سائنس کے مطابق موت کی تشریح کی گئی ہے۔

زندگی کیا ہے، عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے، انہی اجزاء کا پریشاں ہونا
چکبست لکھنوی

بعد از موت تبدیلیاں[ترمیم]

Postscript-viewer-shaded.png اصل مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: موت (مقالہ ثانی)
تَفکّک (decomposition)

موت کے بعد ، جسم کا لُبی درجہ حرارت گر جاتا ہے اس مظہر کو طب میں بُرُودۂ موت (algor mortis) کہا جاتا ہے۔ اور اس برودۂ موت (یعنی بعد از موت جسم کا سرد ہوجانے) کی شرح کا انحصار مختلف ماحولی (بیرونی) اور جسم الموت کے (اندرونی) عوامل پر ہوتا ہے مثلا، موسم کا درجہ حرارت، لاش کا لباس، موت واقع ہونے سے پہلے جسم کا درجہ حرارت اور لاش یا جسم الموت کی جسامت وغیرہ۔

پستاندار (میمیلیا) جانداروں میں ، لاش کے تَفکّک یعنی تعفن پیدا ہونے یا decomposition سے پہلے ایک اور عمل واقع ہوتا ہے جس کو صَمَل موت یعنی مرنے کے بعد جسم کا اکڑنا یا rigor mortis کہتے ہیں۔ لاش کے اس طرح اکڑ جانے کے عمل میں مختلف کیمیائی عوامل کارفرما ہوتے ہیں جن میں ATP کا ناپید ہوتے چلے جانا اور حُماض لَبَنی (lactic acidosis) اہم ہیں (لبنی ، دودھ کو کہتے ہیں اور حماض تیزابیت کو)۔ درج بالا دونوں کیمیائی عوامل کی وجہ سے عضلات (مسلز) بتدریج سخت ہوتے جاتے ہیں کیونکہ انکے ریشیچوں (fibrils) میں آزاد توانائی یا ATP باقی نہیں رہتا اور لبنی حماض کی وجہ سے پیدا شدہ تیزابیت ان کے عمومی کام کو روک دیتی ہے۔ عام طور پر صمل موت کا یہ عمل ہلاکت کے 2 تا 4 گھنٹے کے بعد شروع ہوتا ہے مگر مزید پہلے بھی واقع ہوسکتا ہے۔ 9 تا 12 گھنٹے بعد ، یا گرم آب و ہوا میں ، یہ تبدیلی اختتام کو پہنچ جاتی ہے۔ مزید یہ کہ صمل موت کا واقع ہونا ، ماحول کے درجہ حرارت پر بھی منحصر ہوتا ہے اور موت سے پہلے اس جاندار کی عضلاتی حرکت کی نوعیت پر بھی۔

بعد از موت ایک اور تبدیلی ازرق موت (livor mortis) یعنی نیلے پن کا ظہور ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ موت کے بعد مختلف مصلی جھلیوں سے ریش تحلیلی (تحلیلی خامرے) نکلتے ہیں جو کہ خون کو جمانے والے ایک لحمیہ یا پروٹین جس کو ریشیچہ گر (fibrinogen) کہا جاتا ہے کو تحلیل کر کے ختم کردیتے ہیں جس کی وجہ سے موت کے 30 تا 60 منٹ بعد خون کے جمنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی اور یہ خون، کشش ثقل کی وجہ سے جسم کے نچلے حصوں میں جمع ہو کرجلد کی نیلگوں رنگت پیدا کر دیتا ہے ، اسی وجہ سے اس کو ارزق موت کہا جاتا ہے کہ ارزق کے معنی نیلے کے ہوتے ہیں۔ یہ مظہر موت کے 2 گھنٹے بعد واضع دیکھا جاتا ہے اور 8 تا 12 گھنٹے تک اپنی انتہاء پر پہنچ جاتا ہے۔

وقت مرگ کا تعین کرنا[ترمیم]

Postscript-viewer-shaded.png اصل مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: موت (مقالہ ثانی)
دماغی موت

آج کی جدید طرزیات یعنی ٹیکنالوجی اور طب کی موجودہ ترقی سے قبل ، موت کو دل اور سانس کی حرکت رک جانے سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ مگر آج کے دور میں جب انعاش قلبی ریوی (CPR) اور ازالۂ رجفان (defibrillation) کی بہترین سہولیات طب کے ہاتھ میں ہیں تو اب موت کی پرانی تعریف اکثر پریشانی پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے کیونکہ اب اوپر بیان کردہ دونوں طرزیات یا ٹیکنالوجی کی وجہ سے ، دل اور سانس رک جانے کے بعد بھی زندگی واپس آجانے کے امکانات ہوتے ہیں لہذا اس سانس اور دل کی بندش کو آجکل سریری موت (Clinical death) کہا جاتا ہے اور دھڑکن اور سانس رکنے کی وجہ سے موت کی صورتحال میں بھی انسان یا کسی جاندار کو کمک حیات (life support) کے آلات کی مدد سے طویل عرصے تک سہارا دیا جاسکتا ہے۔

مندرجہ بالا وجوہات کی وجہ سے آج جب ایک طبیب یا طبیب قانونی (coroner) کسی موت کے بارے میں کوئی فیصلہ کرتا ہے تو وہ دماغی موت (Brain death) یا حیاتیاتی موت کی بات کرتا ہے۔ اور کسی بھی شخص کو صرف اسی حالت میں قانونی طور پر مردہ قرار دیا جاتا ہے کہ جب اس کے دماغ میں برقی تحریک ناپید ہوجائے (دیکھیے دوامی حالت انباتیہ)۔ اب یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ جب دماغ میں برقی تحریک کا خاتمہ ہوجائے تو حالت شعور یا آگہی موقوف ہوجاتی ہے۔ مگر موت کا اعلان کرنے کے لئے اس شعور کی موقوفیت کو دائمی یا مستقل ہونا لازمی ہے نا کہ عارضی ، جیسا کہ نیند یا بے ہوشی کی حالت میں ہوتا ہے۔ نیند یا سونے کی حالت میں برقی دماغی تخطط (electroencephalography) باآسانی اس بات کو ظاہر کردیتی ہے کہ شعور کا غائب ہوجانا عارضی ہے یا دائمی۔ موت کے درست وقت کا تعین کرنا اس لئے بہت اہمیت کا حامل ہے کہ آج اعضاء کی پیونکاری بہت ترقی کرچکی ہے اور پیوندکاری کے لئے کسی بھی عضو کو جس قدر جلد ہو قطف یا جمع (harvest) کرلیا جائے۔

علامات قرب مرگ[ترمیم]

  1. بات کرنے کی سکت نا رہنا یا گفتگو کا کم ہوجانا اور جوابی ردعمل کم ہوجانا
  2. بڑھتی ہوئی نیند اور نوام (lethargy) یعنی مرگ کاذب یا موت جیسی نقاہت
  3. جاگتے وقت نہایت مغشوش ہونا یا کچھ سمجھ نہ پانا ، حالت تخلیط (cnofusion)
  4. غذا نہایت مشکل سے لے پانا اور نگلنے میں مشکلات
  5. سانس کے کم ہوجانے اور تیز ہوجانے کے دورانیے
  6. سانس میں خرخراہٹ شامل ہوجانا ، صلصلہ الموت (death rattle)
  7. ہاتھ ، پیر اور قدم (foot) کا ٹھنڈا ہوجانا
  8. طرف یا سروں (extremities) پر رنگ بدل جانا یا دھبے نمودار ہوجانا
  9. آنتوں پر اور مثانے پر تضبیط یا کنٹرول ختم ہوجانا
  10. خون کا دباؤ کم ہوجانا

فعلیاتی انجام[ترمیم]

انسان میں موت کے بعد واقع ہونے والی فعلیاتی تبدیلیاں جسم کے پھول جانے سے شروع ہوتی ہیں اور پھر اس کے بعد تفکک یعنی خراب ہوجانا اور پھر بعد از تفکک ہونے والی تبدیلیاں جو کہ بالاخر ڈھانچے میں ہونے والی تبدیلیوں تک جاتی ہیں۔ 15 تا 120 منٹ تک ہونے والی تبدیلیاں (وقت مختلف عوامل پر منحصر ہوتا ہے جن کا ذکر اوپر آ چکا ہے) لاش کا رنگ پھیکا یا تبدیل ہو جاتا ہے جسے شحوب موت (pallor mortis) کہتے ہیں اور اس کا لبی درجہ حرارت گرجاتا ہے جسے برودہ موت یا انجماد موت کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مصرات (sphincter) یعنی جسم کے وہ عضلات جو دائرے یا چھلے کی صورت میں کسی سوراخ کے گرد ہوں اور اس کو ضرورت کے مطابق بند کریں ، ڈھیلے ہوجاتے ہیں جسم سے براز ، پیشاب اور معدہ کے اجزاء باہر آسکتے ہیں (بطور خاص اور جسم الموت کو حرکت دی جائے)۔ پھر ارزق موت کی تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے جس میں خون جسم کے نچلے حصوں (جو کہ جسم کو رکھی ہوئی سطح ، میز یا چارپائی کی جانب ہوتے ہیں) میں جمع ہوکر رنگ تبدیل کردیتا ہے اور پھر جم جاتا ہے۔ اس کے علاوہ صمل موت یا جسم کا اکڑ جانا جو 12 گھنٹے تک خاصہ نمایاں ہوسکتا ہے اور پھر اس کے بعد اگلے 24 گھنٹے میں ختم ہوجاتا ہے جب خامرے جسم کی نسیج کی توڑپھوڑ شروع کرتے ہیں۔ ایک روز میں جسم تفکک یا تعفن کے آثار نمایاں کرنے لگتا ہے اس عمل میں دو بنیادی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔

اب جسم اندرونی طور پر بھی منہدم ہونا شروع ہوجاتا ہے اس کی جلد کے نچلی چربی اور گوشت سے روابط ڈھیلے پڑجاتے ہیں اور بیکٹیریا وغیرہ کی وجہ سے بننے والی ہوا جسم کو مزید پھلا سکتی ہے۔ مختلف اقسام کے بیرونی اور اندرونی عوامل کے باعث جسم کے خستہ اور بوسیدہ ہوجانے کا عمل خاصہ متغیر ہوتا ہے بعض اوقات چند روز میں ڈھانچہ باقی رہ جاتا ہے اور بعض اوقات جسم کئی ماہ یا سال تک اپنی بنیادی ساخت میں برقرار رہ سکتا ہے۔

قیادی اسباب الموت[ترمیم]

قیادی اسباب الموت (leading causes of death) کے اعداد وشمار ، ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں کچھ مختلف ہیں۔ ذیل میں عالمی ادارہ صحت کی دستاویز بمطابق 2001ء کے اعداد و شمار دئیے جارہے ہیں۔ 1

ترقی پذیر ممالک میں اسباب اموات تعداد اموات ترقی یافتہ ممالک میں اسباب اموات تعداد اموات
ایچ آئی وی-ایڈز 2,678,000 مرض قلب اقفاری 3,512,000
زیریں تنفسی عدوی 2,643,000 سکتہ (فالج) 3,346,000
مرض قلب اقفاری 2,484,000 مسدود مزمن مرض ریوی 1,829,000
اسہال 1,793,000 زیریں تنفسی عدوی 1,180,000
دماغی شریانوں کا مرض 1,381,000 پھیپھڑوں کا سرطان 938,000
امراض اطفال 1,217,000 حادثات مرور 669,000
ملیریا 1,103,000 سرطان معدہ 657,000
سل (ٹی بی) 1,021,000 بلند فشار خون 635,000
مسدود مزمن مرض ریوی 748,000 سل (ٹی بی) 571,000
حصبہ (خسرہ) 674,000 خودکشی 499,000

اسلام اور ادیان[ترمیم]

موت کے متعلق تمام ادیان اور سائنس متفق تو ہے ، وہ ہمیں موت کے بارے میں باتیں بتاتے ہیں لیکن ایک حد ایسی آتی ہے جہاں سے آگے سوائے اسلام کے کوئی مذہب یا سائنس جواب نہیں دے سکتا۔ کچھ مختصر مفہومات درجہ ذیل ہیں:

اسلام، یہودیت اور عیسائیت[ترمیم]

ان تینوں مذہبوں میں دیگر کے نسبت موت پر ذیادہ زور دیا گیا ہے۔مگر اسلام نے موت کو سب سے تفصیلاً بیان کیا ہے اور اپنے پیروؤں کو ہمیشہ موت کے بعد کی زندگی کو حقیقی زندگی مان کر دنیا میں صالح کردار پیش کرنے کی نصیحت کی ہے۔

جزء آخر[ترمیم]

Postscript-viewer-shaded.png اصل مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: موت (مقالہ ثانی)
جزء آخر (telomere)

جزء آخر جس کو انگریزی میں telomere کہا جاتا ہے دراصل لونی جسیمات یا کروموسومز کے سروں (اطراف) پر ڈی این اے کے جزء یا ٹکڑے ہوتے ہیں جو کہ مختلف افعال انجام دینے کے ساتھ ساتھ ڈی این اے اور باالفاظ دیگر لونی جسیمات کی حفاظت کا کام بھی انجام دیتے ہیں۔ ہر بار جب خلیہ تقسیم ہوتا ہے تو انکی طوالت کچھ کم ہوجاتی ہے اور سائنسی شواہد اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ انکی طوالت کا گھٹتے چلے جانا ، حیات کی طوالت یا یوں کہہ لیں کہ موت سے سروکار رکھتا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]