مودود غزنوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مودود غزنوی
Maw'dudGhaznavidCoin.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1012  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
غزنی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات دسمبر 1049 (36–37 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
غزنی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن غزنی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت سلطنت غزنویہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
اولاد مسعود ثانی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد مسعود غزنوی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
سلطان سلطنت غزنویہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
1041  – 1048 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png محمد غزنوی 
مسعود ثانی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
ابو الفتح قطب الملتہ شہاب الدولہ سلطان مودود غزنوی 1040ء میں تخت نشین ہوئے۔ مودود سلطان مسعود کے بڑے صاحبزادے تھے۔ انہوں نے اپنے چچا امیر محمد غزنوی سے جنگ میں فتح حاصل کر کے ہندوستان کی بادشاہت حاصل کی۔ اس کے بعد سلطان اور اس کے بھائی مجدود غزنوی میں جنگ کی تیاری ہوئی لیکن لڑائی سے پہلے ہی عید الضحی کی صبح کو مجدود اپنے بستر پر مردہ پائے گئے۔ اس کی موت میں سوائے دست قضا کے کوئی دنیاوی وجہ نظر نہیں آئی۔ 435ھ میں میں امرائے اسلام کی باہمی مخاصمت کے باعث رائے دہلی نے ہانسی، تھانیسر کے علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد نگر کوٹ کا محاصرہ کر کے وہاں کے مسلمانوں کو شہر بدر کر دیا۔ ان کاروائیوں کے بعد پنجاب کے تین راجاؤں نے اتفاق کر کے لاہور کی طرف پیش قدمی کی۔ یہاں آپس میں جنگیں ہورہی تھیں۔ جب راجگان ہند لاہور سے مسلمانوں کو خارج کرنے کی غرض سے سر پر پہنچے تو انہیں ہوش آیا اور نفاق کو بالائے طاق رکھ کر مل کر مقابلہ کو نکلے۔ راجاؤں کی فوج مسلمانوں کو مستعد اور لڑنے کو تیار دیکھا تو بے لڑے بھاگ کھڑے ہوئے۔ سلطان مودود نے سلجوقیوں سے خوشگوار تعلقات رکھنے کے لیے سلجوقی سردار جعفر بیگ کی لڑکی سے شادی بھی کی لیکن فتنہ پرور قوم پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور سلطان مودود اپنے سارا عہد سلطانی سلجوقیوں سے لڑنے میں گزار دیا۔ سلطان قولنج بیماری کا شکار ہو گئے تھے۔ اسی بیماری نے آپ کی جان لے لی۔ وفات کے وقت مودود کی عمر 39 برس تھی۔ [1]

سلطان مسعود کا قتل[ترمیم]

محمد غزنوی جب دوبارہ سلطان بنے تو اس وقت چونکہ نابینا تھے اس لیے اس نے زندگی کو سادہ طریقے سے بسر کرنے پر اکتفا کیا اور سلطنت کا تمام کاروبار اپنے مخبوط الحواس بیٹے احمد غزنوی کے سپرد کر دیا۔ احمد عنان حکومت ہاتھ میں لیتے ہی سلیمان بن یوسف سبکتگین اور علی خویشاوند کے بیٹے کو ساتھ لے کر ایک روز قلعہ گیری میں داخل ہو گیا اور اس نے بغیر اپنے باپ کی اجازت سے سلطان مسعود غزنوی کو قتل کر دیا۔ یہ واقعہ 433ھ کا ہے۔ بعض مورخین کا بیان ہے کہ احمد نے مسعود کو زندہ کنوئیں میں پھینکوا کر کنوئیں کو پتھر اور مٹی سے پر کر دیا تھا۔ جب سلطان محمد غزنوی تک اس کے بھائی امیر مسعود غزنوی کے قتل کی خبر پہنچی تو وہ بہت رویا جن لوگوں نے مسعود کو قتل کیا ان پر سلطان نے خوب لعنت ملامت بھیجی۔ سلطان نے مسعود کے بیٹے امیر مودود کو بلغ میں اس مضمون کا خط بھیجا

  • فلاں فلاں افراد نے اپنے باپ کے قصاص میں تمہارے باپ کو قتل کیا ہے۔ ان کے علاوہ کوئی اور اس اقدام میں شریک نہیں ہے۔

امیر مودود نے اس خط کے جواب میں لکھا۔

  • خدا آپ کی عمر دراز کرے اور آپ کے فرزند دلبند احمد مخبوط الحواس کو اتنی عقل دے کہ وہ دنیا کے نشیب و فراز کو سمجھ سکے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کے آپ کے دیوانے بیٹے نے ایک بہت بڑا جرم کیا ہے اور ایسے بادشاہ کو قتل کیا ہے کہ جسے امیر المومنین نے سید الملوک و السلاطین کا لقب دیا تھا۔ میں آپ پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ایک نہ ایک دن یہ خون رنگ لائے گا اور آپ کے بیٹے کو اس کے اعمال کی سزا ضرور ملے گی۔

یہ خط روانہ کرنے کے بعد امیر مودود نے فرور مارگلہ پہنچنے کا ارادہ کیا تا کہ اپنے باپ کے خون کا بدلہ لے سکے لیکن ابو نصر احمد بن محمد بن عبد اللہ نے مودود کو اس ارادے سے باز رکھا اور اسے سمجھا بجھا کر اپنے ساتھ غزنی لے گیا۔ مودود کے آنے کی خبر سن کر غزنی کے تمام بڑے بڑے سردار اور امرا اس کے استقبال کے لیے شہر سے باہر آئے اور ان سب نے مودود کے سر پر تاج شاہی رکھ دیا۔

محمد غزنوی کا قتل[ترمیم]

433ھ میں امیر مودود اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے غزنی سے روانہ ہوا۔ سلطان محمد غزنوی نے اپنے چھوٹے بیٹے نامی غزنوی کو ایک زبردست فوج کا افسر اعلی اور ملتان و پشاور کا سپہ سالار مقرر کیا اور اسے مودود کے مقابلے پر روانہ کیا۔ سلطان اور امیر مودود یعنی چچا بھتیجا کے لشکر آپس میں گتھم گتھا ہوئے۔ فریقین نے اپنی اپنی کامیابی کے لیے بڑی کوششیں کیں۔ سلطان کی کوششیں بے کار گئیں اور امیر مودود کو فتح نصیب ہوئی۔ سلطان محمد غزنوی اپنے بیٹوں اور فساد کے بانی امیروں (توشگین بلخی ، ابو علی خویشاوند اور سلیمان بن یوسف وغیرہ) کے ہمراہ گرفتار ہوا۔ مودود کے کارپر دازوں نے سلطان کے بیٹے عبدالرحیم کے علاوہ اور باقی سب کو قتل کر دیا۔ عبد الرحیم کو قتل نہ کرنے کی وجہ مورخین نے یہ بیان کی ہے کہ امیر مسعود کے عہد اسیری میں ایک روز عبدالرحیم اپنے بھائی عبد الرحمن کے ساتھ امیر مسعود کو دیکھنے کے لیے قید خانے میں گیا۔ عبد الرحمن نے امیر مسعود کو دیکھتے ہی یہ جملہ کہا کہ اب یہ سر تاج کے قابل نہیں رہا اور امیر مسعود کے سر سے ٹوپی اتار لی۔ عبدالرحیم نے اپنے بھائی کو اس حرکت ناشائستہ پر بہت ڈانٹا اور اس کے ہاتھ سے ٹوپی چھین کر پھر اپنے چچا کے سر پر رکھ دی۔ اس وجہ سے عبد الرحیم نے موت سے نجات پائی تھی۔

بنائے فتح آباد[ترمیم]

سلطان مودود غزنوی جب اپنے باپ کے قاتلوں کو موت کے گھاٹ اتار چکا تو اس نے اس مقام پر جہاں اسے کامیابی نصیب ہوئی تھی ایک شہر آباد کیا اور ایک سرائے تعمیر کی۔ اس نے اس شہر کا نام فتح آباد رکھا۔ سلطان مودود نے اپنے بھائیوں اور باپ کی لاش کی بابت حکم دیا کہ گیری سے غزنی لایا جائے اور وہ خود بھی جلد از جلد غزنی پہنچ گیا۔ غزنی پہنچ کر سلطان نے ابو نصر احمد کو اپنا وزیر مقرر کیا اور پھر 433ھ میں طاہر بن محمد کو اپنا وزیر بنایا۔ سلطان مودود نے اپنے ایک قابل اعتماد امیر ابو نصر بن امجد کو امیر محمد غزنوی کے بیٹے نامی غزنوی کے مقابلے کے لیے ہندوستان روانہ کیا۔ ابو نصر نے نامی غزنوی کو شکست دی اور یوں امیر محمد غزنوی کا یہ بیٹا بھی نذر اجل ہو گیا۔ نامی غزنوی کے قتل کے بعد سلطان مودود کے چھوٹے بھائی مجدود بن مسعود کے سوا سلطنت کا کوئی بھی مدعی باقی نہ رہا۔

مجدود غزنوی کی وفات[ترمیم]

جب سے امیر مسعود غزنوی کا قتل ہوا تھا اس کے چھوٹے بیٹے مجدود غزنوی نے ملتان کی سکونت ترک کر دی تھی۔ اس نے لاہور پہنچ کر ملک احمد ایاز کے خاص مشورے اور مدد سے دریائے سندھ تے لے کر تھانیسر اور ہانسی تک کے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا اور بڑی قوت حاصل کرلی تھی۔ سلطان مودود کو اس کی روز افزوں قوت سے خطرہ تھا لہذا اس نے مجدود غزنوی کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اسی سال سلطان مودود نے ایک عظیم الشان لشکر مجدود غزنوی پر حملہ کرنے کے لیے روانہ کیا۔ مجدود ان دنوں ہانسی میں اس غرض سے مقیم تھا کہ دہلی کو فتح کر کے اپنی سلطنت میں شامل کرے تا کہ اس کی حکومت پائیدار اور مستقل ہو جائے۔ اسے جب مودود کی فوج کی آمد کی خبر ملی تو اس نے بھی ایک زبردست لشکر تیار کیا اور مقابلے کے لیے ہانسی سے روانہ ہوا اور اس سے پہلے کہ مودود کا لشکر لاہور کے قلعے پر قابض ہو مجدود 6 ذی الحجہ کو لاہور پہنچ گیا۔ مجدود کے لشکر کی کثرت دیکھ کر مودود کی فوج میں بڑی گھبراہٹ پھیل گئی عین ممکن تھا کہ یہ گھبراہٹ اس حد تک بڑھ جاتی کہ مودود کی فوج میں انتشار پیدا ہو جاتا اور اس کے افسر اور امراء مجدود کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کی اطاعت قبول کر لیتے۔ دفعتاً قسمت نے مودود کا ساتھ دیا اور عید الاضحی کی صبح کو مجدود اپنے بستر پر مردہ پایا گیا۔ مجدود کی اس ناگہانی موت کا کوئی ظاہری سبب معلوم نہ ہو سکا اور سواۓ دست قضا کے کوئی دنیاوی ہاتھ اس فعل کا مرتکب نظر نہ آیا۔ مجدود کے انتقال کے تھوڑے دنوں بعد ملک ایاز احمد نے بھی داعی اجل کو لبیک کہا اور اس طرح مجدود کے تمام مقبوضات بغیر کسی روک ٹوک کے مودود کے قبضے میں آگئے۔ مودود کی طاقت اس حد تک بڑھ گئی کہ اس سے خوفزدہ ہو کر ماوراء النہر کے حکمرانوں نے بھی مودود کی اطاعت قبول کر لی۔ باوجود اس کے کہ مودود کی قوت اور حکومت نے بہت ترقی کی لیکن سلجوقیوں نے اپنی روش سے سرمو انحراف نہ کیا۔ مودود نے اس قوم سے بھائی چارہ پیدا کرنے کی بہت کوشش کی یہاں تک کہ ان کے سردار جعفر بیگ کی لڑکی سے شادی بھی کی، لیکن یہ ہنگامہ پرور طبقہ ہمیشہ مودود کی مخالفت کرتا رہا۔

ہانسی، تھانیسر اور نگر کوٹ پر ہندووں کا قبضہ[ترمیم]

435ھ میں دہلی اور ہندوستان کے دوسرے مقامات کے ہندو راجاؤں نے آپس میں مل کر ہانسی اور تھانیسر کے علاقوں پر قبصہ کرایا اور ان مقامات سے غزنوی سرداروں کو نکال کر ہندووں کا لشکر نگر کوٹ کی طرف روانہ ہوا۔ نگر کوٹ پہنچ کر بندوؤں نے قلعے کا محاصره کر لیا اور یہ محاصرہ چار ماہ تک مسلسل جاری رہا۔ اس دوران میں مسلمانوں نے بار ہا لاہور سے مدد طلب کی لیکن کچھ ایسے حالات پیش آئے اور کچھ ایسی مجبوریاں سد راہ ہوئیں کہ انہیں لاہور سے کوئی مدد نہ مل سکی۔ اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ کاصرے کی شدت اور سامان خورد و نوش کی کمی کی وجہ سے مسلمانوں میں اتنی ہمت نہ رہی کہ وہ ہندووں کا مقابلہ کر سکیں اور یوں نگر کوٹ پر بھی ہندووں کا قبضہ ہو گیا۔ ہندوؤں نے نگر کوٹ کو دوباره بت پرستوں کا مقدس مقام بنایا اور شہر میں جگہ جگہ نئے بت لگا کر بت پرستی کو نئے سرے سے رواج دیا۔

لاہور پر ہندوؤں کا حملہ[ترمیم]

ہانسی، تھانیسر اور نگر کوٹ پر ہندوؤں کے کامیاب حملوں سے باقی ہندوؤں کے حوصلے بھی بلند ہو گئے۔ پنجاب کے ہندو راجے جو مسلمانوں کے خوف سے جنگل میں جا چھے تھے ان میں سے تین بہت بڑے اور زبردست راجاؤں نے اتفاق باہمی سے دس ہزار سواروں اور بے شمار پادوں کو ہمراہ لے کر لاہور کی طرف بڑھے۔ لاہور پہنچ کر ان راجاؤں نے شہر کا محاصرہ کر لیا۔ اس وقت پنجاب میں مسلمانوں کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم ہو چکی تھیں اور مسلمان جاگیردار اور امراء سلطان مودود کی اطاعت سے منہ موڑ کر آپس میں لڑ رہے تھے۔ جب ہندووں نے لاہور کا محاصرہ کیا تو پھر ان سوئے ہوئے مسلمان امراء کی آنکھیں کھلیں۔ ان مسلمانوں نے مصلحت وقت کا خیال کرتے ہوئے آپس میں مل کر ایک متحدہ لشکر تیار کیا اور سلطان مودود کی اطاعت کا اقرار کر کے ہندووں سے معرکہ آراء ہونے کے لیے شہر سے باہر نکل آئے۔ ہندووں نے جب مسلمانوں کا باہمی اتفاق دیکھا اور ان کے لشکر کی کثرت کا اندازہ کیا تو وہ بدحواس ہو کر بغیر جنگ کے میدان جنگ سے فرار ہو گئے۔

ترکمانیوں سے معرکے[ترمیم]

434ھ میں سلطان مودود نے ارمگین کو طمارستان (شمال مشرق خراسان کا ایک علاقہ) کی طرف روانہ کیا۔ جب ارمگین وہاں پہنچا اسے معلوم ہوا کہ داؤد ترکمانی کا بیٹا ارمن تک آچکا ہے یہ سنتے ہی ارمگین نے ترکمانوں پر حملہ کر دیا۔ ترکمانی فوج کے سردار کو جب یہ معلوم ہوا کہ غزنی لشکر اس کی سرکوبی کے لیے آیا ہے تو اس نے ڈر کے مارے اپنی فوج کو تو میدان ہی میں چھوڑا اور خود ایک جنگل کی راه لی۔ ارمگین ارمن پہنچا اور وہاں اس نے ترکمانیوں کی فوج پر حملہ کر کے انہیں شکست دی اور جی بھر کر قتل کیا۔ یہاں سے ارمگین بلغ پہنچا۔ یہاں اس نے بلغ کو فتح کیا سلطان مودود کے نام کا سکہ اور خطبہ جاری کیا۔ ارمگین بلغ سے آگے بڑھ ہی رہا تھا کہ ترکمانیوں کا لشکر اچانک طور پر اس کے مقابلے کے لیے بلغ کے قریب پہنچ گیا۔ ارمگین نے یہ محسوس کیا اس میں ترکائیوں کے لشکر کا مقابلہ کرنے کی تاب نہیں ہے۔ لہذا اس نے سلطان مودود سے مدد کی درخواست کی۔ سلطان نے ارمگین کی درخواست پر کوئی توجہ نہ کی لہذا مجبور ہو کر ارمگین بلغ سے کل پنجر اور کابل سے ہوتا ہوا غزنی واپس آگیا۔ چند مفسدوں اور چغل خوروں سے متاثر ہو کر 435ھ میں سلطان مودود نے غزنی کے کوتوال ابو علی کو قید کر دیا لیکن بعد میں جب اس کی بے گناہی ثابت ہو گئی تو مودود نے اسے رہا کر کے دوبارہ دیوان مملکت اور کوتوال غزنی مقرر کر دیا۔ اسی سال ترکمانیوں نے غزنی کو فتح کرنے کا خیال کیا۔ اس سلے میں ان کی ایک فوج بست کے قریب مقیم ہو گئی۔ سلطان مودود نے اس فوج کو شکست دینے کے لیے اپنا ایک لشکر روانہ کیا۔ ترکمانیوں کو شکست ہوئی اور وہ ادھر ادھر بھاگ نکلے۔ 436 ھ میں سلطان مودود نے طغرل حاجب کو بست کی طرف روانہ کیا۔ طغرل نے سیتان پہنچ کر ابو الفضل کے بھائی اور ابو المنصور زنگی کو قید کر لیا اور ان دونوں قیدیوں کو اپنے ہمراہ لے کر غزنی واپس آیا۔ سلجوقیوں نے پھر 437ھ میں غزنی کی طرف پیش قدمی کی اور بست سے گزر کر رباط امیر تک آ پہنچے اور اس علاقے کو تباہ و برباد کر دیا۔ غزنی سے طغرل ایک عظیم الشان فوج لے کر ان کی سرکوبی کے لیے روانہ ہوا اور بہت جلد ان تک جا پہنچا۔ فریقین ایک دوسرے سے معرکہ آراء ہوئے اور زبردست جنگ ہوئی۔ غزنوی فوج کو فتح ہوئی اور ترکمانی شکست کھا کر فرار ہو گئے۔ اس کے بعد طغرل نے گرم سیر قندھار (جنوب مغربي افغانستان کا ایک ضلع) کا رخ کیا اور اس علاقے کے ترکمانیوں کو جو سرخ کلاہ کے نام سے مشہور تھے قتل اور گرفتار کر کے کامیاب و کامران غزنی واپس آیا۔

طغرل کی سرکشی[ترمیم]

سلطان مودود نے 438ھ میں طغرل کو ایک زبردست لشکر کے ساتھ مکیاباد روانہ کیا۔ وہاں پہنچ کر طغرل کے سر میں خود مختاری کا سودا سمایا اور وہ مودود کی اطاعت سے منحرف ہو گیا۔ مودود کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو اس نے چند قابل اعتبار آدمیوں کو طغرل کے پاس بھیجا اور ساتھ میں اس کی تالیف قلب کی کوشش کی اسے اپنے رو برو طلب کیا۔ طغرل نے جواب دیا۔ "امیر مودود کے درباری چونکہ اس وقت میرے دشمن ہو رہے ہیں اور میرے خون کے پیاسے ہیں اس لیے میں بادشاہ کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکتا۔“ یہ جواب پا کر امیر مودود نے دس ہزار سپاہیوں کا لشکر علی بن خادم ربیع کی نگرانی میں روانہ کیا۔ علی بن ربيع فوراً طغرل کے پاس پہنچ گیا۔ اس کے آنے سے طغرل بہت پریشان ہوا اور اپنے لشکر کو وہیں چھوڑ کر چند مصاحبوں کے ہمراہ فرار ہو گیا۔ علی بن ربیع نے طغرل کی فوج پر حملہ کیا اور ان میں سے کچھ لوگوں کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ غزنی لایا۔

غور پر حملہ[ترمیم]

438ھ میں سلطان مودود نے امیر باستگین حاجب بزرگ کو غور روانہ کیا۔ جب باستگین غور کے قریب پہنچا تو وه ولدہچی غوری کو اپنے ساتھ لیتا ہوا قلعہ ابوعلی کی طرف بڑھا۔ باستگین نے اس قلعے کو فتح کیا اور والی قلعہ یعنی غوریوں کے سردار ابوعلی کو گرفتار کر لیا۔ یہ قلعہ اس قدر مضبوط تھا کہ باستگین سے سات سو سال پہلے کے زمانے سے اس کو کوئی تسخیر نہ کر سکا تھا۔ باستگین نے والدہچی اور ابوعلی کی گردنوں میں گرفتاری کا طوق ڈالا اور ان دونوں کو اپنے ساتھ غزنی لے آیا۔ سلطان مودود نے ان دونوں باغیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

قزوار بہرام کی سرزنش[ترمیم]

غور پر لشکر کشی کے بعد سلطان مودود نے باستگین کو ترکمانیوں کے سردار بہرام نیال کے مقابلے پر روانہ کیا۔ بست کے پاس دونوں لشکروں میں آمنا سامنا ہوا۔ اس جنگ میں باستگین کو فتح نصیب ہوئی اور ترکمانی شکست کھا کر میدان جنگ سے بھاگ نکلے۔ امیر قزوار نے 439ھ میں علم سرکشی بلند کیا۔ باستگین فوراً اس کے پاس جا پہنچا اور جنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں باغیوں کو شکست فاش ہوئی۔ اہل قزوار نے کچھ دنوں بعد سلطان مودود کی اطاعت کا اقرار اور سالانہ خراج ادا کرنے کا وعدہ کیا۔ اس پر باستگین نے اہل قزوار سے صلح کر لی اور غزنی واپس آگیا۔

باغیوں کی سرکوبی[ترمیم]

سلطان مودود نے 440ھ میں اپنے دونوں بڑے بیٹوں ابو القاسم محمود اور منصور کو ایک ہی دن خلعت سے سرفراز کر کے طبل و علم عطا کیا۔ محمود کو لاہور اور منصور کو برشور (سندھ اور قندھار کے درمیان ایک مقام) روانہ کیا گیا۔ سلطان نے کوتوال غزني ابو علی کو بھی فوجدار بنایا اور اسے باغیوں کی سرکوبی کے لیے ہندوستان روانہ کیا۔ ابو علی نے پشاور پہنچ کر ماہ تیلہ کے قلعے کا رخ کیا تو اس قلعہ کا باغی حاکم خوفزدہ ہو کر تنہا فرار ہو گیا۔ ابو علی نے قلعے پر قبضہ کر لیا بعد ازاں بھیجی رائے کو اس نے بلایا۔ بھیجی رائے ہندووں کا سردار تھا۔ یہ سردار سلطان محمود غزنوی کے زمانے میں ایمان داری اور طاقت کی زندگی بسر کرتا رہا تھا لیکن سلطان محمود کی وفات کے بعد آزردہ ہو کر غزنی سے چلا آیا تھا۔ اب کشمیر میں زندگی کے دن پورے کر رہا تھا۔ ابو علی نے بھیجی رائے سے اس کی حفاظت کا وعدہ کیا اور اسے سلطان مودود کے پاس روانہ کر دیا۔ سلطان نے اس بوڑھے سپہ سالار کی سابقہ خدمات کا پاس کرتے ہوئے اس پر بڑی عنایت کی اور موت کے خوف کو اس کے دل سے نکال کر اسے بالکل مطمعن کر دیا۔

ابو علی کا قتل[ترمیم]

جس زمانے میں ابوعلی سندھ میں کوتوال تھا اس وقت اس کے دشمنوں نے موقع پا کر سلطان مودود کو اس کے خلاف اکسایا۔ سلطان نے ابوعلی کا خود مختار اور آزاد رہنا مناسب نہ سمجھا۔ جب ابوعلی بہت سا مال و اسباب اور دولت لے کر غزنی واپس آیا تو سلطان مودود اس سے بے حد ناراض تھا۔ اس وجہ سے اس نے ابو علی کو گرفتار کر کے میرک بن حسین وکیل کے حوالے کر دیا۔ قید کے چوتھے روز ابوعلی کو اس کے دشمنوں نے تہ تیغ کر دیا۔ جن لوگوں نے ابو علی کو قتل کیا تھا انہوں نے اپنے اس فعل کو مودود سے چھپانے کی بہت کوشش کی کیونکہ انہوں نے سلطان کے علم کے بغیر ایسا کیا تھا۔ یہ قاتل مودود کو سفر کی ترغیب دیتے رہے اسی ترغیب سے ان لوگوں کا مقصد تھا کہ سلطان سفر کی مشغولیات میں مصروف ہو کر ابو علی کو بھول جائے۔ آخر کار یہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے اور امیر مودود کابل کی طرف روانہ ہو گیا۔

وفات[ترمیم]

سلطان مودود نے کابل پہنچنے کے بعد خراسان جانے کا ارادہ کیا کہ وہاں ترکمانیوں کا قلع قمع کرے اور اس ملک کو ان کے قبضے سے نکالے۔ اس ارادے کے پیش نظر مودود آگے بڑھا جب وہ سجاوند اور لہوکردہ کے قرب و جوار میں پہنچا تو اس نے سانکوت کے قلعے کا رخ کیا کہ اسے بھی فتح کرتا چلے۔ وہاں پہنچ کر مودود مرض قولنج کا شکار ہوا۔ یہ بیماری روز بروز بڑھتی چلی گئی اس وجہ سے اس نے آگے بڑھنے کا اراده ترک کر دیا کیا۔ سلطان نے امیر عبد الرزاق کو سلجوقیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے سیتان روانہ کر کے خود عماری میں بیٹھ کر غزنی واپس ہوا۔ غزنی پہنچ کر اس نے میرک وکیل کو حکم دیا کہ ابو علی کو قید خانے سے رہا کر کے اس کے سامنے پیش کرے۔ میرک وکیل نے عیاری سے کام لیتے ہوئے ایک ہفتے کی مہلت طلب کی لیکن یہ ہفتہ گزرنے بھی نہ پایا تھا کہ 24 رجب 441ھ کو سلطان مودود کا انتقال کر گیا۔ سلطان مودود نے نو سال تک حکمرانی کی۔

اولاد[ترمیم]

تاریخی کتب میں سلطان مودود کے تین بیٹوں کا ذکر ملتا ہے۔

  1. ابو الحسن محمود غزنوی
  2. منصور غزنوی
  3. ابو جعفر مسعود غزنوی [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ہندوستان کے مسلمان فاتح و تاجدار مولف سید محمد عمر شاہ صفحہ 50 اور 51
  2. تاریخ فرشتہ تالیف محمد قاسم فرشتہ اردو متراجم عبد الحئی خواجہ جلد اول صفحہ 107 تا 114