مندرجات کا رخ کریں

مورج سدوسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
مورج سدوسی
معلومات شخصیت
پیدائش بصرہ   ویکی ڈیٹا پر  (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 810ء   ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر ،  ادیب ،  ماہرِ لسانیات ،  مصنف   ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مؤرج بن عمرو بن حارث سدوسی بصری (وفات: 195ھ / 810ء) ایک مشہور عالمِ لغت، ماہرِ انساب اور بصری النسل عربی ادیب تھے۔ ان کا نسب ربیعہ بن نزار بن معد بن عدنان تک جا پہنچتا ہے۔ ان کی کنیت ابو الفَيد تھی اور "الفيد" کا مطلب ہے زعفران کی خوشبو یا غرور سے چلنے والا شخص۔[1][2][3]

تعلیم و نشو و نما

[ترمیم]

مؤرِج کی پرورش بصرہ میں ہوئی، جو عربی زبان اور علوم کا مرکز تھا۔ وہاں انھوں نے خلیل بن احمد اور ابو عمرو جیسے بڑے علما سے علم حاصل کیا۔ بعد ازاں ان کی علمی عظمت نے انھیں عباسی خلیفہ مامون الرشید کے دربار تک پہنچایا۔ مامون کے ساتھ وہ خراسان منتقل ہوئے اور وہاں مرو شہر میں مقیم رہے۔ پھر وہ نیشاپور بھی گئے، جہاں کے علما نے ان سے علم حاصل کیا۔[4][5][6]

شاعری

[ترمیم]

مؤرِّج نہ صرف عالمِ لغت بلکہ شاعر بھی تھے، اگرچہ ان کا زیادہ تر کلام ضائع ہو چکا ہے۔ تاہم ان کی شاعری کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مشہور شاعر ابو تمام نے ان کے اشعار کو اپنی مشہور کتاب الحماسہ میں شامل کیا۔[7]

ان کے چند مشہور اشعار میں سے ہیں:

وفارقتُ حتى ما أبالي من النوى
وإن بان جيرانٌ عليّ كرامُ
فقد جُعِلت نفسي على اليأس تنطوي
وعيني على فقدِ الصديق تنامُ

اسی طرح:

رُوِّعتُ بالبينِ حتى ما أُراع له
وبالمصائب في أهلي وإخواني
لم يتركِ الدهر لي عِلقاً أضِنُّ به
إلا اصطفاه بنأيٍ أو بهجرانِ

ادبا و ناقدین کے مطابق یہ اشعار فراق اور مصیبت کی بہترین ترجمانی کرتے ہیں۔

تصانیف

[ترمیم]

مؤرِج السَّدوسی نے کئی علمی کتابیں تحریر کیں، جن میں:

  • الأنواء
  • غریب القرآن
  • جماهير القبائل
  • المعانی
  • الأمثال: عربی زبان میں امثال پر یہ قدیم ترین کتابوں میں سے ہے، جس میں تقریباً 200 اشعار اور 117 سے زیادہ امثال کی لغوی تشریح موجود ہے۔

وفات

[ترمیم]

مؤرِّج کی وفات 195ھ (810ء) میں ہوئی۔ بعض روایات کے مطابق وہ 200ھ کے بعد تک زندہ رہے۔ مشہور کتاب الفہرست میں ابن ندیم لکھتے ہیں کہ مؤرِّج کا انتقال اسی دن ہوا جس دن معروف شاعر ابو نواس کا انتقال ہوا۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Adel Nuwayhed (1988)، مُعجم المُفسِّرين: من صدر الإسلام وحتَّى العصر الحاضر (بزبان عربی) (3 ایڈیشن)، بیروت: Q121003654، ج الثاني، ص 690، OCLC:235971276، QID: Q122197128
  2. "تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-05-01
  3. خير الدين الزركلي (2002)۔ الأعلام (15 ایڈیشن)۔ دار العلم للملايين۔ ج مج7۔ ص 318 {{حوالہ کتاب}}: نامعلوم پیرامیٹر |مقام اشاعت= رد کیا گیا (معاونت)
  4. "معلومات عن مؤرج السدوسي على موقع id.loc.gov"۔ id.loc.gov۔ 21 أكتوبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  5. "معلومات عن مؤرج السدوسي على موقع isni.org"۔ isni.org۔ 25 مارس 2020 کو 0000 8274 9605 اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 أكتوبر 2020 {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |تاریخ رسائی= (معاونت) و|یوآرایل= پیرامیٹر کو جانچ لیجیے (معاونت)
  6. "معلومات عن مؤرج السدوسي على موقع viaf.org"۔ viaf.org۔ 28 فبراير 2021 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  7. "سؤالات السجزي للحاكم"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-05-01

کتابیات

[ترمیم]
  • ابن خلكان، وفيات الأعيان، تحقيق إحسان عباس (دار صادر. بيروت 1977م).
  • السيوطي، بغية الوعاة، تحقيق محمد أبو الفضل إبراهيم (المكتبة العصرية، بيروت).
  • السدوسي، الأمثال، تحقيق رمضان عبد التواب (المهنية المصرية العامة، القاهرة 1971م).
  • ياقوت الحموي، معجم الأدباء (دار الكتب العلمية).