موروپنت تریمبک پنگلے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
موروپنت تریمبک پنگلے
موروپنت تریمبک پنگلے

چھترپتی شیواجی کے پردھان،
پرتاپ گڑھ کے سردار،
Flag of the Maratha Empire.svg مرہٹہ سلطنت کے پیشوا
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1620  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1683 (62–63 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
پرتاپ گڑھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مذہب ہندو، دیسشتھ برہمن
اولاد بہی روجی پنگلے  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
نسل موریشور پنگلے، بہی روجی پنگلے
دیگر معلومات
پیشہ فوجی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

موروپنت تریمبک پنگلے (1620ء – 1683ء) جو موروپنت پیشوا کے نام سے معروف ہیں، مرہٹہ سلطنت کے پہلے پیشوا اور شیواجی کے اشٹ پردھان منڈل میں شامل تھے۔[1]

سوانح حیات[ترمیم]

موروپنت سنہ 1620ء میں نیم گاؤں کے ایک دیشستھ برہمن خاندان میں پیدا ہوئے۔[2] سنہ 1647ء میں مرہٹہ سلطنت کے قیام کی غرض سے وہ شیواجی کے ساتھ ہو گئے۔ وہ ان سپاہیوں میں شامل تھے جنہوں نے 1659ء کی کامیاب جنگ میں شرکت کی تھی۔ یہ جنگ بیجاپور کے عادل شاہ سے ہوئی تھی جس کے فوراً بعد عادل شاہ کے جرنیل افضل خان کی وفات ہوئی۔ سنہ 1659ء میں معرکہ پرتاپ گڑھ میں افضل خان کے مرنے کے بعد جب مرہٹہ افواج بیجاپور کی افواج پر حملہ آور ہوئیں تو ان کی قیادت موروپنت ہی کر رہے تھے۔ 1671ء کے فروری میں مرہٹہ سرداروں کی سربراہی میں مرہٹہ افواج مغربی خاندیس اور باگلان میں مصروف پیکار تھیں تو موروپنت اس وقت بھی شریک لشکر تھے۔ نیز وہ مغلیہ سلطنت کے خلاف ٹرمبکیشور قلعہ اور وانی ڈنڈوری کے معرکوں میں بھی شریک رہے۔ رام نگر فتوحات کا سہرا بھی انہی کے سر ہے۔

سنہ 1664ء میں جب شیواجی نے سورت پر حملہ کیا تو موروپنت بھی ہم رکاب تھے۔ آگرہ سے فرار ہونے کے بعد شیواجی کے فرزند سمبھاجی موروپنت ہی کے اعزہ کے پاس متھرا میں سکونت پزیر تھے۔

موروپنت نے شیواجی کے زیر نگین علاقوں میں محصولات کا بہترین نظام متعارف کرایا تھا اور جنگی قلعوں کے انتظام و انصرام اور دیگر دفاعی امور کے متعلق پالیسی سازی میں ان کا اہم ترین کردار رہا۔ موروپنت ہی پرتاپ گڑھ کی تعمیر و انصرام کے ذمہ دار تھے۔ شیواجی کی وفات کے وقت وہ ضلع ناسک میں قلعہ سے متعلق ترقیاتی سرگرمیوں کے نگران تھے۔

شیواجی کی وفات کے بعد ان کے فرزند سمبھاجی کی کمان میں موروپنت پنگلے سنہ 1681ء میں معرکہ برہانپور میں شریک ہوئے۔

حوالہ جات[ترمیم]