موسا جلیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
موسا جلیل
(تتریہ میں: Муса Җәлил ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
1959 CPA 2334.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 2 فروری 1906[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 25 اگست 1944 (38 سال)[1][2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برلن  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش ورسک (1925–1926)  ویکی ڈیٹا پر رہائش (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Russia.svg سلطنت روس
Flag of the Soviet Union (1922–1923).svg سوویت اتحاد  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت اشتمالی جماعت سوویت اتحاد  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر، مصنف، مترجم، مصنف  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان روسی، تاتاری زبان  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
وفاداری سوویت اتحاد  ویکی ڈیٹا پر وفاداری (P945) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
SU Order of Lenin ribbon.svg آرڈر آف لینن
سوویت اتحاد کے ہیرو  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

موسا جلیل روسی: Муса Джалиль, Муса Мустафович Залялов, Musa Mustafovich Zalyalov, با ابجدیہ: [muˈsɑ dʒæˈlil] (پیدائش: 15 فروری 1906ء - وفات: 25 اگست 1944ء) سوویت تاتار شاعر، ڈراما نویس، صحافی اور لینن انعام یافتہ شاعر ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

تاتار شاعر اور سوویت شاعری کے مسلمہ استاد موسا جلیل 15 فروری 1906ء کو روسی سلطنت میں اورنبرگ صوبے کے چھوٹے سے تاتار گاؤں مصطفینہ میں غریب کسان کے گھر پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اورنبرگ کے خسینیہ مدرسہ میں حاصل کی۔ 1931ء میں کازان چلے گئے جہاں انہوں نے اپنے آپ کو تخلیقی و سماجی کام کے لیے وقف کر لیا۔ 1939ء میں انجمن مصنفین تاتارستان کے سربراہ منتخب ہوئے۔[3]

جب حب الوطنی کی جنگ عظیم شروع ہوئی تب تک وہ سوویت تاتاری ادب کے رہنما تسلیم کیے جاتے تھے۔ وہ رضاکارانہ طور پر محاذ پر لڑنے گئے جہاں 1942ء کی گرمیوں میں وولخوفسکی محاذ پر شدید زخمی ہوئے اور بے ہوشی کی حالت میں دشمن نے انھیں قیدی بنا لیا۔ جنگی قیدییوں کے درمیان انھوں نے خفیہ فاشزم مخالف کام بڑی سرگرمی سے کیا۔[4]

موسا جلیل نے 1939ء سے 1941ء تک تاتار اسٹیٹ اکیڈمک اوپیرا اور بیلٹ تھیٹر، کازان میں شعبہ ادب کے سربراہ کے طور پر کام کیا۔ بعد ازاں آپ کی خدمات کے اعتراف میں 1956ء میں تھیٹر کا نام موسا جلیل کے نام سے موسوم کیا گیا۔[5]

نازی جرمن خفیہ پولیس گستاپو نے ایک غدار کی جاسوسی پر انھیں اپنی تحویل میں لے لیا جہاں انھوں نے ایک کمیونسٹ کے شایانِ شان حوصلے اور دلیری کا ثبوت دیا۔ فاشسٹوں کی قید میں انھوں نے اپنی مشہور و معروف "موآبٹ جیل کی بیاض" لکھی جسے انھوں نے خفیہ فاشزم مخالف کارکنوں کے سپرد کر دیا اور جو جنگ کے بعد شاعر کے وطن پہنچی۔ خود شاعر کو فاشسٹ جلادوں نے قتل کر دیا۔[4]

اعزازات[ترمیم]

وفات[ترمیم]

موسا جلیل 25 اگست 1944ء کو پلوتزینسی (Plötzensee)، جرمنی میں دورانِ قید فاشسٹ جلادوں نے قتل کر دیا۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب اجازت نامہ: CC0
  2. Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/djälil-musa — بنام: Musa Djälil — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. موسا جلیل، دی سٹی آف کازان، آفیشل ویب پورٹل آف مئیر کازان
  4. ^ ا ب ظ انصاری / تقی حیدر، موج ہوائے عصر، رادوگا اشاعت گھر ماسکو،سوویت یونین، 1985ء، ص 259-260
  5. تاتارموسا جلیل اسٹیٹ اکیڈمک اوپیرا و بیلٹ تھیٹر، کازان ویب سائٹ
  6. موسا جلیل یادگار، تاتارستان ثقافتی ورثہ