موسا جلیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
موسا جلیل
Mussa Jalil
Musa Çəlil
Муса Җәлил
Djalilchulpan.jpg
موسا جلیل اپنی بیٹی کے ساتھ
پیدائش موسا مصطفووچ
15 فروری 1906(1906-02-15)ء
مصطفینہ، اورنبرگ، روسی سلطنت
وفات اگست 25، 1944(1944-80-25) (عمر  38 سال)ءپلوتزینسی (Plötzensee), جرمنی
قلمی نام موسا جلیل
پیشہ شاعر، ڈراما نویس، صحافی، مدیر
زبان تاتاری
قومیت Flag of Tatarstan.svg تاتارستان
نسل تاتار
مادر علمی ماسکو یونیورسٹی
نمایاں کام موآبٹ جیل کی بیاض
ڈاکیہ
آزادی
اہم اعزازات لینن انعام
ہیرو آف سوویت یونین

موسا جلیل روسی: Муса Джалиль, Муса Мустафович Залялов, Musa Mustafovich Zalyalov, با ابجدیہ: [muˈsɑ dʒæˈlil] (پیدائش: 15 فروری 1906ء - وفات: 25 اگست 1944ء) سوویت تاتار شاعر، ڈراما نویس، صحافی اور لینن انعام یافتہ شاعر ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

تاتار شاعر اور سوویت شاعری کے مسلمہ استاد موسا جلیل 15 فروری 1906ء کو روسی سلطنت میں اورنبرگ صوبے کے چھوٹے سے تاتار گاؤں مصطفینہ میں غریب کسان کے گھر پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اورنبرگ کے خسینیہ مدرسہ میں حاصل کی۔ 1931ء میں کازان چلے گئے جہاں انہوں نے اپنے آپ کو تخلیقی و سماجی کام کے لیے وقف کر لیا۔ 1939ء میں انجمن مصنفین تاتارستان کے سربراہ منتخب ہوئے۔[1]

جب حب الوطنی کی جنگ عظیم شروع ہوئی تب تک وہ سوویت تاتاری ادب کے رہنما تسلیم کیے جاتے تھے۔ وہ رضاکارانہ طور پر محاذ پر لڑنے گئے جہاں 1942ء کی گرمیوں میں وولخوفسکی محاذ پر شدید زخمی ہوئے اور بے ہوشی کی حالت میں دشمن نے انھیں قیدی بنا لیا۔ جنگی قیدییوں کے درمیان انھوں نے خفیہ فاشزم مخالف کام بڑی سرگرمی سے کیا۔[2]

موسا جلیل نے 1939ء سے 1941ء تک تاتار اسٹیٹ اکیڈمک اوپیرا اور بیلٹ تھیٹر, کازان میں شعبہ ادب کے سربراہ کے طور پر کام کیا۔ بعد ازاں آپ کی خدمات کے اعتراف میں 1956ء میں تھیٹر کا نام موسا جلیل کے نام سے موسوم کیا گیا۔[3]

نازی جرمن خفیہ پولیس گستاپو نے ایک غدار کی جاسوسی پر انھیں اپنی تحویل میں لے لیا جہاں انھوں نے ایک کمیونسٹ کے شایانِ شان حوصلے اور دلیری کا ثبوت دیا۔ فاشسٹوں کی قید میں انھوں نے اپنی مشہور و معروف "موآبٹ جیل کی بیاض" لکھی جسے انھوں نے خفیہ فاشزم مخالف کارکنوں کے سپرد کردیا اور جو جنگ کے بعد شاعر کے وطن پہنچی۔ خود شاعر کو فاشسٹ جلادوں نے قتل کردیا۔[2]

اعزازات[ترمیم]

وفات[ترمیم]

موسا جلیل 25 اگست 1944ء کو پلوتزینسی (Plötzensee)، جرمنی میں دورانِ قید فاشسٹ جلادوں نے قتل کردیا۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. موسا جلیل، دی سٹی آف کازان، آفیشل ویب پورٹل آف مئیر کازان
  2. ^ 2.0 2.1 موج ہوائے عصر، ظ انصاری / تقی حیدر، رادوگا اشاعت گھر ماسکو،سوویت یونین، 1985ء، ص 259-260،آئی ایس بی این نمبر5-05-000346-6
  3. تاتارموسا جلیل اسٹیٹ اکیڈمک اوپیرا و بیلٹ تھیٹر, کازان ویب سائٹ
  4. موسا جلیل یادگار، تاتارستان ثقافتی ورثہ