موسوعہ فقیہہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

موسوعہ فقیہہ ایک فقہی دائرۃ المعارف ہے جو بیسویں صدی کے اواخر میں مرتب ہونے والا مشہور دائرۃ المعارف تھا۔ یہ دائرۃ المعارف بیسویں صدی میں فقہ اور تعلیم فقہ سے متعلق ائمہ کی آراء یا اُن کے مابین فقہی اِختلاف کو واضح کرنے کے لیے مرتب کیا گیا۔ موسوعہ فقیہہ کی تیاری ایک قدیم اسلامی آرزو تھی جو ہر صدی یا عشرے میں اپنے عصری تقاضوں کے مطابق ضرورت سمجھی جا رہی تھی، باوجود یہ کہ اِس کی طرف بہت سارے اشخاص نے توجہ دِی جو اُمتِ اسلامیہ کی ترقی کے لیے فکر مند رہے، باوجود یہ کہ اُن کے فکر کی وضاحت اور مجوزہ طریقوں میں تفاوت رہا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

فقہ اسلامی کے حوالے سے اِس نئے علمی و تحقیقی منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش بیسویں صدی کے نصفِ اَول میں کی گئی۔ 1370ھ مطابق 1951ء میں پیرس میں منعقدہ ’’فقہ اِسلامی ہفتہ‘‘ نامی ایک کانفرنس سے اِس فقہی دائرۃ المعارف کی بابت ایک اپیل شائع کی گئی تھی۔ اِس کانفرنس میں عالم اِسلام کے فقہا کی ایک جماعت شریک ہوئی تھی۔ کانفرنس کی سفارشات میں ایک ایسے فقہی موسوعہ کی تالیف کی دعوت دی گئی تھی کہ جس میں قوانین اسلامی کی معلومات کو طرزِ جدید اور حروفِ تہجی کے اعتبار سے ترتیب دیا جائے۔ 1375ھ مطابق 1956ء میں اِس عالمی تاریخی فیصلہ کو رُو بہ عمل لانے کے لیے باضابطہ کوششوں کا آغاز ہو گیا۔یہ کوشش دمشق یونیورسٹی کی کلیۃ الشریعۃ کے تابع ایک کمیٹی نے شروع کی تھی جو ایک جمہوری فرمان کے تحت تشکیل دی گئی تھی۔ حالانکہ غیر سرکاری طور پر سب سے اہم کوشش جمعیۃ الدراسات الاسلامیہ، قاہرہ نے کی تھی کہ جس کے صرف دو ہی جز شائع ہو سکے تھے۔ دمشق یونیورسٹی کے تابع ایک کمیٹی نے شام اور مصر کے اتحاد کے بعد ایک جمہوری فیصلے کے ذریعے پہلے فیصلے کی توثیق کروا لی تھی اور 1381ھ مطابق 1961ء میں ایک جلد بحوثِ موسوعہ کے نمونہ کی طرز پر لوگوں کی رائے حاصل کرنے کے لیے شائع کی گئی جسے دونوں جمہوری مملکتوں کے کچھ فقہا نے ترتیب دیا تھا۔اِس بحوث موسوعہ کو جمہوریہ عربیہ متحدہ کے مصری صوبہ کی وزارت الاوقاف نے 1381ھ مطابق 1961ء میں شائع کیا تھا۔ 1961ء کی اِس اِشاعت کے بعد شام میں موسوعہ کے سلسلے کے کچھ تمہیدی کام منظرعام پر لائے گئے جیسے کہ ’’معجم فقہ ابن حزم‘‘ اور ’’دلیل مواطن البحث عن المصطلحات الفقیۃ‘‘۔ مصر میں وزارت الاوقاف نے 1961ء میں ’’المجلس الاعلیٰ للشئون الاسلامیۃ‘‘ کی کمیٹیوں کی سرکردگی میں موسوعہ کے تصور کو اختیار کر لیا تھا لیکن اِس کی طرف سے موسوعہ کی پہلی جلد 1386ھ میں شائع ہو سکی اور ہنوز پندرہ جلدیں ہی شائع ہوئیں۔ اِس کمیٹی کی طرف سے تیار کردہ موسوعہ کی تمام جلدیں شائع نہیں ہوسکیں کیونکہ اِس کی اِشاعت کی رفتار تیاری کی رفتار سے سست رہی۔ 1386ھ مطابق 1967ء میں مالی سطح اور رجال کار کی سطح پر کسی بھی باصلاحیت اسلامی ملک میں اِس طرح کے منصوبے کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے اسلامی کوششوں کے مربوط کیے جانے کی ضرورت محسوس کرنے کے بعد کویت کی ’’وزارت الاوقاف و اسلامی اُمور‘‘ نے اِس کی اِشاعت کا منصوبہ اُٹھایا اور پیش نظررکھتے ہوئے کہ یہ کام اِن فرض کفایہ قسم کے کاموں میں سے ہے جن کے ذریعے فقہ اسلامی کو ایسے عصری اسلوب میں پیش کرنے کی ذمہ داری اداء ہوتی ہے، جس کے ذریعہ فقہ کی معلومات حاصل کرنا اور اُس پر عمل کرنا آسان ہوجاتا ہے اور فضیلت و ثواب کے حصول کی خاطر اِس طرح کے کام کو انجام دینے کے لیے سبقت کرنی چاہیے، کیونکہ اِس کے ذریعہ سارہ اُمت مؤاخذہ اور ذِمہ داری سے عہدہ برآ ہو جاتی ہے۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. موسوعہ فقیہہ: جلد اول،  صفحہ  85 تا 86۔