موسیٰ بیگی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
موسیٰ بیگی
М Бигеев 1910.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 24 ستمبر 1874  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 28 اکتوبر 1949 (75 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قاہرہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ الازہر  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مترجم  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

موسیٰ بیگی جار اللہ (پیدائش: 24 ستمبر 1873ء— وفات: 28 اکتوبر 1949ء) انقلاب اکتوبر سے قبل روس کے شیخ الاسلام تھے۔ وہ مترجم، ماہر علم الٰہیات، فلسفی تھے۔عرب دنیا میں موسیٰ جار اللہ کے نام سے مشہور ہیں۔

سوانح[ترمیم]

موسیٰ بیگی  ایک نامعلوم فرد کے ہمراہ

پیدائش[ترمیم]

موسیٰ بیگی کی پیدائش 24 ستمبر 1874ء کو روستوف میں ہوئی۔ موسیٰ بیگی کے والد ملا یار اللہ دیلکم پینزا کے گاؤں کیکن (Kikine) کے باشندے تھے اور اُن کی والدہ فاطمہ اِسی گاؤں کے امام حبیب اللہ کی صاحبزادی تھیں۔موسیٰ بیگی کا خاندان متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔

تحصیل علم[ترمیم]

موسیٰ بیگی نے قازان (تاتارستان کے دار الحکومت)، بخارا، سمرقند، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور قاہرہ میں تعلیم حاصل کی۔ قاہرہ میں وہ دارالافتاء المصریہ میں وہ شیخ محمد بخت المطیع سے پڑھتے رہے۔ قازان میں اُن کی ابتدائی تعلیم نامکمل رہ گئی تھی، وہ تعلیم مکمل کیے بغیر ہی روستوف واپس آگئے تھے اور وہاں روسی سائنس کالج میں داخلہ لے لیا جہاں اُس نے 1895ء میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ دینی تعلیم کی تکمیل کے لیے موسیٰ بیگی بخارا چلے گئے اور وہاں چار سال تک دینی تعلیم حاصل کی اور پھر روستوف واپس آگئے۔ مزید دینی تعلیم کے لیے وہ مشرق وسطی چلے گئے۔ استنبول سے ہوتے ہوئے وہ قاہرہ پہنچ گئے اور جامعۃ الازہر میں داخلہ لیا۔ جامعۃ الازہر میں شیخ محمد عبدہ سے استفادہ کیا۔ چار سال تک علم فقہ، علم کلام اور فلسفہ کا وسیع مطالعہ کیا۔ہندوستان میں بھی آئے اور اتر پردیش میں قیام کیا، اِس قیام میں اُنہوں نے سنسکرت زبان سیکھی اور مہابھارت کا بھی مطالعہ کیا۔

ازدواج اور سینٹ پیٹرز برگ میں قیام[ترمیم]

موسیٰ بیگی استنبول میں قیام کے دوران۔

1904ء میں اُنہوں نے جامعۃ الازہر سے واپسی کے بعد اسماء علیہ خانم سے شادی کرلی۔زوجہ اسماء خانم کا انتقال 1979ء میں ہوا۔ موسیٰ بیگی کے 8 اولادیں تھیں جن میں 2 کا انتقال نوعمری میں ہو گیا تھا۔ اِس شادی میں ملازمت کی عملی زندگی بسر کرنے کی بجائے وہ قانون پڑھنے کے لیے سینٹ پیٹرز برگ اسٹیٹ یونیورسٹی (سینٹ پیٹرز برگ) چلے گئے تاکہ وہاں اسلامی فقہ کا مغربی قانون سے تقابلی جائزے کا مطالعہ کرسکیں۔ سینٹ پیٹرز برگ میں قیام کے دوران اُنہیں روسی معاشرے کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم ہوا۔ یہ قیام 1905ء سے 1917ء یعنی انقلاب اکتوبر تک رہا۔ 1910ء سے 1911ء میں وہ اورنبرگ کے مدرسہ خوسانیہ میں عربی زبان، تاریخ اسلام اور عقائد کی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ بحیثیت مھقق و معلم وہ اجتہاد کے قائل تھے اور اجتہاد پر کاربند بھی رہے۔ لیکن موسیٰ بیگی کی آراء روایتی طرز کی اسلامی آراء سے دور ہونے کی وجہ سے رضا الدین ابن فخر الدین جیسے بارسوخ عالم کی حمایت کے باوجود مذہبی حلقوں میں موسیٰ بیگی کی مخالفت کی جانے لگی اور اُنہوں نے اورنبرگ چھوڑ دیا۔[1]

سیاسی زندگی[ترمیم]

سینٹ پیٹرز برگ میں قیام کے دوران ہی اُنہیں سیاحت سے شغف پیدا ہو گیا اور اسلام میں ایک سیاسی قوت پیدا کرنے کی کوششوں کا احساس پیدا ہوا۔انقلاب روس 1905ء کے دوران موسیٰ بیگی مسلم اتحاد کے لیے کوششوں میں متحرک ہوئے۔ تاہم وہ عملی سیاست میں ملوث نہ ہوئے، سوائے اِس کے کہ اُنہوں نے مسلم کانگریس کے سیکرٹری کے طور پر کام کیا اور پین اسلام ازم کے علمبردار جریدہ اُلفت میں کئی مضامین لکھے۔اتفاق المسلین کے نام سے مسلم اتحاد کی کوشش کے لیے ایک کانگریس اگست 1905ء میں نیژنی نووگورود میں منعقد ہوئی۔[2] یہاں وہ مزید علمی و تحقیقی کاموں میں مشغول رہے۔1914ء میں اس اتحادی کوشش کی چوتھی کانگریس منعقد ہوئی۔1915ء میں موسیٰ بیگی نے اصطلاحات اساسلری تصنیف کی ۔

انقلاب روس[ترمیم]

1917ء میں روس میں بالشویک انقلاب روس کے سبب سلطنت روس ختم ہو گئی۔ اِس انقلاب سے روس میں آباد مسلمانوں کے لیے ایک اُمید جاگی کہ اُنہیں آزادی نصیب ہوگی مگر جلد ہی روسی مسلمانوں کی اِس اُمید سے پانی پھرگیا اور اُنہیں سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1920ء میں موسیٰ بیگی نے ABC of Islam تصنیف کی جو اشتراکی مصنف بکارن کی تصنیف ABC Communism کی طرز پر لکھی گئی۔ 1920ء میں اوفا کے دانشوروں کی ایک کانگریس میں دستاویز پیش کی۔ یہ دستاویز 236 نکات پر مرتب کی گئی تھی جس میں 68 نکات روسی مسلمانوں سے متعلق تھے اور باقی نکات دنیا میں آباد دوسرے مسلمانوں کے متعلق تھے۔ حکومت روس نے اِس دستاویز پر فوری ردِ عمل ظاہر کیا اور موسیٰ بیگی کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ تاہم فن لینڈ اور ترکی کے اخبارات نے موسیٰ بیگی کی جیل بھیجے جانے کی کارروائی کے متعلق اخباری مہم چلائی جس کے نتیجے میں حکومت روس نے موسیٰ بیگی کو تین ماہ جیل میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا۔

ناگزیر حالات میں بھی موسیٰ بیگی نے روس میں اپنا قیام رکھا اور 1926ء میں منعقد ہونے والی مسلم کانگریس میں اُنہوں نے اپنے ملک کی نمائندگی کی۔ وہ مئی 1926ء میں مکہ مکرمہ ایک وفد کے ہمراہ پہنچے اور وہاں سے قاہر چلے گئے۔ آئندہ سال (1927ء) میں موسیٰ بیگی نے حج اداء کیا جس کی اجازت اُنہیں حکومت روس نے دے دی تھی۔ ادائیگی حج کے بعد وہ دوبارہ روس واپس چلے گئے کیونکہ اب تک اُن کا یہی خیال تھا کہ وہ روس میں مقیم رہ کر مسلم ثقافتی ورثے کو بچانے کی کوششیں کرسکتے ہیں۔

جلاوطنی[ترمیم]

موسیٰ بیگی جو خوش گماں شخصیت ثابت ہوئے تھے، 1930ء میں وہ مسلمانوں کے مستقبل سے مایوس ہو گئے اور اُنہوں نے ہمیشہ کے لیے روس چھوڑ دینے کا ارادہ کر لیا۔ 1930ء میں وہ شب کی تاریکیوں میں روس سے فرار ہوئے، اِس حالت میں کہ اُن کے بیوی اور بچے روس میں رہ گئے۔ وہ چینی ترکستان سے چین میں داخل ہوکر ترکستان اور افغانستان سے ہوتے ہوئے ہندوستان پہنچے۔ 1931ء میں اُنہوں نے مصر اور فن لینڈ کا دورہ کیا اور 1932ء میں ترکی کی تاریخ میں منعقد ہونے والی پہلی کانگریس میں شرکت کی۔ 1933ء سے 1937ء تک وہ فن لینڈ، جرمنی اور مشرق وسطی میں مقیم رہے۔ 1938ء میں چین اور جاپان کا سفر کیا اور 1939ء میں وہ ہندوستان سے ہوتے ہوئے افغانستان پہنچے۔ افغانستان میں مستقل رہائش اختیار کرنے کا اِرادہ کیا لیکن انگریزوں نے اُنہیں جیل بھیج دیا جہاں وہ اٹھارہ مہینے تک رہے۔ اٹھارہ مہینوں کے بعد رہا ہوئے تو ناچار حالت میں واپس ہندوستان چلے آئے اور یہاں 1947ء تک مقیم رہے۔ 1947ء کے بعد وہ مصر چلے گئے اور وہیں مقیم ہوئے۔[3]

وفات[ترمیم]

مصر میں قیام کے دوران ہی کسمپرسی کی حالت میں 75 سال کی عمر میں 28 اکتوبر 1949ء کو میں قاہرہ میں انتقال ہوا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Ahmet Kanlidere: Reform within Islam. The Tajdid and Jadid Movement among the Kazan Tatars (1809–1917), Istanbul 1997; p. 52-56
  2. Ahmet Kanlidere: Reform within Islam. The Tajdid and Jadid Movement among the Kazan Tatars (1809–1917), Istanbul 1997; p. 52-56
  3. Elmira Akhmetova: Musa Jerullah Bigiev (1875–1949). Political Thought of a Tatar Muslim Scholar, Intellectual Discourse (2008, Vol.1), p. 49-71