رشید احمد گنگوہی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رشید احمد گنگوہی
معلومات شخصیت
پیدائش 10 مئی 1829  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
گنگوہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 11 اگست 1905 (76 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
گنگوہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مؤثر امداد اللہ مہاجر مکی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مؤثر (P737) ویکی ڈیٹا پر
تحریک دیو بندی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تحریک (P135) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

امام ربانی حضرت مولانا رسید احمد گنگوھی

ابتدائی زندگی

امام ربانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی 6/ذی قعدہ 1242ھ کو دوشنبہ کے دن گنگوہ، ضلع سہارنپور، یوپی میں پیدا ہوئے، ان کے والد ماجد مولانا ہدایت احمد اپنے زمانے کے ایک جید دینی عالم تھے، وہ دہلی کے حضرت شاہ غلام علی مجددی دہلویؒ سے مجاز تھے۔

حضرت گنگوہی قرآن شریف وطن میں پڑھ کر اپنے ماموں کے پاس کرنال چلے گئے اور ان سے فارسی کی کتابیں پڑھیں، پھر مولوی محمد بخش رامپوری سے صرف و نحو کی تعلیم حاصل کی۔ 1261ھ میں دہلی پہنچ کر حضرت مولانا مملوک علی نانوتویؒ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا، یہیں حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم النانوتوی ؒ سے تعلق قائم ہوا، جو پھر ساری عمر قائم رہا۔ دہلی میں معقولات کی بعض کتابیں مفتی صدرالدین آزردہ سے بھی پڑھیں، آخر میں حضرت شاہ عبد الغنی مجددی ؒ کی خدمت میں رہ کر علم حدیث کی تحصیل کی۔

گرچہ قیامِ دار العلوم دیوبند میں کوئی فعال کردار آپ کا نہیں ملتا مگر طالب علمی کے زمانے سے ہی حجۃالاسلام محمد قاسم نانوتویؒ سے تعلق رہا۔ اسی وجہ سے مؤرخین کا کہنا ہے کہ 1283ھ مطابق 1866ء میں دار العلوم کے قیام سے آپ بے خبر نہیں تھے۔ مدرسہ عربی اسلامی دیوبند کے قیام کے دوسال بعد 1285ھ میں دار العلوم دیوبند سے حضرت گنگوہی کے رسمی تعلق کا سراغ ملتا ہے۔ حجۃالاسلام مولانا محمدقاسم نانوتویؒ بانئ دار العلوم دیوبند کی وفات کے بعد آپ دار العلوم دیوبند کے دوسرے سرپرست مقرر ہوئے۔ دار العلوم کے نصاب کو تیار کرنے میں آپ کا اہم کردار رہا ہے۔ اس لیے مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے ساتھ آپ بھی مسلک دار العلوم دیوبند کے پیشوا ہیں۔

برطانوی سامراج کے خلاف جنگ

1857ء میں خانقاہِ قدوسی سے مردانہ وار نکل کر انگریزوں کے خلاف صف آرا ہو گئے اور اپنے مرشد حضرت حاجی صاحب اور دوسرے رفقا کے ساتھ شاملی کے معرکۂ جہاد میں شامل ہوکر خوب داد شجاعت دی۔ جب میدان جنگ میں حافظ ضامن شہید ہوکر گرے تو آپ ان کی نعش اٹھاکر قریب کی مسجد میں لے گئے اور پاس بیٹھ کر قرآن شریف کی تلاوت شروع کردی۔

معرکۂ شاملی کے بعد گرفتاری کا وارنٹ جاری ہوا اور ان کو گرفتار کرکے سہارنپور کی جیل میں بھیج دیا گیا، پھر وہاں سے مظفرنگر منتقل کر دیا گیا، چھ مہینے جیل میں گزرے، وہاں بہت سے قیدی آپ کے معتقد ہو گئے اور جیل خانے میں جماعت کے ساتھ نماز اداکرنے لگے۔

درس حدیث

جیل سے رہائی کے بعد آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ شروع فرمایا، 1299ھ میں تیسرے حج کے بعد آپ نے یہ التزام کیا کہ ایک سال کے اندر اندر پوری صحاح ستہ کو ختم کرادیتے تھے، معمول یہ تھا کہ صبح سے 12 بجے تک طلبہ کو پڑھاتے تھے۔ آپ کے درس کی شہرت سُن سُن کر طالبانِ حدیث دور دور سے آتے تھے، کبھی کبھی ان کی تعداد ستّر اسّی تک پہنچ جاتی تھی، جن میں ہندو بیرونِ ہند کے طلبہ بھی شامل ہوتے تھے۔ طلبہ کے ساتھ غایت محبت و شفقت سے پیش آتے تھے۔ درس کی تقریر ایسی ہوتی تھی کہ ایک عامی بھی سمجھ لیتا تھا، آپ کے درس حدیث میں ایک خاص خوبی یہ تھی کہ حدیث کے مضمون کو سن کر اس پر عمل کرنے کا شوق پیدا ہوجاتا تھا۔ جامع ترمذی کی درسی تقریر 'الکوکب الدری' کے نام سے شائع ہوچکی ہے، جو مختصر ہونے کے باوجود ترمذی کی نہایت جامع شرح ہے، 1314ھ تک آپ کا درس جاری رہا، تین سو سے زائد حضرات نے آپ سے دورۂ حدیث کی تکمیل کی۔ درسِ حدیث میں آپ کے آخری شاگرد حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ کے والد ماجد حضرت مولانا محمد یحیٰ کاندھلویؒ تھے۔ آخر میں نزول الماء کی بیماری کی وجہ سے درس بند ہو گیا تھامگر ارشادوتلقین اور فتاویٰ کا سلسلہ برابر جاری رہا، ذکراللہ کی تحریص و ترغیب پر بڑی توجہ تھی، جو لوگ خدمت میں حاضر ہوتے، رغبتِ آخرت کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور لے کر جاتے، اتباع سنّت کا غایت اہتمام فرماتے تھے۔

رشید احمد گنگوہی کے سلسلے میں مولانا عبید اللہ سندھی کا بیان

شیخ الاسلام ابو مسعود رشید احمد گنگوہی حضرت ہدایت اللہ انصاری کے فرزند تھے۔ آپ کی پیدائش 1244ھ میں ہوئی، آپ نے مولانا مملوک علی نانوتویؒ، مولانا عبد الغنی دہلوی، مولانا احمد سعید دہلوی اور مولانا امداداللہ مہاجر مکی وغیرہم سے تعلیم حاصل کی۔ سنن ابی داود کاایک بڑا حصہ میں نے الگ سے آپ سے پڑھی۔ اس سے مجھے بہت بڑا فائدہ حاصل ہوا۔ یہ مولانا رشید احمد گنگوہی کی ہی صحبت کا نتیجہ تھا کہ میں نے ان کے مسلک کو اس طرح اپنالیا کہ ذرا بھی انحراف کا خیا ل تک نہ آیا۔ آپ ہی کے واسطے سے فقہ و حدیث میں ولی اللٰہی معرفت حاصل ہوئی۔ اور آپ ہی کی برکتوں سے علوم فقہ، سلوک و معرفت، عربی اور قرآن و سنت میں اعلیٰ عقلی مباحث اور مبادیات و اصول میں مجھے کافی مہارت حاصل ہوئی، میں نے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کو مسلک حنفیت کا پلند پایہ امام اور مجتہد پایا، وہ اپنے استاذ مولانا عبد الغنیؒ کے مکتب فکر پر بہت سختی سے عمل پیرا اور چٹان کی طرح راسخ تھے اور مسلکِ ولی اللہی میں قریب قریب مولانا محمد اسحاق دہلویؒ جیسے تھے، سنت و بدعت کی حقیقت مجھے آپ کی کتاب براہین قاطعہ سے سمجھ میں آئی، حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تصنیف ایضاح الحق کی اعانت میں آپ نے یہ کتاب تصنیف کی،امیر امداداللہ ؒاور مولانا محمد قاسم نانوتوی کے بعد حضرت مولانا رشید احمدؒ ہی دیوبندی جماعت کے امام ہوئے،تین ہزار سے زائد مشائخ نے آپ سے علم دین حاصل کی،1323ھ میں آپ کی وفات ہے۔

دار العلوم کی سر پرستی

1297ھ میں حضرت مولانا قاسم نانوتوی کی وفات کے بعد دار العلوم دیوبند کے سرپرست ہوئے،مشکل حالات میں دار العلوم کی گتھیوں کو سلجھادینا ان کی ایک بڑی خصوصیت تھی۔ 1314ھ سے مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور کی سرپرستی بھی قبول فرمالی تھی۔ فقہ اور تصوف میں تقریباً 14 کتابیں تصنیف فرمائیں۔

وفات

باختلاف روایت 8 یا 9 جمادی الثانی 1323ھ مطابق 1905ء بروز جمعہ اذان جعہ کے بعد 78 سال کی عمر میں وفات پائی۔ آپ کے تلامذہ کا ایک وسیع حلقہ ہے، جس میں بڑے بڑے نامور علما شامل ہیں، اسی طرح آپ کے خلفاء کی بھی ایک طویل فہرست ہے۔ آپ کے تفصیلی حالات تذکرۃ الرشید مصنفہ مولانا عاشق الٰہی میرٹھی میں درج ہیں، یہ کتاب دوجلدوں پر مشتمل ہے۔

حوالہ جات