مولوی سید ممتاز علی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مولوی سید ممتاز علی
معلومات شخصیت
پیدائش 27 ستمبر 1860  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
راولپنڈی،  وبرطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 15 جون 1935 (75 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور،  وبرطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن دیوبند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ محمدی بیگم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد امتیاز علی تاج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی دار العلوم دیوبند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مصنف،  وناشر،  ومترجم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں تہذیب نسواں (اخبار)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

شمس العلماء مولوی سید ممتاز علی (پیدائش: 27 ستمبر، 1860ء - وفات: 15 جون، 1935ء) اردو زبان کے معروف مصنف، ناشر، مترجم، رفاہِ عام پریس کے مالک اور زنانہ اخبار تہذیب نسواں کے بانی تھے۔ انار کلی اور سابق ڈائریکٹر مجلس ترقی ادب لاہور امتیاز علی تاج ان کے فرزند تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

مولوی سید ممتاز علی 27 ستبر، 1860ء میں راولپنڈی، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے۔ان کے والد کا نام سید ذو الفقار علی تھا۔[1] مولانا محمد قاسم نانوتوی اور مولوی محمد یعقوب سے قرآن، حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ انگریزی کی تعلیم کچھ پرائیویٹ، کچھ اسکولوں میں پائی، 1876ء میں لاہور چلے گئے اور تا دمِ مرگ وہیں رہے۔ 1884ء میں پنجاب چیف کورٹ میں مترجم مقرر ہوئے اور 1891ء تک رہے۔ پھر انہوں نے 1898ء کو لاہور میں رفاہِ عام پریس قائم کیا، جہاں سے نہایت بلند پایہ کتابیں بہترین طباعت اور کتابت کے ساتھ شائع ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے دار الاشاعت پنجاب کے نام سے ایک کتاب خانہ بھی قائم کیا۔ یکم جولائی 1898ء میں انہوں نے عورتوں کے لیے اعلیٰ پایہ کا ہفتہ وار اخبار تہذیب نسواں جاری کیا،جس کی ادارت ان کی بیوی محمدی بیگم کے سپرد تھی۔ تہذیب نسواں بہت جلد سارے ہندوستان کے متوسط طبقے کے اردو داں مسلم گھرانوں میں پہنچنے لگا، اس کی وجہ سے معمولی تعلیم یافتہ پردہ نشیں خواتین میں تصنیف و تالیف کا شوق پیدا ہوا۔ یہ اخبار 1949ء تک جاری رہا۔ 1909ء میں بچوں کے لیے جریدہ پھول کا اجرا کیا جو تقسیم ہند کے بعد بھی نکلتا رہا۔ حکومت ہند نے ان کی علمی و ادبی خدمات کے صلہ میں 1934ء میں انہیں شمس العلماء کا خطاب دیا۔ سر سید احمد خان سے ان کے گہرے مراسم تھے۔ اخلاق و مروت کے لحاظ سے ایک بہترین انسان اور نہایت منکسر المزاج اور با اصول شخص تھے۔ ڈراما انارکلی کے مصنف اور مجلس ترقی ادب لاہور کے سابق ڈائریکٹر امتیاز علی تاج ان کے فرزند ہیں۔[2]

تصانیف[ترمیم]

  • شیخ حسن (روحانیات، دار الشاعت پنجاب لاہور، 1930ء)
  • اربعین من احادیث سید المرسلینﷺ (حدیث، دار الاشاعت پنجاب لاہور، 1937ء)
  • تفصیل البیان
  • حقوق نسواں (مطبع رفاہ عام لاہور، 1898ء)
  • ریاض الاخلاق (مولوی مرزا سلطان احمد خاں کے متفرق مضامین کا مجموعہ، ترتیب:مولوی سید ممتاز علی، رفاہ عام اسٹیم لاہور، 1900ء)
  • سراج الاخلاق (مولوی مرزا سلطان احمد خاں کے متفرق مضامین کا مجموعہ، ترتیب:مولوی سید ممتاز علی، رفاہ عام اسٹیم لاہور، 1903ء)

بانی مدیر[ترمیم]

  • تہذیب نسواں
  • پھول

وفات[ترمیم]

مولوی ممتاز علی 15 جون 1935ء کو لاہورمیں انتقال کرگئے۔ انہیں دیوبند کے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مولوی محبوب عالم، اردو صحافت کی ایک نادر تاریخ، مغربی پاکستان اردو اکیڈمی، لاہور، 1992ء، ص 156
  2. ^ ا ب نقوش لاہور نمبر، شمارہ 92۔ فروری 1962ء، ادارہ فروغِ اردو لاہور، ص 948