مولوی عبد الکریم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مولوی عبد الکریم لغاری رحمۃ اللہ علیہ
مرد قلندر
مولوی عبد الکریم لغاری کی شاعری
قصیدہ بردہ شریف


دستب


مولوی عبد الکریم رحمۃ اللّٰہ علیہ

آپ انتہائی متقی اور پرہیز گار تھے

عالم دین تھے

آپ کی سخاوت لوگوں میں مشہور تھی

آپ کی تعلیمی میدان میں بےشمار خدمات ہیں

آپ نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی عام کی

آپ نے جو مدارس اور اسکول اپنے خرچ اور اپنی محنت سے شروع کیے تھے آج وہ ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں

آپ صاحب کرامت بزرگ تھے

آپ زبردست استاد شاعر اور کئی کتابوں کے مصنف تھے

آپ کی علمی خدمات کا تذکرہ انتہائی ❤️ دلچسپ اور حیران کن اور کابل رشک ہے

آپ کی علمی خدمات کے اعتراف میں اگر آپ کو نوبل انعام دیا جاتا تو شاید یہ بھی ☀️ سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوتا

ذاتی معلومات[ترمیم]

'ولادت 25 ربیع الثانی 1333 ہجری بمطابق 12 مارچ 1915 عیسوی'والد محترم حاجی علی محمد لغاری

اولاد نہیں

اصل نام جام

آپ کے بھای 1 صوفی محمد صدیق 2 حاجی عبداللّٰہ 3 کرم علی 4 نور محمد

جائے پیدائش لانڈی شاخ الخائ

سکونت مسن بڑی ضلع ٹنڈوالہیار

ابتدائی تعلیم حالجی شریف ضلع گھوٹکی

اعلیٰ تعلیم دار العلوم دیوبند ہندوستان

مذہب اسلام

فقہ حنفیہ

تصانیف مرد قلندر ، سڪ جو سفر ، تھدا وڻ ولهار جا

سلسلہ تریقت

مولوی عبد الکریم کی قبر مبارک

وفات 14 شوال المکرم 1425 ہجری بمطابق 27 نومبر 2004 بروز اتوار[ترمیم]

وجہ وفات طبعی موت

مدفون عبد اللہ فقیر قبرستان مسن بڑی ضلع ٹنڈوالہیار

شہریت پاکستان

مادری زبان سرایکی

پیشہ ورانہ زبان سندھی اردو عربی فارسی

پیشہ عالم دین مصنف زمین دار

اللّٰہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان رہم والا[ترمیم]


کرامت[ترمیم]

یوسف سولنگی کے بیان کے مطابق

ایک مرتبہ طلبہ دوڑتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا

کہ درجہ (کلاس) میں دو (2) 🐍 سانپ ہیں

مولوی عبد الکریم لغاری صاحب کلاس میں تشریف لے گئے

مگر وہاں سانپ کی جگہ دو پر اسرار لڑکے موجود تھے

آپ نے ان لڑکوں سے فرمایا کہ آپ لوگ یہاں سے تشریف لے جائیں

آپ مدرسہ چھوڑ دیں

کیوں کہ آپ ظاہر ہو گئے ہیں اور دیگر طلبہ کے لیے خوف کا باعث بن سکتے ہیں


کرامت

مولوی عبد الکریم لغاری رحمۃ اللہ علیہ نے جس جگہ اسلامیہ ہائی اسکول کی بنیاد رکھنی تھی اس جگہ پر 🌲 درختوں اور جھاڑیوں کی بھر مار تھی متعدد لوگوں کے بیان کے مطابق اور ھزاری مل بیان کا خلاصہ ہے کہ ایک دن میں آپ کے ساتھ اس زمین پر موجود تھا جہاں اسلامیہ ہائی اسکول تعمیر ہونا تھا

میں نے عرض کی سائیں اگر آپ اجازت دیں تو میں ان جھاڑیوں کو کاٹنے کا کام شروع کروں آپ نے فرمایا نہیں ھزاری آپ رہنے دو اللہ تعالیٰ کے کرم سے یی سب بھی ہو جائے گا

جب اگلے دن میں وہاں گیا تو میں نے دیکھا کہ ساری جھاڑیوں کا صفایا ہو چکا ہے اور میدان بلکل ساتھ ہے

مگر اس میدان میں ابھی بہت ساری بھرائی کی ضرورت تھی کیونکہ یہ جگہ کافی گہری تھی اور عمارت کو زمین سے کچھہ بلند بھی بنانا تھا 🌃 رات میں مولوی عبد الکریم لغاری رحمۃ اللہ علیہ اکیلے ہی کھدال (کودڑ) لے کر اسکول کی زمین پر مٹی ڈالنے پہنچ جاتے اور راتوں رات مٹی کا بڑا ڈھیر لگ جاتا

محمد یامین کے بیان کے مطابق جب آپ رات کے وقت اکیلے مٹی کی بھرائی کرتے تو ایسی آوازیں آتی جیسے 100 افراد مل کر بھرائی کر رہے ہیں یہی وجہ تھی کہ رات کے تھوڑے سے حصے میں ہی مٹی کا بڑا ڈھیر لگ جاتا


آپ علم دوست بلکہ علم سے محبت کرنے والے تھے[ترمیم]

آپ کی علمی خدمات کا اگر ذکر کیا جائے تو شاید اس مضمون کو مکمل کرنے کے لیے ہمیں سال ہہ سال کا وقت درکارہے[ترمیم]


اسلامیہ ہائی اسکول


اسلامیہ ہائی اسکول

آپ کے شاگرد[ترمیم]

نصاب میں آپ کا تعارف
مدرسہ دارالھي مسڻ وڏي


مولوی محمد عمر داودانی۔مولوی غلام قادر بروھی۔مولوی محمد حسن ساند، مولوی یامین شورو، مولوی عبد الرحمن شورو، مولوی عبد الکریم سریوال،

مولوی محمد عثمان گاھو ، مولوی عبد الرحمن چٹو، مولوی ابرہیم کمبہار، مولوی میر محمد لغاری، مولوی محمد حسن لغاری، مولوی خلیل لغاری، مولوی حافظ محمد صدیق عمرانی، مولوی امان اللہ کمبھار، حکیم عبد الرحمن لغاری، حکیم حاجی محمد اسحاق لغاری، حکیم ڈاکٹر نبی بخش لغاری، محمد ہاشم لغاری، عبدالطیف منگریو، سرجن پرفیسر ڈاکٹر محمد حسین لغاری، سرجن ڈاکٹر عبد العزیز لغاری، ڈاکٹر محمد ایوب لغاری، ڈاکٹر دریا خان لغاری، ڈاکٹر خادم لغاری، ڈاکٹر ولی محمد لغاری، ایم بی بی ایس ڈاکٹر قربان لغاری، حکیم ڈاکٹر عمر لغاری، ڈاکٹر منٹھار تھیبو، ڈاکٹر غلام محمد بگھیو، ڈاکٹر رانو ایم آر کیسر، پرفیسر محمد میمن، پرفیسر محمد کامل لغاری، شاعر خلیل کھوسو، استاد حاجی عبداللہ داودانی، استاد خان محمد، استاد میر محمد خاصخیلی، استاد محمد عثمان کمبھار، استاد نولرا لال چندانی، استاد سائیں خلیل الرحمٰن لغاری (ایڈووکیٹ)، استاد رسول بخش، استاد عبد الجبار لغاری، محترم جناب ظہیر الدین بابر، محترم ریاض احمد لغاری، محترم عبد الرحیم عمرانی، محترم عبد الرحمن بلوچ، رئیس حاجی عمر خان لغاری، رئیس حاجی محمود لغاری، رئیس گل حسن لغاری، محترم محمد حسن لغاری، محترم مخدوم میاں علی محمد ولہاری، محترم مخدوم میاں مقبول ولہاری، محترم عاصی عبد الاحد ھکڑو، وڈیروں حاجی عمر بگھیو، وڈیروں حاجی قبول محمد ساند، انجینئر محمد صالح کنبھار جناب عبد الرحمن ساند

مشتاق ملک (انسپکٹر سندھ پولیس) ، ریاض محمد ملک (PASP) ، عبد المجید ملک (اردو فاضل) ، ظہیر احمد ملک (شیشن جج ریڈر) ، محمد اکرم ملک (صوبیدار میجر پاک فوج) ، ڈاکٹر ظہیر ملک (ڈاکٹرUSA) ، محمد یامین ملک

مولوی عبد الکریم لغاری رحمۃ اللہ علیہ کے اساتذہ اکرم[ترمیم]

مولوی محمد یعقوب پنور (فاضل مدرسہ قرانی)

مولانا محمد نوح خاصخیلی، مولانا حاجی محمد ابرہیم خاصخیلی، مولانا محمد صالح میمن نصر پوری، مولانا رسول بخش چانڈیو جیمس آباد (کوٹ غلام محمد) ،مولانا عبد لطیف میمن ، مولانا میاں احمد متعلوی نصر پوری ، مولانا عبد الحق ربانی نصر پوری ، مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی ، مولانا ظھور الحسن دیوبندی ، مولانا اصغر حسین شاہ دیوبندی ، مولانا عبد السمیع دیوبندی ، مولانا شمس الحق افغانی ، شیخ العرب والعجم مولانا سید حسین احمد مدنی ، مولانا اعزاز علی ، مولانا شبیر احمد عثمانی ، وغیرہ






مولوی عبد الکریم کی تعلیمی میدان میں کی جانے والی ان عظیم کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت وقت نے تعلیمی نصاب میں آپ کا تعارف پیش کیا


نصاب میں آپ کے تعارف کی تصویر بھی موجود ہے

الھدی پبلیکیشن[ترمیم]

مدرسہ دارالہدی کا ذیلی ادارہ ہے جو مولوی عبد الکریم لغاری کی تجویز پر عمل درآمد کرتے ہوئے 2003 سن ھجری میں قائم کیا گیا

اس ادارے کا اہم مقصد دینی کتب ورسائل تشہیر کے زریعے عام مسلمانوں کو مذہبی رجحان کی طرف لانا اور بڑھتے ہوئے بد مذہبوں کے نشر واشاعت کا دفاع کرنا ہے

مزید اپنے مسلمان بھائیوں کو شفاف اسلامی مواد مہیا کیا جائے

ادارے کا ایک اہم مقصد یی بھی ہے کہ حضرت مولانا مولوی عبد الکریم لغاری رحمۃ اللہ علیہ

کی تصانیف کو سجا سنوار کر پیش کیا جائے تاکہ عام مسلمان بھی اس عظیم شخصیت کے بارے میں جان سکیں اور ان کے علم سے استفادہ حاصل کر سکیں


قصیدہ بردہ شریف مولوی محمد یامین شورو

مقامی علماء اکرام دانشوروں ادیبوں کی قلمی کاوشوں کو شائع کرنا بھی ادارے کی ترجیحات میں شامل ہے

مسڻ کان مديني تائينمولوي محمد يامين شورو


مختصر حالات زندگی حضرت مولانا عبد الکریم لغاری رحمۃ اللہ علیہ[ترمیم]

آپ کی شخصیت کو علم وعمل تواضع و توکل صبر و تحمل تقوی و تزکیہ نفوس ایثار و قربانی کم گوئی پاک دامنی و پرہیز گاری نرمی و عاجزی سخاوت و مہمان نوازی خدمت خلق و خوداری تصنیف و تالیف جیس اعلیٰ صفات سے جانی جاتی ہے مولانا عبد الکریم لغاری مسلسل 46 سال تک مدرسہ دارالہدی مسن بڑی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے

اس کے ساتھ ساتھ مدرسہ کے اندرونی و بیرونی معاملات اساتذہ اکرام اور طلبہ اکرام کی کفالت تعلیمی نظام کو بہتر بنانے مدرسہ کے مخالفین کو منہ دینا بھی آپ کی زمیداری تھی

1989 میں مولانا محمد اسماعیل لغاری رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد مدرسہ دارالہدی کے اہتمام کی زمیداری بھی آپ نے با خوبی نبھائی

آپ نے اپنی قوم کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم سے روشناس کرانے کے لیے 1944 میں ایک مکتب کی شروعات کی

جو آگے چل کر مسلم سندھی پرائمری سکول کے نام سے منسوب ہوا

اس اسکول میں 29 سال تک مولوی عبد الکریم نے ھیڈ ماسٹر کے فرائض انجام دے

1972 میں اس اسکول کو گورمنٹ کی تحویل میں دے دیا گیا

لوکل بورڈ کی منظوری سے مسلم سندھی پرائمری اسکول میں انگلش کلاس بھی شروع کی گئی جو آگے چل کر مڈل سکول بن گیا 1961 ہائی اسکول کے درجے تک پہنچ گیا جدید عصری تعلیم کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے ایک کمیٹی رجسٹر کرائی گئی جس کے سربراہ مولانا محمد اسماعیل لغاری رحمۃ اللہ علیہ اور سکریٹری مولوی عبد الکریم لغاری رحمۃ اللہ علیہ تھے

اسکول کے رہائشی طلبہ کے لئے ہاسٹل کی بلڈنگ تعمیر کروائی گئی

60 شاگردوں کے لیے خوراک علاج رہائش سفر خرچ وغیرہ بھی کمیٹی کی زمیداری تھی

مولوی عبد الکریم لغاری رحمۃ اللہ علیہ کی سربراہی میں اسلامیہ ہائی اسکول 19 سال تک پوری کامیابی سے آگے بڑھتا رہا

اسلامیہ ہائی اسکول کو 1972 میں سرکاری تحویل میں دے دیا گیا


اللہ تعالیٰ آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے

تصنیف 1 مرد قلندر ھ سندھی زبان میں[ترمیم]

سڪ جو سفر
مرد قلندر اندرونی صفحہ


مرد قلندر سندھی زبان میں آپ کی پہلی تصنیف ہے جو آپ نے اپنے بچپن کے دوست اور علمی ادبی سفر میں آپ کے ساتھی سائیں صاحب خان کے حالات زندگی پر لکھی اور آنے والے لوگوں کے لیے مشعل راہ ہے

یہ کتاب مارچ 1979 سن عیسوی میں شائع ہوئی

تصنیف 2 سندھی زبان میں سک جو سفر[ترمیم]

مارچ 1980سن ھجری انڈیا میں دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ جشن کا آنکھوں دیکھا حال اور اپنے اس سفر کی روداد لکھی گئی ہے یہ کتاب دارالعلوم دیوبند کی تاریخ اور آزادی ہندوستان کی جدو جہد کے احوال پر مشتمل ہے

یہ کتاب جنوری 1982 میں شائع ہوئی

تصنیف 3 سندھی زبان میں تھدا ون ولہار جا[ترمیم]

ٿدا وڻ ولهار جا


یہ کتاب مسن بڑی کی قدیم اور جدید تاریخ کے متعلق ہے

در حقیقت اس کتاب میں مولانا عبد الکریم لغاری رحمۃ اللہ علیہ ٹنڈوالہیار ضلع اور اس سے متصل چھوٹے بڑے کئ شہروں کی مکمل تاریخ لکھنا چاہتے تھے

ان شہروں میں دالو پاک سنگار سنجر چانگ چمبر وغیرہ ہیں

مگر آپ بیماری کے باعث اس مکمل تاریخ کو لکھنے سے قاصر رہے

یہ کتاب جولائی 1984 سن عیسوی میں شائع ہوئی

بیاض کریم[ترمیم]

اس کتاب کو مولوی محمد یامین شورو صاحب نے ترتیب دیا ہے

یہ کتاب مولوی عبد الکریم لغاری رحمۃ اللہ علیہ کی شاعری کا مجموعہ ہے

اس کے حصہ اول 88 صفحات پر سندھی زبان میں آپ کی شاعری ہے

حصہ دوم میں فارسی شاعری کے 22 صفحات ہیں

اکتوبر 1988 میں یہ کتاب مکمل ہوئی

نقوش زندگی[ترمیم]


خود نوشت سوانح 19 صفحات پر مشتمل رسالہ ہے[ترمیم]

16دسمبر 1992 میں مکمل ہوا[ترمیم]


ڈائری (روزنامہ)[ترمیم]

حضرت مولانا عبد الکریم لغاری رحمۃ اللہ علیہ نے بلا ناغہ 1978 سے 1997تک اور کچھ مہینے 1998کے بھی روزانا اپنی ڈائری لکھی

جس میں ملک وقوم سیاسی سماجی اقتصادی اور معاشی تاریخ کے ساتھ اہم واقعات کا ذخیرہ لوگوں کی رہنمائی کے لیے چھوڑا

چند ابیات فارسی در بیان حالات حاضرہ[ترمیم]

33صفات پر مشتمل اس رسالے میں شیخ سعدی کی کتاب کریما فارسی کے وزن میں 90 اشعار ہیں

آخر میں ( مناجات بر آستانہ عالیہ) کے عنوان سے شیخ فرید عطار کی مشہور کتاب (پند نامہ فارسی) کے وزن میں 15 اشعار شامل ہیں

قصیدہ بردہ شریف کا سندھی ترجمہ[ترمیم]

یہ کتاب آپ کی آخری تصنیف ہے اس کے بعد آپ نے کوئی بھی کتاب رسالہ یا مضمون وغیرہ نہیں لکھا

واضح رہے کہ جب آپ کی قوت سماعت کمزور ہو گئی تھی اس وقت آپ لکھ کر بات چیت کرتے لوگوں کو ان کے مسائل کا جواب دیتے جب مزید کمزوری و علالت ہوئ تو صرف اشارے سے کام لیتے

ایک دن اپنے شاگرد مولوی محمد یامین شورو سے فرمایا کہ اب میری حالت کمزوری اور محتاجی میں امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ جیسی ہو گئی ہے

چاہتا ہوں کہ امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ کی اقتداء میں وہی کروں جو انہوں نے کیا تھا

مولوی محمد یامین شورو نے لائبریری سے قصیدہ بردہ شریف کا نصخہ لا حاضر کیا

اور حالت میں آپ نے قصیدہ بردہ شریف کا سندھی زبان میں ترجمہ کیا

یہ مولانا عبد الکریم لغاری رحمۃ اللہ علیہ کی کرامت تھی کہ آپ نے اتنی ضعیف العمری میں 150 سے بھی زیادہ عربی اشعار کا ترجمہ کیا

آخر میں آپ نے ایک نوٹ بھی لکھا (جو تصویر کی صورت میں بھی دکھایا گیا ہے)


آج 10محرم 1420ھجری بمطابق 2000عیسوی باوجود کمزوری کے دنیا کے اسلامی حلقوں میں بوصیری صاحب محمدبن سعید کے قصیدہ بردہ شریف کا سلیس سندھی ترجمہ اللہ تعالیٰ کے شکر سے مکمل کر چکا

جو 165 عربی اشعار پر مشتمل ہے جسے دربار رسالت میں بطورِ نذر پیش کرتا ہوں

شفیع المذنبین سے شفاعت کی امید ہے

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گنہگار امتی

خادم مدرسہ دارالھدی مسن بڑی الاثم عبد الکریم لغاری والسلام

مولوی عبد الکریم لغاری رحمۃ اللہ علیہ کی جائیداد[ترمیم]

مسن بڑی میں موجود

گورنمنٹ مسلم سندھی پرائمری بوائز اسکول

گورنمنٹ مسلم سندھی پرائمری گرلز اسکول

گورنمنٹ اسلامیہ بوائز ہائی اسکول

گورنمنٹ اسلامیہ گرلز ہائی اسکول

گورنمنٹ پرائمری اسکول مولوی عبد الکریم

مسن بڑی پولیس اسٹیشن

پوسٹ آفس مسن بڑی

لائبریری

مدرسہ دارالہدیٰ

مسجد

آپ کی وقف کی ہوئی زمین پر موجود ہیں


[1]

[2]

تحریر جاری ہے۔۔۔۔۔۔



  1. https://books.sindhsalamat.com/book.php?book_id=565
  2. Empty citation (معاونت)