مولوی لیاقت علی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مولوی لیاقت علی
مولوی لیاقت علی

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1817[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الہ آباد[2]  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 17 مئی 1892 (74–75 سال)[2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
یانگون[2]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت
عملی زندگی
پیشہ انقلابی  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک جنگ آزادی ہند 1857ء[2]، تحریک آزادی ہند  ویکی ڈیٹا پر تحریک (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مولوی لیاقت علی (پیدائش: 5 اکتوبر، 1817ء - وفات: 17 مئی، 1892ء) ہندوستان کے مشہورانقلابی اور تحریک آزادی ہند کے ممتاز مجاہد تھے۔ انہوں نے الہٰ آباد اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں جہادِ آزادی کا علم بلند کیا اور انگریز افواج کو نا قابلِ تلافی نقصان پہچایا۔ 1872ء میں گرفتار کیے گئے اور کالا پانی کی سزا پانے کے بعد 1892ء میں دورانِ قید چل بسے۔

پیدائش[ترمیم]

مولوی لیاقت علی الٰہ آباد شہر سے تقریطباً 15 میل دو جانب مغرب جی ٹی روڈ کے کنارے پرگنا چائل کے موضع مہنگاؤں میں کے ایک گاؤں میں 5 اکتوبر 1817ء کو ایک زمین دار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد قاضی امیر علی علاقے کے با اثر شخص تھے۔[3]

جنگ آزادی 1857ء میں شرکت[ترمیم]

مولوی لیاقت علی کچھ عرصہ تک انگریزی فوج میں ملازم رہے تھے۔ لیکن وطن کی آزادی کے لیے ان کا ضمیر با وفا تھا۔ لہٰذا وہ انگریزوں کے خلاف اپنے ہم وطنوں کو نفرت دلانے لگے، اس وجہ سے فوج سے باہر کر دیے گئے۔ اس کے بعد وہ اپنے گاؤں میں امامت کے فرائض انجام دینے اور نونہالوں کی تعلیم و تربیت کی طرف راغب ہو گئے۔ وہ ایک غیرت مند محب وطن اور دین دار عالم تھے۔ اسی درمیان جب مئی-جون 1857ء میں انگریزوں کے خلاف ہر طرف نفرت و بیزاری بڑھنے لگی اور میرٹھ سے اٹھنے والی بغاوت کی لہر مراد آباد اور الہٰ آباد پہنچی تو یہاں بھی بغاوت کے شلے لہک اٹھے۔ انقلاب کے لیے فضا سازگار پا کر مولانا لیاقت علی نے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر سے فرماں برداری کا اعلان کر کے بغاوت کا سبز پرچم بلند کیا۔ ہندو اور مسلمان جو مولانا کے بے حد معتقد تھے سب ان کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئے۔ ان کی اپیل پر صمد آباد، دارا گنج اور چھیت پور وغیرہ گاؤں کے لوگ انگریزوں کے خلا ف جوش وجذبہ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کوتوال شہر، تھانیدار، تحصیلدار اور فوجی افسران کی تقرری شروع کر دی اور ن کی غیر معمولی مقبولیے کی وجہ سے چالیس گاؤں ان کی قیادت میں آ گئے۔[4] 7 جون کو مجاہدوں نے سبز پرچم کے ساتھ جلوس نکالا اور کوتوالی پہنچ کر وہاں اپنا پرچم لہرا دیا اور خزانے کا 30 لاکھ روپیہ اپنی تحویل میں لے لیا۔ مولانا لیاقت علی نے انگریزوں کے خلاف جد و جہد کے لیے خسرو باغ کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنانے کے بعد سے 10 جون تک پوری جرات و جواں مردی کے ساتھ اپنا قبضہ قائم رکھا۔ اس درمیان الہٰ آباد کے قلعہ پر قبضے کی بھی کوشش کی، جب کہ ان کے سامنے انگریزوں سے مقابلہ کرنے میں بے شمار رکاوٹیں اور پریشانیاں سر اٹھائے کھڑی تھیں۔ دوسری طرف انگریز افواج 7 جون سے الہٰ آباد پر قبضے کے لیے تیاریوں اور نقل و حمل میں مشغول تھی۔ 12 جون کو کرنل نیل کی قیادت میں انگریزوں نے دارا گنج میں مولانا لیاقت علی سے مقابلہ کرنے کے بعد قبضہ بحال کر لیا۔ پھر 14 جون کو ایک اور معرکہ ہوا جس میں انگریزوں کو منہ کی کھانی پڑی اور وہ خوف زدہ ہو کر قلہ بند ہو گئے۔ اس فتح سے مجاہدین کے ساتھیوں کے حوصلے بلند ہو گئے مگر 16 جون کو مزید کمک آنے کے بعد لیفٹننٹ کرنل نیل نے خسرو باغ پر اپنی پوری قوت صرف کر دی۔ پورے دن گھمسان کی لڑائی ہوتی رہی اور آخر کار انگریزوں کو کامیابی مل گئی۔ فتح کے نشے میں چور انگریزوں نے قتل عام کا بازار گرم کر دیا۔ دریا آباد، شادی آباد اور رسول پور کے مسلمانوں کو بھی انگریزوں نے خوب مشقِ ستم بنایا اور الہٰ آباد قلعہ کے مغربی کنارے پر واقع جامع مسجد کو شہید کر کے اسے فوجی بیرک بنا دیا۔ اسی طرح دوسرے گاؤں اور دیہات کے باشندے جو مولانا لیاقت علی کی اپیل پر جنگ آزادی میں پیش پیش تھے ناکامی کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ اس ناکامی کے بعد مولانا اپنے وفادار ساتھیوں کے ساتھ دوسرے مقام پر چلے گئے او حکمت عملی کے تحت نام اور حلیہ بدل بدل کر لوگوں کو انگریزوں کے خلاف منظم کرنے لگے۔ انگریزوں نے آپ کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنے پر 5000 روپیہ نقد انعام کا اعلان کر دیا تھا اور اس اعلان کےا شہارات جگہ جگہ آویزاں کرد ئیے گئے تھے تاکہ وہ جلد از جلد گرفتار ہو جائیں۔ بالآخر 1872ء میں بمبی میں جب وہ ایک میٹنگ میں شرکت کے لیے جا رہے تک ایک انگریز افسر اسٹیل کے ہاتھوں گرفتار کر لیے گئے۔ پھر ان پر بغاوت کا مقدمہ چلا، شنوائی کے درمیان انگریز جج نے کہا کہ مولوی صاحب ایک جید عالم ہیں، لہٰذا اگر وہ اپنے کیے پر افسوس کر لیں، آئندہ سیاست سے کنارہ کشی کا وعدہ کریں اور اپنے گاؤں جا کر پہلے کی طرح بچوں کو پڑھانے کا کام انجام دینے لگیں تو انہیں معافی دی جاسکتی ہے۔ مگر مولوی صاحب نے اس پیش کش کو ٹھکراتے ہوئے علی الاعلان یہ قبول کیا کہ انہوں نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کی سربراہی کی تھی اور جہاز آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور انہیں اس پر کوئی افسوس نہیں۔ انگریز جج نے اس عیظم مجاہد آزادی کو کالا پانی کی سزا دے کر جزیرہ انڈمان و نکوبار بھیج دیا، جہاں 17 مئی 1892ء کو یہ انقلاب آفریں شخصیت آزادی کا خواب انکھوں میں بسائے ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سو گئے۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سی ای آر ایل - آئی ڈی: https://data.cerl.org/thesaurus/cnp02069173 — بنام: Maulvi Liaqat Ali — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — ناشر: Consortium of European Research Libraries — اجازت نامہ: Open Data Commons Attribution License اور Creative Commons Attribution 2.0 Generic
  2. ^ ا ب پ ت https://www.revolvy.com/main/index.php?s=Maulvi%20Liaquat%20Ali
  3. شکیل احمد مصباحی، مولانا لیاقت علی الیٰ آبادی، مشمولہ: ماہنامہ اشرفیہ (مبارکپور ) انقلاب 1857ء نمبر، جلد 32 شمارہ 8-9 - اگست - ستمبر 2008ء ، مدیر اعلیٰ: مبارک حسین مصباحی، ص 94
  4. جامع اردو انسائکلوپیڈیا (جلد 2، تاریخ)، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی، 2000ء، ص 339-340
  5. مولانا لیاقت علی الہٰ آبادی، مشمولہ: ماہنامہ اشرفیہ (مبارکپور ) انقلاب 1857ء نمبر، ص 95