موہن داس گاندھی کا قتل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Gandhi Memorial.jpg
راج گھاٹ – موہن داس گاندھی کے سپرد آتش کیے جانے کے مقام پر واقع یادگار
مقام نئی دہلی
تاریخ 30 جنوری 1948ء
بھارتی معیاری وقت (5:17 شام)
نشانہ موہن داس گاندھی
ہلاکتیں 1 (گاندھی)
مرتکب ناتھورام گوڈسے

موہن داس کرم چند گاندھی، جو عام طور پر مہاتما گاندھی کے نام سے جانے جاتے ہیں، کو 30 جنوری 1948ء کو برلا ہاؤس (موجودہ گاندھی سمرتی) میں قتل کیا گیا جہاں گاندھی کسی مذہبی میل ملاپ میں اپنے خاندان کے ساتھ موجود تھے، اس جگہ ہندو مہاسبھا سے تعلق رکھنے والا ایک انتہا پسند و قوم پرست ہندو شخص نتھو رام گوڈسے پہنچا اور اس نے موہن داس گاندھی پر گولی چلائی۔ حادثہ کے بعد گاندھی کو فوراً برلا ہاؤس کے اندر لے جایا گیا مگر تب تک وہ دم توڑ چکے تھے۔ اس حملے سے پہلے ان پر پانچ مزید حملے بھی ہوئے تھے مگر ان سب میں قاتل ناکام رہے۔ ان میں سب سے پہلی ناکام کوشش 1934ء میں کی گئی تھی۔

قتل کا منصوبہ بند آغاز[ترمیم]

گاندھی سمرتی، جہاں گاندھی کو قتل کیا گیا تھا۔

برلا ہاؤس پرگاندھی کے قتل کی پہلی ناکام کوشش کے بعد ناتھورام گوڈسے اور نارائن آپٹے بمبئی (حالیہ ممبئی ) کے راستے سے پونے لوٹے۔ [حوالہ درکار] گنگادھر ڈنڈوتے کی مدد سے ناتھورام گوڈسے اور نارائن آپٹے نے بیریٹا پستول خریدی اور 29 جنوری 1948ء کو دہلی پہنچے۔ دونوں نے ریلوے کے رہائشی کمرہ نمبر 6 میں قیام کیا جہاں ان لوگوں نے قتل کا منصوبہ تیار کیا۔ [حوالہ درکار]

سازشی[ترمیم]

قتل کے مقاصد[ترمیم]

حادثہ کے بعد مقدمے کے دوران[1] اور کئی عینی شاہدوں اور متعلقہ موضوع پر مطبوعہ کتابوں کی رو سے [2][3] گاندھی کے قتل کے پس پردہ حسب ذیل مقاصد کار فرما تھے:

  • گوڈسے کا خیال تھا کہ گاندھی کےاُپواسوں نے (جو اعلان کے مطابق جنوری کے دوسرے ہفتہ میں ہونے والا تھا)، کابینہ کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ 550 ملین روپیے نقد 13 جنوری 1948ء کو پاکستان کے حوالے کرے، (اور نو آزاد بھارت کی حکومت 200 ملین روپیوں کی پہلی قسط پاکستان کے حوالے بھی کر چکی تھی۔ تاہم آزادی کے فوراً بعد جب پاکستان کی سرحد سے جنگجوؤں نے کشمیر پر حملہ کیا، جس کے متعلق دعوٰی کیا گیا کہ ان لوگوں کو پاکستان کی پشت پناہی حاصل ہے، تب دوسری قسط کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔[4] گوڈسے، آپٹے اور ان کے احباب یہ محسوس کرنے لگے کہ ان اقدامات کے ذریعہ بھارت کے ہندوؤں کی قیمت پر پاکستانی مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کی جا رہی ہے۔ گاندھی اور جواہر لال نہرو کے اس فیصلے سے ولبھ بھائی پٹیل کو بھی استعفٰی دینا پڑا تھا۔[5][6] ایک دلچسپ بات یہ بھی تھی کہ گاندھی کا ہندو مسلم امن کے واسطے اپواس پاکستان کو پیسے دینے کے کابینی فیصلے کے بعد بھی تین دن تک جاری رہا۔ یہ ممکن ہے کہ گوڈسے اس حقیقت سے ناآشنا رہا ہو، تاہم اس بات کو باوثوق طور پر نہیں کہا جاسکتا ہے۔[7]
  • گوڈسے یہ محسوس کرتا تھا کہ جو افسوسناک صورت حال اور تکالیف کا دور تقسیم ہند سے شروع ہوا تھا، اسے روکا جاسکتا تھا اگر بھارت سرکار اقلیتوں (ہندوؤں اور سکھوں) سے کیے جانے والے سلوک کے خلاف سخت احتجاج درج کرتی۔ اس کا احساس تھا کہ گاندھی نے ان مظالم کے خلاف احتجاج کرنے کی بجائے اُپواسوں کا راستہ اختیار کیا تھا۔[8] عدالت میں اپنی پیشی کے دوران میں اس نے کہا میں نے خود سوچا تو مستقبل اس طرح نظر آیا کہ میں تباہ و تاراج ہو جاؤں گا اور دیگر لوگوں سے اگر مجھے کچھ توقع ہے تو وہ نفرت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، اگر میں گاندھی جی کا قتل کا کرتا ہوں۔ مگر اسی کے ساتھ میں نے یہ محسوس کیا کہ گاندھی جی کے غیاب میں بھارت کی سیاست یقینی طور پر عملی ثبوت پیش کرے گی، انتقام لے سکے گی اور مسلح افواج کے ساتھ طاقتور رہے گی۔[9]
  • عدالت میں اپنی آخری پیشی کے دوران میں گوڈسے نے کہا: گاندھیائی اہنسا کی تعلیم میری یا میرے گروہ کی جانب سے مخالفت کا سبب نہیں ہے۔ بلکہ گاندھی جی اپنے خیالات کے اظہار کے وقت ظاہرًا یا باطنًا مسلمانوں کے لیے ایک جھکاؤ دکھاتے ہیں جو ہندو قوم اور ان کے مفادات سے امتیاز برتتے ہیں اوریہ اس کی عین ضد ہے۔ میں نے تفصیل سے اپنا نقطہ نظر بیان کر رکھا ہے اور کئی واقعات کا حوالہ بھی دیا ہے جو بغیر کسی غلطی کے یہ ثابت کرتے ہیں کہ گاندھی جی کس طرح کئی آفتوں کے ذمے دار تھے جنہیں ہندو قوم کو جھیلنا پڑا تھا۔[10]

سروودیہ منڈل نے اُن کی ویب سائٹ پر ان مقاصد کو غیر منصفانہ اور گوڈسے کے مفروضوں کو غلط قرار دیا۔[4]

گوڈسے کو گاندھی کے قتل کے فوراً بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کا سبب دہلی کی تغلق روڈ پولیس اسٹیشن میں نند لال مہتا کی جانب سے دائر کردہ ایف آئی آر تھی۔ مقدمے کی کارروائی 27 مئی، 1948ء کو ہوئی اور 10 فروری، 1949ء کو مکمل ہوئی اور نتیجتاً گوڈسے کو موت کی سزا سنائی گئی۔

بعد ازاں پنجاب ہائی کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی، مگر اس سے کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا اور سزا برقرار رہی۔

قتل کا واقعہ[ترمیم]

گوڈسے 30 جنوری 1948ء کو گاندھی کے پاس 5:17 بجے آیا، اس وقت شام کی عبادت جاری تھی۔ جب گوڈسے جھکا، تو گاندھی کو سہارا دینے والی لڑکیوں میں سے ایک لڑکی آبھا چٹوپادھیائے نے اس سے کہا: "بھائی، باپو پہلے ہی دیر سے آئے ہیں" اور اس سے صرف نظر کرنے کی کوشش کی۔ مگر اس نے آبھا کو دھکیل کر سیدھے نشانے سے گاندھی کے سینے میں نیم خودکار پستول بیریٹا ایم 1934 کے ذریعہ جس کے خانے 380 اے سی پی کے تھے، گولیاں چلادی۔ اس بندوق کا سیریل نمبر 606824 تھا۔[11] اس حادثہ کے بعد گاندھی کا انتقال کچھ ہی گھنٹوں میں ہو گیا۔ گولیاں چلانے کے بعد گوڈسے نے خود ہی پولیس کو آواز دی اور اپنے آپ کو ولیس اور قانون کے حوالے کر دیا۔ عام طور سے یہ تاثر پایا جاتا ہے گاندھی کے آخری کلمات "ہِےْ رام" تھے۔[12]

مقدمہ اور فیصلہ[ترمیم]

ان لوگوں کا مقدمہ جن پر الزام تھا کہ قتل میں ان کی شرکت اور وابستگی تھی۔ خصوصی عدالت، لال قلعہ، دہلی، 27 مئی 1948ء۔ بائیں سے دائیں آگے کی صف: ناتھورام گوڈسے، نارائن آپٹے، وشنو رام کرشنا کارکر۔ پیچھے کی صف میں بائیں سے دائیں: ڈِگنبر رام چندر بادگے، شنکر، ونایک ساورکر، گوپال گوڈسے اور دتاتریہ سداشیو پراچورے۔

جرم میں شامل سبھی گرفتار کیے گئے اور ان پر مقدمہ چلایا گیا جس پر میڈیا کی خصوصی توجہ شامل رہی۔ جن پر الزام ثابت ہوئے انہیں یا تو سزائے موت دی گئی یا پھر انہوں نے قید کی اپنی میعاد مکمل کی۔

گرفتاریاں[ترمیم]

گوڈسے اور اس ساتھی سازشی ڈِگمبر باڈگے، گوپال گوڈسے، نارائن آپٹے، وشنو کرکرے اور مدن لال پاہوا کو سرکردہ ہندو مہاسبھا کے ارکان کے طور پر شناخت کی گئی تھی۔ ان میں سے پولیس نے ونایک دامودر ساورکر کو گرفتار کی کیونکہ وہ اصل شازشی مانے گئے تھے۔ ساورکر کو تکنیکی بنیادوں پر چھوڑ دیا گیا تھا حالانکہ اس بات کے پکے ثبوت تھے کہ وہ قتل ہی دن پہلے برسرعمل سازشیوں سے نہ صرف ملے تھے بلکہ اپنا آشیرباد بھی ان لوگوں کو دیا تھا۔ 1967ء میں کپور کمیشن نے یہ ثابت کیا تھا کہ ساورکر سازشیوں سے کئی مہینوں سے ربط وتعلق بنائے ہوئے تھے۔[13][14][15][16]

مقدمے کی کارروائی اور سزائیں[ترمیم]

مزید دیکھیے: نتھو رام گوڈسے

ملزمین کا مقدمہ پیٹرہاف، شملہ میں چلا جو پنجاب ہائی کورٹ میں واقع ہے۔[17] ساورکر کو بری کر دیا گیا اور چھوڑدیا گیا کیونکہ مناسب ثبوت موجود نہیں تھا۔ یہ مقدمہ آٹھ مہینے چلا جس کے بعد جسٹس آتما رام نے اپنا آخری فیصلہ 10 فروری 1949ء کو سنایا۔ آٹھ آدمیوں قتل کی سازش کا قصوروار پایا گیا۔ دیگر اصحاب کو دھماکا خیز مادّوں (Explosive Substances Act) کی خلاف ورزی کا قصوروار پایا گیا۔ ناتھورام گوڈسے اور ناراین آپٹے کو پھانسی دے دی گئی۔[18] دیگر چھ لوگوں کو (جن میں گوڈسے کا بھائی گوپال گوڈسے شامل تھا)، سزائے عمر قید دے دی گئی تھی۔ حالانکہ دتاتریہ پرچورے کو اصل مقدمے میں خاطی پایا گیا تھا، اسے بعد کی ایک اپیل پر بری کر دیا گیا تھا۔

مابعد قتل واقعات[ترمیم]

گاندھی کا جلوسِ جنازہ انڈیا گیٹ، دہلی سے گزرتے ہوئے۔

پونے میں پرتشدد واقعات پیش آئے جو گوڈسے کا آبائی شہر تھا۔ پرتشدد واقعات بھارت کے کئی اور علاقوں میں بھی پیش آئے۔ قتل کے بعد گاندھی کی چِتا ان کے سبھی ماتم گزاروں کی جانب سے تیار کی گئی اور انہیں سپرد آتش کر دیا گیا۔[19]

قتل کی سابقہ ناکام کوششیں[ترمیم]

عام طور سے یہ مانا جاتا ہے کہ گاندھی پر پانچ قاتلانہ حملے کیے گئے تھے جس میں آخرالذکر اپنے مقصد میں کامیاب رہا۔ دیگرچار ناکام کوششیں حسب ذیل ہیں:

پہلا حملہ[ترمیم]

1934ء میں موہن داس گاندھی پونے میں اپنی اہلیہ کستوربا گاندھی کے ساتھ پونے آئے۔ وہ کارپوریشن آڈیٹوریم میں تقریر کرنا چاہتے تھے۔ وہ دو کاروں میں سے ایک پر سوار تھے۔ جس کار میں گاندھی اور ان کی اہلیہ سوار تھی دیر سے پہنچی۔ جیسے ہی پہلی کار آڈیٹوریم پہنچے (جس میں گاندھی نہیں تھے)، ایک بم پھینکا گیا جو کار کے قریب جاکر پھٹا۔ اس سے پونے بلدیہ کے اعلٰی افسر، دو پولیس اہلکار اور سات دیگر افراد شدید زخمی ہوئے۔ تاہم، اس سب کے باوجود کوئی مزید تفصیل یا تحقیقات یا گرفتاریوں کا تذکرہ نہیں ملتا۔ گاندھی کے معاون پیارے لال نیر کا خیال ہے کہ یہ حملہ منصوبہ بندی کی خامی اور باہمی تال نہیں ہونے کی وجہ سے ناکام ہوا۔[20]

دوسرا حملہ[ترمیم]

گاندھی کی زندگی پر دوسرا حملہ ممکنہ طور پر قتل سے کہیں زیادہ ایک بپھرے ہوئے نوجوان کے غصے کا اظہار ہو سکتا ہے۔ مئی 1944ء میں گاندھی کو آغا خاں محل جیل سے بھیج دیا گیا تھا کیونکہ وہ ملیریا کے شکار بن گئے تھے۔ ڈاکٹروں کی صلاح پر وہ پنچگنی، پہاڑی مقام پہنچے جو پونے کے قریب ہے۔ وہاں گاندھی "دلکشا بنگلہ" میں رہ رہے تھے۔ ناتھورام گوڈسے کی قیادت میں 15–21 نوجوانوں کا ایک جتھا ان سے ملنے آیا۔ [حوالہ درکار]

مگر شام کی پوجا آرادھنا بیٹھک تک ناتھورام گوڈسے گاندھی کی جانب خنجر لے کر وار کرنے لگا۔ وہ مخالف گاندھی نعرے بھی لگا رہا تھا۔ وہ گاندھی پہنچ نہیں سکا کیونکہ اسے منی شنکر پروہت (سورتی لاج، پونے کے مالک) اور ستارا کے ڈی بھلارے گروجی (جو بعد میں پہابلیشور کے کانگریس رکن مقننہ بنے) نے دبوچ لیا۔ اس حملے کا دستاویزی ثبوت کپور کمیشن کے روبرو ان دو اصحاب کی حاضری کے دوران میں سپرد قلم ہوا۔ تاہم کپور کمیشن نے اس نظریے کو مسترد کیا کیونکہ اس واقعے کے وقت گاندھی کے قریبی ساتھی موجود نہیں تھے۔ [حوالہ درکار]

تیسرا حملہ[ترمیم]

گاندھی اور جناح بمبئی میں، ستمبر، 1944ء

تیسرے حملے کے بارے میں بھی قیاس لگایا جا رہا ہے کہ وہ صرف اظہار ناراضی کی نوعیت کا تھا۔ مکر جن لوگوں نے کپور کمیشن کے روبرو حاضری دی تھی، انہوں نے اسے تشدد کی کوشش قرار دیا۔ موہن داس گاندھی محمد علی جناح سے 9 ستمبر 1944ء تبادلہ خیال کیا جو چودہ دنوں تک جاری رہا۔ سیواگرام آشرم سے ممبئی روانگی کے وقت ہندو کا رکنوں کے ایک گروہ نے انہیں روک دیا تھا۔ وہ یہ مذاکرات نہیں چاہتے تھے۔ مگر ان مظاہرین کو آشرمیوں نے روک دیا۔ گروہ کا قائد ناتھورام گوڈسے تھا جو ایک بار پھر خنجر تھامے ہوئے تھا۔ جس پولیس اہلکار کو یہ خنجر ملی وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھا: "تم گاندھی کو کیوں مارنا چاہتے ہو؟ کیوں نہ کام قائدین کو ایک دوسرے کے لیے چھوڑ دیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کام کو (ویر) ساورکر انجام دیں!" اس پر گوڈسے کا جواب تھا "گاندھی کو اتنے بڑے شرف کی ضرورت نہیں۔ اس کام کو ایک جمعدار بھی پورا کر سکتا ہے۔" [حوالہ درکار] اس واقعے کو گاندھی فلم میں بھی دکھایا گیا ہے جس کا مرکزی کردار لارڈ رچرڈ ایٹن بورو نے ادا کیا ہے۔ تاہم اس فلم میں بھی اس واقعے کو قتل کی کوشش کے طور پر نہیں بلکہ پر امن مظاہرے کے طور ہر دکھایا گیا ہے جس میں مظاہرین سیاہ جھنڈیاں تھامے ہوئے تھے۔

چوتھا حملہ[ترمیم]

ان لوگوں کا گروپ فوٹو جن پر گاندھی کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔ کھڑے: شنکر کِسٹیا، گوپال گوڈسے، مدن لال پاہوا، ڈِگمبر باڈگے، بیٹھے: ناراین آپٹے، ونایک ساورکر، ناتھورام گوڈسے، وشنو کرکرے

20 جنوری 1948ء کو مدن لال پاہوا، شنکر کِسٹیا، ڈِگمبر باڈگے، وشنو کرکرے، گوپال گوڈسے، ناتھورام گوڈسے اورناراین آپٹے دہلی کے بِرلا بھَوَن (برلا ہاؤز) آئے تاکہ گاندھی پر ایک اور حملہ کیا جاسکے اور حسین شہید سہروردی کو نشانہ بنایا جاسکے۔[21] سوائے مدن لال پاہوا اور وشنو کرکرے کے، سبھی لوگ مقام پر پچھلے داخلے سے کرائے کی کارمیں داخل ہوئے۔ مدن لال پاہوا نے ڈرائیور چھوٹورام کو رشوت کی پیش کی تاکہ وہ اسے اسٹیج کے پیچھے لے جا سکے جس سے کہ گاندھی کی قریب سے تصاویر لی جاسکے۔ مگرچھوٹورام کو شک ہوا کہ تصاویر کو پیچھے سے لینے کی ضرورت کیا ہے اور کیمرا کی عدم موجودگی پر سوال کیا۔ مگر پاہوا ایک کپاس کے گیند میں بم رکھ کر اسٹیج کے جلایا۔ یہ بم کسی شورشرابے یا خوف پیدا کیے بغیر ختم ہو گیا۔ اس ناکام کارروائی کے ختم ہونے تک پاہوا کے باقی ساتھی اسے چھوڑکر فرار ہوچکے تھے۔ تفتیش کے دوران میں پاہوا نے اقرار کیا کہ وہ ایک سات رکنی ٹولی کا حصہ ہے جو گاندھی کا قتل کرنا چاہتی ہے۔ منصوبہ یہ تھا کہ پاہوا اسٹیج کے قریب بم پھوڑے گا جبکہ ڈگمبر باڈگے یا شنگر گاندھی کے سر پر گولی چلائیں گے۔ چونکہ بہ یک وقت یہ دو تقریبی کام انجام ہوں گے، افراتفری کا رونما ہونا فطری ہے، جس کا فائدہ اٹھا کر یہ سب لوگ بھاگیں گے۔ مزید انتشار پھیلانے وشنو کرکرے کے ذریعے دستی گرینیڈ پھینکنے کا منصوبہ تھا۔ چھوٹورام کے شکی رویے سے پریشان ڈگمبر باڈگے نے آخری منٹ پر حرکت میں نہ آنے کا فیصلہ کیا اور اپنے نوکر شنکر کو بھی باز رکھا۔

اس کے بعد پاہوا نے پولیس کو مرینا ہوٹل لے گیا جہاں ناتھورام گوڈسے اور نارائن آپٹے قیام پزیر تھے اور شریف ہوٹل بھی جہاں ٹولی دیگر ارگان ساکن تھے۔ پولیس کے پہنچنے ہر کوئی راہ فرار اختیار کر چکا تھا۔ پولیس کو کچھ خط اور ملبوسات ملے جن پر انگریزی حروف "NVG" تھے۔ اس وقت تک یہ تو معلوم ہو گیا تھا کہ ٹولی کے ارکان مہاراشٹر سے وابستہ ہیں؛ تاہم وہ لوگ ناتھورام گوڈسے کی شناخت اور شمولیت کو ثابت نہیں کرپائے تھے۔

گاندھی قتل کے مقدمے میں مدن لال پاہوا کو محترمہ سُلوچنا دیوی نے پہچانا۔ وہ برلا ہاؤز اپنے تین سالہ لڑکے کی تلاش میں آئی تھی جو نوکروں کے رہنے کی جگہ کھیلا کرتا تھا۔ وہ مقدمے کی پندرہویں گواہ تھی اور سُرجیت سنگھ، ڈرائیور، چودہواں گواہ تھا۔

قانونی مباحث[ترمیم]

کپور کمیشن[ترمیم]

12 نومبر 1964ء  [حوالہ درکار] کو پونے ایک میں مذہبی پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا تاکہ گوپال گوڈسے، مدن پاہوا اور وشنو کرکرے کی سزا کی میعاد کی تکمیل کے بعد رہائی کو یادگار بنایا جاسکے۔ ڈاکٹر جی وی کیتکر، بال گنگادھر تلک کے نواسے[22] نے جو کیسری کے سابق مدیر اور اس وقت ترون بھارت کے مدیر تھے، نے اس پروگرام کی صدارت کی۔ انہوں نے بتایا کہ قتل کے واقعے سے چھ مہینے پہلے گوڈسے نے گاندھی کو مارنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا جس کی کیتکر نے مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس اطلاع کو وہ بالُو کاکا کانیتکر کو دی تھی جسے انہوں نے اس وقت کی بمبئی ریاست کے وزیر اعلٰی بی جی کھیڑ کو فراہم کی تھی۔ دی انڈین ایکسپریس نے 14 نومبر 1964ء کے شمارے میں کیتکر کے رویے پر تنقیدی تبصرہ کیا کہ گاندھی کے قتل کی وقت سے پہلے اطلاع ان حالات کو مزید الجھا دیتے ہیں جو قتل سے پہلے سے جڑے ہیں۔ کیتکر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ مہاراشٹر ریاستی اسمبلی کے اندر اور باہر عوامی غیظ وغضب کے مناظر دیکھے گئے۔ یہ خیال زیر دوران میں تھا کہ اعلٰی عہدوں پر فائز لوگوں کی جانب سے دانستہ فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی سرزد ہوئی ہے کیونکہ گاندھی کے امکانی قتل کے بارے معلومات پہلے سے موجود تھے۔ 29 پارلیمانی ارکان اور رائے عامہ کے دباؤ میں اس وقت کے مرکزی وزیر گلزاری لال نندا نے رکن پارلیمنٹ گوپال سواروپ اور سپریم کورٹ کے ایک سینئر وکیل کو گاندھی قتل کی سازش کی تحقیقات کا ذمہ تفویض کیا چونکہ کانیتکر اور کھیڑ دونوں ہی انتقال کر چکے تھے، مرکزی حکومت نے مہاراشٹر حکومت سے مشورہ کرکے قدیم ریکارڈوں جانچکرتحقیق کرنے کا فیصلہ کیا۔ مگر جیسے ہی پاٹھک کو مرکزی وزیر بنایا گیا اور بعد میں میسور ریاست کا گورنر بنایا گیا، کمیشن کی تشکیل جدید عمل میں آئی اور جسٹس جیون لال کپور کو تحقیقات کا ذمہ دیا گیا جو سپریم کورٹ کے موظف جج تھے۔[23]

ساورکر کے رول پر نظر ثانی[ترمیم]

کپور کمیشن نے مذکورہ بالا معاملے کے ساتھ ساتھ قتل میں ساورکر کے رول کا بھی جائزہ لیا تھا۔ گوڈسے نے حملے کی منصوبہ بندی اور عمل آوری کی مکمل ذمے داری لی تھی۔ اس کے برعکس ڈگمبرکی گواہی نے ساورکر کو سیدھے مورد الزام ٹھہرایا۔ چونکہ کوئی آزادانہ ثبوت موجود نہیں تھا، اس لیے ساورکر کو چھوڑ دیا گیا۔ ڈگمبر کے مطابق 17 جنوری 1948ء کو ناتھورام گوڈسے بمبئی میں قتل سے پہلے ساورکر کے آخری "درشن" کے لیے گیا تھا۔ جب باڈگے اور شنکر باہر ٹھہرے تھے، گوڈسے سے اور آپٹے اندر گئے۔ لوٹ کر آتے ہوئے آپٹے نے باڈگے کو بتایا کہ ساورکر نے انہیں آشیرباد دیا "فتحیاب لوٹو" ("यशस्वी होऊन या")۔ آپٹے نے یہ بھی بتایا کہ گاندھی کے سو سال پورے ہوچکے ہیں اوربلاشبہ یہ کام کامیابی سے اختتام کو پہنچے گا۔[24][25] مگر باڈگے کی گواہی کو قبول نہیں کیا گیا کیوں کہ اس بات کو آزادانہ ذرائع سے ثابت نہیں کیا جا سکا۔ اس بات کا ثبوت ساورکر کے دو قریبی مددگاروں اپّا رامچندر کاسر (ذاتی محافظ) اور گجانن وشنو ڈاملے (سیکریٹری) سے ملا تھا۔ ان لوگوں نے اصل مقدمے میں گواہی نہیں دی تھی مگر کپور کمیشن کے روبرو 1965ء میں گواہی دی تھی۔ کاسر نے کپور کمیشن کو بتایا کہ قتل کے یہ دو ملزم اس سے 23 یا 24 جنوری کو ملے تھے، جبکہ یہ لوگ دہلی کے بم واقعے سے لوٹے تھے۔ ڈاملے نے گواہی دی کہ گوڈسے اور آپٹے ساورکر سے وسط جنوری میں ملے تھے اور یہ ملاقات اس کے ذاتی باغیچے میں ہوئی تھی۔ جسٹس کپور نے یہ نتیجہ اخذ کیا : "یہ تمام حقائق کا مجموعی جائزہ لینے سے ہر اس نظریے کا سد باب ہوتا ہے جس میں ساورکر اور اس کے گروہ کی جانب سے قتل کی سازش کے علاوہ کوئی اور بات کہی گئی ہو۔"[26][27]

کیا یہ صحیح ہے کہ بم دھماکے کے دن مرینا ہوٹل کے کمرے کی تلاشی کے دوران میں ایسے ملبوسات ملے تھے جن پر N.V.G. حروف تھے جوکہ ناتھورام گوڈسے کی طرف اشارہ کرتے ہیں؟ اسی کی بنیاد پر پولیس بمبئی گئی تھی اور بمبئی پولیس سے گزارش کی تھی کہ اس شخص کی تلاش کرے، بمبئی پولیس نے دہلی پولیس کو تیقن دیا کہ وہ ضروری کارروائی کریں گے اور انہیں لوٹنے کے لیے کہا تھا، مگر کیا کچھ نہیں۔ کیا یہ صحیح ہے کہ بمبئی پولیس ناتھورام گوڈسے کی تلاش میں ناکام رہی؟


— بال کرشن شرما, موہن داس گاندھی کے قتل کی بھارت کی دستورساز اسمبلی میں ہوئی بحث کے دوران۔

زیر تحقیق معاملوں پر تبصرہ کرنا مشکل بھی ہے اور غیرضروری بھی۔ میں صرف یہ کہ سکتا ہوں کہ بم انداز کی گرفتاری کے بعد دہلی پولیس کا ایک افسر بمبئی گیا تھا اور بمبئی کے محمکہ سراغ رسانی (سی آئی ڈی) کو معلومات فراہم کر چکا تھا۔ تبادلہ خیال کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا تھا کہ کچھ لوگوں گرفتار کیا جانا چاہیے۔ مگرفوری گرفتاری سے دیگر سازشیوں کے روپوش ہونے کا خطرہ تھا۔ اس وجہ سے دہلی پولیس اور بمبئی کے محمکہ سراغ رسانی نے یہ فیصلہ کیا کہ گرفتاریوں کو مؤخر کیا جائے تاکہ سازش اور سبھی ملوث افراد کا پردہ فاش ہو۔ یہ صحیح ہے کہ پولیس ان کی تلاش میں تھی مگر یہ سبھی بمبئی میں نہیں تھے۔

ولبھ بھائی پٹیل, موہن داس گاندھی کے قتل کی بھارت کی دستورساز اسمبلی میں ہوئی بحث کے دوران۔

اگر مجھے کسی پاگل شخص کی گولی کی وجہ سے جان دینا ہی ہو، تو مجھے یہ مسکراہٹ کے ساتھ منظور کرنا چاہیے۔ مجھ میں کوئی غصے کا شائبہ نہیں ہونا چاہیے۔ میرے قلب اورزبان پر خدا جلوہ گر ہونا چاہیے۔

موہن داس گاندھی, 28 جنوری 1948ء، اپنے قتل سے صرف دو دن پہلے۔

میڈیا میں[ترمیم]

کئی کتابیں، ڈرامے اور فلم اس واقعے کو لے کر بنائے گئے ہیں:۔

  • May It Please Your Honor : یہ ناتھورام گوڈسے کی کتاب ہے۔
  • می ناتھورام گوڈسے بولتوئے: یہ ایک متنازع مراٹھی ڈراما ہے جس میں اس واقعے کو دکھایا گیا ہے۔ یہ 1999ء سے کچھ وقت کے لیے مہاراشٹر کی بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیو سینا کی جانب سے روک دیا گیا تھا کیوں کہ مرکز میں موجود ان ہی لوگوں کی حکومت نے ایسی ہدایت جاری کی تھی۔
  • Gandhi vs. Gandhi: یہ ایک مراٹھی ڈراما ہے جسے کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ حالانکہ ڈرامے کا موضوع گاندھی اور ان سے علاحدہ بیٹے کے باہمی تعلقات ہیں، تاہم اس میں قتل کے موضوع پر بھی مختصر سی روشنی ڈالی گئی۔
  • Why I Killed Gandhi: یہ ایک مطبوعہ کتاب ہے جس میں ناتھورام گوڈسے کے مقدمے میں دفاعی بحث کا متن چھپا ہے۔
  • نائن اورس ٹو راما: یہ ایک 1963ء کا برطانوی فلم ہے۔ یہ اسٹینلی وولپرٹ کی اسی نام کی ناول پر بنایا گیا ہے۔ یہ گاندھی کے قتل تک کے نوگھنٹوں کے فرضی حالات کا بیان ہے۔
  • Gandhi and the Unspeakable: His Final Experiment with Truth : یہ جیمس ڈگلاس کی غیرتخیّلی کتاب ہے جو نہ صرف قتل کے حقائق جاننے کی کوشش ہے بلکہ شدد اور عدم تشدد کے تصادم کے تناظر میں اس کی اہمیت سمجھنے کی کوشش ہے۔
  • ہِے رام (2000ء) : یہ کمل ہاسن کی ہندی/ تمل فلم کا نام ہے۔ فلم میں ایک فرضی سازش کا تذکرہ ہے جس میں تقسیم ہند سے بپھرا ایک انسان گاندھی کا قتل کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ حقیقی زندگی میں سازش کامیاب ہوتی ہے، تاہم فلم کی کہانی کا اصل کردار کچھ وقت کے بعد گاندھی کا مداح اور ان کی فراست کا گرویدہ بن جاتا ہے۔
  • 1982ء کی فلم گاندھی میں اداکار ہرش نیر نے گوڈسے کا کردار نبھایا جس نے موہن داس گاندھی (اداکار: بین کینگسلے) کا قتل شروع اور آخر میں کیا تھا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Godse Last Speech Part hitesh joshi1"۔ votebankpolitics.com of Shri Gopal Vinayak Godse, brother of Shri Nathuram Vinayak Godse and http://satyabhashnam.blogspot.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 جون 2014۔ 
  2. Gandhi، Tushar (2012)۔ Lets Kill Gandhi۔ Mumbai: Rupa Publications۔ آئی ایس بی این 8129128942۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 جون 2014۔ 
  3. Godse، Nana۔ Godse – Official Websiteramgodse.com/views-e.html "The views of Nathuram Godse"۔ menathuramgodse.com Godse – Official Website۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 جون 2014۔ 
  4. ^ ا ب Vaidya، Chunibhai؛ Samiti، Gujarat Lok۔ "Assassination of Gandhi – The Facts Behind"۔ mkgandhi.org website – Bombay Sarvodaya Mandal / Gandhi Book Centre۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 جون 2014۔ 
  5. Hazra، Sugato (5 نومبر 2013)۔ "Whose Patel is he really?"۔ Millenium Post۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 جون 2014۔ 
  6. Lal، Vinay۔ Gandhi's last fast (اشاعت جولائی – ستمبر 1989)۔ Gandhi Marg۔ صفحات 171–187۔ 
  7. Yadav، Professor Yogendra۔ "The Facts of 55 Crores and Mahatma Gandhi"۔ gandhiking.ning.com Research Foundation / Gandhi-King Community۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 جون 2014۔ 
  8. "Excerpts From Nathuram Godse's Deposition Before Justice Atma Charan of the Special Court" (جنوری 2006)۔ Janasangh Today۔ جنوری 2006۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 جون 2014۔ 
  9. Overdof، Jason (5 فروری 2009)۔ "Analysis: The man who killed Gandhi"۔ Global Post۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 جون 2014۔ 
  10. "Nathuram Godse's deposition in the red Fort Court case (نومبر 8, 1948) – Items 15 to 47"۔ Indian Court Records۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 جون 2014۔ 
  11. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ gandhi-assassination-gun نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  12. The First Infor [http://www.academia.edu/303908/Gandhis_inaudible_last_words Gandhi's Inaudible Last Words
  13. How Savarkar escaped the gallows thehindu.com۔ Retrieved 3 فروری 2013
  14. http://www.savarkar.org/en/biography/charges-framed-against-savarkar-mahatma-gandhi-murder-case
  15. Savarkar and Gandhi frontlineonnet.com۔ Retrieved 5 فروری 2013
  16. The BJP and Nathuram Godse frontlineonnet.com۔ Retrieved 5 فروری 2013
  17. "Nathuram Godse was tried at Peterhoff Shimla in Gandhi Murder Case"۔ IANS۔ Biharprabha News۔ اخذ کردہ بتاریخ 30 جنوری 2014۔ 
  18. "Yakub Memon first to be hanged in Maharashtra after Ajmal Kasab"۔ 30 جولائی 2015۔ اخذ کردہ بتاریخ 30 جولائی 2015۔ 
  19. Gandhiji shot dead - The Hindu (January 31, 1948) - The Hindu
  20. Pyarelal Nayyar, Mahatma Gandhi – The Last Phase, Navajivan, (1956)۔ ISBN 0-85283-112-9
  21. Turning Crown's evidence at trial, Digamber Badge stated that the explosion was meant to create a distraction while Gandhi and Suhrawardy would be "finished off""Gandhi conspiracy trial: informer's evidence"۔ The Times۔ 22 جولائی 1948۔ صفحہ 3۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 جنوری 2011۔ 
  22. "Interview: K. Ketkar"۔ University of Cambridge, Centre of South Asian Studies۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 اگست 2009۔ 
  23. Jain، Jagdishchandra (1987)۔ Gandhi the forgotten Mahatma۔ New Delhi: Mittal Publications۔ آئی ایس بی این 81-7099-037-8۔ 
  24. Abdul Gafoor Abdul Majeed Noorani (2002) Savarkar and Hindutva: the Godse connection LeftWord Books, ISBN 81-87496-28-2, ISBN 978-81-87496-28-1 p. 4 & 114
  25. Mahatma Gandhi—the last phase, Volume 2 Navajivan Pub. House, 1958 p.752
  26. Noorani، A G (15–28 مارچ 2003)۔ "Savarkar and Gandhi"۔ FrontLine۔ The Hindu۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 جنوری 2011۔ 
  27. Rajesh Ramchandran The Mastermind? Outlook Magazine 6 ستمبر 2004

بیرونی روابط[ترمیم]

متناسقات: 28°36′04.6″N 77°12′49.4″E / 28.601278°N 77.213722°E / 28.601278; 77.213722